مولانا کوکب نورانی صاحب کا ایک مضمون نظر سے گزرا جس میں انہوں نے جناب ابوطالب کے بارے عقیدے کی وضاحت کرتے ہوئے یہ بھی لکھا ہے :

جو کوئی ان کے ایمان کے بارے” میں خاموش رہتا ہے ، عافیت میں ہے”

تو ہم حضرت سے کہتے ہیں کہ ہمارا بھی یہی موقف ہے کہ چپ رہا جائے مگر آپ کو یاد کروادوں کہ آپ کے والد گرامی خطیب پاکستان حضرت مولانا محمد شفیع اوکاڑوی رحمۃ اللہ علیہ تو اس بارے میں ہرگز خاموش نہ تھے کہ انہوں نے اپنی کتاب “الذکر الحَسین فی سیرة النبی الامین” میں لکھتے ہیں :

“دوزخیوں میں سب سے ہلکا عذاب ابو طالب پر ہے حالاں کہ ابوطالب نے زمانہ اسلام پایا اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بار بار دعوت دینے پر بھی اسلام قبول نہ کیا۔
(ص187)

تو پوچھنا یہ تھا کہ آپ اپنے والد گرامی کے اس موقف پر کیا لب کشائی فرمائیں گے ؟

اگر کچھ نہیں تو جو لوگ اس موضوع پر متشدد تفضیلی رافضیوں کو جواب دیتے ہوئے یہی موقف اپناتے ہیں تو پھر آپ کیوں ناصح بن کر بیٹھ جاتے ہیں ؟

✍🏻ارسلان احمد اصمعی
29/1/26ء