أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَّامۡرَاَ تُهٗ ؕ حَمَّالَةَ الۡحَطَبِ‌ۚ‏ ۞

ترجمہ:

اور اس کی بیوی بھی، لکڑیوں کا گٹھا اٹھائے ہوئے

اللہب : ٤ میں فرمایا : اور اس کی بیوی بھی لکڑیوں کا گٹھا اٹھائے ہوئے۔

ابولہب کی بیوی کی مذمت

حافظ شہاب الدین احمد بن علی بن حجر عسقلانی متوفی ٨٥٢ ھ لکھتے ہیں :

ابولہب کی بیوی کانی تھی، اس کی کنیت ام جمیل تھی، اس کا نام تھا ارویٰ بنت حرب بن امیہ یہ حضرت معاویہ کے والد ابوسفیان (رض) کی بہن تھی، ایک قول یہ ہے کہ یہ کافی نہیں تھی، امام بزار نے سند حسن کے ساتھ حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ جب سورة تبت یدا ابی لھب “ نازل ہوئی تو ابولہب کی بیوی آئی، حضرت ابوبکر (رض) نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا : آپ ایک طرف ہوجائیں، آپ نے فرمایا : عنقریب میرے اور اس کے درمیان کوئی چیز حائل ہوجائے گی ( میں اس کو دکھائ نہیں دوں گا) اس نے کہا، اے ابوبکر ! تمہارے پیغمبر نے میری ھجو کی ہے، حضرت ابوبکر نے کہا، اس کعبہ کے رب کی قسم ! وہ شعر بناتے ہیں نہ شعر پڑھتے ہیں، اور اس نے کہا، تم ان کی تصدیق کرتے ہو، جب وہ پیٹھ پھیر کر چلی گئی تو اس کعبہ کے رب کی قسم ! وہ شعر بناتے ہیں نہ شعر پڑھتے ہیں، اس نے کہا : تم ان کی تصدیق کرتے ہو، جب وہ پیٹھ پھیر کر چلی گئی تو حضرت ابوبکر نے کہا، اس نے آپ کو نہیں دیکھا، آپ نے فرمایا، جب تک وہ پیٹھ پھیر کر چلی نہیں گئی، ایک فرشتہ مجھے چھپائے ہوئے تھا اور امام ابویعلیٰ اور امام ابن ابی حاتم نے اور حاکم نے حضرت زید بن ارقم (رض) سے روایت کیا ہے کہ جب تبت یدا ابی لھب “ نازل ہوئی تو ابو لہب کی بیوی سے کسی نے کہا (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تمہاری ہجو کی ہے، تو وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے آ کر کہنے لگی، کیا آپ نے مجھے لکڑیوں کا گھٹا اٹھائے ہوئے دیکھا ہے ؟ کیا آپ نے میری گردن میں رسی دیکھی ہے۔ فتح الباری ج ٦ ص ٤٧ دارلامعرفہ، بیروت ١٤٢٦ ھ المستدرک ج ٢ ص ٣٦١ )

امام ابونعیم اصبہانی متوفی ٤٣٠ ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :

سعید بن جبیر بیان کرتے ہیں، جب سورة تبت نازل ہوئی تو ابولہب کی بیوی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس گئی اس وقت آپ کے پاس حضرت ابوبکر بھی تھے، حضرت ابوبکر نے کہا : یا رسول اللہ ! آپ ایک طرف ہوجائیں تاکہ آپ کوئی مکروہ بات نہ سنیں، جس سے آپ کو رنج ہو، ابو لہب کی بیوی آرہی ہے اور وہ سخت بدزبان ہے، آپ نے فرمایا : میرے اور اس کے درمیان کوئی چیز حائل کردی جائے گی، وہ مجھے نہیں دیکھ سکے گی، اس نے حضرت ابوبکر سے کہا : تمہارے پیغمبر نے ہماری ہجو کی ہے، حضرت ابوبکر نے کہا : اللہ کی قسم ! وہ شعر بنتاے ہیں نہ شعر پڑھتے ہیں، اس نے کہا : تم ان کی تصدیق کرتے ہو، جب وہ چلی گئی تو حضرت ابوبکر نے کہا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس نے آپ کو نہیں دیکھا، آپ نے فرمایا : میرے اور اس کے درمیان ایک فرشتہ تھا جو مجھے چھپائے ہوئے تھا۔ (دلائل النبوۃ رقم الحدیث : ١٤٠ مصنف ابن ابی شیبہ رقم الحدیث : ٣١٧٥٩ صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٢١٠٣)

” حمالۃ الحطب “ کا معنی

اس آیت میں ” حمالۃ الحطب “ کا لفظ ہے ” حمالۃ “ کا معنی ہے : اٹھا کر لانے والی اور ” الحطب “ کا معنی ہے : لکڑیاں وہ اپنے بخل کی وجہ سے جنگل سے لکڑیاں اٹھا کر لاتی تھی اور کاٹنے لا کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے راستہ میں ڈال دیتی تھی تاکہ آپ کو وہ کانٹے چبھیں ” حمالۃ الحطب “ کا معنی چغالیاں کھانے والی بھی ہے، وہ لوگوں کی چغلیاں کرتی تھی اور ادھر کی بات ادھر لگاتی تھی۔ (جامع اللبیان رقم الحدیث : ٢٩٥٩٩، تفسری کبیرج ١١ ص 353-354 فتح الباری ج ٦ ص ١٤٧ )

القرآن – سورۃ نمبر 111 اللہب آیت نمبر 4