جیفری ایپسٹین کون تھا اور یہ امیر کیسے ہوا ؟
پہلے تو یہ سمجھتے ہیں کہ اس ہولناک معاملے کا آغاز کب ہوا ؟
اور اس سے بھی پہلے یہ یہ سمجھتے ہیں کہ جیفری ایپسٹین کون تھا اور یہ امیر کیسے ہوا ؟
ایپسٹین نے اپنے کیریئر کا آغاز ایک اسکول ٹیچر کے طور پر کیا ، لیکن جلد ہی وہ وال اسٹریٹ (Wall Street) کی مالیاتی دنیا میں گھس گیا۔
اس کا سب سے بڑا کلائنٹ لیسلی ویزنر (L Brands کا مالک) تھا ، جس نے ایپسٹین کو اپنی دولت سنبھالنے کے لیے غیر معمولی اختیارات دیے۔
کئی بڑے تجزیہ کاروں کا یہ بھی ماننا ہے کہ ایپسٹین کی اصل دولت “معلومات” تھی۔یہ شخص طاقتور لوگوں کو ایسی سرگرمیوں میں ملوث کرتا جن کی ویڈیوز وہ خفیہ طور پر ریکارڈ کر لیتا تھا ، اور یہی وہ “سرمایہ” تھا جس کے زور پر وہ بڑے لوگوں تک پہنچا اور انہیں اپنی مٹھی میں رکھا۔
ایپسٹن جیفری کا ٹرمپ سے تعلق کب سے تھا ؟
2002 میں ٹرمپ نے نیویارک میگزین کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا : میں جیفری کو 15 سال سے جانتا ہوں ، وہ ایک زبردست انسان ہے۔
اس کے ساتھ وقت گزارنا بہت دلچسپ ہوتا ہے۔
یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ مجھ سے زیادہ خوبصورت عورتیں پسند کرتا ہے ، جن میں اکثر کم عمر ہوتی ہیں۔
(یہ بیان اب ٹرمپ کے لیے ایک بوجھ بن چکا ہے)۔
اگرچہ بعد میں ٹرمپ نے یہ دعویٰ کیا کہ اس کا ایپسٹین سے جھگڑا ہو گیا تھا اور انہوں نے اسے اپنے ‘مار-اے-لاگو’ کلب سے نکال دیا تھا لیکن جو ریکارڈز ہیں ، واضح بتاتے ہیں کہ وہ کئی بار ایک دوسرے کی نجی پارٹیوں میں شریک رہے۔
ایپسٹین کے پاس اپنا ایک نجی طیارہ تھا جسے میڈیا نے “Lolita Express” کا نام دیا ، اس طیارے کے لاگ بکس (Log Books) میں دنیا کے طاقتور ترین لوگوں کے نام درج ہیں جو ایپسٹین کے نجی جزیرے “Little St. James” پر جاتے تھے۔
اس پورے کیس میں ایک عورت کا ذکر بہت ضروری ہے ، جس کا نام غیسلین میکسویل (Ghislaine Maxwell) ہے۔
یہ عورت برطانوی میڈیا ٹائیکون رابرٹ میکسویل کی بیٹی تھی۔
اور اسی نے ایبسٹین کے لیے بڑے بڑے لوگوں (جیسے شہزادہ اینڈریو اور بل کلنٹن) کے دروازے کھولے۔
عدالتی دستاویزات اور متاثرہ خواتین کے بیانات کے مطابق غیسلین کے ذمہ یہ کام تھے ، وہ اسکولوں اور غریب علاقوں سے بچیوں کو ڈھونڈتی تھی اور انہیں “مساج” یا “ماڈلنگ” کا جھانسہ دے کر ایبسٹین کے پاس لاتی تھی۔
وہ معصوم لڑکیوں کا اعتماد جیتتی اور پھر انہیں ایبسٹین کی جنسی ہوس کے لیے تیار کرتی۔ متاثرہ لڑکیوں نے بیانات دیے ہیں کہ غیسلین خود ان مظالم کے وقت وہاں موجود ہوتی تھی یا نگرانی کرتی تھی۔
وہ ایبسٹین کی پرائیویٹ لائف اور اس کے جزیرے پر آنے والے مہمانوں کی تفصیلات اور ویڈیوز سنبھالنے میں اس کی مدد کرتی تھی۔
اس کیس کی اہم ترین گواہ ورجینیا جوفرے نے حلفیہ بیان دیا کہ غیسلین میکسویل نے ہی اسے 17 سال کی عمر میں ایبسٹین کو بیچا اور اسے مجبور کیا کہ وہ برطانیہ کے شہزادہ اینڈریو کے ساتھ تعلقات استوار کرے۔
پولیس کو تحقیقات کے دوران ایبسٹین کی ایک ڈائری ملی جس میں سینکڑوں طاقتور لوگوں کے فون نمبر اور نجی معلومات درج تھیں۔ رپورٹس بتاتی ہیں کہ اس ڈائری کو ترتیب دینے میں غیسلین کا بڑا ہاتھ تھا۔
جولائی 2020 میں اسے گرفتار کیا گیا اور 2021 میں امریکی عدالت نے اسے سیکس ٹریفکنگ (Sex Trafficking) اور دیگر سنگین جرائم میں جرم ثابت ہونے پر 20 سال قید کی سزا سنائی۔
وہ اس وقت فلوریڈا کی ایک فیڈرل جیل میں اپنی سزا کاٹ رہی۔
آپ اس کی سزا اور تحقیقات کی تفصیلات بی بی سی یا الجزیرہ کی ان رپورٹس میں دیکھ سکتے ہیں:
BBC: Ghislaine Maxwell sentenced to 20 years
Al Jazeera: The rise and fall of Ghislaine Maxwell
جب یہ تحقیقات جاری تھیں تب ایک ڈیل ہوئی ۔
ڈیل کیا تھی؟
2008 میں جب فلوریڈا میں ایپسٹین پر درجنوں بچیوں کے ریپ کے الزامات تھے ، تو اس وقت کے وفاقی پراسیکیوٹر الیکزینڈر اکوسٹا نے ایپسٹین کے ساتھ ایک انتہائی نرم “نان پراسیکیوشن ایگریمنٹ” (Non-prosecution Agreement) سائن کیا۔
اس ڈیل کے نتیجے میں ایپسٹین عمر قید سے بچ گیا اور اسے صرف 13 ماہ کی معمولی سزا ہوئی ، وہ بھی اس شرط پر کہ وہ دن میں کام کے لیے جیل سے باہر جا سکتا تھا۔
پھر جب ڈونلڈ ٹرمپ صدر بنے تو انہوں نے اسی الیکزینڈر اکوسٹا کو امریکہ کا وزیرِ محنت (Labor Secretary) مقرر کر دیا۔
اور یہ وہ کڑی ہے جو ثابت کرتی ہے کہ طاقتور حلقوں نے ایک دوسرے کو بچانے کے لیے کس طرح عہدوں کی بندر بانٹ کی۔
(تاہم ، 2019 میں جب ایپسٹین دوبارہ گرفتار ہوا اور پرانی ڈیل پر احتجاج ہوا تو اکوسٹا کو استعفیٰ دینا پڑا)۔
اب یہ سمجھیئے کہ اس ہولناک معاملے کا آغاز کب ہوا ؟
2005 میں کہ جب فلوریڈا کی پولیس کو ایک چودہ سالہ لڑکی کے حوالے سے شکایت موصول ہوئی۔
تحقیقات سے معلوم ہوا کہ ایپسٹین اپنے گھر پر کم عمر لڑکیوں کو “مساج” کے بہانے بلاتا اور ان کا جنسی استحصال کرتا تھا۔
اس وقت ایپسٹین نے ایک “پلی بارگین” (Plea Deal) کی ، جس کے تحت اسے صرف 13 ماہ کی معمولی سزا ہوئی اور وہ دن میں اپنے کام پر بھی جا سکتا تھا۔
اس معاہدے نے بڑے سوالات کھڑے کیے کہ آخر اسے اتنی رعایت کیوں دی گئی؟
کئی سالوں کی خاموشی کے بعد ، 2019 میں نیویارک ٹائمز اور دیگر اخبارات کی رپورٹنگ نے اس کیس کو دوبارہ زندہ کیا۔
جولائی 2019 میں ایپسٹین کو پیرس سے واپسی پر گرفتار کیا گیا ۔
اس بار الزامات “سیکس ٹریفکنگ” (Sex Trafficking) اور ایک منظم نیٹ ورک چلانے کے تھے۔
اگست 2019 میں مقدمے کی سماعت کے دوران ، ایپسٹین جیل میں مردہ پایا گیا۔ حکام نے اسے خودکشی قرار دیا لیکن اس پر اب بھی کئی شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں۔
ہم جس فائل کا ذکر کر ہے ہیں یہ دراصل ان ہزاروں صفحات پر مشتمل عدالتی دستاویزات کا ایک حصہ ہے جو 2024 کے آغاز میں عدالت کے حکم پر پبلک کی گئیں۔
اس فائل کا لنک بھی آپ دیکھ لیجئے گا کمینٹ سیکشن میں ۔
یہ اس ایپسٹن فائل کا کچھ پس منظر ہے جو مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارم اور گوگل پر موجود اس فائلز کی تحقیقات سے لیا گیا ہے ۔
مدثر فاروقی ✒️۔
#EpsteinFiles