وَمِنۡ شَرِّ حَاسِدٍ اِذَا حَسَدَ – سورۃ نمبر 113 الفلق آیت نمبر 5
sulemansubhani نے Saturday، 31 January 2026 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
وَمِنۡ شَرِّ حَاسِدٍ اِذَا حَسَدَ ۞
ترجمہ:
اور حسد کرنے والے کے شر سے جب وہ حسد کرے ؏
الفلق : ٥ میں فرمایا : اور حسد کرنے والے کے شر سے جب وہ حسد کرے۔
حسد کی تعریف، اس کا شرعی حکم اور اس کے متعلق احادیث
حسد کی تعریف یہ ہے کہ انسان کسی شخص کے پاس کوئی نعمت دیکھ کر یہ خواہش کرے کہ اس کے پاس سے وہ نعمت زائل ہوجائے، خواہ اس کو وہ نعمت نہ ملے، اگر اس کی قدرت میں اس نعمت کو چھیننا ہو تو وہ اس نعمت کو چھین لے، اسی لئے اللہ تعالیٰ نے حسد سے پناہم انگنے کا حکم دیا ہی اور اس سورت میں ہر وہ شر داخل ہے، جس کا انسان کے دین یا اس کی دنیا میں خطرہ ہو۔
اگر انسان کسی شخص کے پاس کوئی نعمت دیکھ کر یہ تمنا کرے کہ اس کے پاس بھی یہ نعمت رہے اور اللہ تعالیٰ مجھے بھی یہ نعمت عطا کر دے تو اس کو رشک کہتے ہیں، رشک کرنا جائز ہے اور حسد کرنا حرام ہے حدیث میں ہے :
حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نیب (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا، تم حسد کرنے سیب از رہو کیونکہ حسد نیکیوں کو اس طرح کھا جاتا ہے جس طرح آگ لکڑیوں کو کھاجاتی ہے۔ (سنن ابودائود رقم الحدیث :4903)
حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کسی مئومن کے پیٹ میں اللہ کی راہ میں غبار اور جہنم کی حرارت جمع نہیں ہوں گی اور نہ کسی بندہ کے دل میں ایمان اور حسد جمع ہوگا۔ (سنن نسائی رقم الحدیث :3106)
حسد وہ پہلا گناہ ہے جو آسمانوں میں اللہ سبحانہ کی نافرمانی میں کیا گیا اور حسد وہ پہلا گناہ ہے جو اللہ کی نافرمانی میں زمین پر کیا گیا، ابلیس نے حضرت آدم سے حسد کیا اور قابیل نے ہابیل سے حسد کیا، حسد میں پانچ خرابیاں ہیں :
(١) حاسد ہر اس شخص سے حسد کرتا ہے، جس کو کوئی نعمت دی گئی ہو (٢) حاسد اللہ کی تقسیم سے راضی نہیں ہوتا (٣) حاسد اللہ کے فضل سے بخل کرتا ہے کہ اللہ جس پر چاہے اپنا فضل کرتا ہے (٤) حاسد اولیاء اللہ کا برا چاتہا ہے اور ان سے نعمت کے زوال کی تمنا کرتا ہے (٥) حاسد ابلیس کا متبع ہوتا ہے۔
القرآن – سورۃ نمبر 113 الفلق آیت نمبر 5