مونچھوں کا شدید ترین دشمن: جھوٹا راوی

حدیث گھڑنے والے لوگوں میں بڑے عجیب و غریب لوگ بھی پائے جاتے ہیں، دورانِ مطالعہ ایک روایت نظر سے گزری اور عقل حیرانی میں مبتلا ہوگئی کہ آخر کسی کو ایسی دشمنی اور وہ بھی مونچھوں سے آخر کیوں ہوگی؟😄

امام جوزقانی رحمہ اللہ اپنی کتاب “الأباطيل والمناكير والصحاح والمشاهير” میں روایت نقل کرتے ہیں:
ترجمہ:
ہمیں عبد الواحد بن محمد بن جابر واعظ نے خبر دی، انہوں نے کہا: ہمیں ابو الفضل عبد الوہاب بن محمد بن الفضل بن علویہ بن مصعب نے خبر دی، جو ہمارے پاس ہمدان آئے تھے، انہوں نے کہا: ہمیں احمد بن جعفر نے اپنے دادا سے روایت بیان کی، انہوں نے محمد بن عبد الرحمن القطان سے، انہوں نے ابو بکر الجوہری سے، انہوں نے محمد بن ابراہیم بن عامر سے، انہوں نے محمد بن ابراہیم العیارانی سے، انہوں نے حسن بن علی سے، انہوں نے بشر بن السری سے، انہوں نے ہیثم سے، انہوں نے حماد بن زید سے، انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

“جو شخص دنیا میں اپنی مونچھیں لمبی رکھے گا، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی ندامت کو طویل فرما دے گا، اور اس کی مونچھ کے ہر بال پر ستر شیطان مسلط فرما دے گا۔ اگر وہ اسی حالت میں مر گیا تو اس کی دعا قبول نہ ہوگی، اس پر رحمت نازل نہ ہوگی، اور قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کی طرف نظرِ رحمت نہ فرمائے گا۔

اور جو شخص اپنی مونچھیں لمبی رکھتا ہے، فرشتے اسے ‘مخبی’ (یعنی چھپانے والا/ناپسندیدہ شخص) کہتے ہیں۔ اگر وہ مر جائے تو نافرمان مرے گا، اور قبر سے اس حال میں اٹھایا جائے گا کہ اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان لکھا ہوگا: ‘اللہ کی رحمت سے ناامید’۔

اور مونچھیں لمبی وہی رکھتا ہے جو فرشتوں اور نبیوں کی زبان پر ملعون ہو۔ وہ زمین پر چلتا ہے جبکہ زمین اس کے نیچے سے اس پر لعنت کرتی رہتی ہے۔

اور جو شخص اپنی مونچھیں لمبی رکھے، اسے میری شفاعت نصیب نہ ہوگی اور نہ وہ میرے حوض سے پانی پی سکے گا۔ اللہ تعالیٰ اس کی قبر کو تنگ فرما دے گا، اور منکر نکیر کو اس پر سخت کر دے گا، اس کی قبر کو تاریک بنا دے گا، اور اس پر ملک الموت علیہ السلام اس حال میں آئیں گے کہ وہ اس پر غضب ناک ہوں گے۔

اور جو شخص اپنی مونچھیں کتروائے، اللہ تعالیٰ اسے ہر بال کے بدلے میں ہزار شہر عطا فرمائے گا جو موتی اور یاقوت کے ہوں گے۔ ہر شہر میں ہزار محل ہوں گے، ہر محل میں ہزار رحمت کے گھر ہوں گے، ہر گھر میں ایک ہزار ہزار (دس لاکھ) مشک کے کمرے ہوں گے، ہر کمرے میں ہزار تخت ہوں گے، اور ہر تخت پر حورِ عین میں سے ایک لڑکی ہوگی، جس کے سر پر نور کا تاج ہوگا جو موتیوں اور یاقوتوں سے مزین ہوگا۔

وہ ہر روز ایک ہزار مرتبہ پکارے گی: ‘تم ہی میری طلب ہو، میری آنکھوں کی ٹھنڈک ہو، اور تم ہی میرے ساتھی ہو۔’

پھر اللہ تعالیٰ اپنے عرش کے اوپر سے ہر روز اس بندے پر ایک ہزار مرتبہ نظرِ رحمت فرمائے گا، اور اپنے فرشتوں سے فرمائے گا: ‘کیا تم میرے اس بندے کو نہیں دیکھتے؟ اس نے میرے خوف سے اپنی مونچھیں کتروائیں۔ میری عزت اور جلال کی قسم! میں ضرور اس پر اپنی کرامت کا نور ڈالوں گا، اسے لوگوں کے درمیان زینت دوں گا، اور ضرور اسے اپنی جنت میں داخل کروں گا۔’”

جلد2 صفحہ 307۔

اس روایت کو نقل کرنے کے بعد امام جوزقانی فرماتے ہیں:
هَذَا حَدِيثٌ بَاطِلٌ مَوْضُوعٌ، فِي إِسْنَادِهِ مِنَ الْمَجْهُولِينَ غَيْرُ وَاحِدٍ، وَحَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ شَيْئًا وَلَمْ يَرَهُ۔

اس پر امام ابن جوزی تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
“یہ روایت انتہائی بدترین اور نہایت قبیح گھڑی ہوئی روایتوں میں سے ہے۔

اگر اس روایت کو گھڑنے والے کی حماقت نہ ہوتی، اور وہ علم کی خوشبو تک سونگھ چکا ہوتا، تو اسے معلوم ہوتا کہ زیادہ سے زیادہ مونچھیں بڑھانا ایک سنت کے خلاف عمل ہے، اور اس پر ایسی سخت وعید درست نہیں ہو سکتی۔

اور اس روایت کا الزام ابن جابان پر ہے، اور اس نے سند میں بھی خلط ملط کیا ہے جیسا کہ تم دیکھ چکے ہو، اور اس میں کئی مجہول راوی لے آیا ہے۔”
📒الموضوعات لابن الجوزي ٣/‏٥٢

امام سیوطی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
مَوْضُوع، فِيهِ مَجَاهِيل والمُتَهم بِهِ جَابَان.
اللآلئ المصنوعة في الأحاديث الموضوعة ٢/‏٢٢٦۔

✍️:میر احمد ملک عطاری