تراجم قرآن کے حوالے سے مرزے انجینئر کے جھوٹ کا جواب
تراجم قرآن کے حوالے سے مرزے انجینئر کے جھوٹ کا جواب :
مرزے انجنیئر نے اپنے اسٹوڈنٹس کو یہ کہانی کروائی ہوئی ہے کہ علمائے اہل سنت عوام کو قرآن پاک ترجمے کے ساتھ پڑھنے سے منع کرتے ہیں اِن کے بابوں نے قرآن پاک کے ترجمے کیے ہیں تو بتاؤ؟
مرزے انجینئر اور اس کے فرقے کے نزدیک علماء مشائخ اہل سنت نے تراجم قرآن پاک کے حوالے سے کوئی خدمات سرانجام نہیں دیں ۔
آئیے ہم اس بات کو تحقیقی میدان میں دیکھتے ہیں کہ آیا مرزا انجینیئر کی یہ کہانی درست بھی ہے یا پھر حسب سابق و معمول بچوں کے سامنے جھوٹ ہی بولا ہے ۔
اہل شعور جانتے ہیں کہ پچھلے زمانوں میں جو اولیاء اللہ اور علماء عرب ممالک سے تعلق رکھنے والے تھے اُن کی تو زبان ہی عربی تھی لہذا اُنھیں کیوں حاجت پیش آتی ہے کہ وہ قرآن کا ترجمہ کریں؟
ہاں انہوں نے ضرورت کے مطابق قرآن پاک کی تفاسیر لکھی اور کی ہیں تاکہ فہم قرآن عام ہوسکے ۔
ترجمے کی ضرورت وہاں پیش آتی ہے جہاں لوگ عربی زبان سے ناواقف ہوں ہم اپنے خطے کی بات کرتے ہیں برصغیر پاک و ہند میں اردو سے پہلے جو سرکاری زبان تھی وہ فارسی تھی ، ہمارے بابوں بزرگوں نے وقت کی ضرورت کے تحت قرآنی خدمات سر انجام دیں اور عوام کو قرآن سمجھنے سمجھانے کے لیے اس کا ترجمہ فارسی میں پیش کیا۔
1- جیسا کہ حضرت خواجہ مخدوم سید جہانگیر اشرف سمنانی رحمہ اللہ متوفی 828 ھ آپ نے فارسی زبان میں قرآن پاک کا ترجمہ” اشرف البیان “کے نام سے فرمایا جو فی زمانہ اردو زبان میں بھی دستیاب ہے۔
2- مادر زاد ولی ، مشہور صوفی بزرگ ، حضرت شیخ لطف اللہ مخدوم نوح ہالائی رحمہ اللہ متوفی 988 ھ نے اپنے وقت میں قرآن مجید کا سندھی زبان میں ترجمہ کیا ۔
3- اسی طرح شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ متوفی 1174ھ آپ نے “فتح الرحمن” کے نام سے فارسی ترجمہ کیا ۔ اس فارسی ترجمے کا اردو ترجمہ بھی آج مارکیٹ میں دستیاب ہے ۔
اس کے علاوہ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کے ہی خاندان میں اور بھی لوگوں نے اپنے اپنے وقت میں قرآن پاک کے ترجمے کیے ہیں ۔
4- پھر زمانہ آیا اُردو کا تو جہاں اس زبان میں اور لوگوں نے اُس وقت ترجمے کیے وہیں ایک عظیم الشان اور شاندار ترجمہ قرآن بنام “کنزالایمان ” بھی منظر عام پر آیا یہ ترجمہ سیدی اعلی حضرت امام احمد رضا خان قادری محدث بریلی رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے کا مشہور زمانہ ترجمہ قرآن ہے جو آج پوری دنیا میں دستیاب ہے ۔
5 – حضرت علامہ محمد نبی بخش حلوائی رحمہ اللہ متوفی 1365ھ
نے پنجابی زبان میں ترجمہ و تفسیر قرآن لکھی جس کا نام تفسیر نبوی رکھا تاکہ پنجابی بولنے اور پڑھنے والے بھی قرآن کو آسانی سے سمجھ سکیں ۔
6- حضرت شیخ الاسلام مفتی مظہر اللہ دہلوی رحمۃ اللہ علیہ متوفی 1386ھ نے “مظہر القرآن ” کے نام سے ترجمہ و حاشیہ قرآن پاک لکھا ۔
7- محدث اعظم ہند حضرت علامہ سید محمد اشرفی جیلانی کچھوچھوی رحمہ اللہ متوفی 1381ھ نے “معارف القرآن” کے نام سے ترجمہ قرآن فرمایا ۔
8- حضور غزالی زماں حضرت علامہ سید احمد سعید شاہ کاظمی رحمہ اللہ نے “البیان” کے نام سے ترجمہ قرآن مجید فرمایا ۔
9- شیخ القرآن و التفسیر ، مصنف کتب کثیرہ مفتی فیض احمد اویسی رحمہ اللہ نے “فیض القرآن” کے نام ترجمہ قرآن پاک فرمایا ۔
10- حضرت علامہ عبدالحکیم شرف قادری رحمہ اللہ نے “انوار الفرقان” کے نام سے ترجمہ قرآن فرمایا ۔
11- شارح بخاری و مسلم حضرت علامہ غلام رسول سعیدی صاحب رحمہ اللہ نے ” نور الفرقان” کے نام سے ترجمہ قرآن حمید فرمایا ۔
12- حضرت ڈاکٹر غلام سرور قادری رحمۃ اللہ علیہ نے ” عمدۃ البیان ” کے نام سے ترجمہ قرآن فرمایا ۔
13- حضرت علامہ عبدالحکیم شرف قادری رحمہ اللہ نے “انوار الفرقان” کے نام سے ترجمہ فرمایا ۔
14- حضرت پیر محمد افضل قادری رحمۃ اللہ علیہ نے ترجمہ افضلیہ و تفسیرات کے نام سے ۔
15- مفتی اعجاز ولی خان رضوی صاحب نے “تنویر القران” کے نام سے ۔
16- پیر کرم شاہ الازہری صاحب نے ترجمہ قرآن بنام “جمال القرآن ” لکھا ۔
17 ۔ مفتی دعوت اسلامی مفتی محمد قاسم عطاری صاحب حفظہ اللہ تعالی نے “کنز العرفان” کے نام سے ترجمہ قرآن لکھا ۔ اس ترجمے کا پشتو زبان میں بھی ترجمہ شائع ہوچکا ہے۔
18- مفتی عبدالنبی حمیدی رحمہ اللہ نے کنزالایمان کا انگلش زبان میں
ترجمہ کیا تاکہ انگریزی جاننے والے اس سے مُسفتیض ہوسکیں ۔
19- ڈاکٹر غلام زرقانی صاحب نے “فیضان القرآن ” کے نام سے قرآن پاک کا بیانیہ ترجمہ لکھا ۔
20- مفتی عبدالرحیم سکندری رحمہ اللہ نے بھی کنزالایمان کا سندھی زبان میں ترجمہ کیا تاکہ سندھی زبان جاننے والے قرآن کو اپنی زبان میں سمجھ سکیں ۔
یہ چند ایک تراجم قرآن پاک ہیں جن کا ذکر کردیا گیا دیگر مکاتب فکر کے تراجم قرآن اس کے علاوہ ہیں پتا چلا تراجم قرآن کی تاریخ بہت پرانی ہے ہر دور میں علماء نے عوام کو قرآن فہمی کیلئے آسان رستے فراہم کیے ۔
تھوڑا نہیں پورا سوچیے کہ اگر علماء ڈائریکٹ قرآن پڑھنے سے منع کرنے والے ہوتے تو وہ قرآن پاک کا ترجمہ ہی کرتے؟
انہوں نے اس قدر ترجمے عوام کیلئے ہی کیے ہیں ۔
مرزا صاحب کے اسٹوڈنٹس کے گھروں میں بھی شاید ہی کوئی ایسا گھر ہو جہاں کسی عالم دین یا بابوں کے ماننے والا کا ترجمہ قرآن نہ پڑھا جاتا ہو ۔۔۔
اور تو اور خود مرزا انجینئر بھی تراجم کا محتاج ہے کہ وہ خود تو عربی ترجمہ کر نہیں سکتا قرآن سے لے کر بخاری و مسلم و دیگر کتب احادیث و سیر کے تراجم علماء کے پڑھتا ہے اور پھر انہی علماء کو بُرا بھلا کہتا ہے ۔
کس قدر احسان فراموش اور منافق انسان ہے یہ ۔
اب آخر میں مرزے کے اسٹوڈنٹس سے سوال ہے کہ ہمارے بابوں نے تو دیکھو کتنے تراجم کیے ہوئے ہیں ۔ بتاؤ : تمہارے بابے انجینئر کا ترجمہ قرآن کب مارکیٹ میں آرہا ہے ؟ یا پھر وہ یونہی چوری چوری نقلیں مار کر تیس مار خان بنتا رہے گا ۔
✍🏻ارسلان احمد اصمعی
30/1/26ء