ہمیشہ کی طرح اہلسنت کی تقسیم میں مصروف ۔۔۔
یہ پہلی بار نہیں کہ طاہر القادری صاحب نے اہلسنت کو تقسیم کرنے میں کوئی کسر چھوڑی ہو۔ اب چاہے شاہ احمد نورانی صاحب کے مقابلے میں سیاست میں آ کر اہلسنت کو تقسیم کرنا ہو یا پھر دیت المراۃ کے مسئلے میں لبرل صحافیات کی طرف داری کرتے ہوئے خرق اجماع ہو، امام بارگاہوں میں جا کر تقریر کرنے والا پہلا سنی سمجھا جانے والا مقرر بننا ہو یا عیسائیوں کے مذہبی تہوار “کرسمس” منانے کو مباح کرنا ہو حتی کہ انہیں اپنی مساجد میں عبادت کی اجازت دینا ہو۔
قادری صاحب کو جس نے بھی روکا انہوں نے اس پر شدت پسندی کا لیبل لگا دیا حالانکہ انہیں روکنے والوں میں خود ان کے اساتذہ یا اساتذہ کے معاصرین موجود تھے جن میں استاذ الکل عطا محمد بندیالوی رحمۃ اللّٰہ علیہ ، غزالی زماں سید احمد سعید کاظمی شاہ صاحب رحمۃ اللّٰہ علیہ ، مفتی اعظم پاکستان مفتی وقار الدین قادری رحمۃ اللّٰہ علیہ ، مفتی تقدس علی خان صاحب رحمۃ اللّٰہ علیہ ، مفتی محمد حسین نعیمی رحمۃ اللّٰہ علیہ اور مفتی غلام سرور قادری رحمۃ اللّٰہ علیہ شامل تھے۔
کیا یہ سب بھی متشدد تھے یا پھر آپ کی پے در پے شیرازہ اہلسنت بکھیرنے کی پالیسی سے بے زار تھے۔
بہرحال اس سب کے ساتھ ساتھ قادری صاحب نے شیعیت نوازی میں بھی کوئی کسر باقی نہیں رکھی بلکہ سیف جلی لکھ کر شیعہ کے نظریہ امامت پر مہر تصدیق ثبت کر دی جس پر اہلسنت علماء نے بروقت ایکشن لیا۔
اسی شیعیت نوازی کا تسلسل برقرار رکھتے ہوئے طاہر القادری صاحب اپنی تازہ کتاب بنام “حقیقیت مشاجرات صحابہ” میں لکھتے ہیں:
“سیدنا معاویہ نے اہل شام کے ساتھ ((قصاص عثمان کی طلب کا بہانہ بنا کر)) امیر المومنین سیدنا علی کے خلاف خروج کیا”۔
ذرا اس عبارت میں بین القوسین الفاظ پر غور کریں۔
((قصاص عثمان کی طلب کا بہانہ بنا کر))
قادری صاحب کی اس عبارت میں دو خیانتیں ہیں، ایک اعتقادی اور دوسری علمی۔
اعتقادی خیانت یہ ہے کہ اس عبارت میں قادری صاحب سیدنا معاویہ اور آپ کے ساتھ نکلنے والے صحابہ کو قصاص عثمان کا مطالبہ کرنے میں اشارہ اور کنایہ کے بغیر صراحتاً غیر مخلص بلکہ بہانہ ساز کہ رہے ہیں ، جو کہ ایک صحابی کے تعلق سے بہت بڑی جسارت اور اہانت ہے۔
دوسری خیانت جو بادی النظر میں علمی خیانت ہے لیکن اپنے مآل کے اعتبار سے وہ بھی اس اعتقادی خیانت کا حصہ ہے وہ امام بیہقی کی عربی عبارت کے اردو ترجمہ میں تحریف اور خیانت کرنا ہے۔
آپ غور کریں امام بیہقی کے عربی الفاظ میں قصاص عثمان کو کہیں بھی بہانہ نہیں لکھا لیکن قادری صاحب نے خود سے طلبِ قصاص کے ساتھ “بہانہ بنا کر” والے الفاظ بڑھائے۔
شاید یہ بات آپ کی حیرت میں اور اضافہ کرے کہ موصوف نے یہ بات اس کتاب کے پہلے صفحے پر لکھی ہے جہاں سے باضابطہ متن کتاب کا آغاز ہو رہا ہے۔
قادری صاحب بتائیں!
کیا اسے کفّ لسان کہتے ہیں؟ آپ تو کفّ لسان کے اس معنی پر بھی پورا نہیں اترے جو آپ بیان کرتے تھے۔ مناقب بیان کرنے سے زبان کنگ ہو گئی تھی تو مطاعن سے منہ بند رکھ لیتے ۔
دوسری اہم بات یہ کہ جو بات قادری صاحب نے لکھی یہ بعینہ لفظ بہ لفظ شیعہ کا بیانیہ ہے۔
چنانچہ شیعہ کی معروف کتاب “چودہ ستارے” ملاحظہ ہو، اس کا مصنف لکھتا ہے:
“اس جنگ کے متعلق علماء و مؤرخین کا بیان ہے کہ بانی جنگ جمل عائشہ کی مانند معاویہ بھی لوگوں کو ((قتل عثمان کے فرضی افسانہ)) کے حوالے سے حضرت علی کے خلاف بھڑکاتا اور ابھارتا تھا”.
یہی بات اسی شیعہ مصنف نے اسی کتاب میں چند صفحات پہلے ام المومنین سیدہ عائشہ کے متعلق بھی لکھی ہے۔
اس عبارت میں شیعہ مصنف کے الفاظ “(قتلِ عثمان کے فرضی افسانہ)” ایک پلڑے میں رکھے جائیں اور دوسرے پلڑے میں متجدد صاحب کے الفاظ “(قصاص عثمان کی طلب کا بہانہ بنا کر)” رکھ دیے جائیں تو فیصلہ کرنا مشکل ہو جائے گا کہ قباحت میں زیادہ کون سے ہیں۔
بہرحال یہ کوئی پہلی دفعہ نہیں ، متجدد صاحب اس سے قبل بہت دفعہ ایسی جسارتیں کر چکے ہیں جن کی فہرست لمبی ہے۔
ـــــــــــــــــــــــ
جنہیں اس تحریر میں قلم کی سختی زیادہ محسوس ہوئی ہو وہ اپنے پسندیدہ الفاظ میں اس حرکت پر احتجاج کر لیں راقم کو کوئی اعتراض نہیں ہو گا۔


