کتاب الحیض باب 17 حدیث نمبر 318
sulemansubhani نے Friday، 23 January 2026 کو شائع کیا.
۱۷ – بَابٌ (مُخَلَّقَةٍ وَغَيْرِ مُخَلَّقَةٍ ) (الج : ٥)
گوشت کا وہ لوتھڑا جس کی شکل وصورت نمایاں اور واضح ہو یا نہ ہو
یہ باب اس بیان میں ہے کہ جب اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کو پیدا کرنے کا ارادہ فرماتا ہے اور جب نطفہ رحم میں ہوتا ہے تو فرشتہ پوچھتا ہے: اس لوتھڑے کی صورت بنائی جائے گی یا نہیں؟ پس اگر اللہ تعالیٰ فرمائے : اس کی صورت نہیں بنائی جائے گی تو وہ رحم اس لوتھڑے کو خون کی صورت میں ساقط کردیتا ہے اور اگر فرمائے : صورت بنائی جائے گی تو پھر فرشتہ پوچھتا ہے: مرد کی یا عورت کی ؟ ہو سکتا ہے کہ امام بخاری نے اس آیت کریمہ کی تفسیر بیان کرنے کا ارادہ کیا ہو اور اس وجہ سے اس حدیث کو روایت کیا ہو۔
اس باب کی باب سابق کے ساتھ مناسبت یہ ہے کہ پہلے باب میں حیض سے غسل کا بیان تھا اور اس باب میں یہ بیان ہے کہ حاملہ عورت کو حیض نہیں آتا۔
۳۱۸- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّی اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ اللهَ عَزَّوَجَلَّ وَكَلَ بِالرَّحِمِ مَلَكًا، يَقُولُ يَارَبِّ نُطْفَةٌ يَارَبِّ عَلَقَةٌ، يَارَبِّ مُضْغَةٌ ، فَإِذَا اَرَادَ أَنْ يَقْضِيَ خَلَقَهُ قَالَ اذَكَر ام انثى؟ أَشَقِيٌّ أَمْ سَعِيدٌ؟ فَمَا الرزق وَالْأَجَلُ؟ فَيُكتبُ فِي بَطْن امه . [ اطراف الحديث : ۳۳۳۳-۶۵۹۵]
صحیح مسلم : 2646، الرقم المسلسل : 6606 السنة لابی عاصم : ۱۸۷ حلیة الاولیاء: ج ۶ ص ۲۸۰ سنن بیہقی ج ۷ ص ۴۲۱، مسند احمد ج ۳ ص ۱۱۷ طبع قدیم مسند احمد : ۱۲۱۵۷ – ج ۱۹ ص ۲۰۱ مؤسسة الرسالة بیروت)
امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں مسدد نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں حماد نے عدیث بیان کی از عبیداللہ بن ابی بکر از حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ از نبی صلی اللہ علیہ وسلم، آپ نے فرمایا:بے شک اللہ عزوجل نے رحم کے ساتھ ایک فرشتہ مقرر کردیا ہے جو کہتا ہے: یا رب! نطفہ یارب ! جما ہوا خون یارب ! گوشت کا لوتھڑا، پس جب اللہ اس کی تخلیق کا ارادہ کرتا ہے تو فرشتہ کہتا ہے: مذکر یا مؤنث ؟ بدبخت یا نیک بخت؟ اس کا رزق کتنا ہے؟ اور اس کی مدت حیات کتنی ہے؟ پھر وہ سب اس کی ماں کے پیٹ میں لکھ دیا جاتا ہے۔
باب کے عنوان کے ساتھ اس حدیث کی مطابقت اس طرح ہے کہ اس میں مخلقة اور غیر مخلقة کی تفسیر ہے کیونکہ اس میں مذکور ہے : جب اللہ اس کی تخلیق کا ارادہ کرتا ہے تو فرشتہ کہتا ہے ۔۔
اس حدیث کے چار رجال ہیں اور ان کا تعارف پہلے ہو چکا ہے۔
اللہ تعالیٰ کو ہر چیز کی قضاء وقدر کا علم ہونا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے علم قیامت پر استدلال
المہلب نے کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو مخلوق کے پیدا کرنے سے پہلے اس کے احوال کا علم ہوتا ہے اور یہ اہل سنت و جماعت کا مذہب ہے۔
اس حدیث میں جو ذکر کیا گیا ہے: رزق، مدت حیات سعادت اور شقاوت اور مرد یا عورت ہونا یہ تمام امور فرشتے کے لیے ظاہر ہوجاتے ہیں اور اسے ان کو لکھنے اور ان کو نافذ کرنے کا حکم دیا جاتا ہے ورنہ اللہ تعالیٰ کی قضاء اس کا علم اور اس کا ارادہ ان سب چیزوں پر مقدم ہے۔
قاضی عیاض نے کہا ہے: اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ ایک سو بیس دن کے بعد روح پھونک دی جاتی ہے، جب چار ماہ پورے ہونے کے بعد پانچواں مہینہ شروع ہو جاتا ہے۔ (عمدۃ القاری ج ۳ ص ۴۳۸ دار الکتب العلمیہ، بیروت ۱۴۲۱ھ )
میں کہتا ہوں کہ جب فرشتے کو علم ہوتا ہے کہ کون انسان کب مرے گا؟ اور وہ جنتی ہے یا دوزخی؟ اور جس انسان کی موت قیامت کے دن آئے گی فرشتے کو اس واسطے سے قیامت کا بھی علم ہوتا ہے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ان چیزوں کا علم کیوں نہیں ہوگا !
یہ حدیث شرح صحیح مسلم : ۶۶۰۴ – ج ۷ ص ۲۶۳ پر ہے اس کی شرح کے حسب ذیل عنوانات ہیں:
کیا اللہ تعالیٰ کے علم سابق میں انسانوں کا جنتی یا جہنمی ہونا ان کے مکلف ہونے کے منافی ہے
جبر اور قدر کے اعتبار سے مسئلہ تقدیر پر اشکال اور اس کا جواب ۔
ٹیگز:-
Allama Ghulam Rasool Saeedi , صحیح البخاری , شرح صحیح البخاری , نعمۃ الباری فی شرح صحیح البخاری , کتاب الحیض