*اولاد کی تربیت کے مراحل*

بچے کی شخصیت آہستہ آہستہ بنتی ہے، اور ہر عمر کا اپنا اندازِ تربیت ہوتا ہے۔ اس سلسلے میں ایک روایت ہے جس میں بچپن سے جوانی تک بچے کی فطرت اور ذمہ داریوں کے ارتقاء کو بڑے خوبصورت انداز میں سمجھایا گیا ہے۔

حدیث میں ہے: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْوَلَدُ سَيِّدٌ سَبْعَ سِنِينَ، وَعَبْدٌ سَبْعَ سِنِينَ، وَوَزِيرٌ سَبْعَ سِنِينَ، فَإِنْ رَضِيتَ مُكَانَفَتَهُ لِإِحْدَى وَعِشْرِينَ، وَإِلَّا فَاضْرِبْ عَلَى جَنْبِهِ، فَقَدِ اعْتَذَرْتَ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ۔
(المعجم الأوسط للطبرانی، بَابُ الْمِيمِ، مَنِ اسْمُهُ: مُحَمَّدٌ، رقم الحديث: 6282)

مفہوم: بچہ سات سال تک سردار ہوتا ہے، پھر سات سال تک غلام (یعنی مکمل تابع و فرمانبردار) ہوتا ہے، اور پھر سات سال تک وزیر (مشیر و مددگار) ہوتا ہے۔ پس اگر تم اکیس سال تک اس کے ساتھ اسی انداز پر راضی ہو تو ٹھیک ہے، ورنہ اسے اپنے سے الگ کر دو، کیونکہ تم نے اللہ کے سامنے اپنا عذر پیش کر دیا ہے۔

*تشریح* اس روایت میں بچوں کی تربیت کو ایک نہایت حکیمانہ اور تدریجی انداز میں بیان کیا گیا ہے، جس سے یہ اصول سامنے آتا ہے کہ انسانی شخصیت یکدم نہیں بلکہ مختلف مراحل سے گزر کر تکمیل پاتی ہے۔
*پہلے مرحلے* میں بچے کو “سید/بادشاہ” کے انداز سے تعبیر کیا گیا ہے، جس کا مفہوم یہ ہے کہ ابتدائی سات سالوں میں بچہ فطری آزادی، کھیل کود اور بے ساختگی کے ماحول میں پروان چڑھتا ہے۔ اس مرحلے میں سختی کے بجائے شفقت، محبت اور فطری نشوونما کو بنیادی اہمیت حاصل ہوتی ہے، تاکہ بچے کی شخصیت میں خود اعتمادی اور ذہنی توازن پیدا ہو۔

*دوسرے مرحلے* میں اسے “عبد/تابع” کے انداز سے بیان کیا گیا ہے، یعنی اگلے سات سال تربیت، نظم، اطاعت اور اصول پسندی کے ہوتے ہیں۔ اس دور میں مقصد یہ ہوتا ہے کہ بچہ حدود و قیود کو سمجھے، ذمہ داری قبول کرے اور والدین کی رہنمائی کو دل سے قبول کرنے کی عادت ڈالے، تاکہ اس کی شخصیت میں ضبط و نظم پیدا ہو۔

*تیسرے مرحلے* میں اسے “وزیر/مشیر و مددگار” کے طور پر پیش کیا گیا ہے، جس میں بچے کو آہستہ آہستہ عملی زندگی میں شامل کیا جاتا ہے۔ اس مرحلے کی اصل روح یہ ہے کہ والدین بچے کو صرف حکم دینے والا نہ سمجھیں بلکہ اسے مشاورت میں شریک کریں، عملی کاموں میں ساتھ رکھیں، اور ذمہ داریوں کا حصہ بنائیں۔ اس سے بچہ تجربہ بھی حاصل کرتا ہے اور اعتماد بھی۔ اگر وہ درست رائے دے تو اس کی حوصلہ افزائی کی جائے، اور اگر غلطی کرے تو اصلاح کے ساتھ رہنمائی کی جائے، تاکہ سیکھنے کا عمل جاری رہے۔

یہی تربیتی تسلسل دراصل ایک متوازن اور باشعور شخصیت کی تعمیر کا ذریعہ ہے۔ فی زمانہ افسوس کے ساتھ یہ حقیقت بھی سامنے آتی ہے کہ اس تدریجی تربیتی اصول کی طرف عمومی طور پر غفلت پائی جاتی ہے؛ نہ بچوں کو ان کے مناسب مراحل میں صحیح رہنمائی دی جاتی ہے اور نہ ہی انہیں اعتماد اور مشاورت کے عمل میں شریک کیا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں تربیت کا توازن متاثر ہوتا ہے۔

اے اللہ! ہمارے بچوں کو نیک، صالح اور فرمانبردار بنا۔ ان کے دلوں میں ایمان، اخلاق اور محبتِ رسول ﷺ راسخ فرما۔ انہیں والدین کی آنکھوں کی ٹھنڈک اور امتِ مسلمہ کے لیے نافع بنا۔ ان کی حفاظت فرما، ان کی تربیت درست فرما، اور انہیں ہر برائی سے محفوظ رکھ۔
آمین یا رب العالمین۔

ابو الحسن محمد شعیب خان
٣٠ مئی ٢٠٢٦