ایاک نعبد و ایاک نستعین: اسلافی تفسیر، جدید تعبیرات، اور علمی تنقیدی جائزہ

[قارئین سے معذرت کے ساتھ: آج کا مضمون ذرا طویل ہو گا ، کیونکہ معاملہ بہت اہم ہے]

قرآن فہمی کا پہلا دروازہ کون سا ہے؟

قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی آخری کتاب، سرچشمۂ ہدایت، اور ابدی دستور ہے۔ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ قرآن کو سمجھنے کے درجات ہیں۔ ایک درجہ وہ ہے جس میں عام مسلمان نصیحت، تقویٰ، آخرت کی یاد، اخلاق، صبر، شکر، عبادت، توکل، خوفِ خدا، محبتِ رسول ﷺ اور تزکیۂ نفس کے مضامین سمجھ لیتا ہے۔ یہ قرآن کی عمومی برکت ہے اور ہر مومن اس سے حصہ پاتا ہے۔

لیکن دوسرا درجہ وہ ہے جس میں آیات سے عقائد، احکام، فقہی مسائل، اصولِ قانون، تجارت، وراثت، سیاست، حدود، عبادات کی جزئیات، ناسخ و منسوخ، عام و خاص، مطلق و مقید، مجمل و مبین، اور اختلافی مسائل اخذ کیے جاتے ہیں۔ یہ مقام تخصص کا ہے، اور یہاں ہر شخص کا داخلہ نہیں۔

اسی لیے امت نے ابتدا ہی سے مفسرین، فقہاء، محدثین اور اصولیین پیدا کیے، جنہوں نے عمریں صرف کر دیں۔ اگر صرف اردو یا کسی بھی زبان کا ترجمہ پڑھ کر قرآن فہمی مکمل ہو سکتی ہوتی، تو تاریخِ اسلام میں ہزاروں تفاسیر کیوں لکھی جاتیں؟ علماء کے اندازوں کے مطابق عالمِ اسلام میں قرآن  مجید کی 2000 تا 3000 تفسیری تصانیف لکھی جا چکی ہیں۔ اگر ہر بندہ قرآن مجید کو کاملًا خو سمجھ سکتا ہوتا تو اتنی تفاسیر کبھی نہ لکھی جاتیں۔۔

من مانے قرآنی و حدیثی فہم سے فرقوں کی تشکیل:

جب بھی کوئی شخص قرآن مجید پڑھے گا یا احادیث کا مطالعہ کرے گا تو دو صورتیں ہیں۔۔ یا تو اس کا قرآن و حدیث کا مطالعہ کامل ہو گا یا جزوی۔ اور 99% سے زیادہ کا مطالعہ جزوی ہی ہوتا ہے۔  اب مطالعہ کامل ہو یا جزوی اس سے ایک مفہوم سمجھ میں آئے گا۔۔ مسئلہ سارا اس مفہوم کا ہے کہ جو مفہوم کسی کے ذہن میں آیا اس کی پرکھ کیسے ہو گی کہ یہ درست ہے یا غلط؟  جتنا وسیع مطالعہ ہو گا اتنا ہی فہم وسیع ہو گا اور جتنا جزوی مطالعہ ہو گا اتنا ہی فہم ناقص ہو گا۔۔۔  اس فہم کی درستی یا نادرستی پرکھنے کا فقط ایک پیمانہ ہے: صراط الذین انعمت علیھم ۔۔  کہ اہل انعام کی کثرت کس فہم پر کاربند ہے۔ کیا میرے یا کسی اور کے ذہن میں آیا ہوا فہم صحابہ، تابعین، تبع تابعین، محدثین، مفسرین، صلحاء، اتقیاء، اولیاء، علماء کی اکثریت کے فہم کے مطابق ہے یا اس سے ہٹا ہوا ہے۔ ۔ اس لئے اصل اہل علم صرف قرآنی آیات و احادیث پیش نہیں کیا کرتے بلکہ ان سے جو نتائج اخذ کرتے ہیں اس پر 1400 سالہ علمی تاریخ سے تائیدی آراء بھی پیش کرتے ہیں۔۔ اس طرح امت کی اکثریت کا فہم آگے منتقل ہوتا رہتا ہے۔۔ تاریخ اسلام میں جتنے بھی فرقے پیدا ہوئے مثلًا خوارج، معتزلہ، قدریہ، جبریہ، جہمیہ، مجسمہ، باطنیہ، کرامیہ، یہ سب کے سب قرآن و حدیث کے ناقص فہم سے ہی پیدا ہوئے۔ ان سب نے کہا کہ ہمارا فہمِ قرآن و حدیث ہی درست ہے اور امت کی اکثریت کا فہم ناقص و گمراہ کن ہے۔ یہ سب امت کی اکثریت کو گمراہ کہتے رہے اور اپنے فہمِ قرآن و حدیث کو حتمی قرار دیتے رہے۔ یاد رہکھیے!  امت کی اکثریت فرقہ نہیں ہوتی، اکثریت جماعت ہوتی ہے اور اسلام کی پہچان وہی ہوا کرتی ہے، فرقہ اکثریت سے قرآن و حدیث کے فہم کی بنیاد پر جدائی اختیار کرنے والا اقلیتی گروہ ہوتا ہے۔ فرقہ پرستی کا سبب بھی یہ جدائی اختیار کرنے والے اقلیتی گروہ ہوتے ہیں۔۔ مگر دورِ حاضر کا طرفہ تماشا یہ بھی ہے کہ جو خود فرقہ ہیں اور روزانہ امت کی اکثریت کو گمراہ قرار دے کر فرقہ پرستی کا جہنم دھکائے رکھنے کا سامان کیے رہتے ہیں وہ بھی شور مچاتے ہیں کہ فرقہ پرستی سے باز آ جاؤ اور فرقوں سے باہر نکل آؤ۔ یہ لوگ امت کی اکثریت کو بھی فرقہ قرار دینے کی مذموم کوشش کرتے نظر آتے ہیں۔ ان کی ہر تحریر فرقہ پرستی پر مشتمل ہوتی ہے مگر فرقہ پرستی ختم کرنے کا نعرہ لگانا بھی ان کے فیشن میں داخل ہے۔۔ بالکل اس آیت مبارکہ کی طرح۔۔۔
و اذا قیل لھم لا تفسدوا فی الارض، قالوا انما نحن مصلحون۔۔
مگر تاریخ یہ بتاتی ہے کہ ایسے نئے فرقے سو ڈیڑھ سو سال شور مچا مچا کر ختم ہو جاتے رہے ہیں اور اکثریت کا فہم اسی طرح امت کی اکثریت کو آگے منتقل ہوتا رہتا ہے۔۔

مفسر کون ہوتا ہے؟

مفسر وہ ہوتا ہے جو محض زبان دان نہیں بلکہ علوم کے ایک سمندر کا حامل ہوتا ہے۔ اس کے لیے عربی لغت، صرف و نحو، بلاغت، علم المعانی، بیان، بدیع، اسبابِ نزول، ناسخ و منسوخ، حدیث، آثارِ صحابہ، اقوالِ تابعین، فقہ، اصولِ فقہ، اختلافاتِ ائمہ، انسابِ عرب، تاریخِ امم، قراءات اور اسالیبِ عرب سے واقفیت درکار ہوتی ہے۔

لہٰذا جب کوئی شخص مشکل آیات پر اپنی رائے کو حرفِ آخر سمجھنے لگے اور اسلاف کے سمندر کو چھوڑ کر اپنے قطرے پر ناز کرے، تو سمجھ لیجیے کہ مسئلہ علم کا نہیں، غرور کا ہے۔

خود ساختہ تفسیر کا فتنہ:

موجودہ دور کا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ بعض لوگ نہ اصولِ تفسیر جانتے ہیں، نہ عربی کے دقائق، نہ حدیث کا فن، نہ فقہ کی روایت؛ مگر ہر مسئلے میں خود قرآن و حدیث سے فیصلہ صادر کرنا چاہتے ہیں۔ پھر اپنے فہم کو ایسا قطعی سمجھتے ہیں جیسے وحی نازل ہوئی ہو۔

یہی طرزِ فکر تاریخ میں کئی فرقوں کو لے ڈوبا۔ جب آدمی امت کے علمی تسلسل سے کٹ جاتا ہے تو پھر ہر آیت اپنے مطلب کی نظر آنے لگتی ہے۔ علم کا راستہ عاجزی سے گزرتا ہے، تکبر سے نہیں۔

آیتِ کریمہ: “إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ”

سورۃ الفاتحہ کی یہ آیت قرآن کے عظیم ترین مضامین میں سے ہے:
إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ
ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں۔

یہاں دو مستقل جملے ہیں:

اول: عبادت کا اخلاص۔
دوم: استعانت کا اخلاص۔

اسلاف مفسرین نے ان دونوں کو الگ الگ معنی میں لیا ہے۔

عبادت کو عبادت ہی رکھا، اور استعانت کو مدد طلب کرنا، توفیق طلب کرنا، اعانت طلب کرنا قرار دیا۔ یہ کہیں نہیں کہا کہ “استعانت” خود “عبادت” کا ہم معنی لفظ ہے۔

اسلافی تفسیر: ابتدائی مفسرین کی روشنی میں

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما (وفات: 68ھ)

إِيَّاكَ نَعْبُدُ أَيْ نُوَحِّدُكَ وَنُطِيعُكَ، وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ عَلَى طَاعَتِكَ وَأُمُورِنَا
ترجمہ: ہم تیری توحید مانتے ہیں اور تیری اطاعت کرتے ہیں، اور تیری اطاعت اور اپنے معاملات میں تجھ سے مدد چاہتے ہیں۔

مجاہد بن جبر (وفات: 104ھ)

إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ عَلَى أَمْرِنَا كُلِّهِ
ترجمہ: ہم تیری عبادت کرتے ہیں اور اپنے تمام معاملات میں تجھ سے مدد چاہتے ہیں۔

امام ابن جریر طبری (وفات: 310ھ)

نَخُصُّكَ بِالْعِبَادَةِ دُونَ مَا سِوَاكَ، وَنَسْتَعِينُكَ عَلَى عِبَادَتِكَ وَعَلَى جَمِيعِ أُمُورِنَا
ترجمہ: ہم تجھے چھوڑ کر کسی اور کو عبادت میں شریک نہیں کرتے، اور تیری عبادت پر اور اپنے تمام امور میں تجھ سے مدد چاہتے ہیں۔

امام بغوی (وفات: 516ھ)

نَعْبُدُكَ وَحْدَكَ، وَنَسْتَعِينُكَ عَلَى طَاعَتِكَ
ترجمہ: ہم صرف تیری عبادت کرتے ہیں اور تیری اطاعت پر تجھ سے مدد چاہتے ہیں۔

اب تک کا نتیجہ:

پہلی صدی سے پانچویں صدی تک جتنے آثار سامنے آتے ہیں، ان میں ایک مشترک نکتہ یہ ہے کہ:

“إِيَّاكَ نَعْبُدُ” = عبادت میں اخلاص
“إِيَّاكَ نَسْتَعِينُ” = اللہ سے مدد طلب کرنا، خاص طور پر عبادت و اطاعت میں، اور بہت سے مفسرین کے نزدیک تمام امور میں۔

یہاں کہیں وہ پیچیدہ تقسیمات نظر نہیں آتیں جو بعد کے زمانوں میں بعض حلقوں نے ایجاد کیں: زندہ و مردہ، قریب و دور، ماتحت الاسباب و مافوق الاسباب، وغیرہ۔ آیت اپنی اصل میں ان بحثوں سے خالی ہے۔

ایک اہم علمی نکتہ:

اگر کسی آیت سے کوئی ایسا معنی اخذ کیا جائے جو صحابہ، تابعین، تبع تابعین، ائمہ تفسیر، فقہاء اور امت کے مسلسل علمی ذخیرے میں نمایاں نہ ہو، تو کم از کم اتنا سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ چودہ سو سال تک یہ معنی کہاں سویا ہوا تھا؟
کیا یہ آیت پہلی بار ہمارے زمانے میں نازل ہوئی ہے؟

متاخرین مفسرین بھی اسی راہ پر:

جب ہم پانچویں صدی کے بعد آتے ہیں تو تفسیر میں فلسفیانہ، کلامی، فقہی اور ادبی مباحث بڑھ جاتے ہیں، مگر اس آیت کے بنیادی معنی نہیں بدلتے۔ بعد کے مفسرین بھی اسی راہ پر چلتے ہیں کہ عبادت الگ معنی رکھتی ہے اور استعانت الگ۔

امام زمخشری (وفات: 538ھ)

إِيَّاكَ نَعْبُدُ أَيْ نُخْلِصُ لَكَ الْعِبَادَةَ، وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ عَلَى الطَّاعَةِ وَفِي جَمِيعِ الْأُمُورِ
ترجمہ: ہم تیرے لیے عبادت خالص کرتے ہیں، اور تیری اطاعت میں اور تمام امور میں تجھ سے مدد چاہتے ہیں۔

امام فخر الدین رازی (وفات: 606ھ)

الْعِبَادَةُ غَايَةُ التَّعْظِيمِ، وَالِاسْتِعَانَةُ طَلَبُ الْإِعَانَةِ فِي الدِّينِ وَالدُّنْيَا
ترجمہ: عبادت انتہائی تعظیم ہے، اور استعانت دین و دنیا میں مدد طلب کرنا ہے۔

امام قرطبی (وفات: 671ھ)

نَسْتَعِينُكَ عَلَى طَاعَتِكَ وَعَلَى كُلِّ مَا يَحْتَاجُ إِلَيْهِ الْعَبْدُ
ترجمہ: ہم تیری اطاعت پر اور ہر اس چیز میں جس کی بندے کو ضرورت ہو، تجھ سے مدد چاہتے ہیں۔

امام بیضاوی (وفات: 685ھ)

نَخْلُصُ لَكَ الْعِبَادَةَ وَنَسْتَعِينُكَ عَلَى أُمُورِ الدِّينِ وَالدُّنْيَا
ترجمہ: ہم تیرے لیے عبادت خالص کرتے ہیں اور دین و دنیا کے امور میں تجھ سے مدد چاہتے ہیں۔

امام نسفی (وفات: 710ھ)

نَسْتَعِينُكَ عَلَى الْعِبَادَةِ وَالطَّاعَةِ وَسَائِرِ الْأُمُورِ
ترجمہ: ہم عبادت، اطاعت اور دیگر تمام امور میں تجھ سے مدد چاہتے ہیں۔

امام ابن کثیر (وفات: 774ھ)

نَعْبُدُكَ وَحْدَكَ وَنَسْتَعِينُكَ عَلَى جَمِيعِ أُمُورِنَا
ترجمہ: ہم صرف تیری عبادت کرتے ہیں اور اپنے تمام امور میں تجھ سے مدد چاہتے ہیں۔

امام جلال الدین محلی (وفات: 864ھ)

وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ عَلَى طَاعَتِكَ
ترجمہ: ہم تیری اطاعت پر تجھ سے مدد چاہتے ہیں۔

امام جلال الدین سیوطی (وفات: 911ھ)

نَسْتَعِينُكَ عَلَى عِبَادَتِكَ
ترجمہ: ہم تیری عبادت پر تجھ سے مدد چاہتے ہیں۔

امام خازن (وفات: 741ھ)

نَسْتَعِينُكَ عَلَى جَمِيعِ أُمُورِنَا فِي الدِّينِ وَالدُّنْيَا
ترجمہ: ہم اپنے تمام دینی و دنیاوی معاملات میں تجھ سے مدد چاہتے ہیں۔

امام آلوسی (وفات: 1270ھ)

الِاسْتِعَانَةُ عَامَّةٌ فِي كُلِّ مَا يَحْتَاجُ إِلَيْهِ الْعَبْدُ، وَأَعْظَمُهَا الْإِعَانَةُ عَلَى الْعِبَادَةِ
ترجمہ: استعانت ہر اس چیز میں عام ہے جس کی بندے کو ضرورت ہو، اور اس کا سب سے اعلیٰ درجہ عبادت پر مدد ہے۔

اب سوال یہ ہے: پھر نیا مفہوم کہاں سے آیا؟
یہاں غور کیجیے۔ چودہ صدیوں کے مفسرین آیت کو اس انداز میں سمجھتے رہے کہ:

ہم تیری عبادت کرتے ہیں، اور عبادت سمیت تمام امور میں تیری مدد چاہتے ہیں۔
اسلاف مفسرین نے کثرت سے آیت کی تفسیر میں استعانت سے مراد عبادت میں استعانت یا عمومی استعانت مراد لی ہے۔ کہ بندہ اللہ سے کہتا کہ مولا میں صرف تیری ہی عبادت کرتا ہوں اور اس عبادت کیلیے مدد بھی تجھ سے ہی مانگتا ہوں کہ تو مجھے اپنی عبادت میں خضوع و خشوع، ہمیشگی اور کثرت کی توفیق عطا فرما ۔ یہ نہ ہو کہ میں تیری مدد کے بغیر تیری عبادت کی توفیق سے محروم ہو جاؤں ، کیونکہ جس طرح عبادت صرف اور صرف اللہ تعالی کی ہے اسی طرح عبادت میں استعانت بھی صرف اور صرف اللہ تعالی ہے اور اس استعانت میں اور کسی کی طرف رجوع بھی نہیں۔۔ جبکہ زندگی کے باقی معاملات میں مخلوق کی استعانت کی ضرورت بھی ہر ہر لمحہ پڑتی رہتی ہے ۔۔

پھر ایک زمانہ آیا جب بعض فرقہ پرور ذہنوں نے اسلاف کی تفسیر چھوڑ کر اپنی من مانی تفسیر شروع کر دی۔ تفسیر میں ڈنڈیاں مارنی شروع کردیں ۔۔

“ایاک نعبد و ایاک نستعین” کی تفسیر میں جو ڈنڈیاں ماری گئیں وہ درج ذیل ہیں:

* عبادت و استعانت کو ایک چیز قرار دے دیا گیا جبکہ اسلاف نے ان کو الگ الگ رکھا تھا

* اگلے Step میں استعانت کو عبادت قرار دے دیا گیا اور اللہ کے علاوہ کسی سے کسی بھی کسی طرح کی استعانت و استغاثہ کو ممنوع قرار دے دیا گیا

* اگلے قدم پر استعانت کی خود سے اقسام گھڑ لی گئیں۔ زندہ سے استعانت و مدد کو عبادت کے زمرہ سے نکال کر جائز قرار دے لیا گیا جبکہ فوت شدہ سے بطور وسیلہ امداد و استعانت و استغاثہ کو خود ہی اپنے ذہنی فیصلہ سے شاملِ عبادت رکھ لیا گیا اور پھر اسے  شرک بھی قرار دے دیا گیا. وہ بھی اسلاف کے بغیر کسی قول کے

* جب قرآن و حدیث کے دلائل اس غلط فہم کے خلاف نظر آئے تو استعانت کی ایک اور تقسیم ماتحت الاسباب اور مافوق الاسباب کی خود بخود گھڑ کی گئی ۔۔ اور خود ہی ماتحت الاسباب امداد و استعانت طلبی کو جائز اور مافوق الاسباب استعانت و امداد طلبی کو شرک قرار دے دیا گیا۔  وہ بھی بغیر اسلاف کے کس قول کے۔

* ایک اور تقسیم فوت شدہ کو قریب سے پکارنے اور دور سے پکارنے کی بنا لی گئی ۔۔ اور قریب جا کر فوت شدہ کو سلام کرنا، پکارنا جائز قرار دے دیا گیا اور دور سے ناجائز و شرک۔
اور یہ بھی بغیر اسلاف کے کس قول کے۔

گویا آیت ایک تھی، تقسیمات پانچ ہو گئیں۔ نص ایک تھی، خانوں کی تعداد بڑھتی گئی۔ صحابہ کو یہ ابواب نہ سوجھے، تابعین کو نہ سوجھے، مفسرین کو نہ سوجھے، مگر بعد والوں کو اچانک پورا نقشہ مل گیا!

قرآنی آیت کی غلط تشریحات کی تاریخی مثالیں:
(خوارج و معتزلہ کا قرآنی آیات کی غلط تفسیر سے اکثریت کو کافر و گمراہ قرار دینا اور اہلِ علم کا رد)

تاریخِ اسلام اس حقیقت کی گواہ ہے کہ جب بھی قرآنِ مجید کی آیات کو سیاق و سباق، اسلاف کے فہم اور مجموعی نصوص سے ہٹا کر محض اپنی رائے کے مطابق لیا گیا تو سنگین فتنوں نے جنم لیا۔ سب سے پہلی نمایاں مثال خوارج کی ہے، جنہوں نے آیت “إِنِ الْحُكْمُ إِلَّا لِلَّهِ” [حکم ( یعنی فیصلہ/اقتدارِ حاکمیت) صرف اللہ کے لیے ہے] (سورۃ یوسف: 40) کو بنیاد بنا کر تحکیمِ صفین کے بعد حضرت علی اور صحابہ کی اکثریت پر (نعوذ باللہ) کفر کا فتویٰ لگا دیا۔ حالانکہ یہ آیت توحیدِ حاکمیت کے بیان میں نازل ہوئی تھی، نہ کہ نزاعات کے حل میں انسانی ثالثی کی مطلق نفی کے لیے۔ اس پر حضرت علیؓ نے ان کے فہم کی تردید کرتے ہوئے فرمایا: “كلمةُ حقٍّ أُريدَ بها باطلٌ” (یہ حق بات ہے مگر اس سے باطل مراد لیا جا رہا ہے)۔ اس ایک غلط تشریح نے امت میں شدید خونریزی کو جنم دیا؛ نہروان سمیت متعدد معرکوں میں ہزاروں مسلمان قتل ہوئے اور داخلی انتشار نے امت کی وحدت کو گہرا نقصان پہنچایا۔ اسی طرح معتزلہ نے آیات “اللَّهُ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ” [اللہ ہر شے کا خالق ہے] (الزمر: 62) اور “إِنَّا جَعَلْنَاهُ قُرْآنًا عَرَبِيًّا” [ہم قرآن کو عربی بنایا] (الزخرف: 3) سے استدلال کرتے ہوئے قرآنِ مجید کو “شے” یعنی مخلوق قرار دیا اور لفظ “جعل” سے اللہ کا اسے بنانا مراد لیا اور اپنے اس نظریے کو عقیدۂ لازم بنا کر مخالفین، یعنی اہلِ سنت کی اکثریت کو گمراہ ٹھہرایا۔ اہلِ علم، بالخصوص امام احمد بن حنبل، نے اس کا رد کرتے ہوئے واضح کیا کہ “کُلُّ شَیء” کا عموم اللہ کی صفات کو شامل نہیں کرتا، اور “جعل” ہمیشہ “خلق” کے معنی میں نہیں آتا بلکہ اظہار و بیان کے معنی میں بھی مستعمل ہے۔ معتزلی فکر کے زیرِ اثر عباسی دور میں “محنۃُ خلقِ القرآن” برپا ہوئی، جس میں تقریباً دو دہائیوں تک علماء کو قید، کوڑوں اور جبر کا سامنا کرنا پڑا اور امت ایک فکری و سیاسی بحران میں مبتلا رہی۔

ان دونوں مثالوں سے واضح ہوتا ہے کہ نصوص کی غلط تعبیر کس طرح “فساد فی الارض” کا سبب بنتی ہے۔ یہی روش دوسرے فرقوں فرقوں۔۔ قدریہ، جبریہ، جہمیہ، حشویہ، کرامیہ اور باطنیہ میں بھی نظر آتی ہے، جنہوں نے قرآن و حدیث کی جزوی یا من مانے فہم کی بنیاد پر امت کی اکثریت سے انحراف کیا اور یوں فکری انتشار کو ہوا دی۔ اس لیے اہلِ علم ہمیشہ اس بات پر زور دیتے رہے ہیں کہ قرآن کا صحیح فہم وہی ہے جو صحابہ، تابعین اور امت کے جمہور کے تسلسل سے منقول ہو، نہ کہ ہر دور کے افراد کی خود ساختہ تعبیرات۔

اصل علمی اشکال:

اگر “استعانت” خود عبادت ہے، تو پھر زندہ سے استعانت کیوں جائز؟ اگر جائز ہے تو ماننا پڑے گا کہ استعانت بذاتہ عبادت نہیں۔ اگر مردہ سے مسئلہ ہے تو پھر بحث “استعانت” کی نہیں، کسی اور باب کی ہے۔ اگر ماتحت الاسباب شرط ہے تو یہ شرط آیت میں کہاں لکھی ہے؟ اگر قرب و بعد معیار ہے تو اس کا ذکر نص میں کہاں ہے؟

یہ سب سوالات بتاتے ہیں کہ آیت کے ظاہر سے زیادہ کچھ بعد میں شامل کیا گیا۔

فقہاء کا اصول: استعانت و استغاثہ بذاتِ خود عبادت نہیں

فقہاء نے ہمیشہ اسباب کے باب کو تسلیم کیا ہے۔ اگر استعانت بذاتہ عبادت ہوتی تو:

استاد سے علم لینا ممنوع ہوتا،
ڈاکٹر سے علاج لینا ممنوع ہوتا،
قاضی سے انصاف مانگنا ممنوع ہوتا،
سپاہی سے حفاظت مانگنا ممنوع ہوتا۔

حالانکہ ایسا نہیں۔

مفسرین کا فوت شدہ کو بھی اسباب میں شمار کرنا:

مفسرین کرام نے اللہ کی مقرب فوت شدہ شخصیات انبیاء، صالحین، فقہاء، اولیاء، صالحین کو بھی اللہ کی مدد و نصرت کے اسباب میں شمار کیا ہے۔ لہذا ماتحت الاسباب والوں کی بھی تسلی ہو جانی چاہیے۔

. امام ابن قدامہ حنبلی رحمہ اللہ (وفات: 620ھ)

وَيَأْتِي قَبْرَ النَّبِيِّ ﷺ فَيَقُولُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَتَوَجَّهُ بِكَ إِلَى رَبِّي

“وہ نبی ﷺ کی قبر پر آ کر کہے: اے اللہ کے رسول! میں آپ کے وسیلہ سے اپنے رب کی طرف متوجہ ہوتا ہوں۔”
[المغنی (3/588)]

امام قرطبی رحمہ اللہ (وفات: 671ھ)

قَالَ عُلَمَاؤُنَا: يُسْتَحَبُّ كَثْرَةُ الدُّعَاءِ عِنْدَ قُبُورِ الصَّالِحِينَ، وَالتَّبَرُّكُ بِهِمْ

“ہمارے علماء نے کہا: صالحین کی قبور کے پاس کثرت سے دعا کرنا اور ان سے برکت حاصل کرنا مستحب ہے۔”
(التذکرة)

. امام ابن کثیر رحمہ اللہ (وفات: 774ھ)
(واقعہ اعرابی):

فَجَاءَ أَعْرَابِيٌّ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي سَمِعْتُ اللَّهَ يَقُولُ… وَقَدْ جِئْتُكَ مُسْتَغْفِرًا لِذَنْبِي، مُسْتَشْفِعًا بِكَ إِلَى رَبِّي
ترجمہ:
“ایک اعرابی آیا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں نے اللہ کا فرمان سنا… اور میں آپ کے پاس آیا ہوں اپنے گناہوں کی مغفرت کے لیے، اور آپ کو اپنے رب کے حضور سفارشی بنا کر۔”
[تفسیر ابن کثیر (تحت آیت: ولو أنهم إذ ظلموا أنفسهم)]

ابن حجر الهيتمي (م 974ھ):

التوسل والاستغاثة بالنبي ﷺ جائزة في حياته وبعد وفاته
ترجمہ:
نبی ﷺ کے ساتھ توسل اور استغاثہ آپ کی زندگی میں بھی جائز ہے اور وفات کے بعد بھی۔
( الجوهر المنظم)

اسلام کی پوری علمی تاریخ میں ایک قول بھی دستیاب نہیں کہ ایاک نعبد و ایاک نستعین میں استعانت کی دو اقسام ہیں۔ ایک زندہ کی استعانت اور ایک فوت شدہ کی استعانت ۔۔ اور یہ کہ زندہ کی استعانت تو جائز اور عین توحید ہے مگر فوت شدہ کی استعانت ناجائز اور عین شرک ہے۔۔

اسلاف نے فوت شدہ انبیاء و صالحین کو بھی اسباب میں سے ایک سبب سمجھا ہے۔ اور یہی حق ہے۔۔ اللہ تعالی نے ہزاروں لاکھوں اسباب و وسائل پیدا فرمائے ہیں جن کے ذریعے وہ اپنی مدد نازل فرماتا ہے۔۔ ان اسباب میں جاندار اور بیجان ہر طرح کے اسباب و وسائل متعین و مقرر کیے ہیں۔ جس طرح زندہ لوگ اللہ کی مدد کے اسباب میں شامل ہیں اسی طرح فوت شدہ انبیاء و صالحین بھی اللہ تعالی کی مدد کے اسباب میں سے ایک تیر بہدف اور اعلی و قوی سبب و وسیلہ ہیں۔ جس طرح زندہ کو اللہ کا بندہ سمجھ کر استعانت و استغاثہ کرنا جائز ہے ، اسی طرح فوت شدہ کو بھی اللہ کا مقبول بندہ سمجھ کر ان سے استعانت و استغاثہ جائز ہے۔۔ اور فوت شدہ سے استعانت و استغاثہ کی ممانعت پر 1400 سالہ علمی تاریخ میں ایک قول بھی دستیاب نہیں ۔ نہ کسی صحابی کا، نہ تابعی کا، نہ مفسر کا، نہ محدث کا، نہ فقیہہ کا، نہ کسی صوفی و عالم کا۔۔ آجکل جو بھی کوشش اس جائز سبب و وسیلہ کو ناجائز اور شرک قرار دینے پر صرف ہو رہی ہے وہ لوگوں کی اپنی افتادِ طبع کی تفسیریں اور اختراعات و بدعات ہیں۔۔ فوت شدہ کی استعانت کو شرک و بدعت قرار دینے کا سارے کا سارا کام آیات سے غلط استنباطات پر مشتمل کے جو سارے کا سارا derived knowledge (یعنی اپنا اخذ کردہ) کردہ ہے، اس پر کسی کا ایک بھی قول کی تاریخی شہادت کے طور پر موجود نہیں ہے۔۔

فقہی خلاصہ:

مخلوق سے مدد اگر سبب کے درجے میں ہو، مستقل بالذات سمجھ کر نہ ہو، تو وہ عبادت نہیں۔ عبادت تب بنتی ہے جب الوہی صفات منسوب کی جائیں۔

اصل اسلافی تفسیر کیا ہے؟

تمام پیش کردہ اقوال کا خلاصہ یہ ہے کہ:

“إِيَّاكَ نَعْبُدُ” یعنی عبادت صرف تیری۔
“وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ” یعنی مدد، توفیق، اعانت، سہارا تجھ سے؛ خاص طور پر عبادت میں، اور بہت سے مفسرین کے نزدیک تمام امور میں۔
یہی اسلافی تفسیر ہے۔ نہ زندہ و مردہ کی تقسیم، نہ دور و قریب کی، نہ ماتحت و مافوق الاسباب کی فہرستیں۔

ایک آخری سوال:

اگر کسی معنی کو ثابت کرنے کے لیے آیت سے زیادہ تشریح خود کرنی پڑے، اور ہر اعتراض پر ایک نئی تقسیم گھڑنی پڑے، تو مسئلہ آیت میں نہیں، تعبیر میں ہوتا ہے۔

حتمی نتیجہ:

دیکھ لیجیے کہ اس آیت کے مفہوم میں کیسے آہستہ آہستہ نئی پرتیں چڑھائی گئیں، پھر انہی پرتوں کو اصل دین بنا کر امت کی اکثریت پر شرک و بدعت کے فتوے برسائے گئے۔ حالانکہ نہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے یہ معنی بیان کیا، نہ مجاہد نے، نہ طبری نے، نہ رازی نے، نہ قرطبی نے، نہ ابن کثیر نے، نہ آلوسی نے۔

اسلاف کے نزدیک آیت کا پیغام سادہ، پاکیزہ اور روح پرور تھا:

اے رب! ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں، اور تیری عبادت میں ثابت قدمی، خشوع، اخلاص، دوام اور تمام حاجات میں تیری مدد چاہتے ہیں۔

یہ آیت بندے کو اللہ سے جوڑتی ہے، امت کو ایک کرتی ہے، اور دل میں عاجزی پیدا کرتی ہے؛ نہ کہ خانوں میں بانٹ کر ایک دوسرے پر فتوے چلانے کا سامان فراہم کرتی ہے۔

[نوٹ: ہماری اگلی پوسٹ قبل از ولادت ذواتِ انبیاء کے وسیلہ ہونے، بعد از وفات انبیاء و صلحاء و شہداء اور کفار کے زندہ ہونے،  انہیں پکارنے اور انبیاء و صالحین کے استعانت پر موثر ہونے کے متعلق قرآن مجید سے دلائل پر مشتمل ہو گی۔ ان شاء اللہ۔۔]

تحریر و تحقیق:
ڈاکٹر سید محمد ہارون بخاری
(یونیورسٹی آف گجرات)