اعتراض:
مفتی ثمر عباس حفظہ اللّٰہ نے ایک حدیث بیان کی جو کہ حدیث نہیں ہے اور مفتی صاحب نے معاذ اللہ حضور ﷺ کی توہین کی ہے اور مفتی صاحب کو اس توہین کی سزا دینی چاہیے ؟

جواب 1:
میرے آقا اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں جب عالم دین اسلام کے متعلق بات درست کہے تو عوام کو کوئی حق نہیں کہ وہ عالمِ دین پر اعتراض کرے
مفتی صاحب نے حدیث بیان کرتے وقت بھی مشکوٰۃ شریف کا حوالہ دیا پھر اعتراض کرنا لغو ہے
جواب2:
معترِض بھی مسلم شریف کا حوالہ بغیر خوف کے دیتا ہے مگر اب حدیث تو مسلم شریف میں موجود ہے اب اعتراض کرنا لغو ہے
جواب3:
معترِض نے ایک حدیث مبارکہ کی بطورِ اعتراض نفی کی ہے اب معترض کو خود توبہ کرنی چاہیے۔
جواب4:
معترِض کو بطور حوالہ حدیث دیکھانے کیلئے 8 کتب سے بطور حوالہ حدیث بیان کی گئی ہے۔

حدثني محمد بن عبد الله بن نمير ، حدثنا ابي . ح وحدثنا ابو بكر بن ابي شيبة ، حدثنا ابو اسامة ، قالا: حدثنا عبيد الله . ح وحدثنا محمد بن المثنى واللفظ له، اخبرنا عبد الوهاب يعني الثقفي ، حدثنا عبيد الله ، عن نافع ، عن ابن عمر ، عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال: ” مثل المنافق كمثل الشاة العائرة بين الغنمين تعير إلى هذه مرة وإلى هذه مرة “،
ترجمہ:
عبیداللہ نے نافع سے، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”منافق کی مثال اس بکری کی طرح ہے جو بکریوں کے دو ریوڑوں کے درمیان ممیاتی ہوئی بھاگتی پھرتی ہے کبھی بھاگ کر اس ریوڑ میں جاتی ہے اور کبھی اس طرف جاتی ہے (کسی بھی ایک ریوڑ کا حصہ نہیں ہوتی)۔“

تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

*حدیث کی تخریج*
1:صحیح مسلم 7044
2:، مشکوٰۃ المصابیح 57
3: مسند شھاب 1374
4: نسائی شریف 5040
5: ابن ماجہ فی سننہ 4
6:حمیدی فی مسندہ 705
7:طبرانی فی الصغیر 585
8: مسند احمد 4966
جواب5:
کبھی بھی کسی عالم دین پر اعتراض کرنے سے قبل مکمل گہری نظر سے دیکھے پھر اعتراض کرے جو کہ معترِض نے نہیں کی اور کسی بھی سنی عالم دین پر اعتراض کرنے سے قبل علم ہونا چاہیے جو کہ معترِض کے پاس نہیں تھا

✍️ `عبداللّٰه افضل`