أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

لَمۡ يَلِدۡ  ۙ وَلَمۡ يُوۡلَدۡ ۞

ترجمہ:

اس کی کوئی اولاد نہیں اور نہ وہ کسی کی اولاد ہے

الاخلاص : ٣ میں فرمایا : اس کی کوئی اولاد نہیں اور نہ وہ کسی کی اولاد ہے۔

اللہ تعالیٰ کی اولاد نہ ہونے پر دلائل

اس آیت کے پہلے حصہ میں اللہ تعالیٰ نے پہلے اپنی اولاد کی نفی کی ہے اور پھر دور سے حصہ میں اس کی نفی کی ہے کہ وہ خود کسی کی اولاد ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کا کوئی قائلن ہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی کی اولاد ہے، البتہ اس کے کئی فرقے قائل تھے کہ اللہ تعالیٰ کی اولاد ہے، مشرکین مکہ کہتے تھے کہ فرشتے اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں، اور یہود یہ کہتے تھے کہ عزیز اللہ کا بیٹا ہے اور عیائی یہ کہتے تھے کہ مسیح اللہ کا بیٹا ہے۔

اللہ تعالیٰ کی اولاد اس لئے نہیں ہوسکتی کیونکہ اولاد والد کی جنس سے ہوتی ہے، اور اللہ تعالیٰ واجب اور قدیم ہے، اگر اس کی اولاد ہوتی تو وہ بھی واجب اور قدیم ہوتی اور جو پیدا ہو وہ واجب اور قدیم نہیں ہوسکتا بلکہ وہ ممکن اور حادث ہوگا۔

عیسائی یہ کہتے ہیں کہ ہم مسیح کو اللہ کا بیٹا اور اللہ کو اس کا باپ کہتے ہیں، یہ اطلاق مجازی ہے، اور یہ مراد نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ جسمانیطور پر مسیح کا باپ ہے بلکہ اس کو عزت اور بزرگی کے طور پر باپ کہا جاتا ہے، اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ پر ایسے اسماء کا طالاق کیا جاتا ہے جن میں نقص کا پہلو نہ ہو اور ان صفات کا اطلاق کیا جاتا ہے جو اس کی شان کے لائق ہوں اور باپ ہونے میں نقص کا پہلو ہے کیونکہ اس سے جسمانی رشتہ سے باپ ہونے کا وہم پیدا ہوتا ہے، موجودہ انجیل میں لکھا ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کو باپ کہتے تھے، حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ایسا برگزیدہ نبی کب اس بات سے ناواقف ہوگا کہ باپ ہونا اللہ تعالیٰ کی شان کے لائق نہیں، لہٰذا وہ اللہ تعالیٰ کو باپ نہیں کہہ سکتے۔

القرآن – سورۃ نمبر 112 الإخلاص آیت نمبر 3