لَكُمْ دِيْنُكُمْ وَلِيَ دِيْنِ – سورۃ نمبر 109 الكافرون آیت نمبر 6
sulemansubhani نے Friday، 23 January 2026 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
لَكُمْ دِيْنُكُمْ وَلِيَ دِيْنِ ۞
ترجمہ:
تمہارے لئے تمہارا دین ہے اور میرے لئے میرا دین ہے ؏
الکافرون : ٦ میں فرمایا : تمہارے لئے تمہارا دین ہے اور میرے لئے میرا دین ہے۔
” لکم دینکم ولی دین “ کے محامل
اس کا معنی یہ ہے : تمہارا مئوقف اللہ تعالیٰ کی توحید کا انکار کرنا ہے اور میرا مئوقف اخلاص کے ساتھ اللہ سبحانہ کی توحید کو ماننا ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ اس آیت کا یہ معنی ہے کہ مشرکین کو شکر کرنے کی اجازت دی دی ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت تو شرک کی بیخ کنی کے لئے ہوئی، آپ شرک کی اجازت کیسے دے سکتے ہیں۔ اور رہی یہ آیت تو اس کے حسب ذیل محامل ہیں :
(١) اس آیت سے مراد تہدید (دھمکانا) اور زجر و توبیخ (ڈانٹ ڈپٹ) ہے، جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا :
(حم السجدہ : ٤٠) تم جو چاہو کرتے رہو، بیشک وہ تمہارے تمام کاموں کو دیکھنے والا ہے۔
یہ امر کا صیغہ ہے لیکن اس سے مقوصد عذاب سے ڈرانا اور دھمکانا ہے، یہ مطلب نہیں ہے کہ تم کو شرک اور کفر اور معصیت کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے، سو اسی طرح الکافرون : ٥ ہے۔
(٢) گویا آپ نے فرمایا : میں تمہیں توحید کی دعوت دینے کے لئے بھیجا گیا ہوں، اگر تم میری دعوت کو قبول نہیں کرتے اور میری پیروی نہیں کرتے تو مجھ کو چھوڑ دو اور مجھے شرک اور بت پرستی کی دعوت نہ دو ۔
(٣) دین کا معنی ہے : حساب یعنی تم سے تمہارے اعمال کا حساب ہوگا اور مجھ سے میرے اعمال کا حساب ہوگا اور کسی سے دوسرے کے اعمال کا حساب نہیں ہوگا۔
(٤) مت کو تمہارے اعمال کی سزا ملے گی اور مجھ کو میرے اعمال کو جزا ملے گی۔
(٥) دین سے مراد ہے : عادت، تمہاری وہ عادت ہے جو تم کو شیاطین سے ملی ہے اور میری وہ عادت ہے جو مجھے وحی الٰہی سے حاصل ہوئی ہے، لہٰذا تم اتباع شیاطین کی وجہ سے دوزخ میں جائو گے اور میں اتباع وحی کی وجہ سے جنت میں جائوں گا۔
القرآن – سورۃ نمبر 109 الكافرون آیت نمبر 6