امام بدرالدین عینی رحمہ اللہ تعالیٰ نے نوے برس(٩٠) سے زائد عمر پائی ، اُن کی زوجہ اور کثیر اولاد اُن کے سامنے فوت ہوئی اور وہ صبر کا پہاڑ بنے رہے ۔ الله تعالیٰ اُنہیں اجر عظیم بخشے ۔

٨١٨ھ میں بیٹا عبدالعزیز فوت ہوا ۔

سال بعد ٨١٩ھ میں زوجہ ام الخیر بھی وفات پا گئیں ۔

٨٢٢ھ میں طاعون کا مرض پھیلا تو بیٹا عبدالرحمٰن بھی چل بسا ۔

لوگوں نے بھی اُن کے ساتھ کوئی اچھا سلوک نہیں کیا ، ٨٢٨ھ میں اُن پر پتھر پھینکے گئے ۔ اِس سے قبل ایک مرتبہ اُنہیں اتنا تنگ کیا گیا کہ مصر چھوڑنے پر مجبور ہو گئے ۔

پانچ سال بعد ٨٣٣ھ میں پھر سے طاعون کا مرض پھیلا ۔ اُس میں اُن کے تین بیٹے ابراھیم ، علی ، احمد اور ایک بیٹی فاطمہ رفیق الاعلیٰ سے جا ملے ۔

ایک بیٹی زینب کا ذکر بھی ملتا ہے جو ٨٤٩ھ میں فوت ہوئیں اور اپنے والد کے مدرسے ہی میں دفن کی گئیں ، رضی الله تعالیٰ عنھم اجمعین ۔

اِس کے بعد امام بدرالدین عینی رحمہ اللہ تعالیٰ کچھ سال ہی زندہ رہے ، وہ عرصہ بھی خاصا تنگدستی میں گزرا حتیٰ کہ معاملہ یہاں تک پہنچا کہ گزر بسر کیلئے اپنی کتابیں اور گھر کی اشیاء بیچتے رہے ۔

( بدرالدین عینی واثرہ فى علم الحدیث ، شیخ صالح یوسف معتوق )