*سَو دِن چور کے ایک دِن سادھ کا*

*از قلم ؛ عمران علی حجازیٓ*

تصوف کے آستانے صدیوں سے اہلِ محبت، اہلِ ادب اور اہلِ نسبت کے لیے کھلے رہے ہیں، مگر تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ کبھی کبھی کچھ لوگ اس دربار میں مہمان بن کر نہیں بلکہ وارث بن کر داخل ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ تصوف کے نام سے فائدہ اٹھاتے ہیں، مگر اس کی روح سے ناآشنا رہتے ہیں۔ وہ خانقاہوں کا تذکرہ کرتے ہیں، لیکن خانقاہی مزاج قبول نہیں کرتے۔ وہ مشائخ کے نام لیتے ہیں، مگر مشائخ کے منہج سے گریز کرتے ہیں۔
چنانچہ جب تصوف کے نام پر قائم کیا گیا یہ پردہ چاک ہوا اور اہلِ نظر نے اس کے پیچھے چھپی ہوئی فکری حقیقت کو پہچان لیا تو یہ منظر اہلِ حق کے لیے باعثِ بصیرت بھی بنا اور باعثِ اطمینان بھی۔ اس سے یہ حقیقت مزید واضح ہوئی کہ تصوف محض چند اصطلاحات، رسمی نسبتوں اور ظاہری دعووں کا نام نہیں، بلکہ ایک مکمل علمی و روحانی روایت ہے جس میں داخل ہونے کے لیے اسی کے آداب، اصول اور مزاج کو قبول کرنا ناگزیر ہے۔
اس موقع پر سیدی امام اہلِ سنت، مجددِ دین و ملت، احمد رضا خان بریلوی کا وہ عظیم منہج مزید نمایاں ہو کر سامنے آتا ہے جس کی بنیاد “احقاقِ حق اور ابطالِ باطل” پر قائم ہے۔ آپ نے نہ صرف اہلِ سنت کے عقائد کی توضیح فرمائی بلکہ ہر اس فکری دھارے کی علمی حیثیت بھی واضح کی جو سنتِ متوارثہ کے مزاج سے ہٹ کر کسی نئے رخ کی طرف لے جانے والا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی تحریرات آج بھی اہلِ علم کے لیے ایک مضبوط علمی معیار کی حیثیت رکھتی ہیں۔
اسی فکری تسلسل کا نتیجہ ہے کہ جب تصوف کے نام پر بعض غیر مانوس نظریات پیش کیے جاتے ہیں تو اہلِ سنت کے محققین انہیں اسی اصول کی کسوٹی پر پرکھتے ہیں جس کی بنیاد اعلیٰ حضرت نے رکھی تھی۔ اس معیار پر جو چیز حق کے موافق ہو اسے قبول کیا جاتا ہے، اور جو باطل یا غیر متوارث فکری رجحان ہو اسے رد کر دیا جاتا ہے۔
یوں یہ حقیقت مزید واضح ہو جاتی ہے کہ تصوف کی اصل روح وہی ہے جو اہلِ سنت کے اکابر کے ہاں ملتی ہے، اور اسی روح کی حفاظت میں “احقاقِ حق و ابطالِ باطل” کا وہ منہج بنیادی ستون کی حیثیت رکھتا ہے جسے اعلیٰ حضرت نے علمی دنیا میں ایک مستقل معیار کی صورت میں پیش فرمایا۔

پاک و ہند میں دیوبندی مکتبِ فکر کے مذہبی رجحانات کا بغور مطالعہ کیا جائے تو یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہوتی ہے کہ ان کی فکری بنیادیں بڑی حد تک محمد بن عبد الوہاب نجدی کے نظریات سے ہم آہنگ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اولیائے کرام سے توسل، استمداد، تعظیمِ مزارات اور محبتِ صالحین کے ان مظاہر کو، جو صدیوں سے امتِ مسلمہ کے ایک عظیم طبقے میں رائج رہے ہیں، یہ حضرات شرک، بدعت یا کم از کم گمراہی کے قریب قرار دینے میں تامل نہیں کرتے۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ برصغیر میں اپنے انہی نظریات کی بنا پر معروف ہونے کے باوجود جب یہی فکر عرب اور ترک دنیا میں متعارف کروائی جاتی ہے تو وہاں اس کی اصل شناخت کو نمایاں کرنے کے بجائے تصوف، سلاسلِ طریقت اور اکابرِ صوفیہ سے نسبت کو زیادہ اجاگر کیا جاتا ہے۔ مقصد یہ تاثر دینا ہوتا ہے کہ گویا یہ وہی روایتی سنی تصوف ہے جو صدیوں سے امت کے اکابر، مشائخ اور اولیاء کا منہج رہا ہے۔

لیکن تاریخ کا ایک اصول ہے کہ حقائق کو زیادہ دیر تک نعروں اور دعووں کے پردے میں نہیں چھپایا جا سکتا۔ جب ان کے اکابر کی تصنیفات، فتاویٰ اور عقائد کا موازنہ روایتی سنی صوفی منہج سے کیا جاتا ہے تو فرق بالکل واضح ہو جاتا ہے۔ ایک طرف اولیائے کرام کی تعظیم، ان سے توسل اور ان کے فیوض و برکات کا اثبات ہے، جبکہ دوسری طرف انہی امور پر اعتراضات اور سخت تنقید کا سلسلہ دکھائی دیتا ہے۔

حالیہ دنوں میں بعض ترک علماء اور مشائخ نے اسی حقیقت کی نشاندہی کرکے اس فکری تضاد کو نمایاں کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ محض تصوف کا دعویٰ کر لینا یا کسی سلسلۂ طریقت سے نسبت ظاہر کر دینا کافی نہیں، بلکہ اصل معیار وہ عقائد اور نظریات ہیں جو کسی جماعت کی علمی شناخت متعین کرتے ہیں۔ چنانچہ جب ان نظریات کا جائزہ لیا گیا تو تصوف کے نام پر پیش کیا جانے والا یہ چہرہ زیادہ دیر قائم نہ رہ سکا اور حقیقت اہلِ علم کے سامنے آ گئی۔

حقیقت یہ ہے کہ اہلِ سنت و جماعت کی پہچان ہمیشہ اولیائے کرام کی محبت، اکابرِ امت کی تعظیم اور امت کے سوادِ اعظم کے ساتھ وابستگی رہی ہے۔ جو فکر ان مسلمہ اصولوں پر مسلسل اعتراضات اٹھاتی رہے، اس کے لیے محض تصوف کا عنوان اختیار کر لینا کافی نہیں۔ علمی دنیا دعووں سے نہیں بلکہ اصولوں، عقائد اور عملی مناہج سے فیصلے کرتی ہے، اور یہی وہ کسوٹی ہے جس پر ہر فکر کو پرکھا جاتا ہے۔

حجازیاتِ حجازی
04/06/2026