۲۳- بَابُ شُهُودِ الْحَائِضِ الْعِيْدَيْنِ  وَدَعْوَةَ الْمُسْلِمِينَ، وَيَعْتَزِلْنَ الْمُصَلَّى

حائض کا عیدین اور مسلمانوں کی دعا میں حاضر ہونا اور عیدگاہ سے نکل جانا

اس باب میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ حائض عیدین اور مسلمانوں کی دعا کے مواقع پر حاضر ہوگی اور عیدگاہ یا مسجد سے باہر بیٹھے گی۔

ان دونوں بابوں میں مناسبت یہ ہے کہ دونوں باب حائض کے احکام پر مشتمل ہیں یا یہ ہے کہ حائض کا حیض کے کپڑے تیار کرنا بھی عبادت ہے اور عیدگاہ اور مسلمانوں کی دعا کے مواقع میں حاضر ہونا بھی عبادت ہے۔

٣٢٤ – حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، هُوَ ابْنُ سَلَامٍ ، قَالَ أَخْبَرَنَا عبدُ الْوَهَّابِ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ حَفْصَةَ قَالَتْ كُنَّا نَمْنَعُ عَوَاتِقَنَا أَنْ يَخْرُجُنَ فِي الْعِيدَيْنِ، فَقَدِمَتِ امْرَأَةٌ، فَنَزَلَتْ قَصْرَ بَنِي خَلَفٍ، فَحَدَّثَتْ عَنْ اخْتِهَا وَكَانَ زَوْجُ اخْتِهَا غَزَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثنتَى عَشَرَةَ ، وَكَانَتْ أُخْتِى مَعَهُ فِی ست،قَالَتْ كُنَّا نُدَاوِي الْكَلْمي وَنقُومُ عَلَى الْمَرْضَى فَسَالَتْ أُخْتِي النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اَعَلَی إِحْدَانَا بَأْسٌ، إِذَا لَمْ يَكُنْ لَهَا جِلْبَابٌ ، اَنْ لَّا تَخْرُج؟قَالَ لِتُلْبِسْهَا صَاحِبَتُهَا مِنْ جِلْبَابِهَا، وَلَتَشْهَدِ الْخَيْرُ وَدَعْوَةَ الْمُسْلِمِينَ . فَلَمَّا قَدِمَتْ اُمُّ عَطِيَّةَ ، سَأَلْتُهَا اَسَمِعْتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَتْ بِابِی نَعَم،ْ وَكَانَتْ لَا تَذكُرُهُ إِلَّا قَالَتْ بِاَبى سَمِعْتُهُ يَقُولُ تَخْرُجُ الْعَوَاتِقُ وَذَوَاتُ الْخُدُورِ أَوِ الْعَوَاتِقُ ذَوَاتُ الْخُدُورِ وَالْحُيَّضُ وَلْيَشْهَدَنَ الْخَيْرَ وَدَعْوَةَ الْمُؤْمِنِينَ وَيَعْتَزِلُ الْحُيَّضُ الْمُصَلَّى ، قَالَتْ حَفْصَةٌ فَقُلْتُ الْحُيَّضَ؟ فَقَالَتْ أَلَيْسَ تَشْهَدُ عَرَفَةَ وَكَذَا وكذا الاطراف الحديث : ۳۵۱-۹۷۱ – ۹۷۴-۹۸۱-۹۸۰-۱۲۵۲

امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں محمد نے حدیث بیان کی جو ابن سلام ہیں، انہوں نے کہا: ہمیں عبدالوہاب نے خبر دی از ایوب از حفصہ، وہ بیان کرتی ہیں کہ ہم نوجوان کنواری عورتوں کو عیدگاہ میں جانے سے منع کرتی تھیں، پس ایک عورت آئی اور وہ قصر بن خلف میں ٹھہری، اس نے اپنی بہن سے حدیث روایت کی اس کی بہن کا خاوند نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بارہ غزوات میں شریک رہا تھا اور میری بہن اپنے شوہر کے ساتھ چھ غزوات میں شریک تھی اس نے کہا: ہم زخمیوں کی دوا دارو کرتی تھیں اور بیماروں کی تیمارداری کرتی تھیں، پھر میری بہن نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا: آیا ہم سے کسی پر کوئی حرج ہے جب اس کے پاس چادر نہ ہو تو وہ گھر سے نہ نکلے؟ آپ نے فرمایا: اس کی سہیلی اس کو چادر پہنا دے اور وہ نیکی اور مسلمانوں کی دعا کے مواقع پر حاضر ہو، پھر جب حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا آئیں تو میں نے ان سے پوچھا: کیا آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بات کو سنا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں! آپ پ میرے باپ فدا ہوں! اور وہ جب بھی آپ کا ذکر کرتی تھیں تو کہتی تھیں : ہاں! آپ پر میرے باپ فدا ہوں! میں نے آپ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: نوجوان عورتیں اور پردہ دار عورتیں گھر سے نکلیں یا نوجوان پردہ دار عورتیں اور حیض والی عورتیں گھروں سے نکلیں اور نیکی اور مسلمانوں کی دعا کے مواقع پر حاضر ہوں اور حیض والی عورتیں عید گاہ سے باہر رہیں۔ حفصہ بیان کرتی ہیں: میں نے کرتی ہیں : میں نے کہا: حیض والی عورتیں؟ اس خاتون نے کہا: کیا وہ میدانِ عرفات میں اور فلاں فلاں جگہ نہیں جاتیں۔

(صحیح مسلم:890 الرقم المسلسل : ۲۰۲۳ سنن ابوداؤد : ۱۱۳۷ سنن نسائی: ۱۵۵۹ سنن ابن ماجه : ۱۳۰۸ المعجم الكبير : ۱۳۰ – ج 25 صحیح ابن خزیمہ :۱۴۶۲ مسند الحمیدی: ۳۶۲-۳۶۱، سنن بیہقی ج ۳ ص ۳۰۶ مسند احمد ج ۵ ص ۸۴ طبع قدیم، مسند احمد : ۲۰۷۸۹- ج ۳۴ ص 384 مؤسسة الرسالة بيروت ‘جامع المسانيد لابن الجوزی : ۷۶۳۵ مکتبة الرشد ریاض (۱۴۲۶ھ )

اس حدیث کی باب کے عنوان کے ساتھ مطابقت اس جملہ میں ہے: آپ نے فرمایا: نوجوان عورتیں اور پردہ دار عورتیں گھر سے نکلیں اور نیکی اور مسلمانوں کی دعا کے موقع پر حاضر ہوں۔

حدیث مذکور کے رجال کا تعارف

(۱) محمد بن سلام بیکندی ،ابوذر کی روایت میں اسی طرح ہے اور کریمہ کی روایت میں ہے محمد اور وہ ابن سلام ہے اور اکثرین کی روایت میں صرف محمد ہے اور باپ کا ذکر نہیں ہے۔

(۲) عبد الوہاب الثقفی

(۳) ایوب السختیانی ان کا تعارف ہو چکا ہے

(۴) حفصہ بنت سیرین ام الهذيل الانصاریہ البصریہ یہ محمد بن سیرین کی بہن ہیں، ان سے ایک جماعت روایت کرتی ہے

(۵) ایک عورت کا ذکر ہے اس کا نام معلوم نہیں ہو سکا

(۶) اس کی بہن ایک قول ہے: یہ حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا کی بہن ہے علامہ قرطبی نے تصریح کی ہے کہ وہ خود ام عطیہ تھیں

( ۷ ) ان کی بہن کے خاوند ،ان کا نام معلوم نہیں ہو سکا

(۸) حضرت ام عطیہ رضی اللہ  عنہا ان کے نام میں اختلاف ہے ایک قول ہے: ان کا نام نسیبہ بنت الحارث ہے دوسرا قول ہے: ان کا نام نسیبہ بنت کعب ہے علامہ ابن جوزی نے “تنقیح “میں ان کا نام نسیمہ لکھا ہے۔ (عمدۃ القاری ج ۳ ص ۴۴۹)

عواتق قصر بنی خلف “ اور ” جلباب وغیرہ کے معانی

حدیث مذکور میں عوائق “ کا لفظ ہے یہ عاتقہ کی جمع ہے اس کا معنی ہے: نوجوان عورت جو اپنے گھر میں پردہ سے رہتی ہو

ابوزید نے کہا: عائقہ وہ ہے جو غیر شادی شدہ ہو، ثابت نے کہا: ” عاتقہ کنواری لڑکی ہے جو شوہر کے پاس نہ گئی ہو، ثعلب نے کہا: اس کو عاتقہ‘اس لیے کہتے ہیں کہ اس کو ماں باپ کی خدمت سے آزاد کر دیا گیا ہو اور ابھی تک خاوند کے پاس نہ گئی ہو المخصص “ میں لکھا ہے : یہ وہ لڑکی ہے جو بلوغ تک پہنچ گئی ہو الازہری نے کہا: یہ وہ لڑکی ہے جو بالغہ ہو اور ابھی اس کی شادی نہ ہوئی ہو۔

قصر بنی خلفیہ بصرہ کا ایک مکان ہے جو طلحہ بن عبد اللہ بن خلف الخزاعی کی طرف منسوب ہے۔

جلباب یہ بڑے دوپٹے کو کہتے ہیں ایسی چادر جس سے عورت اپنے سر اور سینہ کو ڈھانپ لے ایک قول یہ ہے کہ یہ اتنی بڑی چادر ہے جو عورت کے پورے جسم کو ڈھانپ لے۔

خیر کے مواقع پر حاضر ہو، یعنی سماع حدیث کی مجلس میں اور مریضوں کی عیادت کے مواقع میں دعاء مسلمین، نماز جمعہ نماز عیدین اور نماز استقاء کے مواقع پر حاضر ہو اور مسلمانوں کی دعا پر آمین کہے۔

نماز عید کے لیے خواتین کے عید گاہ میں جانے کے متعلق ائمہ اربعہ کے مذاہب

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حائض اللہ تعالیٰ کے ذکر کو ترک نہ کرے وہ محافل خیر اور مجالس ذکر میں حاضر ہو لیکن مسجد کے اندر نہ داخل ہو ۔

علامہ ابوالحسن علی بن خلف ابن بطال مالکی متوفی ۴۴۹ھ لکھتے ہیں:

المہلب نے کہا ہے کہ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حیض سے پاک عورتیں اور حیض والی عورتیں عیدین میں اور مسلمانوں کی جماعت میں حاضر ہوں اور حیض والی عورتیں عید گاہ سے باہر رہیں وہ دعا میں شامل ہوں اور آمین کہیں اور یہ امید رکھیں کہ اللہ تعالی ان کی حاضری کو قبول فرمائے گا۔

اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ حائض کا مسجد میں جانا جائز نہیں ہے وہ اس کے علاوہ دیگر مقامات پر جاسکتی ہے اور وہ عبادات کے مواقع پر حاضر ہونے کے لیے عاریہ کپڑے لے کر پہن سکتی ہے اور عورتوں کا غزوات میں جاکر زخمیوں کی مرہم پٹی کرنا جائز ہے خواہ وہ غیر محرم ہوں لیکن غیر محرم کے پاس حجاب کے ساتھ جائیں یا کسی اور کو مرہم پٹی کے لیے کہیں ۔

مصنف کے نزدیک یہ عہد رسالت کے ساتھ مخصوص ہے کیونکہ اس وقت اضطرار کی کیفیت تھی اور اتنے مرد میسر نہیں تھے اور اب جب کہ مردوں کی کثرت ہے تو اب خواتین کا اجنبی مردوں کی مرہم پٹی اور تیمارداری کرنا جائز نہیں ہے البتہ بیمار اور زخمی عورتوں کی مرہم پٹی اور تیمار داری عورتیں کرسکتی ہیں، ہمارے ہاں المیہ یہ ہے کہ ہسپتالوں میں مردوں کے وارڈ میں خواتین نرس ہوتی ہیں اور عورتوں کے وارڈ میں مرد نرس ہوتے ہیں، جنہیں وارڈ بوائے کہتے ہیں، اسی طرح دفاتر میں مردوں کے پاس خاتون سیکرٹری ہوتی ہے اور خواتین کے پاس مرد سیکرٹری ہوتے ہیں یہ سخت بے حیائی ہے اور احکام شرعیہ کے ساتھ کھلی بغاوت ہے۔

نیز علامہ ابن بطال لکھتے ہیں: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عورت کی حدیث کو قبول کرنا جائز ہے کیونکہ اس خاتون نے کہا: ہم زخمیوں کو دوا دیتے تھے اور نبی صلی  اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں کیے ہوئے اعمال کی خبر دینا جائز ہے خواہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کاموں کی خبر نہ دی ہو اور اس صحابی سے حدیث کو نقل کرنا جائز ہے جس کا نام معلوم نہ ہو ۔

( شرح ابن بطال ج ۱ ص ۴۴۸- ۴۴۷ دار الکتب العلمیہ بیروت ۱۴۲۴ھ )

علامہ یحیی بن شرف نووی شافعی متوفی ۶۷۶ ھ لکھتے ہیں :

ہمارے اصحاب نے کہا ہے کہ جو عورتیں بناؤ سنگھار نہ کریں، ان کا عیدین میں جانا جائز ہے اور اس حدیث کا انہوں نے یہ جواب دیا ہے کہ وہ زمانہ بے راہ روی کے مفسدات سے محفوظ تھا اور اس زمانہ میں عورتوں کے مساجد میں جانے سے بہت سے فتنوں کا اندیشہ اور خرابیوں کا خطرہ ہے اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا تھا: اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں کے اس بناؤ سنگھار کو دیکھ لیتے جس کو انہوں نے آپ کے بعد ایجاد کرلیا ہے تو ان کو مساجد میں جانے سے اس طرح منع فرما دیتے، جس طرح بنو اسرائیل کی عورتوں کو مساجد میں جانے سے منع کردیا گیا تھا۔ (صحیح ابخاری : 869، صحیح مسلم : ۴۴۵ ، سنن ابوداؤد : 569)

ہمارے اصحاب کا اس میں اختلاف ہے کہ یہ ممانعت تنزیہ کے لیے ہے یا تحریم کے لیے ہے۔

(صحیح مسلم بشرح النووی ج ۲ ص 2502 مکتبه نزار مصطفی مکه مکرمه 1417ھ)

قاضی عیاض بن موسیٰ مالکی اندلسی متوفی ۵۴۴ ھ لکھتے ہیں :

متقدمین کا عیدین کی نماز کے لیے خواتین کے جانے میں اختلاف ہے ایک جماعت کے نزدیک ان کا جانا واجب ہے ان میں حضرت ابوبکر، حضرت علی اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہم ہیں اور ان میں سے بعض نے ان کو منع کیا ہے یہ عروہ اور قاسم ہیں اور بعض نے جوان عورت کو منع کیا ہے اور ان کے غیر کو منع نہیں کیا، اور بعض نے گھومنے پھرنے والی عورتوں کو اجازت دی ہے اور یہ عروہ قاسم اور یحیی بن سعید ہیں اور یہی امام مالک اور امام ابو یوسف کا مذہب ہے اور امام ابوحنیفہ کا قول اس میں مختلف ہے ایک بار انہوں نے عیدین کی نماز کے لیے اجازت دی اور دوسری بار منع کیا اور امام الطحاوی نے کہا: ابتداء اسلام میں ان کو نماز عیدین کے لیے گھروں سے نکلنے کا حکم دیا گیا تھا تاکہ دشمنوں کی نظروں میں مسلمانوں کی کثرت ہو دوسروں نے کہا: اس کی تحقیق کے لیے تاریخ کی ضرورت ہے اور عورتوں کی کثرت اس قسم سے نہیں ہے، جس سے دشمنوں کو ڈرایا جائے ۔ (اکمال المعلم بفوائد مسلم ج ۳ ص 298 دار الوفا ۱۴۱۹ھ )

حافظ زین الدین عبد الرحمان بن شہاب الدین ابن رجب حنبلی متوفی ۷۹۵ ھ لکھتے ہیں:

حائض کو جو عیدگاہ سے نکلنے کا حکم دیا گیا ہے اس کے متعلق کہا گیا ہے کہ عید گاہ مسجد ہے اور حائض کا اس میں ٹھہرنا جائز نہیں ہے ہمارے بعض اصحاب کے کلام سے اسی طرح ظاہر ہوتا ہے، ابو موسیٰ نے ” شرح الخرقی” میں اسی طرح لکھا ہے اور ان کے نزدیک صحیح یہ ہے کہ عیدگاہ مسجد نہیں ہے اور جنبی اور حائض اس میں ٹھہر سکتے ہیں اور حدیث میں جو حائض کو عیدگاہ سے نکلنے کا حکم دیا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ عیدگاہ میں نماز پڑھنے والوں کے لیے وسعت اور کشادگی ہو لیکن اس توجیہ پر یہ اعتراض ہے کہ حائض کا دوسری خواتین سے مجالس میں متمیز ہونا ضروری نہیں ہے، ہاں ! عورتوں کا مردوں سے مجلس میں الگ اور متمیز ہونا ضروری ہے کیونکہ عورتوں اور مردوں کے اختلاط سے کئی مفاسد کے وقوع کا خطرہ ہے۔

یہ بھی کہا گیا ہے کہ عیدین کے دن عیدگاہ مساجد کے حکم میں ہے کیونکہ اس دن اس میں لوگوں کا اجتماع ہوتا ہے بہ خلاف دوسرے ایام کے اور زیادہ ظاہر یہ ہے کہ حائض کو جو عیدگاہ سے نکلنے کا حکم دیا ہے وہ صرف نماز کے وقت کے ساتھ مخصوص ہے تاکہ جو عورتیں حیض سے پاک ہیں ان کو نماز پڑھنے میں تنگی اور دشواری نہ ہو پھر خطبہ سننے کے وقت حائض عورتیں طاہرات کے ساتھ مل کر بیٹھ سکتی ہیں۔

اس حدیث میں عورتوں کو عید کی نماز میں حاضر ہونے کا حکم دیا گیا ہے، کیونکہ یہ نیکی کا موقع اور مسلمانوں کی دعاء کی جگہ ہے۔

اس پر مفصل بحث اپنے مقام پر آئے گی یہاں پر مقصود یہ بتانا ہے کہ حائض عیدگاہ میں داخل ہوسکتی ہے یا نہیں حفصہ بنت سیرین نے اس کا انکار کیا تو حضرت ام عطیہ نے اس کے جواب میں کہا کہ حائض میدان عرفات میں اور فلاں فلاں جگہ پر جاتی ہے ان کی مراد یہ تھی کہ وہ وقوف مزدلفہ کے لیے مزدلفہ میں جاتی ہے شیطان کو کنکریاں مارنے کے لیے منی میں جاتی ہے اور حائض طواف بیت اللہ کے سوا وہ تمام کام کرتی ہے جو حج کرنے والے کرتے ہیں، اسی طرح حائض عیدین کے مجمع میں بھی جائے گی کیونکہ وہ بھی اہل دعا اور ذکر میں سے ہے لہذا اس کے لیے عیدین کی نماز کے موقع پر جانا جائز ہے رہا اس کا عیدگاہ میں داخل ہونا تو ہمارے اصحاب نے یہ تصریح کی ہے کہ عید گاہ مسجد کے حکم میں نہیں ہے عید کے دن نہ کسی اور دن۔

(فتح الباری لابن رجب حنبلی ج ا ص ۵۰۸ – ۵۰۷ ملخصاً دار ابن الجوزی ریاض ۱۴۱۷ھ )

علامہ ابن رجب حنبلی نے آخر میں یہ لکھ دیا ہے کہ خواتین نماز عید کے لیے جاسکتی ہیں اور چونکہ ان کے نزدیک عیدگاہ مسجد کے حکم میں نہیں ہے اس لیے حیض والی خواتین بھی عیدگاہ میں داخل ہو سکتی ہیں اور وہاں طاہرات کے ساتھ مل کر بیٹھ سکتی ہیں۔

علامہ بدرالدین محمود بن احمد معینی حنفی متوفی ۸۵۵ ھ لکھتے ہیں:

ابن المبارک سے روایت ہے کہ میں آج کل خواتین کے عید کے لیے نکلنے کو مکروہ قرار دیتا ہوں اور اگر کوئی عورت ضرور نکلنا چاہے تو وہ بغیر زینت کے دو سادہ چادروں میں نکلے اور اس کا شوہر چاہے تو اس کو منع کرسکتا ہے اور ثوری سے روایت ہے کہ ان کا آج کل نکلنا مکروہ ہے۔ علامہ عینی فرماتے ہیں: آج کل فتوی اس پر ہے ان کا نکلنا مطلقا ممنوع ہے خصوصاً مصر کے شہروں میں ۔

حدیث مذکور کے دیگر مسائل

اس حدیث سے اس پر استدلال کیا گیا ہے کہ عیدین کی نماز واجب ہے کیونکہ آپ نے فرمایا: اگر عورت کے پاس چادر نہ ہو تو وہ کسی سہیلی سے مانگ لے، علامہ قرطبی نے کہا: اس سے عیدین کی نماز کے وجوب پر استدلال صحیح نہیں ہے اس سے مقصود نماز کی عادت ڈالنا ہے اور نیکی میں شریک کرنا ہے اور شعار اسلام کا اظہار کرنا ہے القشیری نے کہا: اس وقت اہل اسلام بہت کم تھے ۔

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عبادت کرنے کے لیے کسی سے کپڑا مانگ کر پہننا جائز ہے۔

یہ بھی معلوم ہوا کہ عورت کی حدیث کو قبول کرنا جائز ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں جو اعمال کیے جاتے تھے ان کو نقل کرنا اور ان کو قبول کرنا جائز ہے، خواہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی خبر نہ دی ہو۔

اگر زخمیوں کی مرہم پٹی کرنے کے لیے مرد دستیاب نہ ہوں یا کم ہوں تو میدان جہاد میں خواتین سے یہ خدمت لینا جائز ہے۔

اس حدیث سے پردہ کا وجوب ثابت ہوا اور خواتین کا بغیر چادر اوڑھے گھر سے نکلنا جائز نہیں ہے۔

خواتین کو عیدگاہ کے اندر داخل نہیں ہونا چاہیے تاکہ عورتوں کا مردوں کے ساتھ اختلاط نہ ہو اور نہ وہاں نماز پڑھنی چاہیئے اس مسئلہ میں اختلاف ہے امام مالک اور امام احمد کے نزدیک یہ جائز ہے امام شافعی کے نزدیک اس ممانعت میں تنزیہ اور تحریم کے دوقول ہیں اور امام ابوحنیفہ کے نزدیک یہ مطلقاً ممنوع ہے۔

حافظ شہاب الدین ابن حجر عسقلانی نے لکھا ہے کہ حدیث میں ہے: حیض والی عورتیں عیدگاہ سے نکل جائیں علامہ کرمانی نے لکھا ہے: یہ امر وجوب کے لیے ہے اور ان کا عیدین کے لیے نکلنا اور مسلمانوں کی دعا میں شریک ہونا مستحب ہے حالانکہ علامہ نووی نے کہا ہے کہ صحیح یہ ہے کہ ان کا عیدگاہ سے نکلنا واجب نہیں ہے۔ (فتح الباری ج ۱ ص ۸۳۵ دار المعرفہ بیروت 1426ھ )

یہ حدیث شرح صحیح مسلم : ۱۹۵۳ – ج ۲ ص ۶۶۵ پر مذکور ہے وہاں اس کا عنوان ہے: عیدین میں عورتوں کا جانا۔