اِذَا جَآءَ نَصۡرُ اللّٰهِ وَالۡفَتۡحُۙ سورۃ نمبر 110 النصر آیت نمبر 1
sulemansubhani نے Friday، 23 January 2026 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اِذَا جَآءَ نَصۡرُ اللّٰهِ وَالۡفَتۡحُۙ ۞
ترجمہ:
جب اللہ کی مدد اور فتح آجائے
تفسیر:
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے
جب اللہ کی مدد اور فتح آجائے۔ اور آپ لوگوں کو دیکھیں کہ وہ اللہ کے دین میں فوج در فوج داخل ہو رہے ہیں۔ سو آپ اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کریں اور اس سے مغفرت طلب کریں، بیشک وہ بہت توبہ قبول فرمانے والا ہے۔ (النصر : ٣-١)
فتح سے مراد فتح مکہ ہونا
امام ابومنصور محمد بن محمد ماتریدی حنفی متوفی ٣٣٣ ھ لکھتے ہیں :
عام اہل تفسیر نے یہ کہا ہے کہ سورة النصر مکی ہے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جو نصرت کی گئی تھی، وہ اہل مکہ کے خلاف تھی، علامہ ابوبکر اصم نے اس پر یہ اعتراض کیا ہے کہ فتح مکہ ہجرت کے آٹھ سال بعد ہوئی ہے اور یہ سورت ہجرت کے دس سال بعد نازل ہوئی ہے، اس پر یہ سوال ہوگا کہ اس آیت میں ” اذا “ کا لفظ ہے اور یہ لفظ مستقبل کے لئے آتا ہے، اس لئے اس سے مراد خاص فتح مکہ نہیں ہے، بلکہ اسلام کی دیگر فتوحات ہیں، لیکن اس سوال کا یہ جواب دیا جاسکتا ہے کہ قرآن مجید میں متعدد مقامات پر ” اذا “ کا لفظ ” اذ “ کے معنی میں ہے اور یہاں بھی ایسا ہی ہے، اس لئے اس آیت میں فتح کو فتح مکہ پر محمول کرنا درست ہوگا، پس یہ سورت نازل تو ہجرت کے دس سال بعد ہوئی ہے اور یہ آخری سورت ہے، لیکن اس سورت میں فتح مکہ کی نعمت کو بیان کیا گیا ہے، جو فتح ہجرت کے آٹھ سال بعد حال ہوئی تھی۔
” اذا جاء نصر اللہ “ سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مدت حیات پوری ہونے پر استدلال
مسرین نے ذکر کیا ہے کہ پہلے لوگ ایک ایک کر کے یا دو دو کر کے اسلام میں داخل ہوتے اور جب مکہ فتح ہوگیا تو پوری پوری فوج اور پورے پورے قبیلے اسلام میں داخل ہونے لگے، نیز اس سورت کے نازل ہونے کے بعد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مسلمانوں کو اپنی وفات کی خبر دی اور اس پر حسب ذیل امور سے استدلال ہے :
(١) جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ دکھا کہ لوگ فوج در فوج اسلام میں داخل ہورہے ہیں تو اس سے آپ نے یہ استدلال کیا کہ آپ کا مشن اب پورا ہوچکا ہے، لہٰذا اب اللہ تعالیٰ کے پاس جانے کا وقت آگیا ہے۔
(٢) اللہ تعالیٰ نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زندگی پوری ہونے کی کچھ علامات رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بتادی تھیں، ان علامات سے آپ نے جان لیا تھا کہ اب آپ کا وقت پورا ہوچکا ہے۔
(3) جب لوگوں کے فوج در فوج اسلام میں داخل ہونے سے اب تبلیغ اسلام میں مشقت اٹھانے کی ضرورت نہیں رہی تو آپ نے جان لیا کہ اب آپ کی زندگی پوری ہوگئی ہے۔ (تاویلات اہل السنتہ ج ١٠ ص 634-635 دارالکتب العلمیہ، بیروت ١٤٢٦ ھ)
حضرت ابن عباس (رض) نے ” اذا جآء نصر اللہ والفتح۔ “ کی تفسیر میں کہا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا مجھے اپنی وفات کی خبر دی گئی ہے گویا اس سال میری روح قبض کرلی جائے گی۔ (جامع البیان رقم الحدیث : ٢٩٥٧٥ مسند احمد ج ۃ ص ٢١٧ طبع قدیم، مسند احمد ج ٣ ص ٢٦٦ مئوسستہ الرسالتہ، بیروت المعجم الکبیر رقم الحدیث : ١١٩٠٧ دلائل النبوۃ ج ٧ ص ١٦٧ (سنن ترمذی رقم الحدیث : ١٧١٢)
حضرت ام حبیبہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ جب ” اذا جآء نصر اللہ والفتح۔ “ نازل ہوئی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : حضرت عیسیٰ بن مریم نے اپنی امت میں چالیس سال گزارے اور میرے بیس سال پورے ہوچکے ہیں اور میں اس سال میں فوت ہو جائوں گا، پس حضرت سیدہ فاطمہ رونے لگیں تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میرے اہل بیت میں سے سب سے پہلے تم مجھ سے ملو گی، پھر آپ مسکرانے لگیں۔ (تفسیر امام ابن ابی حاتم رقم الحدیث : ١٥٢١، مکتبہ نزار مصطفیٰ بیروت، مہ مکرمہ : ١٤١٧ ھ)
حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے روسل اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب کے ساتھ مجھ سے اذاجآء نصر اللہ والفتح۔ “ کے متعقل سوال کیا، میں نے کہا، یہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اجل ہے، اس کے بعد دوسری روایت میں ہے، یہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اجل ہے، جس کی اللہ عزوجل نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تعلیم دی تھی اور بتایا تھا یہ آپ کی وفات کی علامت ہے، سو آپ اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کریں اور اس سے مغفرت طلب کریں بیشک وہ بہت توبہ قبول کرنے ولا ہے۔ (المعجم الکبیر للطبرانی رقم الحدیث :10616-10617 صحیح البخاری رقم الحدیث :4970، 4969، 4969، 4430، 3627، 3294، (سنن ترمذی رقم الحدیث : ٣٤٠٢)
تبیان القرآن سورۃ نمبر 110 النصر آیت نمبر 1
[…] تفسیر […]