أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِا

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فِىۡ جِيۡدِهَا حَبۡلٌ مِّنۡ مَّسَدٍ  ۞

ترجمہ:

اس کی گردن میں کھجور کی چھال کی بٹی ہوئی رسی ہوگی  ؏

اللہب : ٥ میں فرمایا : اس کی گردن میں کھجور کی چھال کی بٹی ہوئی رسی ہوگی۔

ابولہب کی بیوی کے لئے دوزخ کی وعید

اس آیت میں ” جید “ کا لفظ ہے، اس کا معنی ہے : گردن اور اس آیت میں ” مسد “ کا لفظ ہے، اس کا معنی کھجور کی چھال کی بٹی ہوئی رسی ہے۔ (القاموس المحیط ص ٢٧٥ القاموس ص 319 مئوسستہ الرسالتہ، بیروت)

الواحدی نے کہا ہے کہ درخت کی چھال سے جو بہت عمدہ طریقہ سے رسی بٹی جائے، اس کو مسند کہتے ہیں۔

یہ وہ مضبوط رسی ھتی، جس سے وہ اپنی لکڑیوں کا گٹھا باندھتی تھی، قیامت کے دن اسی یا اس جیسی رسی کا پھندا اس کے گلے میں پڑا ہوگا، اس آیت سے مقصود اس کو اور اس کے خاوند کو ایذاء پہنچانا ہے۔

اس کی تفسیر میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جہنم کی آگ میں وہ ایسی حالت میں ہوگی کہ اس کی پیٹھ پر درخت زقوم کی کانٹے دار لکڑیوں کا گھٹا ہوگا اور اس کی گردن میں آگ کی زنجیروں کا پھندا ہوگا۔

اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ درخت کی چھال سے بٹی ہوئی رسی کا پھندا دوزخ کی آگ میں کیسے باقی رہے گا ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ جس طرح دوزخ کی آگ میں اس کی کھال، اس کا گوشت اور اس کی ہڈیاں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گی، اسی طرح وہ رسی بھی ہمیشہ رہے گی اور جس طرح اس کو جلنے کے بعد دوبارہ زندہ کیا جائے گا، اسی طرح وہ رسی بھی بار بار بنتی رہے گی اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ بٹی ہوئی رسی ہو اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ ل ہے کی زنجیر ہو۔ (تفسیر کبیرج ١١ ص ٣٥٥، داراحیاء التراث العربی، بیروت ١٤١٥ ھ)

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی توہین کرنے والے کی شدید مذمت

جب کسی شریف اور مہذب انسان کو کوئی شخص برا کہے یا گالی دے تو وہ بردشات کرلیتا ہے لیکن اگر اس کے عزیز دوست یا محبوب کو کوئی شخص برا کہے تو پھر وہ ضبط نہیں کرتا اور ایک کی دس سناتا ہے، ولید بن مغیرہ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مجنون کہا تو اللہ تعالیٰ نے آپ کا دفاع کیا اور فرمایا : اللہ کے فضل سے آپ مجنون نہیں ہیں، پھر اس کی مذمت میں اس کے دس عیوب بیان فرمائے اور آخری عیب یہ بیان فرمایا کہ وہ بد اصل ہے یعنی ولد احلرام ہے۔

سای طرح کوئی کسی معزز شخص کے محبوب کو برا کہے تو وہ اس کی بھی مذمت کرتا ہے اور اس کے متعلقین کی بھی مذمت کرتا ہے کہ تم ایسے ہو اور تمہاری اولاد ایسی ہے اور تمہاری بیوی ایسی ہے، اس نہج پر جب ابولہب نے آپ کے متعلق کہا کہ آپ کا ہاتھ ٹوٹ جائے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ابولہب کے دونوں ہاتھ ٹوٹ جائیں اور وہ خود ہلاک ہوگیا اور اس کا بیٹا بھی ہلاک ہوگیا اور آخرت میں وہ دوزخ کی بھڑکتی ہوئی آگ میں داخل ہوگا اور اس کی بیوی بھی دوزخ میں لکڑیوں کا گٹھا اٹھئاے ہوئے جائے گی اور اس کے گلے میں رسی ہوگی۔

اس سورت سے ہمیں یہ تعلیم ملتی ہے کہ اگر ہمیں برا کہا جائے تو ہم اس پر صبر کرلیں لیکن اگر کوئی بدبخت نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو برا کہے تو ہم اس پر بالکل صبر نہ کریں اور برا کہنے والے کو ایک کی دس سنائیں، اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قدس سرہ نے اسی وسلم کو برا کہے تو ہم اس پر بالکل صبر نہ کریں اور برا کہنے والے کو ایک کی دس سنائیں، اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قدس سرہ نے اسی سنت پر عمل کرتے ہوئے جن لوگوں کی کتابوں میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شان میں تو ہیں آمیز عبارات تھیں، ان پر صبر نہیں کیا  اور ایک کے بجائے دس سنائیں، ان کی زبردست تکفیر کی اور ان کے خلاف الکوکبتہ الشہابیہ، تمہید ایمان اور حسام الحرمین وغیرہ لکھیں، اللہ تعالیٰ ان کو اجر جزیل عطا فرمائے اور ہمیں ان کے مئوقف پر قائم رکھے۔ (آمین)

القرآن – سورۃ نمبر 111 اللہب آیت نمبر 5