مبسملا وحامدا ومصلیا ومسلما

کوئی قوم کیسے گمراہ ہوتی ہے؟

(1)ایک صاحب علم نوجوان ہے،لیکن وہ الٹی کھوپڑی کا ہے،یعنی کج فکر ہے۔وہ اگر ژندہ رہا تو ایک دن ساٹھ سال سے تجاوز کر جائے گا اور بزرگ ہو جائے گا۔اس وقت اس کا شمار اکابر قوم میں ہو گا،کیوں کہ اکابرین میں اس کا شمار ہوتا ہے جو بزرگ ہو اور صاحب علم ہو۔

(2)کسی کی فطرت بدلتی نہیں ہے،وہ نوے سال کا ہو جائے،پھر بھی الٹی کھوپڑی کا ہی رہے گا۔ہاں،ایسے لوگ کسی کی موت کا بھی انتظار کرتے ہیں،تاکہ اس کے غلط نظریات کے متبعین بھی آسانی سے مل جائیں۔جیسے اسماعیل دہلوی اپنے چچا مجدد صدی سیزدہم شاہ عبد العزیز محدث دہلوی قدس سرہ العزیز کی وفات کے انتظار میں تھا۔ان کی وفات کے بعد ہی اس نے فتنے پھیلانا شروع کر دیا۔

شاہ عبد العزیز محدث دہلوی کی وفات07: شوال المکرم 1239 کو ہوئی۔اس کے بعد اسماعیل دہلوی نے تقویۃ الایمان لکھی اور شاہ صاحب کی برسی سے قبل ہی رمضان المبارک 1240 میں اسماعیل دہلوی پر تحقیق الفتوی میں کفر فقہی کا حکم نافذ ہو گیا۔یعنی اسماعیل دہلوی نے شاہ عبد العزیز محدث دہلوی کی وفات کے بعد بہت تیزی سے گمرہی پھیلانا شروع کر دیا۔

(3)اسماعیل دہلوی سنی خاندان کا فرد تھا۔اسی طرح سنی خاندان کا کوئی فرد یا سنی مدرسے کا کوئی فارغ التحصیل صاحب علم اور کج فکر ہو،پھر وہ ساٹھ پار کر جائے تو اکابرین میں شامل ہو جائے گا اور اس کے بہت سے معتقد بھی ہو جائیں گے اور اس کی ذات سے بھلائی کم اور برائی زیادہ پھیلے گی۔ایسے لوگوں سے یقینا پرہیز کرنا لازم ہے،جیسے کسی گلاس میں دودھ ہو،پھر اس میں چند قطرہ پیشاب کا بھی ڈال دیا جائے تو وہ ناقابل استعمال ہو جاتا ہے۔اسی طرح کج فکر معمر افراد ناقابل اتباع ہوتے ہیں۔وہ اکابر قوم میں سے نہیں۔

(3)کج فکری کے علاوہ شرم ساری کے سبب بھی ضلالت وگمرہی پھیلتی ہے۔اس کی صورت یہ ہے کہ کسی سے لغزش ہو گئی،پھر اس پر اطلاع ہوئی،لیکن اس کو رجوع کرنے میں شرم محسوس ہوتی ہے کہ رجوع کریں گے تو لوگ کیا کہیں گے۔یعنی عار کے سبب نار کو اختیار کرتے ہیں۔ایسے لوگ بھی ناقابل اتباع ہیں۔

طارق انور مصباحی

جاری کردہ:22:جنوری 2026