وَلَمۡ يَكُنۡ لَّهٗ كُفُوًا اَحَدٌ – سورۃ نمبر 112 الإخلاص آیت نمبر 4
sulemansubhani نے Sunday، 25 January 2026 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
وَلَمۡ يَكُنۡ لَّهٗ كُفُوًا اَحَدٌ ۞
ترجمہ:
اور نہ اس کا کوئی ہم سر ہے ؏
الاخلاص : ٤ میں فرمایا : اور نہ اس کا کوئی ہم سر ہے۔
یہ بھی الاخالص : و کا تمتمہ ہے کیونکہ کوئی شخص اسی کو بیوی بناتا ہے جو اس کے کفو ہو اور اس کی ہم پہلہ ہو اس کائنات میں کوئی اس کا ہم پہلہ ہی نہیں ہے تو وہ کسی کو بیوی کیسے بنائے گا۔
قرآن مجید میں ہے :
(الانعام : ١٠١) اللہ کی اولاد کیسے ہوسکتی ہے، اس کی تو کوئی بیوی ہی نہیں اور وہ ہر چیز کا خالق ہے۔
الاخلاص کا خلاصہ
الاخلاص : ١ میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ واحد ہے، الاخلاص : ٢ میں فرمایا : اللہ تعالیٰ صمد ہے یعنی وہ رحیم و کریم ہے، سب اس کا قصد کرتے ہیں اور وہ کسی کا قصد نہیں کرتا، الاخلاص : ٣ میں فرمایا : وہ والد ہے نہ مولود ہے یعنی ممکنات کی صفات سے مجرج اور منزہ ہے۔
الاخلاص : ١ میں فرمایا : اللہ احد ہے تو ان کا رد ہوگیا جو متعدد خدا مانتے ہیں جیسے مشرکین اور عیسائی، اور الاخلاص : ٢ میں فرمایا : اللہ صمد ہے، سب اسی کا قصد کرتے ہیں تو ان کا رد ہوگیا جو اپنی حاجات میں بتوں کا قصد کرتے ہیں اور الاخلاص : ٣ میں فرمایا : وہ والد نہیں ہے تو یہود کا رد ہوگیا، جو کہتے تھے : عزیز اللہ کا بیٹا ہے اور عیسائیوں کا رد ہوگیا جو کہتے تھے : مسیح اللہ کا بیٹا ہے اور مشرکین کا رد ہوگیا جو کہتے تھے : فرشتے اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں اور الاخلاص : ٤ میں فرمایا : اللہ کا کوئی کفو اور ہم سر نہیں تو ان مشرکین کا رد ہوگیا جو بتوں کو اللہ تعالیٰ کا ہم سر مانتے تھے۔
یہ سورت، سورة الکوثر کے مقابلہ میں ہے، سورة الکوثر میں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ حضرت عائشہ (رض) کی مدافعت کی تھی اور جس نے آپ کو ابتر کہا تھا، اس کی مذمت کی اور آپ کی شان بیان کی تھی، اس سے پہلے ’ دقل “ (آپ کہیے) نہیں فرمایا یعنی اللہ تعالیٰ از خود آپ کی مدافعت کر رہا ہے اور آپ کی شان بیان کر رہا ہے اور اس سورت میں پہلے ” قل “ فرمایا : یعنی آپ کہیے اور اللہ تعالیٰ کی مدافعت کیجیے اور جو لوگ اللہ تعالیٰ کی شان کے خلاف اس کا شریک، اس کا بیٹا اور اس کی بیوی مانتے ہیں، ان کا رد کیجیے تاکہ معلوم ہو کہ آپ اللہ تعالیٰ کی مدافعت کر رہے ہیں، الکوثر میں اللہ تعالیٰ نے بنی نض
کو ابتر کہنے والے کا رد کیا تھا اور الاخلاص میں فرمایا کہ آپ کہیے اور انکارد کیجیے جو اللہ تعالیٰ کا شریک کہتے ہیں، اس کا بیٹا مانتے ہیں، اس کی بیوی مانتے اور اس کی شان کے خلاف اس کی صفات بیان کرتے ہیں۔
شرک کی تعریف اور مشرکین مکہ کا شرک کیا تھا ؟
سورۃ الاخلاص میں اللہ تعالیٰ نے توحید کا ذکر فرمایا ہے اور شرک کا رد کیا ہے، اس مناسبت سے ہم چاہتے ہیں کہ توحید پر دلائل دینے کے بعد شرک کی وضاحت کریں۔ اللہ تعالیٰ واجب الوجود اور قدیم ہے، اس کی ہر صفت مستقل بالذات ہے اور وہ مستحق عبادت ہے، سو اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو واجب اور قدیم ماننا یا اس کی کسی صفت کو مستقل بالذات ماننا شرک ہے، اس کے علاوہ کوئی چیز شرک نہیں ہے۔ اہل سنت و جماعت صالحین اور اولیاء اللہ کے مزارات پر جا کر ان کے وسیلہ سے اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں یا اسناد مجازی کے طور پر ان سے کہتے ہیں کہ آپ ہمیں فلاں چیز عطا فرمائیں جیسے حضرت ہاجر نے صفا، مروہ کے گرد سات چکر لگانے کے بعد جب حضرت جبریل کی آواز سنی تو کہا :
اغث ان کان عندک خیر۔ اگر تمہارے پاس کوئی خیر ہے تو مدد کرو۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٣٣٦٥ مصنف عبدالرزاق رقم الحدیث : ٩١٠٧ مسند احمد ج ١ ص ٢٥٣ )
یا جیسے حضرت جبریل (علیہ السلام) نے حضرت مریم سے کہا :
(مریم : ١٩) جبریل نے کہا : میں آپ کے رب کافرستادہ ہوں تاکہ آپ کو پاکیزہ بیٹا دوں۔
جب حضرت جبریل بیٹا دے دینے کی اپنی طرف نسبت کرسکتے ہیں تو مسلمان بھی بیٹا دینے کی نسبت اولیاء اللہ اور الحین کی طرف کرسکتے ہیں اور یہ اسناد مجازی ہے اور ان میں سے کوئی چیز شرک نہیں ہے، ورنہ حضرت ہاجر اور حضرت جبریل کو بھی مشرک قرار دینا ہوگا۔ العیاذ باللہ !
مخالفین اس نوع کی استمداد کو شرک کہتے ہیں اور اہل سنت و جماعت کو قبر پرست اور مشرک کہتے ہیں، نیز کہتے ہیں کہ اہل مکہ کا شرک یہی تھا کہ وہ صالحین سے مدد طلب کرتے تھے۔
ہم کہتے ہیں کہ قرآن مجید میں کہیں یہ نہیں ہے کہ اہل مکہ قبر والوں سے یا صالحین سے مدد طلب کرتے تھے یا ان کی عبادت کرتے تھے، قرآن مجید نے یہ بتایا ہے کہ اہل مکہ ملائکہ کی، جنات کی، ساتروں کی اور بتوں کی عبادت کرتے تھے اور ان میں سے کسی کی عبادت اس کی صالحیت کی بناء پر نہیں کرتے تھے۔
مشرکین فرشتوں کی عبادت ان کی صلاحیت کی بناء پر نہیں کرتے تھے بلکہ ان کی عبادت اس وجہ سے کرتے تھے کہ ان کا اعتقاد تھا کہ فرشتے اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں، قرآن مجید میں ہے :
(الزخرف : ٢٠-١٩) اور انہوں نے فرشتوں کو جو رحمن کی عبادت کرنے والے ہیں مئونث قرار دیا، کیا وہ فرشتوں کی پیدائش کے وقت موجود تھے، عنقریب ان کی یہ گواہی لکھ لی جائے گی اور ان سے اس کے متعق باز پرس کی جائے گی۔ اور انہوں نے کہا، اگر رحمٰن چاہتا تو ہم فرشتوں کی عبادت نہ کرتے، انہیں اس کا کوئی علم نہیں، وہ صرف اندازے سے بات کرتے ہیں۔ اور مشرکین جنات کی عبادت کرتے تھے اور ان کی عبادت بھی وہ ان کی صالحیت کی وجہ سے نہیں کرتے تھے بلکہ انہوں نے جنات کو اللہ تعالیٰ کے بیٹے اور بیٹیاں قرار دے دیا تھا، قرآن مجید میں ہے :
(الانعام : ١٠٠) اور انہوں نے جنات کو اللہ کا شریک بنا لیا اور بغیر علم کے ان کو اللہ کے بیٹے اور بیٹیاں بنا لیا، اللہ ان کی بیوی کی ہوئی صفات سے بہت بلند ہے۔
(الصفت : ١٥٨) اور انہوں نے اللہ کے اور جنات کے درمیان نسب گھڑ لیا۔
مشرکین ستاروں کی عبادت کرتے تھے اور بتوں کی عبادت کرتے تھے، ان میں سے کوئی چیز بھی اصلح انسان نہیں ہے، قرآن مجید میں یہ کہیں مذکور نہیں ہے کہ مشرکین کسی صالح انسان کی عبادت کرتے تھے یا کسی قبر کی عبادت کرتے تھے۔
مشرکین بتوں کی نذر مانتے تھے، ان کی نذر کو ایصال ثواب پر چسپاں کرنا بھی باطل ہے، ہمارے نزدیک نذر اللہ کی مانی جاتی ہے کہ اے اللہ ! اگر فلاں بیمار کو تو نے شفا دے دی تو میں تیری رضا کے لئے اتنا طعام صدقہ کروں گا، پھر اس طعام کو صدقہ کر کے اس کا ثواب کسی بزرگ کو پہنچا دیا جاتا ہے۔
القرآن – سورۃ نمبر 112 الإخلاص آیت نمبر 4