جہلم کا منی دجال کہتا ہے کہ یہ میرے ڈر سے انکار کرتے ہیں کلمہ چشتی کا
آج سے 665 سال قبل حضرت مخدومِ جہاں شیخ شرف الدین یحییٰ منیری علیہ الرحمہ چشتی کلمے والے واقعے کو افتراء یعنی جھوٹ قرار قرار دے چکے ہیں جہلم کا منی د-جا-ل کہتا ہے کہ یہ میرے ڈر سے انکار کرتے ہیں حالانکہ اس وقت مرزا منی د-جا-ل کے خاندان کا نام و نشان تک نہیں تھا۔
#ترجمہ :
لوگ کہتے ہیں کہ خواجہ مودود چشتی (قدس سرہ العزیز) نے ایک شخص کو، جو ان کی خدمت میں مرید ہونے آیا تھا، فرمایا کہ کہو ‘لا الہ الا اللہ چشتی رسول اللہ’۔ اب اس موقع پر مرید کیا کرے؟ وہ جو پیر فرمائے وہی کرے یا ظاہرِ روایت (شریعت) پر جائے؟”
بندگی مخدوم (عظمہ اللّٰه) نے فرمایا:
“مشائخِ طریقت (رضوان اللّٰهُ علیہم) امت کے درمیان اللّٰهُ کے چنے ہوئے لوگ اور نبی کریم ﷺ کے خلفاء ہیں، وہ اپنی دعوت میں ہرگز ایسا نہیں فرماتے اور نہ ہی کبھی ایسی بات کہتے ہیں۔ نعوذ اللّٰه ان کے حق میں کسی کو ایسا گمان بھی ہو۔”
اس کے بعد اپنی گوہر افشاں زبان سے فرمایا
(شعر کا ترجمہ):
“علم اور عمل کے ساتھ ان کی زبان سچی ہے،
وہ ترازو کی صفت رکھتے ہیں، بغیر کسی کمی بیشی کے۔
وہ جاننے والے، دیکھنے والے اور (حقیقت تک) پہنچے ہوئے ہیں،
وہ دریا کی صفت رکھتے ہیں اور سکون والے ہیں۔
یہ مردانِ حق کے حال کا کمال ہے،
وہ شیر ہیں اور میدان کے غازی ہیں۔”
اس کے بعد (بندگی مخدوم) نے فرمایا:
“یہ جو خواجہ مودود چشتی (قدس سرہ العزیز) سے نقل ہے، لوگ کہتے ہیں کہ انہوں نے ایسا کہا ہے، ہو سکتا ہے کہ کسی منکر نے اپنے انکار کو تقویت دینے کے لیے ان پر افترا (جھوٹ) باندھا ہو۔ اور یہ کوئی تعجب کی بات نہیں ہے، کیونکہ لوگوں نے پیغمبر ﷺ کی ذاتِ مبارک پر کئی ہزار احادیث کا افترا باندھا ہے۔


