٢٠ – بَاب لَا تَقْضِي الْحَائِضُ الصَّلوةَ

حائض نماز کی قضاء نہ کرے

اس باب میں یہ بتایا گیا ہے کہ حائض نماز کو قضاء نہیں کرے گی اور یہ نہیں کہا کہ نماز کو چھوڑ دے کیونکہ نماز کو قضاء نہ کرنا زیادہ عام اور شامل لفظ ہے باب سابق کے ساتھ اس کی مناسبت یہ ہے کہ اُس میں بھی حیض آنے پر نماز چھوڑنے کا ذکر تھا اور اس میں بھی ہے۔

وقَالَ جَابِرٌ وَأَبُو سَعِيدٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَدَعُ الصَّلوةَ.

اور حضرت جاہر اور حضرت ابو سعید نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے: نماز کو چھوڑ دے۔

اس تعلیق کی اصل صحیح البخاری : ۳۰۴ میں ہے مگر اس میں یہ الفاظ ہیں کہ جب عورت کو حیض آتا ہے تو وہ نماز نہیں پڑھتی اور نماز کا نہ پڑھنا نماز چھوڑنے کو مستلزم ہے۔

۳۲۱- حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ قَالَ حَدَّثَنَا  هَمَّامٌ قَالَ حَدَّثنَا قتادَةً قَالَ حَدَّثننِي مُعَاذةُ انَّ امْرَأَةٌ قَالَتْ لِعَائِشَةَ أَتَجْزى إِحْدَانَا صَلَاتَهَا إِذَا طَهُرَتْ ؟فَقَالَتْ أَحَرُورِيَّةٌ أَنْتِ ؟ كُنَّا نَحِيضُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَا يَأْمُرُنَا بِهِ ، اَوْ قَالَتْ فَلَا نَفعَلہ۔

صحیح مسلم : 335، الرقم المسلسل : ۷۴۵، سنن ابوداؤد : 262 – 263 سنن ترمذی: ۱۳۰ سنن نسائی: 382، سنن ابن ماجه: 631، المنتقی: ۱۰۱ سنن دارمی : 980، صحیح ابن خزیمه ۱۰۰۱ مصنف عبدالرزاق :۱۲۷۹ مسند احمد ج 6 ص ۳۴ طبع قدیم، مسند احمد : ۲۴۰۳۶- ج 40 ص 39 مؤسسة الرسالة بیروت، جامع المسانید لابن الجوزی : ۷۵۲۲ مکتبة الرشد ریاض 1426ھ

امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں موسیٰ بن اسماعیل نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں ھمام نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں قتادہ نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: مجھے معاذہ نے حدیث بیان کی کہ ایک عورت نے حضرت عائشہ سے کہا: کیا ہم میں سے کسی ایک کے لیے یہ کافی ہے کہ جب وہ حیض سے پاک ہوجائے تو وہ (پچھلی ) نمازیں پڑھے؟ حضرت عائشہ نے فرمایا: کیا تم حروریہ ہو؟ ہمیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حیض آتا تھا تو آپ ہمیں نماز پڑھنے کا حکم نہیں دیتے تھے یا حضرت عائشہ نے فرمایا: ہم یہ نہیں کرتے تھے یعنی نماز نہیں پڑھتے تھے ۔

اس حدیث کی باب کے عنوان کے ساتھ مطابقت اس جملہ میں ہے: ہمیں حیض آتا تو آپ ہمیں نماز پڑھنے کا حکم نہیں دیتے تھے۔

حدیث مذکور کے رجال کا تعارف

(۱) موسی بن اسماعيل المقرى التبوذکی

(۲) ھمام بن یحیی بن دینار العدوی،  امام احمد نے کہا: یہ تمام مشائخ کے نزدیک ثبت ہیں 163ھ میں فوت ہوگئے تھے

(۳) قتادہ الاکمہ المفسر

(۴) معاذه بنت عبد الله العدویہ الزاہدہ، شب بیدار تھیں، ۸۳ ھ میں فوت ہوگئی تھی

(۵) حضرت عائشہ ام المؤمنین رضی اللہ عنہا

(عمدة القاری ج ۳ ص ۴۴۵)

سوال کرنے والی عورت کا نام اور حروریہ“ کا معنی

اس حدیث میں مذکور ہے: ایک عورت نے سوال کیا، قتادہ نے بیان کیا: اس عورت کا نام معاذہ ہے جو اس حدیث کی راویہ ہے۔ کیا تم حروریہ ہو؟ حروریہ میں حروراء کی طرف نسبت ہے یہ کوفہ کے قریب ایک بستی ہے، اس جگہ سب سے پہلے خوارج کا اجتماع ہوا تھا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے کلام کا معنی یہ ہے کہ کیا تم خارجیہ ہو،  کیونکہ خوارج کی ایک جماعت یہ کہتی تھی کہ ایام حیض میں عورت کی جو نمازیں فوت ہوجائیں طہر کے بعد ان نمازوں کی قضاء کرنا واجب ہے اور یہ اجماع کے خلاف ہے۔ فقہاء احناف نے کہا ہے کہ حائض نماز کے وقت میں صاف اور پاک جگہ پر بیٹھ جائے اور جتنی دیر نماز پڑھنے میں لگتی ہے اتنی دیر وہاں بیٹھ کر تسبیح اور تہلیل اور اللہ تعالی کا ذکر کرتی رہے۔

باب مذکور کی حدیث شرح صحیح مسلم : ۶۶۹ – ج ۱ ص ۱۰۲۹ – ۱۰۲۸ پر مذکور ہے وہاں اس کی شرح نہیں گئی البتہ چار سطروں پر مشتمل فائدہ بیان کیا گیا ہے۔