أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَللّٰهُ الصَّمَدُ‌ ۞

ترجمہ:

اللہ بےنیاز ہے

الاخلاص : 2 میں فرمایا : اللہ بےنیاز ہے۔

” الصمد “ کے معانی اور محامل

اس آیت میں ” صمد “ کا فظ ہے ” صمد “ کا معنی ہے : اپنی حاجات اور ضروریات میں جس کا قصد کیا جائے اور اسے کسی کی طرف حاجت اور ضرورت نہ ہو، الاصم نے کہا : ” الصمد ‘ وہ ہے جو تمام چیزوں کا خالق ہو، السدی نے کہا : ” صمد “ وہ ہے جس کا مرغوبات کے حصول میں قصد کیا جائے اور آفات اور مصائب میں اس سے فریاد کی جائے، الحسین بن فضل الجلی نے کہا : ’ دصمد “ وہ ہے ج وجس چیز کو بھی چاہے وہ کرے اور اپنے ہر ارادہ کو پورا کرے اور اس کے کم اور اس کے فیصلہ کو کوئی ٹالنے والا نہ ہو ” صمد “ وہ ہے جو غنی ہو، قرآن مجید میں ہے : ” ھو الغنی الحمید۔ “ (الحدید : ٢٤) وہ مستغنی ہے اور تعریف کیا ہوا ہے ” صمد “ وہ ہے جس کے اوپر کوئی نہ ہو ” وھو القام فوق عبادہ “ (الانعام : ١٨) وہ اپنے تمام بندوں پر غالب ہے، قتادہ نے کہا : وہ کھاتا پیتا نہیں ہے ” وھو یطعم ولایطعم “ (الانعام : ١) وہ کھلاتا ہے اور خود نہیں کھاتا، نیز قتادہ نے کہا : ’ دصمد “ وہ ہے جو ہمیشہ باقی رہے اور اس کے سوا ہر چیز فانی ہے : ” گل من علیھا فان۔ ویبقی وجہ ربک (الرحمن :27-26) زمین پر ہر چیز فانی ہے۔ اور آپ کا رب باقی ہے، ابومالک نے کہا :” صمد “ وہ ہے جس کو اونگھ اور موت نہیں آتی :” لا تاخذہ سنۃ ولانوم “ (البقرہ : ٢٥٥) اس کو نہ نیند آتی ہے نہ موت، مقاتل بن حیان نے کہا :” صمد “ وہ ہے جس میں کوئی عیب نہ ہو، ربیع بن انس نے کہا :” صمد “ وہ ہے جس پر کوئی افٓت اور مصیبت نہ آئے، سعید بن جبیر نے کہا : ” صمد “ وہ ہے جو اپنی تمام صفات اور افعال میں کامل ہو، امام جعفر صادق نے کہا، جو ہمیشہ غالب ہو اور کبھی مغلوب نہ ہو، ” صمد “ وہ ہے جو تمام نقصانات اور تغیرات سے منزہ ہو اور زمان و مکان کے احاطہ سے مبرا ہو۔ (تفسیر کبیرج ١١ ص 362-363 ملحضاً و موضحاً داراحیاء التراث العربی، بیروت، ١٤١٥ ھ)

القرآن – سورۃ نمبر 112 الإخلاص آیت نمبر 2