غدیر خم اور بیتِ رضوان

غدیرِ خم کے تاریخی موقع پر رسولِ اکرم ﷺ نے سیدنا علی المرتضیٰ علیہ السّلام کا دستِ مبارک بلند کر کے ارشاد فرمایا
“علی مجھ سے ہے اور میں علی سے ہوں”
یہ وہ اعلان تھا جس نے سیدنا علیؑ المرتضیٰ کی قربت، وفا، اور شان کو رہتی دنیا تک کے لیے واضح کرتے ہوئے ناصبیت سوچ کا قلعہ قمع کیا۔

اسی طرح بیت الرضوان کے عظیم موقع پر نبی کریم ﷺ نے اپنا دست مبارک کو فرمایا “یہ عثمان کا ہاتھ ہے”
یہ اعلان وفا رہتی دنیا تک وفاداری کا معیار بن گیا اور سیدنا عثمان ذوالنورینؓ کی عظمت پر مہر تصدیق ثبت کرتے ہوئے رافضیت و ناصبیت کا قلع قمع کیا۔

یہ دونوں واقعات تاریخ اسلام کی روشن دلیلیں اور میرے نبی کریم علیہ السلام کے دونوں دامادوں کی عظمتوں کو بیان کرتے ہیں۔

آج اگر کوئی ان پاکیزہ ہستیوں کے درمیان تقابل کرتا ہے، تو وہ اپنی کم ظرفی، تنگ نظری اور علمی فقر کا ثبوت دیتا ہے۔ ایسے لوگوں کو زمانہ بھی رد کرتا ہے اور انکی مثال گندے کیڑے سی ہے۔
الحمدللہ ! ہم نہ صرف شیر خدا سیدنا علی المرتضیٰؓ کے جانثار ہیں، بلکہ پیکر حیا، ذوالنورین سیدنا عثمان غنیؓ کے بھی وفادار ہیں۔ جو شخص صحابہ کرام علیہ الرضوان میں تقابل کرتا ہے، وہ اہل سنت کے عقیدے سے ناآشنا ہے اور بھٹکا ہوا ہے۔