۲۹ – بَابُ الصَّلوةِ عَلَى النفَسَاءِ وَسُنتَهَا

نفاس والی عورتوں کی نماز جنازہ پڑھنا اور اس کا طریقہ

یہ بات نفاس والی عورتوں کی نماز جنازہ اور اس کے طریقہ کے بیان میں ہے امام بخاری نے اس حدیث کو یہاں ” کتاب الحیض “میں داخل کیا ہے، حالانکہ اس حدیث کی حیض کے ساتھ کوئی مناسبت نہیں، اس کی مناسبت ” کتاب الجنائز ” کے ساتھ ہے اور نہ ہی اس باب کی باب سابق کے ساتھ کوئی مناسبت ہے کیونکہ باب سابق مستحاضہ کے متعلق تھا اور یہ باب نفاس والی عورت کے متعلق ہے البتہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ مستحاضہ کا خون بھی جاری ہوتا ہے اور نفاس والی عورت کا خون بھی جاری ہوتا ہے اسی طرح جب نفاس والی عورت کی نماز جنازہ پڑھی جاسکتی ہے تو حیض والی عورت کی بھی نماز جنازہ پڑھی جاسکتی ہے۔

۳۳۲- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي سُرَيْج قَالَ أَخْبَرَنَا شبابَةٌ قَالَ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ حُسَيْنِ الْمُعَلمِ ، عن ابْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنُدْبِ أَنَّ امْرَأَةٌ مَاتَتْ فِی بَطْنٍ ، فَصَلَّى عَلَيْهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَامَ وَسَطَها . [ اطراف الحديث : ۱۳۳۱ – ۱۳۳۲]

امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں احمد بن ابی سریج نے حدیث بیان کی، وہ کہتے ہیں: ہمیں شبابہ نے خبر دی وہ کہتے ہیں: ہمیں شعبہ نے خبردی از حسین المعلم از ابن بریده از حضرت سمره بن جندب رضی الله عنہ وہ بیان کرتے ہیں کہ ایک عورت کا زچگی میں انتقال ہوگیا تو نبی  صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ پڑھی اور آپ اس کے وسط میں کھڑے ہوئے ۔

(صحیح مسلم : 963، الرقم المسلسل : 2200، سنن ترمذی: ۱۰۳۵ سنن نسائی: ۱۹۷۵ سنن ابن ماجه: 1493 المنتقی 544، المعجم الکبیر 6764، مسند ابوداؤد الطیالسی : 902، مصنف ابن ابي شيبه ج ۳ ص 312،  السنن الکبری للنسائی:۲۱۰۶ صحیح ابن حبان : 3067، المعجم الاوسط :2142،  سنن بیہقی ج 1 ص ۳۴ ۳۳ شرح السنته : ۱۴۹۷ مسند احمد ج ۵ ص ۱۴ طبع قدیم، مسند احمد : ۲۰۱۶۲ – ج ۳۳ ص 332، مؤسسة الرسالة بیروت)

حدیث مذکور کے رجال کا تعارف

(1) احمد بن ابی سریج ابو جعفر رازی ابو جعفر کا نام ۔الصباح ہے امام بخاری احمد سے روایت میں متفرد ہیں

(۲) شبابہ ابن سواد الغزاری المدائنی یہ اصل میں خراسان کے تھے ۲۰۴ھ میں فوت ہو گئے تھے

(۳) شعبہ بن الحجاج ان کا تعارف ہو چکا ہے

(۴) حسین المعلم’ ان کا تعارف بھی ہو چکا ہے

(۵) عبدالله بن بریدہ بن الحصیب الاسلمی المروزی، مشہور تابعی ہیں

(۲) حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ ان سے ۱۲۳ احادیث مروی ہیں زیاد نے ان کو چھ مہینہ کوفہ پر اپنا خلیفہ بنایا تھا اور چھ مہینہ بصرہ پر یہ، ۵۹ ھ میں فوت ہوگئے تھے۔ (عمدۃ القاری ج ۳ ص ۴۶۸)

زچگی میں فوت ہونے والی عورت کا نام اور نماز جنازہ پڑھاتے ہوئے امام کے۔۔۔۔۔ کھڑے ہونے کی جگہ میں مذاہب فقہاء

علامہ بدرالدین عینی حنفی متوفی ۸۵۵ ھ لکھتے ہیں:

اس حدیث میں مذکور ہے کہ ایک عورت زچگی میں فوت ہوگئی امام مسلم نے اپنی روایت میں ان کا نام ام کعب ذکر کیا ہے، اس حدیث کا معنی ہے: وہ پیٹ کے کسی مرض کے سبب سے فوت ہوگئیں اور علامہ ابن اثیر نے کہا ہے : وہ نفاس میں فوت ہوگئیں، علامہ کرمانی نے کہا ہے کہ وہ ولادت کے سبب سے یعنی زچگی میں فوت ہوگئیں۔

علامہ خطابی نے کہا ہے کہ نماز جنازہ میں امام کے کھڑے ہونے کی جگہ میں اختلاف ہے، امام احمد نے کہا ہے کہ عورت کے وسط کے مقابل کھڑا ہو اور مرد کے سینہ کے مقابل اور فقہاء احناف نے کہا ہے کہ دونوں کے سینہ کے مقابل کھڑا ہو۔

علامہ عبداللہ بن احمد بن قدامہ حنبلی نے کہا ہے کہ ہمارے مذہب میں اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ سنت یہ ہے کہ نماز جنازہ میں امام مرد کے سینہ اور کندھوں کے پاس کھڑا ہو اور عورت کے درمیان میں کھڑا ہو اور حرب نے امام ابن حنبل سے امام ابوحنیفہ کے قول کی مثل روایت کیا ہے۔

المبسوط میں مذکور ہے کہ نماز جنازہ میں امام کے بہترین کھڑے ہونے کی جگہ سینہ کے بالمقابل ہے۔

جوامع الفقہ میں مذکور ہے : یہی مختار ہے اور امام طحاوی نے بھی اس کو اختیار کیا ہے اور الحسن نے امام ابوحنیفہ سے روایت کی ہے کہ عورت کے وسط کے مقابل کھڑا ہو، یہی ابن ابی لیلی اور النخعی کا قول ہے۔

البدائع میں مذکور ہے کہ سینہ ہی وسط ہے کیونکہ سینہ کے اوپر دونوں ہاتھ اور سر ہے اور اس کے نیچے پیٹ اور ٹانگیں ہیں۔

التحفتہ ” اور “المفید” میں مذکور ہے: ہمارے اصحاب کی مشہور روایت اور ” کتاب الاصل وغیرہ میں یہ ہے کہ مرد اور عورت کے سینہ کے بالمقابل کھڑا ہو اور الحسن سے روایت ہے کہ دونوں کے وسط کے مقابل کھڑا ہو، مگر عورت کے سر کے زیادہ قریب ہو اور امام ابویوسف سے روایت ہے کہ عورت کے وسط کے مقابل کھڑا ہو اور مرد کے سر کے مقابل۔

“المفید میں مذکور ہے کہ ظاہر الروایہ میں ہے کہ دونوں کے سینہ کے بالمقابل کھڑا ہو۔

امام مالک نے کہا ہے کہ مرد کے وسط کے مقابل کھڑا ہو اور عورت کے کندھوں کے بالمقابل۔

فقہاء شافعیہ نے کہا ہے کہ سینہ کے بالمقابل کھڑا ہو ۔ (عمدۃ القاری ج ۳ ص ۴۶۹ دار الکتب العلمیہ بیروت ۱۴۲۱ھ )