قربانی کتنے دن؟ صحابۂ کرام اور جمہور فقہاء کا موقف

ہر سال ایامِ قربانی میں یہ سوال سامنے آتا ہے کہ قربانی کتنے دن کی جا سکتی ہے؟ اس مسئلے میں جمہور فقہاء اور متعدد صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کا موقف یہ ہے کہ قربانی تین دن ہے۔ ذیل میں اسی موقف پر آثارِ صحابہ پیش کیے جاتے ہیں۔

قربانی تین دن ہے، اور یہی اکابر صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم اور جمہور فقہاء کا موقف ہے۔
علامہ بدر الدین عینی فرماتے ہیں: وبه قال مالك، وأحمد، والثوري، وهو قول ستة من الصحابة رضي الله تعالى عنهم وهم عمر، وعلي، وابن عباس، وابن عمر، وأبو هريرة، وأنس رضي الله عنهم.
(البناية شرح الهداية)
علامہ عینی نے یہاں چھ صحابۂ کرام کے نام ذکر کیے ہیں، جبکہ عمدة القاري میں سات نام مذکور ہیں، ساتواں نام حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا ہے: وهو قول مالك، وأبي حنيفة، وأصحابه، والثوري، وأحمد، وروي ذلك عن عمر، وعلي، وابن عمر، وابن عباس، وأبي هريرة، وأنس رضي الله تعالى عنهم، ذكره ابن القصار، وذكره ابن وهب عن ابن مسعود رضي الله تعالى عنه.
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا نام ابن عبد البر نے بھی ذکر کیا ہے: روي ذلك عن علي وابن مسعود وابن عمر رضي الله عنهم، ولم يختلف فيه عن أبي هريرة وأنس رضي الله عنهما، وهو الأصح عن ابن عمر رضي الله عنهما، وهو مذهب أبي حنيفة والثوري ومالك.
(الاستذكار)
پس سات صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے تین دن قربانی کا قول منقول ہے۔
ان صحابۂ کرام سے صحیح اور حسن اسناد کے ساتھ روایات
(1) حضرت عمر بن خطاب
ابن حزم ظاہری لکھتے ہیں: ومن طريق ابن أبي شيبة نا جرير عن منصور عن مجاهد عن مالك بن ماعز، أو ماعز بن مالك الثقفي: أن أباه سمع عمر يقول: إنما النحر في هذه الثلاثة الأيام.
(المحلى)
(2) حضرت علی بن ابی طالب
امام مالک علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:
أنه بلغه أن علي بن أبي طالب رضي الله عنه مثل ذلك (الأضحى يومان بعد يوم الأضحى).
(موطا الإمام مالك، رقم الحديث: 1052)
امام بیہقی علیہ الرحمہ نے بھی ذکر کیا:
(السنن الكبرى للبيهقي، رقم الحديث: 18662)
اس روایت کو متعدد علماء نے باسند ذکر کیا ہے:
(الف) امام طحاوی (المتوفى 321ھ):
حدثنا أحمد بن أبي عمران، قال: حدثنا عبيد الله بن محمد التيمي، قال: حدثنا حماد بن سلمة بن كهيل، عن حجية، عن علي، قال: النحر ثلاثة أيام.
مفہوم: حجیہ بن عدی حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ قربانی تین دن ہے۔
(أحكام القرآن، رقم: 1569، سندہ حسن)
(ب) علامہ عینی نے امام کرخی کے حوالے سے دوسری سند ذکر کی ہے:
ما رواه الكرخي في مختصره… عن علي رضي الله تعالى عنه أنه كان يقول: أيام النحر ثلاثة أيام أولهن أفضلهن.
(سنده حسن)
(ج) ابن عبد البر اور ابن حزم نے سند یوں ذکر کی ہے:
ابن أبي ليلى عن المنهال بن عمرو عن زر بن حبيش عن علي…
(التمهيد، المحلى)
(3) حضرت عبد اللہ بن عباس
حدثنا إبراهيم بن مرزوق… عن ابن عباس، قال: النحر يومان بعد يوم النحر، وأفضلها يوم النحر.
مفہوم: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ قربانی، قربانی کے دن کے بعد دو دن ہے اور افضل پہلا دن ہے۔
(أحكام القرآن، رقم: 1571، سندہ صحیح)
(4) حضرت عبد اللہ بن عمر
مالك، عن نافع: أن عبد الله بن عمر قال: الأضحى يومان بعد يوم الأضحى.
مفہوم: حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ عید الاضحیٰ کے بعد دو دن قربانی ہے۔
(أحكام القرآن الكريم، موطا مالك، رقم: 1774، سندہ صحیح)
امام بیہقی نے بھی روایت کیا: عن نافع، أن عبد الله بن عمر رضي الله عنهما كان يقول: الأضحى يومان بعد يوم الأضحى.
(السنن الكبرى للبيهقي، رقم الحديث: 18661)
(5) حضرت انس بن مالک
حدثنا محمد بن خزيمة… عن أنس، قال: الذبح بعد العيد يومان.
اور:
حدثنا شعبة، عن قتادة، عن أنس، قال: الأضحى يومان بعده.
مفہوم: حضرت قتادہ، حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ عید الاضحیٰ کے بعد قربانی دو دن ہے۔
(أحكام القرآن الكريم، رقم: 1575، سندہ صحیح)
امام بیہقی نے بھی روایت کیا: عن قتادة، عن أنس رضي الله عنه قال: الذبح بعد النحر يومان.
(السنن الكبرى للبيهقي، رقم الحديث: 18663)
(6) حضرت ابو ہریرہ
ابن حزم ظاہری لکھتے ہیں: ومن طريق ابن أبي شيبة نا زيد الحباب عن معاوية بن صالح حدثني أبو مريم سمعت أبا هريرة يقول: الأضحى ثلاثة أيام.
(المحلى، وسنده حسن)
ابن عبد البر فرماتے ہیں: لم يختلف عن أبي هريرة وأنس في أن الأضحى ثلاثة أيام.
(الاستذكار)

اہم اصول: صحابۂ کرام کا موقف سماعی و توقیفی ہے۔
یہ بات بھی ملحوظ رہے کہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم سے منقول یہ آثار سماعی اور توقیفی ہیں، یعنی یہ محض اجتہادی رائے پر مبنی نہیں بلکہ نبی کریم ﷺ سے سنے گئے احکام یا ان کی تعیین پر مبنی ہیں؛ کیونکہ عبادات کے اوقات اور ان کی مقدار کا تعین عقل و قیاس سے نہیں کیا جا سکتا، بلکہ اس کے لیے سماع اور توقیف ضروری ہے۔
چنانچہ فقہ حنفی کی معروف کتاب الهداية اور اس کی شرح البناية شرح الهداية میں ہے:
وقد قالوه سماعا؛ لأن الرأي لا يهتدي إلى المقادير، لأن تخصيص العبادات بوقت لا يعرف إلا سماعا وتوقيتا، فالمروي عنهم كالمروي عن رسول الله صلى الله عليه وسلم.
مفہوم: صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم سے جو کچھ مروی ہے وہ سماع پر مبنی ہے، کیونکہ رائے و قیاس سے عبادات کی مقدار معلوم نہیں ہو سکتی، اور عبادات کے اوقات صرف سماع و توقیف سے معلوم ہوتے ہیں؛ لہٰذا اس باب میں صحابۂ کرام سے منقول آثار کا حکم ایسا ہی ہے جیسے رسول اللہ ﷺ سے منقول ہو۔

مذکورہ آثار صحابہ کرام سے معلوم ہوا کہ قربانی کے تین دن ہونے کا موقف متعدد صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم سے ثابت ہے، اور یہی جمہور فقہاء کا اختیار کردہ قول ہے۔ لہٰذا 10، 11 اور 12 ذوالحجہ ہی قربانی کے ایام ہیں۔
واللہ اعلم بالصواب
ابو الحسن محمد شعیب خان
24 مئی 2026