کیا ایسے امام کے پیچھے نماز ہو جاتی ہے؟
کیا ایسے امام کے پیچھے نماز ہو جاتی ہے؟
یہ بات تو ہم بارہا سنتے آئے ہیں کہ
بدمذہب یا بدعتی امام کے پیچھے نماز نہیں ہوتی۔
داڑھی منڈے یا داڑھی حدِ شرع سے کم کروانے والے کے پیچھے نماز نہیں ہوتی۔
اعلانیہ فسق و فجور میں مبتلا شخص کے پیچھے نماز نہیں ہوتی۔
اب ذرا اہلِ علم اس سوال پر بھی رہنمائی فرمائیں۔
ایک مسجد میں جمعہ کی نماز کا وقت 2 بجے درج تھا۔ ہم وقت سے پہلے مسجد پہنچ گئے۔ امام صاحب بیان فرما رہے تھے۔ بیان جاری رہا، پھر جاری ہی رہا، یہاں تک کہ نماز پونے تین بجے ادا ہوئی۔
بیان کا انداز اور مضمون سن کر دل میں عجیب خیال آیا کہ الحمدللہ، ایسے خطیبوں کو مسلسل برداشت کرنے کے باوجود لوگ ابھی تک اسلام پر قائم ہیں؛ یہ بھی اسلام کی حقانیت کی ایک دلیل ہے، ورنہ ہماری طرف سے تو کمی کوئی نہیں رہ گئی۔
خیر، نماز کے بعد مسجد کمیٹی کے ایک فرد سے عرض کیا:
“یہاں جمعہ کی نماز کس وقت ہوتی ہے؟”
انہوں نے فرمایا:
“ڈھائی بجے کے بعد ہی ہوتی ہے۔”
میں نے گزارش کی:
“تو پھر جماعت کے اوقات میں یہی وقت لکھ دیجیے، تاکہ لوگ غلط فہمی میں مبتلا نہ ہوں۔”
وہ کہنے لگے:
“ہم کئی سال سے امام صاحب کو سمجھا رہے ہیں، مگر وہ 2 بجے ہی لکھواتے ہیں۔ اس موضوع پر بات کی جائے تو ناراض ہو جاتے ہیں۔ یہ گستاخی آپ خود ہی فرما دیجیے۔”
اب سوال یہ ہے:
اگر واقعی نماز ڈھائی بجے کے بعد ہوتی ہے، مگر بورڈ پر جان بوجھ کر 2 بجے لکھوایا جاتا ہے، تو یہ کیا ہے؟
کیا یہ غلط بیانی نہیں؟
کیا یہ لوگوں کے وقت کے ساتھ خیانت نہیں؟
کیا یہ مسجد آنے والوں کو جان بوجھ کر انتظار میں ڈالنا نہیں؟
اور اگر یہ عمل جان بوجھ کر، مسلسل اور اصرار کے ساتھ کیا جا رہا ہے، تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے:
ایسے امام کے پیچھے نماز ہو جاتی ہے؟
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
**لَّعْنَتَ اللّٰهِ عَلَى الْكَاذِبِينَ**
“جھوٹوں پر اللہ کی لعنت ہو۔”
دین صرف داڑھی، مسلک اور ظاہری علامات کا نام نہیں۔
دین سچائی، دیانت اور لوگوں کے حقوق کا بھی نام ہے۔
اگر امام مسجد ہی وقت کے معاملے میں سچائی اور دیانت کا خیال نہ رکھے، تو پھر منبر سے اخلاق کی بات کس اعتماد سے کرے گا؟