٢٥ – بَابُ الصُّفَرَةِ وَالْعُدْرَةِ فِي غَيْرِ أَيَّامِ الْحَيْضِ

غیر ایام حیض میں پیلا اور مٹیالہ رنگ

اس باب میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ عورت غیر ایام حیض میں پیلا اور مٹیالہ رنگ دیکھے تو وہ حیض نہیں ہے۔

حیض کے خون کے رنگ

حیض کے خون کے چھ رنگ ہیں:

(۱) سیاہ (۲) سرخ (۳) پیلا (۴) مٹیالہ (۵) سبز (۶) خاکی ۔

سرخ رنگ خون کا اصلی رنگ ہے، پیلا رنگ بھی خون کا رنگ ہے جب خون پتلا ہو اور ایام حیض میں پیلا اور مٹیالہ رنگ حیض ہے اور مٹیالہ رنگ امام ابوحنیفہ اور امام محمد کے نزدیک حیض ہے اور سبز رنگ میں ہمارے مشائخ کا اختلاف ہے امام ابو منصور نے کہا: اگر ابتداء میں سبز رنگ دیکھے تو وہ حیض ہے اور آخر میں دیکھے تو وہ حیض نہیں ہے اور خاکی رنگ مٹیالے رنگ کی ایک قسم ہے اور اس کا وہی حکم ہے جو مٹیالے رنگ کا ہے ۔ (عمدۃ القاری ج ۳ ص ۴۵۸)

٣٢٦- حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَمٍ عَطِيَّةَ قَالَتْ كُنَّا لانَعْدُّ الكُدْرَةَ وَالصُّفْرَةَ شَيْئًا.

امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں قتیبہ بن سعید نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں اسماعیل نے حدیث بیان کی از ایوب از محمد از حضرت ام عطیه رضی اللہ عنہا انہوں نے کہا: ہم مٹیالے اور پیلے رنگ کو کچھ شمار نہیں کرتے تھے ۔

سنن ابوداؤد : ۳۰۸، سنن نسائی: ۳۶۶، سنن ابن ماجہ: ۶۴۷

اس حدیث کے پانچ رجال ہیں اور ان کا تعارف پہلے ہو چکا ہے۔

پیلے اور مٹیالے رنگ کے حیض ہونے یا نہ ہونے میں مذاہب ائمہ

علامہ علی بن خلف ابن بطال مالکی متوفی ۴۴۹ ھ لکھتے ہیں:

جمہور علماء کا مذہب امام بخاری کے عنوان کے موافق ہے اکثر علماء نے کہا ہے کہ پیلا اور مٹیالہ رنگ ایام حیض میں حیض ہے اور ایام حیض کے بعد وہ کچھ نہیں ہے، یہ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے اور سعید بن المسیب، عطاء، الحسن البصری، ابن سیرین کا بھی یہی قول ہے اور ربیعہ، ثوری اور اوزاعی، لیث امام ابوحنیفہ، امام محمد، امام شافعی، امام احمد، اسحاق اور امام بخاری کا بھی یہی مذہب ہے۔

اس میں دوسرا قول امام ابو یوسف کا ہے وہ کہتے ہیں کہ پیلا اور مٹیالہ رنگ حیض کی ابتداء میں حیض نہیں ہے اور حیض کے آخر میں حیض ہے، کیونکہ حدیث میں ہے: پیلا اور مٹیالہ رنگ خون کے آخری ایام میں خون ہے،حتی کہ تم سفیدی دیکھ لو۔

اس میں تیسرا قول امام مالک کا ہے وہ کہتے ہیں کہ مٹیالہ اور پیلا رنگ حیض ہے خواہ ایام حیض ہوں یا غیر ایام حیض اور یہ قول حدیث کے خلاف ہے۔ (شرح ابن بطال ج ۱ص ۴۵۲ دار الکتب العلمیہ، بیروت، ۱۴۲۴ھ )