کتاب التیمم باب 3 حدیث نمبر 337
– بَاب التَّيَمُّمِ فِي الْحَضَرِ إِذَا لَمْ يَجِدالْمَاءَ وَخَافَ فَوْتَ الصَّلوةِ
شہر میں تیمم کرنا’ جب کوئی شخص پانی نہ پائے اور نماز کے قضاء ہونے کا خوف ہو
اس باب میں یہ بیان کیا ہے کہ شہر میں تیمم کرنے کا کیا حکم ہے اور اس میں دو قیدیں ہیں: (۱) پانی نہ ملے (۲) نماز کا وقت نکلنے کا خوف ہو اور پانی نہ ملنے میں یہ صورت بھی داخل ہے کہ شہر میں پانی تو ہو لیکن اس کے حصول پر قدرت نہ ہو مثلاً پانی کنویں میں ہو لیکن اس کے پاس کنویں سے پانی نکالنے کا آلہ نہ ہو ۔ باب سابق کے ساتھ اس کی مناسبت یہ ہے کہ باب سابق میں یہ ذکر تھا کہ سفر میں پانی نہ ہو اور اس باب میں یہ ذکر ہے کہ شہر میں پانی نہ ہو۔
نماز فوت ہونے کے خوف سے شہر میں تیم کے جواز پر آثار صحابہ سے استدلال
وبه قَالَ عَطَاء
اور عطاء کا بھی یہی قول ہے۔
اس تعلیق کی اصل یہ حدیث ہے:
ابن جریج عطاء سے روایت کرتے ہیں انہوں نے کہا: جب تم شہر میں ہو اور نماز کا وقت آجائے اور تمہارے پاس پانی نہ ہو تو تم پانی کا انتظار کرو، اگر تمہیں نماز کے فوت ہونے کا خوف ہو تو تیمم کر کے نماز پڑھو۔
مصنف ابن ابی شیبہ : ۱۷۰۱ دار الکتب العلمیہ بیروت 1416ھ
علامہ بدرالدین عینی حنفی متوفی ۸۵۵ ھ لکھتے ہیں:
شہر میں تمیم کے جواز کی تین شرطیں ہیں: (۱) اگر وہ وضوء میں مشغول ہوا تو نماز جنازہ کے فوت ہوجانے کا خوف ہو (۲) نماز عید کے فوت ہونے کا خوف ہو (۳) جنبی کو یہ خوف ہو کہ اگر اس نے غسل کیا تو وہ سخت بیمار ہوجائے گا یا مر جائے گا۔
امام تمرتاشی نے یہ کہا ہے کہ شہر میں پانی نہ ہونے کی وجہ سے تیمم کرنا جائز نہیں ہے کیونکہ یہ بہت نادر ہے۔
(عمدۃ القاری ج ۳ ص ۱۹ نخب الافکار فی تنقیح مبانی الاخبار فی شرح معانی الآثار ج ا ص ۶۸۲ قدیمی کتب خانہ کراچی)
وَقَالَ الْحَسَنُ ، فِي الْمَرِيضِ عِنْدَهُ الْمَاءُ ، وَلا يَجِدُ مَنْ يُنَاوِلُهُ يَتَيَمَّمُ.
اور حسن بصری نے اس مریض کے متعلق کہا، جس کے پاس پانی ہو اور اس کو کوئی وضوء کرانے والا نہ ہو تو وہ تیمم کر (کے نماز پڑھ) لے۔
اس تعلیق کی اصل یہ حدیث ہے:
امام ابن ابی شیبہ نے حسن بصری اور ابن سیرین سے روایت کیا ہے، جس شخص کو یہ امید ہو کہ وہ وقت کے اندر پانی کے استعمال پر قادر ہو جائے گا وہ تیمم نہ کرے۔
امام بخاری نے اس کے مفہوم مخالف سے یہ استدلال کیا ہے کہ جس کو یہ امید نہ ہو وہ تیمم کرسکتا ہے۔
وَأَقْبَلَ ابْنُ عُمَرَ مِنْ أَرْضِهِ بِالْجُرُفِ،فَحَضَرَتِ الْعَصْرُ بِمَرْبَدِ النعْمِ فَصَلَّى، ثُمَّ دَخَلَ المدينة وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ ، فَلَمْ يُعد.
اور حضرت ابن عمر جرف سے اپنی زمین پر آئے تو اونٹوں کے باڑے میں عصر کا وقت آگیا، پس انہوں نے نماز پڑھ لی پھر مدینہ میں داخل ہوئے اور ابھی سورج بلند تھا تو انہوں نے نماز نہیں دہرائی۔
اس تعلیق کی اصل یہ حدیث ہے:
نافع بیان کرتے ہیں کہ وہ اور حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جرف سے آئے، حتی کہ جب وہ اونٹوں کے باڑے پر پہنچے تو حضرت عبد اللہ بن عمر نے سواری سے اتر کر پاک مٹی سے تیمم کیا اپنے چہرے پر اور ہاتھوں پر کہنیوں تک مسح کیا، پھر نماز پڑھی۔
(موطا امام مالک : ۹۰ تنویر الحوالک ص 75 دار الکتب العلمیہ، بیروت (۱۴۱۸ھ )
جرف مدینہ سے تین میل شام کی جانب ایک مقام ہے
درج ذیل احادیث بھی اس تعلیق کی اصل ہیں:
نافع بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اونٹوں کے باڑے میں تیمم کرکے نماز پڑھی اور وہ اس وقت مدینہ سے تین میل دور تھے پھر وہ مدینہ میں داخل ہوئے تو سورج بلند تھا انہوں نے نماز نہیں دہرائی ۔ (سنن دار قطنی : ۷۰۶ دار المعرفه بیروت 1422ھ )
نافع بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن عمر نے مدینہ سے ایک میل یا دو میل پر تیمم کیا، پھر عصر کی نماز پڑھی پھر وہ آئے تو سورج بلند تھا انہوں نے نماز نہیں دہرائی ۔ (سنن دارقطنی : ۷۰۸ دار المعرفة بیروت ۱۴۲۲ھ )
شہر سے تین میل دور آنے پر انسان مسافر نہیں ہوتا’ اس کا مطلب یہ ہے کہ حضرت ابن عمر شہر میں تیمم کے جواز کے قائل تھے اس لیے انہوں نے تین میل کے فاصلہ پر تیمم کیا اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حضرت ابن عمر تیمم کرنے سے پہلے باوضو ہوں لیکن چونکہ ان کی عادت ہر نماز سے پہلے نیا وضوء کرنے کی تھی اور وہاں پانی نہیں تھا تو انہوں نے وضوء کے قائم مقام تیمم کرلیا’ اس صورت میں یہ تعلیقات اس باب کے عنوان کے مطابق نہیں ہوں گی، کیونکہ عنوان ہے : شہر میں تیمم کرنا جب کوئی شخص پانی نہ پائے اور نماز کے قضاء ہونے کا خوف ہو۔
اس تعلیق پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ امام بخاری نے اس تعلیق و مختصر ذکر کیا ہے اور اس میں تیمم کا ذکر نہیں ہے اس لیے یہ تعلیق باب کے موافق نہیں ہے، اس کا جواب یہ ہے کہ ظاہر یہ ہے کہ امام بخاری نے تو تیمم کا ذکر کیا تھا لیکن جن ناقلین نے صحیح بخاری کے نسخوں کو نقل کیا، ان سے تیمم کا لفظ چھوٹ گیا۔
۳۳۷- حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنِ الْأَعْرَجِ قَالَ سَمِعْتُ عُمَيْرًا، مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ أَقْبَلْتُ أَنَا وَعَبْدُاللهِ بن يَسَارٍ، مَوْلى مَيْمُونَة زَوْجِ النبی صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، حَتَّى دَخَلْنَا عَلَى آبِيٍّ . الجھیم بن الحارث بن الصمتہ الانصاری، فَقَالَ أَبُو جُهَيْمِ أَقْبَلَ النبی صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ نَحْوِ بِئرِ جَمَلٍ ، فَلَقِيَهُ رَجُلٌ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَقْبَلَ عَلَى الْجِدَارِ، فَمَسَحَ بِوَجْهِهِ وَيَدَيْهِ ثُمَّ رَدَّ عَلَيْهِ السَّلَام.
امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں یحیی بن بکیر نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں لیث نے حدیث بیان کی از جعفر بن ربیعه از الاعرج انہوں نے کہا: میں نے عمیر سے سنا، جو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے آزاد کردہ غلام ہیں، انہوں نے کہا:میں اور عبد اللہ بن سیار حضرت میمونہ زوجہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام آئے حتی کہ ہم حضرت ابو جہیم بن الحارث بن الصمہ الانصاری رضی اللہ عنہ کے ہاں داخل ہوئے، پس حضرت ابو جہیم نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیر جمل کی طرف سے آئے، ایک شخص نے آپ سے ملاقات کی اور آپ کو سلام کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو جواب نہیں دیا، حتی کہ آپ دیوار کے پاس آئے اور آپ نے چہرے اور ہاتھوں پر مسح کیا، پھر اس کے سلام کا جواب دیا۔
(صحیح مسلم : ۳۶۹ الرقم المسلسل : ۱۸۰۰ سنن ابوداؤد :329 سنن نسائی : 311 السنن الکبری للنسائی: ۳۰۷ الاحاد والمثانی : ۲۱۷۵ صحیح ابن خزیمہ: ۲۷۴ سنن دارقطنی ج ا س ۱۷۶ سنن کبری ج اص 205، شرح السنة :۳۱۰ مسند احمد ج ۴ص 169 طبع قدیم مسند احمد : 17541 – ج 29 ص 84 مؤسسة الرسالة بیروت)
حدیث مذکور کے رجال کا تعارف
(1) یحی بن بکیر یہ یحی بن عبداللہ بن بکیر القرشی المخزومی ابو زکریا المصری ہیں
(۲) لیث بن سعد، مشہور امام ہیں
(۳) جعفر بن ربیعہ بن شرحبيل الکندی المصری ہیں’ یہ ۱۳۵ھ میں فوت ہو گئے تھے
(۴) الاعرج ‘ یہ عبد الرحمان بن ھرمز ہیں
(۵) عمیر، یہ عمیر بن عبداللہ الہاشمی ہیں، ۱۰۴ ھ میں مدینہ میں فوت ہو گئے تھے
(۶) عبد اللہ بن سیار المدنی الھلالی ہیں
(۷) حضرت ابو جہیم رضی اللہ عنہ، یہ عبداللہ بن الحارث بن الصمہ الخرجی صحابی ہیں، امام بخاری نے ان سے دو حدیثیں روایت کی ہیں، صحابہ میں ایک اور شخص ابوجہم نام کے ہیں وہ قرشی ہیں اور یہ انصاری ہیں۔ (عمدۃ القاری ج ۳ ص ۲۲)
حالت جنابت میں قرآن مجید کی تلاوت نہ کرنے پر دلیل
باب کے عنوان سے اس حدیث کی مطابقت اس طرح ہے کہ آپ نے سلام کا جواب دینے کے لیے شہر میں تیمم کیا، جب کہ آپ تیمم کرنے سے پہلے بھی سلام کا جواب دے سکتے تھے، اس میں یہ دلیل ہے کہ جب شہر میں نماز فوت ہونے کا خوف ہو، پھر بھی تیمم کیا جاسکتا ہے بلکہ وہ زیادہ مؤکد ہے کیونکہ نماز بغیر وضوء اور تیمم کے جائز نہیں اور سلام کا جواب بغیر وضوء اور تیمم کے دینا جائز ہے، نیز اس میں یہ دلیل بھی ہے کہ آپ نے بے وضوء سلام کا جواب دینا پسند نہیں کیا کیونکہ سلام کے جواب میں لفظ سلام ذکر کیا جاتا ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کا اسم ہے اور آپ نے اللہ تعالیٰ کا نام بے وضوء لینا پسند نہیں کیا تو جب آپ بے وضوء اللہ تعالیٰ کا نام نہیں لیتے تھے تو آپ حالت جنابت میں قرآن مجید کی تلاوت کیسے کرسکتے ہیں، سو اس حدیث میں امام بخاری کا رد ہے جو اس کے قائل ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بے وضو، قرآن مجید کی تلاوت کرتے تھے۔
اس حدیث میں پیر جمل کا ذکر ہے یہ مدینہ کے قریب ایک جگہ ہے۔
باب مذکور کی مؤید دیگر احادیث
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پیشاب کر رہے تھے اس وقت آپ کے پاس سے ایک شخص گزرا اس نے آپ کو سلام کیا’ آپ نے اس کے سلام کا جواب نہیں دیا پھر آپ نے تیمم کرکے اس شخص کے سلام کا جواب دیا۔(صحیح مسلم : 370، سنن ابوداؤد : 16 سنن ترمذی : ۹۰ سنن نسائی: ۳۷ سنن ابن ماجہ: ۳۵۳)
حضرت مہاجر بن قنفذ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اس وقت آپ پیشاب کررہے تھے انہوں نے آپ کو سلام کیا آپ نے ان کے سلام کا جواب نہیں دیا حتی کہ آپ نے وضوء کیا، پھر آپ نے اس سے اپنا عذر بیان کیا اور فرمایا: میں نے بغیر طہارت کے اللہ تعالیٰ کے ذکر کو ناپسند کیا۔ (سنن ابوداؤد : ۱۷ سنن نسائی: ۳۸ سنن ابن ماجہ :٬۳۵۰ مسند احمد ج 4 ص ۳۴۵، سنن بیہقی ج ۱ ص ۱۴۶، صحیح ابن حبان : ۸۰۳ المستدرک ج ۱ص ۲۷۲ شرح معانی الآثار : ۱۰۲ نخب الافکار ج ا ص ۱۴۳)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرا اس وقت آپ پیشاب کر رہے تھے اس نے آپ کو سلام کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم مجھے ایسی حالت میں دیکھو تو مجھے سلام نہ کیا کرو اگر تم نے سلام کیا تو میں تمہیں جواب نہیں دوں گا۔ (سنن ابن ماجہ : ۳۵۲)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرا اس وقت آپ پیشاب کر رہے تھے اس نے آپ کو سلام کیا تو آپ نے اس کے سلام کا جواب نہیں دیا۔( صحیح مسلم:۳۷۰، سنن ابوداود:۱۶ سنن ترمذی: ۹۰ سنن نسائی: ٬۳۷ سنن ابن ماجہ : ۳۵۳)
نافع، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرا اس وقت آپ پیشاب کر رہے تھے اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا’ آپ نے اس کے سلام کا جواب دے دیا جب وہ گزر گیا، تو آپ نے اس کو آواز دے کر بلایا اور فرمایا: میں نے تمہارے سلام کا جواب صرف اس لیے دیا ہے کہ مجھے یہ خوف تھا کہ تم جا کر دل میں سوچو گے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا اور آپ نے جواب نہیں دیا جب تم مجھے اس حال میں دیکھو تو مجھے سلام نہ کرو اگر تم نے سلام کیا تو میں تمہیں جواب نہیں دوں گا ۔ (اس حدیث کو امام بزارنے سند صحیح کے ساتھ روایت کیا ہے۔ عمدۃ القاری ج ۲ ص ۲۳)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرا اس وقت آپ پیشاب کر رہے تھے اس نے آپ کو سلام کیا، آپ نے اس کے سلام کا جواب نہیں دیا، جب آپ فارغ ہوگئے تو آپ نے زمین پر ہاتھ مار کر تیمم کیا، پھر اس کے سلام کا جواب دیا۔ (سنن ابن ماجہ : ۳۵۱)
شہر میں تیمم کرنے کے جواز کے متعلق مذاہب ائمہ
علامہ ابوالحسن علی بن خلف ابن بطال مالکی قرطبی متوفی ۴۴۹ ھ لکھتے ہیں :
اس مسئلہ میں فقہاء کا اختلاف ہے کہ جب شہر میں کسی شخص کو یہ خوف ہو کہ اگر وہ وضوء کرنے میں مشغول ہوا تو نماز کا وقت نکل جائے گا تو آیا اس کے لیے تیمم کرنا جائز ہے امام مالک نے کہا: وہ تیمم کرکے نماز پڑھ لے اور اس نماز کو نہیں دہرائے گا اوزاعی، ثوری امام ابوحنیفہ اور امام محمد کا بھی یہی قول ہے۔ (مصنف کہتا ہے: امام ابوحنیفہ کے نزدیک صرف نماز جنازہ اور نماز عیدین کے فوت ہونے کے خوف سے شہری کے لیے تیمم کرنا جائز ہے اور دیگر فرض نمازوں کے فوت ہونے کے خوف سے ان کے نزدیک تیمم کرنا جائز نہیں ہے۔ ہدایہ اولین ص ۵۴-۴۹)
امام مالک سے دوسری روایت یہ ہے کہ وہ تیمم کرکے نماز پڑھ لے اور اس نماز کو دہرائے گا لیث اور امام شافعی کا بھی یہی قول ہے۔
امام مالک سے تیسری روایت یہ ہے کہ وہ وضوء کرے خواہ سورج طلوع ہوجائے اور یہی امام ابو یوسف اور زفر کا قول ہے۔ (صدر الشریعہ علامہ امجد علی اعظمی متوفی 1367ھ رحمہ اللہ لکھتے ہیں : وقت اتنا تنگ ہوگیا کہ وضو یا غسل کرے گا تو نماز قضاء ہوجائے گی تو چاہیے کہ تیمم کرکے نماز پڑھ لے پھر وضو یا غسل کرکے اعادہ کرنا لازم ہے۔ (بہار شریعت حصہ دوم ص 34 مطبوعہ ضیاء القرآن لاہور )
صدر الشریعہ کا بیان کردہ یہ مسئلہ امام زفر کے مؤقف کے مطابق ہے کیونکہ دیگر ائمہ احناف کے برخلاف امام زفر اس بات کے قائل ہیں کہ وقت تنگ ہو تو تیمم کرکے نماز ادا کرنی چاہیے اور بعد میں وضوء کرکے اس کو دوہرایا جائے ۔ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قدس سرہ نے بھی امام زفر کے قول پر فتوی دیا ہے اور اُن کی تائید میں ایک رسالہ ” الظفر لقول زفر” تحریر فرمایا ہے جو کہ فتاویٰ رضویہ ج ۳ ص 441 تا ۴۴۳ (مطبوعه لاہور ) میں موجود ہے۔)
انہوں نے کہا: وہ بالکل نماز نہ پڑھے اور نماز کا فرض اس کے ذمہ ہے حتی کہ وہ پانی سے وضوء کرنے پر قادر ہوجائے، کیونکہ ان کے نزدیک شہر میں تیمم کرنا جائز نہیں ہے ان کی دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تیمم کی رخصت مریض اور مسافر کے لیے دی ہے اور تیمم کو صرف مرض اور سفر کی وجہ سے مباح کیا ہے، اس لیے شہری اور تندرست آدمی کے لیے تیمم کرنا جائز نہیں ہے۔ ( امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا بھی یہی مذہب ہے اور ان کی بھی یہی دلیل ہے۔ سعیدی غفرلہ )
المہلب نے کہا ہے : بیر جمل کی حدیث ( صحیح البخاری : ۳۳۷) میں شہر میں تیمم کرنے کے جواز کی دلیل ہے مگر اس حدیث میں یہ دلیل نہیں ہے کہ اس تیمم کے ساتھ نماز پڑھنا بھی جائز ہے اس تیمم کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف سلام کا جواب دینے کا ارادہ کیا تھا کیونکہ بغیر طہارت کے آپ اللہ کے ذکر کو ناپسند کرتے تھے۔
علامہ ابن بطال کہتے ہیں : میں نے بعض اہل علم کو علامہ مہلب کی یہ دلیل سنائی تو انہوں نے کہا: اس حدیث سے شہر میں تیمم کرنے کا جواز مستنبط ہوتا ہے جب شہر کے پانی تک پہنچنے میں نماز کے فوت ہونے کا خوف ہو کیونکہ جب شہر میں سلام کا جواب دینے کے لیے تیمم کرنا جائز ہے، جب کہ آپ کے لیے تیمم سے پہلے بھی سلام کا جواب دینا جائز تھا تو اس سے یہ استنباط ہوتا ہے کہ جب شہر میں نماز کے فوت ہونے کا خوف ہو تو اس کے لیے تیمم کرنا جائز ہے بلکہ یہ زیادہ مؤکد ہے کیونکہ نماز بغیر وضوء اور تیمم کے جائز نہیں ہے اور سلام کا جواب دینا بغیر وضوء اور تیمم کے جائز ہے اور نیز تیمم صرف بیماروں اور مسافروں کے لیے مباح کیا گیا ہے تاکہ جب انہیں نماز کے فوت ہونے کا خوف ہوتو وہ نماز کو اپنے وقت میں پڑھ لیں لہذا ہر وہ شخص جس کو پانی میسر نہ ہو اور اس کو نماز کے فوت ہونے کا خوف ہو تو وہ تیمم کرے مسافر اور مریض کے لیے یہ نص سے ثابت ہے اور شہری اور تندرست کے لیے یہ قیاس سے ثابت ہے اور یہ دلیل قاطع ہے۔
نیز فقہاء احناف نے نماز جنازہ اور نماز عیدین کے لیے شہری اور تندرست کے لیے تیمم کرنے کو جائز قرار دیا ہے سو باقی نمازوں کے لیے بھی شہری اور تندرست کے لیے تیمم کو جائز قرار دینا چاہیے۔ (شرح ابن بطال ج ۱ ص ۴۶۶- ۴۶۵ دار الکتب العلمیہ بیروت ۱۴۲۴ھ)
شہری اور تندرست کے تیمم کے جواز پر علامہ ابن بطال کے دلائل کے جوابات
میں کہتا ہوں کہ علامہ المہلب کا یہ کہنا صحیح ہے کہ صحیح البخاری : ۳۳۷ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے جس تیمم کا ذکر ہے وہ آپ نے صرف سلام کا جواب دینے کے لیے کیا تھا اور یہ تیمم شہر میں نماز کے جواز کے لیے نہیں تھا اور علامہ ابن بطال نے دوسرے علماء سے پوچھ کر جو اس کے جواب میں یہ کہا ہے کہ قرآن مجید میں جو مسافروں اور بیماروں کے لیے تیمم کو مباح کیا گیا ہے اس کے ساتھ یہ شرط بھی ملحوظ ہے کہ پانی نہ ملے اور ان کو وضوء کرنے کی وجہ سے نماز کے فوت ہونے کا خوف ہو، انہوں نے اپنی رائے سے اس شرط کا اضافہ کیا ہے قرآن مجید میں اس کا ذکر نہیں ہے، پھر اس شرط پر انہوں نے شہری اور تندرست کو قیاس کیا کہ اس کو بھی اگر وضوء کرنے کی وجہ سے نماز کے فوت ہونے کا خوف ہو تو وہ بھی تیمم کرسکتے ہیں، اس طرح تیمم کی بیمار اور مسافر کے ساتھ خصوصیت نہیں رہے گی اور ہر شخص تیمم کرسکے گا’ علامہ ابن بطال نے اپنی اس دلیل کو دلیل قاطع کہا ہے اور درحقیقت یہ دلیل باطل ہے اور نص قرآن کے خلاف اور اس کے مزاحم ہے۔
نیز علامہ ابن بطال نے اس سے معارضہ کیا ہے کہ فقہاء احناف نے کہا ہے کہ جب شہری کو وضوء کرنے کی وجہ سے نماز جنازہ یا عیدین کی نماز کے فوت ہونے کا خوف ہو تو وہ تیمم کر سکتا ہے لہذا دیگر فرائض کے لیے بھی شہری اس صورت میں تیمم کرسکتا ہے۔
علامہ ابن بطال کا یہ معارضہ بھی صحیح نہیں ہے کیونکہ نماز جنازہ اور عیدین کی نماز کی قضاء نہیں ہوتی لہذا یہ نماز میں اگر فوت ہوجائیں تو ان کی تلافی نہیں ہوسکتی اس وجہ سے شہری کو ان کے لیے تیمم کی اجازت دی گئی اور اگر باقی نمازیں وضوء میں اشتغال کی وجہ سے فوت ہوجائیں تو ان کی قضاء نماز سے تلافی ہوسکتی ہے اس لیے دیگر فرائض کو نماز جنازہ اور نماز عیدین پر قیاس کرنا درست نہیں ہے۔
باب مذکور کی حدیث کو منسوخ قرار دینے کے جوابات
بعض علماء نے کہا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کا جواب دینے کے لیے جو تیمم یا وضوء کیا تھا وہ المائدہ:۶ سے منسوخ ہوگیا ہے کیونکہ اس آیت میں نماز پڑھنے کے لیے وضوء اور تیمم کاحکم دیا ہے اور اس کے منسوخ ہونے پر دوسری دلیل یہ ہے کہ حدیث میں ہے:
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نیند سے اٹھ کر سورہ آل عمران کی آخری دس آیات پڑھیں، پھر وضوء کیا۔(صحیح البخاری : ۱۸۳) اور جب بغیر وضوء کے قرآن مجید کی آیات پڑھی جاسکتی ہیں تو بغیر وضوء کے سلام کا جواب بھی دیا جاسکتا ہے لیکن یہ کہنا بھی صحیح نہیں ہے کیونکہ قرآن مجید میں نماز پڑھنے کے لیے وضو، اور تیمم کرنے کا حکم دیا ہے لیکن اس میں حصر نہیں کیا جب کہ قرآن مجید کو چھونے کے لیے بھی وضوء کیا جاتا ہے اور طواف کعبہ کے لیے بھی وضوء کیا جاتا ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نیند سے اٹھ کر جو قرآن مجید کی آیات پڑھیں اس کا ایک جواب یہ ہے کہ نیند سے آپ کا وضو نہیں ٹوٹتا اور اس کے بعد جو آپ نے وضوء کیا وہ حصول فضیلت کے لیے تھا، دوسرا جواب یہ ہے کہ بالفرض اگر آپ اس وقت بے وضوء تھے تو آپ نے بیان جواز کے لیے آیات پڑھیں اور باب مذکور کی حدیث میں ہے کہ آپ نے تیمم کرکے سلام کا جواب دیا اور سنن ابوداؤد : ۱۶ میں ہے: آپ نے حضرت مہاجر بن قنفذ کو وضوء کرکے سلام کا جواب دیا تو ان دونوں صورتوں میں آپ نے مستحب پر عمل کیا لہذا ” صحیح البخاری کی حدیث مذکور کو منسوخ قرار دینا صحیح نہیں ہے۔
باب مذکور کی حدیث شرح صحیح مسلم :۷۲۶ – ج ۱ ص ۱۰۵۱ پر ہے وہاں اس کی شرح نہیں کی گئی۔