ایپسٹن فائلز: چند بے ربط اصولی باتیں پیشِ خدمت ہیں۔

اول: ایپسٹن فائلز کی تازہ ترین قسط تقریباً پینتیس لاکھ صفحات پر مشتمل ہے۔ اس قدر ضخیم اور پھیلے ہوئے مواد کا مکمل مطالعہ نہ صرف یہ کہ عام قاری کے لئے دشوار ہے بلکہ کسی بھی مشینی معاونت کے بغیر عملاً ناممکن بھی ہے لہٰذا اس معاملے میں جذباتی ہیجان اور ہر چیز جان لینے کی نفسیاتی کیفیت سے خود کو محفوظ رکھیے اور پوری فائل کو از ابتدا تا انتہا پڑھنے کی لاحاصل اور غیر ضروری تگ و دو ترک کر دیجئے۔

دوم: تاریخِ عالم پر گہری اور سنجیدہ نظر رکھنے والوں کے لئے ان فائلز میں سامنے آنے والے انکشافات کوئی چونکا دینے والی یا غیر متوقع بات نہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی جہاں بھی مذہب اور خدا کو فرد اور معاشرے کی زندگی سے عملاً خارج کر دیا جاتا ہے تو تمام تر اخلاقی بندھن ٹوٹ جاتے ہیں، حیا مٹ جاتی ہے، انسان حیوان بن جاتا ہے اور پھر شیطان کے پجاری خود شیطانیت میں شیطان سے بھی آگے نکل جاتے ہیں۔ یہ بھی اسی کا تسلسل ہے۔

سوم: اگر اس موضوع سے متعلق کوئی مضمون، ویڈیو یا تصویر آپ کے سامنے آ جائے تو حتی المقدور بغیر پڑھے اور بغیر دیکھے آگے بڑھ جانے کی کوشش کیجیے۔ یاد رکھیے! اس طرح کے مواد سے نہ علم میں کوئی اضافہ ہوتا ہے اور نہ ہی انسانی شعور کو بالیدگی ملتی ہے، البتہ ایمانی کیفیت اور باطنی سکون کو نقصان پہنچنے کا قوی اندیشہ ضرور ہوتا ہے اور بعض اوقات یہ نقصان فوری محسوس نہیں ہوتا مگر گہرا اور دیرپا ہوتا ہے۔

چہارم: اب جبکہ یہ تازہ ترین اقسام پر مشتمل فائلز بھی سامنے آ چکے ہیں اور معاملہ کسی حد تک واضح ہو گیا ہے، بعید نہیں کہ مستقبل قریب میں اس کے مزید اقساط بھی منظرِ عام پر آ جائیں۔ ایسی صورتِ حال میں ہماری ذمہ داری یہ ہرگز نہیں کہ ہم سنسنی یا تجسس کا حصہ بنیں بلکہ اصل ذمہ داری یہ ہے کہ اس فضا کو مثبت تعمیر اور دعوتی انداز میں کیش کیا جائے۔
مغربی مادر پدر آزاد تہذیب اور طرزِ زندگی کے مقابلے میں اسلامی تہذیب، اسلامی ثقافت، اسلامی اقدار، اسلامی فلسفہ حیا، اسلامی فلسفہ ازدواج، اسلامی تمدن اور اسلامی تاریخ کو ہورے وقار اور اعتماد کے ساتھ لوگوں کے سامنے رکھا جائے۔۔۔۔۔۔۔۔عین ممکن ہے کہ اسی موازنہ یا اسی دعوتی اسلوب سے کچھ دل ہدایت کی طرف متوجہ ہو جائیں۔

پنجم: اس پورے معاملے میں سب سے زیادہ توجہ طلب پہلو اپنی ذات، اپنے گھروں اور بالخصوص نئی نسل کی فکری و ایمانی حفاظت ہے۔ نوجوان اذہان اور سادہ طبیعتوں کے سامنے ان موضوعات کو بار بار چھیڑنا یا بلا ضرورت زیرِ بحث لانا نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے لہٰذا ہمیں ردِعمل کی نفسیات سے نکل کر ردِ فتنہ کی حکمت عملی اپنانی چاہیے اور وہ بھی اس انداز میں کہ جس کی بنیاد علم، بصیرت، صبر، دعوت اور اعلیٰ اخلاقی اقدار پر ہو۔

اللَّهُمَّ اسْتُرْ عَوْرَاتِنَا وَآمِنْ رَوْعَاتِنَا
(اے اللہ ہمارے عیوب پر پردہ ڈال ، اور ہمارے خوف کو امن سے تبدیل کر دے)

✍️ #ایمل_صابر_شاہ