مرزا محمد علی انجینئر صاحب کی سیرت کے چند پہلو :

آپ کا تعلق جہلم شہر سے ہے ، آپ نے دنیاوی تعلیم میں پاس ہونے اور نوکری میں فیل ہونے کے بعد مختلف مکاتب فکر کے علماء کے پاس چار دن جاکر مذہبی تعلیم حاصل کرنے کی ناکام کوشش کی ۔ تاکہ اختلافی مسائل میں اپنی ٹانگ پھنسا کر اس فیلڈ میں کھڑے ہوسکیں ۔
مرزا صاحب نے باقاعدہ دینی تعلیم حاصل نہیں کی بس مختلف مکاتب فکر کے پاس جاکر کھجل خوار ہوتے رہے ہیں ، اس لیے اُن کے ذہن میں ایک کھچڑی سی تیار ہو گئی۔ سو انہوں نے اِن تمام مکاتب فکر سے کچھ کچھ حصہ لیا اس میں مزید اپنی عقل کے گھوڑے دوڑائے اور ایک نیا فرقہ لانچ کردیا بس تب سے اب تک نوجوانوں کو لگاتار بے وقوف بنانے میں مصروف عمل ہیں ۔

مرزا صاحب کی دن رات انتھک کوششوں اور لبرلوں ، قادیانیوں و دیگر سیکولر طاقتوں کے آشیر باد سے آج مرزا صاحب کے ساتھ اُن کے چاہنے والے چھوکروں کی ایک تعداد ہے جو زیادہ تر سوشل میڈیا پر ہی پائی جاتی ہے ۔

مرزا صاحب دوسرے لوگوں سے مختلف اس لیے ہیں کیونکہ اِن کے اندر درج ذیل خصوصیات پائی جاتی ہیں مثلاً

1- مرزا صاحب کی امی کوئی شے نئیں کیونکہ وہ اپنے چکروں میں تھیں کہ آپ جیسا تحفہ پیدا ہوگیا ۔

2- مرزا صاحب منگولوں کی اولاد ہیں یہی وجہ ہے کہ آپ کی طبیعت اور خون میں فتنہ و فساد اور منافقت کا گہرا اثر پایا ہے۔

3- مرزا صاحب اپنا پیشاب بھی نہیں روک سکتے ۔

4- مرزا صاحب کی یہ بھی خاصیت ہے کہ ان کی شادی کے دو سال بعد اِن کی بیٹی کی عمر بھی دوسال تھی ۔

5-مرزا صاحب کے نزدیک ران کو عربی میں پٹ کہتے ہیں ۔

6- مرزا صاحب خود کو چھوکرا اور اور اپنے پیروکاروں کو لونڈا لپاڑہ کہنے میں حرج نہیں سمجھتے ۔

7- پاکستان کی سٹرکوں میں اتنے یوٹرن نہیں ہوں گے ، جتنے یوٹرن مرزا صاحب کے اقوال میں پائے جاتے ہیں ۔

8- مرزا صاحب کی فقہ میں قادیانیوں کا ذبیحہ حلال ہے ۔

9 – مرزا صاحب کے نزدیک قادیانیوں کے اعضائے وضو روز قیامت چمکتے ہوں گے ۔

10- مرزا صاحب اورل سیکس کے جواز کا صرف فتوی دیتے ہیں بلکہ طریقہ کار بھی سمجھاتے ہیں ۔

11- مرزا صاحب نماز کی سُنتوں کو فضول نماز قرار دیتے ہیں ، اور لوگوں کو چُھٹی دیتے ہیں کہ صرف فرض پڑھو ، سنت پر عمل نہ کرو ۔

12- مرزا صاحب اتنے چالاک ہیں کہ آپ نے اپنے ریسرچ پیپرز میں صحیح الاسناد احادیث لکھنے کا دعوی تو کیا مگر اس پر عمل نہیں کیا ۔

13- مرزا صاحب میں سونگھنے کی صلاحیت کتے سے بھی زیادہ ہے یہی وجہ ہے کہ آپ اپنے مخالفین کو “چک وڈنے” کی دھمکیاں بھی دے چکے ہیں ۔

14- مرزا صاحب قرآن پاک اتنا اچھا پڑھتے ہیں کہ اگر آج قاری عبدالباسط رحمہ اللہ زندہ ہوتے تو وہ آپ ناخوش ہوکر K2 پہاڑ پر آپ کو مرغا بنانے کی سزا تجویز فرماتے ۔

15- مرزا صاحب کہانی سنانے میں اس قدر ماہر ہیں کہ انہوں نے بچوں کو یہ تو بتا رکھا ہے کہ شیخ عبدالقادر جیلانی رفع یدین کرتے تھے ، مگر یہ نہیں بتایا کہ شیخ رحمہ اللہ کے نزدیک رفع یدین نہ فرض ہے ، نہ واجب ، نہ سُنت بلکہ یہ مستحب عمل ہے ۔ نیز آپ کی طرف منسوب کتاب غنیة الطالبین میں بھی اختلاف ہے کہ وہ آپ کی ہے بھی یا نہیں ۔

16- مرزا صاحب کے اخلاق اس قدر اعلی ہیں کہ آپ اپنے سوا سب کو گمراہ اور غلط کہتے ہیں اور فرماتے ہیں جو مجھے چھیڑتا ہے میں اُسے چھوڑتا نہیں ۔

17- آپ نے اپنے فرقے کی ایسی تربیت کی ہے انھیں اولیاء اللہ اور علماء کے میمز بنانے ، مذاق اڑانے ، انہیں مشرک و گمراہ کہنے سے فرصت نہیں وہ اسی کو دین کی تبلیغ سمجھتے ہیں ۔

18- مرزا صاحب قرآن و سنت کے ایسے داعی ہیں کہ آج تک ان کے ہاتھ پر ایک بھی غیر مسلم اسلام نہیں لایا جبکہ آپ باتیں اُن کو کرتے ہیں جنہوں نے ہزاروں لاکھوں لوگوں کو مسلمان کیا ۔

19- آپ اتنے سادہ ہیں کہ بالوں میں لڑکیوں والا کیچر بھی لگالیتے ہیں ۔

قارئیں یہ تھی مرزا صاحب کی سیرت کے چند پہلوؤں پر ایک نظر باقی مرزا صاحب اس قدر فنکار اور فلمی اور عظیم منافق شخصیت ہیں کہ جتنا لکھا جائے اتنا ہی کم ہے ۔

آخر میں آپ کے چند اقوال زریں پیش خدمت ہیں جو آپ کے فرقے کی بنیاد ہیں ۔ جو تقریباً ہر چھوکرے کو یاد ہوتے ہیں ۔

بابے شے ای کوئی نئیں ۔
فرقوں کی دکانیں بند ۔
The damage has been done۔
منجی ٹھوک تی ۔
میں لمیاں پالینا ۔
آیا نہ داڑ تھلے ۔
قبروں کے بچاری ۔
بابا پرست ۔
قبر چاٹ ۔

وغیرہ وغیرہ

یہ وہ چند اقوال ہیں جو نوجوانوں کی اخلاقیات کو ممتاز بنا دیتے ہیں جس سے پتا چل جاتا ہے کہ یہ مرزا صاحب کا تربیت یافتہ ہے ۔

آپ کو اس تحریر میں اگر کچھ بُرا لگے تو اس میں میرا کمال نہیں یہی حقیقت ہے ، اور اگر اچھا لگے تو بھی میرا کمال نہیں کہ یہی سچ ہے ۔

✍🏻ارسلان احمد اصمعی قادری
2/2/26ء