بیرونِ ملک قربانی کا اہم مسئلہ
بیرونِ ملک قربانی کے حوالے سے گزشتہ دو تین دن سے ایک مسئلہ نہایت کثرت سے دریافت کیا جا رہا تھا۔ سوال یہ تھا کہ بیرونِ ملک مقیم مسلمان عموماً قربانی کے لیے اپنے عزیز و اقارب یا رفاہی اداروں کو پاکستان وغیرہ میں وکیل بناتے ہیں، اب چونکہ مختلف ممالک کے اوقات اور ایام میں فرق ہوتا ہے، تو کیا یہاں پاکستان میں اُن کی طرف سے اُس وقت قربانی کی جا سکتی ہے جب وہاں ابھی عید کا وقت شروع ہی نہ ہوا ہو؟
اس پر افادۂ عام کے لیے مختصراً عرض کیا تھا کہ:
“بیرونِ ملک مقیم افراد کی طرف سے پاکستان میں نمازِ عید کے بعد قربانی کی جا سکتی ہے، اگرچہ وہاں ابھی نمازِ عید نہ ہوئی ہو، البتہ اُس ملک میں صبحِ صادق کا طلوع یعنی فجر کا وقت ہو جانا ضروری ہے۔”
اس کے بعد متعدد اہلِ علم نے فیس بک، میسنجر اور واٹس ایپ وغیرہ پر رابطہ فرمایا اور اس جانب توجہ دلائی کہ فقہائے کرام نے فقہی کتب میں یہ تصریح فرمائی ہے کہ قربانی میں “محلِّ ذبح” یعنی جہاں قربانی کی جا رہی ہے اُس کا اعتبار ہوگا، جبکہ “محلِّ مذبوح عنہ” یعنی جس کی طرف سے قربانی کی جا رہی ہے اُس کا اعتبار نہیں ہوگا۔ پھر اس عبارت کا صحیح مفہوم کیا ہے؟
کافی غور و فکر، متعلقہ جزئیات کے مطالعہ اور فقہی عبارات کی ورق گردانی کے بعد اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ بیرونِ ملک قربانی کے اس جدید مسئلے کے متعلق بعینہٖ کوئی صریح جزئیہ قدیم فقہی کتب میں موجود نہیں۔ کیونکہ فقہائے کرام نے جن صورتوں کو بیان فرمایا ہے، اُن میں اصل گفتگو “وقتِ قربانی” اور “نمازِ عید” کی شرط کے اعتبار سے شہر و دیہات یا دو مختلف شہروں کے مسائل کے بارے میں ہے، اور اُن تمام صورتوں میں “محلِّ مذبوح عنہ” میں سببِ قربانی یعنی وقت پایا جا رہا ہوتا ہے۔ البتہ تلاشِ بسیار کے باوجود کوئی ایسا صریح جزئیہ نظر سے نہیں گزرا جس میں یہ تصریح ہو کہ اگر “محلِّ مذبوح عنہ” میں سرے سے وقتِ قربانی ہی موجود نہ ہو، پھر بھی صرف “محلِّ ذبح” کا اعتبار کیا جائے گا۔ غالباً اس کی وجہ یہ ہے کہ قدیم ادوار میں “اوورسیز قربانی” کی یہ صورت سرے سے موجود ہی نہ تھی، نہ ایسے تیز ذرائعِ سفر و مواصلات تھے کہ مختلف براعظموں میں موجود وکیل اور موکل اس طرح ایک دوسرے سے مربوط ہوتے جیسے آج کے دور میں ممکن ہے۔
چنانچہ شہر و دیہات یا دو شہروں کے اُن جزئیات کو، جن دونوں میں “محلِّ مذبوح عنہ” میں سببِ وقت موجود ہوتا ہے، دو ایسے ممالک پر منطبق کرنا، جن میں سے ایک میں “محلِّ مذبوح عنہ” میں سببِ وقت سرے سے موجود ہی نہ ہو، محلِّ نظر معلوم ہوتا ہے۔ ہر صاحبِ علم کی اپنی رائے ہے، لیکن میرے ناقص فہم کے مطابق یہ مسئلہ محض “نقلی و کتابی” نہیں بلکہ اجتہادی نوعیت کا ہے، جسے اصولِ شرعیہ اور قواعدِ فقہیہ کی روشنی میں سمجھنے کی ضرورت ہے، اور عصرِ حاضر کے متعدد جید مفتیانِ کرام نے بھی اسی زاویے سے اس پر کلام فرمایا ہے۔
سب سے پہلے یہ جان لیں کہ فقہائے کرام کے نزدیک قربانی کے وجوب کا سبب “وقت” ہے، اور اس پر اجماع ہے۔ نیز اصولِ فقہ کا مشہور قاعدہ ہے: “الواقع قبل السبب من جميع الأحكام لا يعتدّ به” یعنی جو حکم اپنے مقررہ سبب سے پہلے واقع ہو، وہ شرعاً معتبر نہیں ہوتا۔ (موسوعة القواعد الفقھیہ: ١٦١/١٢) اسی اصول کے تحت فقہاء یہ بھی فرماتے ہیں کہ وقتِ قربانی شروع ہونے سے پہلے قربانی درست نہیں۔ اب اگر کوئی شخص ایسے ملک میں موجود ہے جہاں ابھی عید کا دن شروع ہی نہیں ہوا، بلکہ وہاں ابھی رات ہے یا عید ایک دن بعد ہوگی، تو اُس کے حق میں سببِ قربانی یعنی “وقت” ہی متحقق نہیں ہوا، بلکہ یہ بھی ممکن ہے کہ وقت آنے سے پہلے وہ شرعی فقیر ہو جائے یا خدانخواستہ وفات پا جائے، ایسی صورت میں قربانی کا محل ہی باقی نہیں رہتا۔ اسی مناسبت سے فقہاء نے یہ جزئیہ بھی ذکر فرمایا ہے کہ اگر ایک جانور میں سات شریک ہوں اور اُن میں سے کوئی ایک شریک قربانی سے پہلے فوت ہو جائے، تو باقی شرکاء کی قربانی بھی اُس وقت تک درست نہیں ہوگی جب تک اُس کے ورثاء اجازت نہ دیں۔
لہٰذا احتیاط اور اصولِ شرعیہ کے زیادہ قریب بات یہی معلوم ہوتی ہے، اور عصرِ حاضر کے متعدد جید مفتیانِ کرام نے بھی اسی کو اختیار فرمایا ہے کہ جس شخص کی طرف سے قربانی کی جا رہی ہو اور جہاں قربانی کی جا رہی ہو، دونوں مقامات پر ایامِ نحر اور وقتِ قربانی کا پایا جانا ضروری ہے۔
چنانچہ اگر بیرونِ ممالک میں مقیم مسلمانوں کے ہاں ابھی ایامِ نحر شروع نہیں ہوئے اور پاکستان میں قربانی کر دی گئی، تو یہ قربانی قبل از وقت ہونے کی وجہ سے ادا نہیں ہوگی۔ اسی طرح اگر کسی ملک میں ایامِ نحر ختم ہو چکے ہوں، اگرچہ پاکستان میں ابھی باقی ہوں، تب بھی اُن کی طرف سے پاکستان میں قربانی درست نہیں ہوگی، کیونکہ وہ بعد از وقت شمار ہوگی۔ اس صورت میں قربانی کے جانور کو صدقہ کرنا واجب ہوگا۔
Mufti-Muhammad Ata Ul Mustafa
25/05/2026