أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قُلۡ اَعُوۡذُ بِرَبِّ الۡفَلَقِۙ ۞

ترجمہ:

آپ کہیے کہ میں صبح کے رب کی پناہ لیتا ہوں

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے، آپ کہیے کہ میں صبح کے رب کی پناہ لیتا ہوں۔ اس کی بنائی ہوئی ہر چیز کے شر سے۔ اور اندھیری رات کے شر سے جب وہ چھا جائے۔ اور گوہ میں بہت پھونک مارنے والی عورتوں کے شر سے۔ اور حسد کرنے والے کے شر سے جب وہ حسد کرے۔ (الفلق : ٥-١)

اللہ سے پناہ طلب کرنے میں صبح کے قوت کی تخصیص کی توجیہات

الفلق : ۱ْ،۳ میں فرمایا : آپ کہیے کہ میں صبح کے رب کی پناہ لیتا ہوں۔ اس کی بنائی ہو ہر چیز کے شر سے۔ اور اندھیری رات کے شر سے جب وہ چھا جائے۔

اکثر مفسرین نے یہ کہا ہے کہ فلق سے مراد صبح کا وقت ہے، زجاج نے کہا، رات کو پھاڑ کر صبح نمودار ہوتی ہے، اور اس وقت اللہ تعالیٰ سے پناہ طلب کرنے کی حسب ذیل وجوہ ہیں :

(١) جو ذات رات کے اس شدید اندھیرے کو اس جہان سے زائل کرنے پر قادر ہے، وہ ذات پناہ طلب کرنے والے سے اس چیز کو ضرور زائل کرنے پر قادر ہے جس سے وہ ڈر رہا ہے اور خوف زدہ ہے۔

(٢) صبح کا طلوع ہونا کشادگی کی نوید کی مثل ہے، پس جس طرح انسان رات میں صبح کا منتظر ہوتا ہے، اسی طرح خوف زدہ انسان اپنی مہم میں کامیابی کا منتظر ہوتا ہے۔

(٣) صبح کے وقت کی تخصیص کی یہ وجہ ہوسکتی ہے کہ اس وقت مظلوم اور بےقرار لوگ اپنی حاجات میں اپنے رب سے دعائیں رتے ہیں، گویا وہ یہ کہتا ہے کہ میں اس وقت کے رب کی پناہ طلب کرتا ہوں، جو ہر رنج اور فکر سے کشادگی عطا فرماتا ہے۔

(٤) ہوسکتا ہے کہ صبح کے وقت کو اس لئے خاص کیا ہو کہ فجر کی نماز قیامت کے تمام احوال کی جامع ہے، کیونکہ فجر کی نماز میں انسان طویل قیام کرتا ہے اور یہ طویل قیام اس کو قیامت کے دن اپنے رب کے سامنے پچاس ہزار سال کے قیام کی یاد دلاتا ہے، قرآن مجید میں ہے :

یوم یقوم الناس لرب العلمین۔ (المصطففین : ٦) جس دن تمام لوگ رب العلمین کے سامنے کھڑے ہوں گے۔

اور انسان جب نماز میں امام کی قرأت سنتا ہے تو وہ اس کو قیامت کے دن اپنے اعمال نامہ کی قرأت کی یاد دلاتا ہے : (الجاثیہ :29) یہ ہماری کتاب ہے جو تمہارے سامنے سچ سچ بول رہی ہے۔ اور جب انسان نماز میں رکوع کرتا ہے تو یہ اس کو اس وقت کی یاد دلاتا ہے جب مجرم اللہ تعالیٰ کے سامنے سر جھکائے کھڑے ہوں گے :

ناکسوار وسہم (السجدہ :12) وہ اپنے سروں کو جھکائے ہوئے ہوں گے۔

اور جب وہ نماز میں سجدہ کرتا ہے تو وہ اس کو اس وقت کی یاد دلاتا ہے جب کافروں کو سجدہ کے لئے بلایا جائے ا اور وہ سجدہ نہ کرسکیں گے۔

(القلم 42) اور ان کو سجدہ کیلے بلایا جائے گا، سو وہ سجدہ نہیں کرسکیں گے۔

اور جب وہ قعدہ میں دوزانو بیٹھا ہوگا تو یہ اس کو اس وقت کی یاد دلائے گا جب تمام امتیں گھٹنوں کے بل گری ہوں گی :

(الجاثیہ :28) اور آپ دیکھیں گے کہ ہر امت گھنٹوں کے بل گری ہوئی ہوگی۔

پس گویا کہ اللہ سے پناہ طلب کرنے والا یہ کہتا ہے : اے میرے رب کیمچ جس طرح تو نے مجھے رات کے اس اندھیرے سے نجات دی ہے مجھے ان ہولناک مصائب سے بھی نجات عطا فرما۔

(٥) صحب کا وقت بہت سعادت اور استجابت کا وقت ہے، قرآن مجید میں ہے :

انق ران الفجر کان مشھوداً ۔ (بنی اسرائیل :78) بیشک فجر کے وقت قرآن پڑھنے میں (فرشتے) حاضر ہوتے ہیں۔

اس وقت میں رات اور دن کے فرشتے جمع ہوتے ہیں، اس لئے اس وقت پناہ طلب کرنے والے کی قبولیت زیادہ متوقع ہے۔

(٦) یہ اللہ تعالیٰ سے گڑا گڑا کر دعا رنے اور استغفار کرنے کا وقت ہے اور اللہ تعالیٰ سے پناہ طلب کرنے کے بہت مناسب ہے، قرآن مجید میں ہے :

والمستغفرین بالاسحار (آل عمران :17) اور جو لوگ سحر کے قوت اللہ سے استغفار کرتے ہیں۔ (تفسیر کبیرج ١١ ص 371-372 ملحضاً و موضحاً داراحیاء التراث العربی، بیروت 1415 ھ)

صبح کے قوت اللہ سے پناہ طلب کرنے کے متعلق یہ حدیث ہے :

حضرت معاذ بن عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ ہم پر ہلکی بارش ہوئی اور اندھیرا چھایا ہوا تھا، ہم بح کی نماز میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا انتظار کر رہے تھے، پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمیں نماز پڑھانے کے لئے آئے، آپ نے فرمایا : پڑھو میں نے عرض کیا، کیا پڑھوں ؟ آپ نے فرمایا، پڑھو ” قل ھو اللہ احد “ اور معوذتین، جب شام ہو اور جب صبح ہو تین تین بار پڑھو، ان کی تلاوت تم کو ہر چیز سے کافی ہوگی۔ (سنن نسائی رقم الحدیث :5443)

تبیان القرآن سورۃ نمبر 113 الفلق آیت نمبر 1