اہل سنت سواد اعظم ہیں
از قلم مفتی علی اصغر
5 شعبان المعظم 1447
25 جنوری 2026
دنیا بھر  سے اہل سنت  کے اداروں اور مشاہیر کی تعزیت ہر دوسری جگہ دیکھنے کو ملیں جو مفتی شافعیہ مکہ حضرت سید عمر بن حامد جیلانی علیہ الرحمہ  کی رحلت کے بارے میں تھیں
بالخصوص دنیائے عرب کے ہر شہر کے علماء اور اداروں کی طرف سے  حضرت کی شان، پختہ علم، خلوص اور خدمات کا اعتراف سننے کو ملا
بعض نے لکھا عجب شان تھی غوث پاک رضی اللہ عنہ کا یہ شہزادہ، ملک یمن کے صوبہ حضر موت میں پیدا ہوا 30 سال سے زیادہ مکہ مکرمہ میں خدمت علم کی، شافعی حضرات کے آپ مرجع تھے اور فقہ شافعی میں فتوی دیا کرتے تھے
لیکن آخری سفر انڈونیشیا کا کر رہے تھے دوران پرواز زمین و آسان کے درمیان رحلت ہوئی مدفن جکارتا کی سرزمین بنی
بغداد شریف سے  حضور غوث اعظم رضی اللہ عنہ کے شہزادے  اور سجادہ نشین حضرت علامہ  عفیف الدین گیلانی دامت۔ برکاتہم العالیہ غوث پاک کے مزار شریف کی چادر لے کر پہنچے جواس  عظیم ہستی  اور جیلانی شہزادے کی قبر پر تبرک کے طور پر ڈالی گئی 
محدث مکہ سنی صحیح العقیدہ برزگ تھے  جو معمولات اور افعال، پاک و ھند کے علماء اور ان کی رہنمائی میں عوام انجام دیتے ہیں یہی اس امت کی اکثریت یعنی سواد اعظم کا طریقہ ہے یہ سواد اعظم عالمی طور پر صوفی سنی کی پہچان رکھتا ہے
کچھ لوگ ایسے بہروپیے  ہیں کہ مذھب کے معاملہ میں بھی دو چہرے رکھتے ہیں
پاک و ھند میں جن چیزوں کو حرام بلکہ شرک تک کہتے ہیں دنیائے عرب کے ان علمی میناروں سے اپنی پہچان یہ کہہ کر کرواتے ہیں کہ ہم تو ان سب چیزوں کو مانتے ہیں جو اپ کرتے ہیں۔
میں نے یمن کے سفر میں عجب منظر دیکھا شیخ حبیب عمر حفظہ اللہ   کے ہمراہ ان کے مشائخ کے مزارات پر حاضر ہوا حضر موت صوبہ میں تریم  شہر میں قدیم قبرستان زنبل شریف کو ثانی بقیع کہا جاتا ہے وہاں کچھ صحابہ کرام کے مزار بھی ہیں اور کئی اقطاب اور اولیاء وہاں مدفون ہیں سب کے آخر دور یعنی دو سال قبل کی مشہور شخصیت امام حداد کا مزار شریف بھی ہے اور ان سے اوپر کوئی 8 سو سال اور اس سے بھی قدیم مشاہیر کے مزارات بھی ہیں
بہت سارے مزارات پر اس انداز کے قبے ہیں جو بقیع شریف میں ہوا کرتے تھے
امام حداد نے ایک تاریخی کتاب بھی لکھی ہے جو اس وقت پیدا ہونے والے ایک بڑے فتنے سے متعلق تھی ان کی کتب کی فہرست میں پڑھی جا سکتی ہے میرے خیال سے اپ اولین لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے اس فتنہ ر کچھ لکھا
امام حداد بہت بڑے صوفی شاعر تھے  جنہوں نے توحید اور اللہ تعالی کی  شان میں ایسے قصائد لکھے ہیں کہ اس گہرائی میں ہر ایک اترا ہوا نہیں ہوتا
امام حداد کا  مرتب کردہ ایک وظیفہ “راتب حداد” دنیا بھر کے مشائخ کے وظائف کا معلوم ہوتا ہے بالخصوص جو کسی نہ کسی طرح یمنی مشائخ سے جڑے ہوتے ہیں ھندوستان میں کیرلا میں  شافعی مسلمان ہیں یہاں کے علماء و مشائخ بھی اس کو پڑھتے ہیں
میں نے زنبل شریف کے قبرستان میں دیکھا شیخ حبیب عمر  حفظہ اللہ اور ان کے رفقاء عقیدت سے مزارات پر حاضری دے رہے ہیں شہداء سے بھی افضل  ہستیوں کی شان میں  استغاثہ کر رہے ہیں شاید ہی ان کی کوئی مجلس ہو جس میں یہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں استغاثہ نا کرتے ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نا پکارتے ہوں آپ سے مدد نا مانگتے ہوں
ان حضرات کی مجالس میں جس انداز سے کھڑے ہو کر یا نبی سلام علیک جاتا ہے  اس کی روحانیت ہی کچھ اور ہوتی ہے
لیکن پھر بھی مجھے چند ایسے افراد نظر آئے جو انکے مدرسے ہی میں پڑھتے ہیں
مزارات کی حاضری میں بھی ساتھ تھے ان کے ہر قدم پر ساتھ ساتھ ہوتے ہیں لیکن یہ عقیدہ عرب دنیا کے لئے ہے اور عجم میں عقائد دوسرے ہیں ۔

ابھی تریم شہر میں  میں چند دن قبل ہر سال کی طرح اس سال بھی 27 رجب کو شب معراج شایانِ شان طریقے سے منائی گئی بلکہ ان کے یہاں تکلف  رجب شریف کا جلوس بھی نکلتا ہے
ترمیم شہر میں شریعت پر عمل کا ایسا جذبہ ہے کہ  پورے شہر میں  ایک عورت نقاب کے بغیر  نظر نہیں آئے گی
اج کل ایک تقریب بھی ہو رہی ہے
تریم سے 80 کلو میٹر دور حضرت نبی اللہ  حضرت  ہود علیہ السلام کے مزار پر تین روزہ عرس کی تقریبات جاری ہیں  جس کی قیادت شیخ حبیب عمر  صاحب  حفظہ اللہ  ہی کر رہے ہیں لاکھوں لوگ یہاں تین دن کے لئے جمع ہوتے ہیں اور مشائخ کی تقاریر سنتے ہیں مزار شریف پر حاضر  ہوتے ہیں
اللہ پاک ہم سب کو سواد اعظم کی پیروی نصیب فرمائے
اور ہمارا حشر ایسے ہی لوگوں کے ساتھ ہو جو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں مقبول ہیں