کتاب الحیض باب 12 حدیث نمبر 313
۱۲ – بَابُ الطَّيِّبِ لِلْمَرْأَةِ عِنْد غُسْلِهَا مِنَ الْمَحِيضِ
حیض سے غسل کرتے وقت عورت کا خوشبو لگانا
یعنی جب عورت حیض سے پاک ہونے کے لیے غسل کرے تو اس کا حیض کے خون کی جگہ پر خوشبو لگانا مباح ہے۔ باب سابق کے ساتھ اس باب کی مناسبت یہ ہے کہ باب سابق میں حیض کے خون کو دھونے کا ذکر تھا اور اس میں زیادہ صفائی کے لیے غسل کے وقت اس جگہ خوشبو لگانے کا ذکر ہے تا کہ حیض کی بدبو زائل ہوجائے۔
۳۱۳- حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ حَفْصَةَ، عَنْ امْ عَطِيَّةَ قَالَتْ كُنَّا نُنْهَى أَنْ نحِدَّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثٍ إِلَّا عَلَى زَوْجِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا وَلَا نَكْتَحِلَ وَلَا نَتَطَيَّبَ ، وَلَا نَلْبَسَ تَوْباً مَصْبُوعًا إِلَّا ثَوْبَ عَصْبٍ وَقَدْ رُخِصَ لَنَا عِنْدَ الطهْرِ، إِذَا اغْتَسَلَتْ إِحْدَانَا مِنْ مَحِيضِهَا فِي نُبُدَةٍ مِنْ كُسْتِ أَظْفَارٍ، وَكُنَّا نُنھی عَنِ اتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ قَالَ رَوَاهُ هِشَامُ بْنُ حَشَانٍ ، عَنْ حَفْصَةَ عَنْ أَمْ عَطِيَّةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
اطراف الحدیث : ۱۲۷۸- ۱۲۷۹-۵۳۴۰-5341 – ۵۳۴۲ – ۵۳۴۳
صحیح مسلم: 938، الرقم المسلسل : 2131، سنن ابوداؤد: ۲۳۰۲، سنن نسائی: 3536 سنن ابن ماجه: 2087 مصنف ابن ابی شیبہ ج ۵ ص۲۸۱-280 المعجم الکبیر :۱۳۹ – ج 25 سنن سعید بن منصور : ۲۱۳۵، مسند احمد ج 6 ص 408 طبع قدیم، مسند احمد : ۲۷۳۰۴ – ج ۵ ۴ ص ۲۸۵ – ۱۲۸۴ مؤسسته الرسالة بيروت ‘جامع المسانیدا لابن الجوزی: ۷۶۳۶ مکتبة الرشد ریاض ۱۴۲۶ھ )
امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں عبداللہ بن عبد الوہاب نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں حماد بن زید نے حدیث بیان کی از ایوب از حفصہ از حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا وہ فرماتی ہیں کہ ہمیں میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کرنے سے منع کیا جاتا تھا ماسوا خاوند کے اس پر چار ماہ دس دن سوگ ہوتا تھا، ہم (سوگ میں ) سرمہ لگاتی تھیں نہ خوشبو لگاتی تھیں نہ رنگا ہوا کپڑا پہنتی تھیں، سوا اس کپڑے کے جو رنگ میں بنا ہوا ہوتا تھا، اور ہمیں یہ اجازت دی گئی تھی کہ ہم حیض سے طہارت کے لیے جب غسل کریں تو (اس جگہ ) تھوڑی سی خوشبو لگالیں اور ہم کو جنائز کے پیچھے جانے سے منع کیا جاتا تھا۔ امام بخاری نے کہا: اس حدیث کو ہشام بن حسان نے از حفصه از ام عطیہ از نبی صلی اللہ علیہ وسلم روایت کیا ہے۔
اس حدیث کی باب کے عنوان کے ساتھ مطابقت اس جملہ میں ہے: ہمیں یہ اجازت دی گئی تھی کہ ہم حیض سے طہارت کے لیے غسل کے وقت اس جگہ تھوڑی سی خوشبو لگالیں ۔
اس حدیث میں حضرت ام عطیہ کے علاوہ باقی سب کا تعارف ہوچکا ہے، حضرت ام عطیہ فاضلات صحابہ میں سے ہیں ان کا نام نسیبہ بنت الحارث ہے یہ بیماروں کی تیمارداری کرتی تھیں، زخمیوں کی مرہم پٹی کرتی تھیں اور مردہ عورتوں کو غسل دیتی تھیں، ان کے نام میں دوسرا قول یہ ہے کہ یہ نسیبہ بنت کعب انصاریہ ہیں ان سے چالیس احادیث مروی ہیں، ساث احادیث پر امام بخاری اور امام مسلم متفق ہیں اور ان میں سے ہر ایک صرف ایک حدیث کے ساتھ منفرد ہے۔
خلاصة تذهیب تہذیب الکمال : ۱۰۸۹۱ – ج ۳ ص ۵۰۸ دارلکتب العالمیة بیروت 1422ھ )
کست اظفار “ کے معنی کی تحقیق
اس حدیث میں “نبذة من كست اظفار “ کے الفاظ ہیں نبذة ” کے معنی ہیں : ” قطعة‘ ایک ٹکڑا، تھوڑی سی چیز اس روایت میں کست اظفار “ کے الفاظ ہیں ۔ علامہ ابن التین نے کہا ہے صحیح ” قسط ظفار “ ہے’ ظفار “عدن کے سواحل میں سے ایک ساحل ہے علامہ قرطبی نے کہا : یہ یمن کا ایک شہر ہے “صحیح مسلم میں ہے: ” قسط واظفار یہ زیادہ احسن ہے کیونکہ یہ خوشبو کی دو قسمیں ہیں: “قسط ” کا معنی ہے: سیاہ رنگ کی ایک خوشبو کا ٹکڑا اور اظفار ” کا معنی ہے: ایک قسم کے لوبان کی دھونی غسل دینے والی کو اس کی اجازت دی گئی ہے، ایک قول ہے کہ ” ظفار” یمن کے چار شہروں کا نام ہے دوسروں نے کہا : ” اظفار ” ایک قسم کا عطر ہے۔ (عمدۃ القاری ج ۳ ص ۴۱۹)
اُردو میں “قسط اظفار “ کونکھ کہتے ہیں اس کا معنی ہے : ایک خوشبودار جڑ ۔ ( قائد اللغات ص 974، فیروز اللغات ص ۱۳۷۴)
شوہر کی موت پر سوگ کرنے کا وجوب
اس حدیث میں شوہر کے مرنے پر سوگ کا وجوب ہے امام ابوحنیفہ کے نزدیک خواہ اس کی بیوی مدخولہ ہو یا غیر مدخولہ کم عمر ہو یا زیادہ عمر کی ہو کنواری ہو یا بیوہ تاہم نابالغہ پر سوگ کرنا واجب نہیں ہے اور سوگ کے ایام میں سرمہ لگانا، خوشبو لگانا اور رنگے ہوئے کپڑے پہننا جائز نہیں ہیں اور اس حدیث میں سوگ کرنے والی کے لیے بھی اجازت ہے کہ وہ حیض کی بدبو زائل کرنے کے لیے تھوڑی سی خوشبو کا اس جگہ لیپ کرلے آج کل اس جگہ کسی خوشبو دار کریم کو لگایا جاسکتا ہے اور اس حدیث میں عورتوں کو جنازے کے ساتھ جانے سے منع کیا گیا ہے۔
حافظ ابن حجر عسقلانی نے اس حدیث کی شرح میں لکھا ہے: المھلب نے کہا ہے کہ حیض کے خون کی بدبو کو زائل کرنے کے لیے اس کو کسی چیز کو سلگاکر دھونی دینے کی اجازت دی گئی ہے اور عنقریب “اتباع الجنائز ” کے باب میں اس پر کلام آئے گا۔ (فتح الباری ج ا ص ۸۲۷) لیکن” اتباع النساء الجنائز ” کے باب میں حدیث : ۱۲۷۸ میں انہوں نے اس خوشبو کے مسئلہ پر ایک لفظ بھی نہیں لکھا۔ دیکھئے: فتح الباری ج ۲ ص ۷۲۸ اور حسب عادت بھول گئے ۔ اللہ تعالی ہمیں اس سے محفوظ رکھے ۔ ( آمین )
باب مذکور کی حدیث شرح صحیح مسلم : ۲۰۶۱ – ج ۲ ص ۷۵۵ پر ہے وہاں اس کی شرح نہیں کی گئی۔