راشد شاز(منکر حدیث) تحقیق سے تحریف تک علمی خیانت و بد دیانتی کا پوسٹ مارٹم
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر:
غلام نبی کشافی
آنچار صورہ سرینگر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تمہیدی کلمات
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
     زیرِ نظر مضمون کا مقصد کسی شخص کی ذاتی تنقیص یا کردار کشی نہیں، بلکہ ایک علمی دعوے اور اس کے استدلالی منہج کا تنقیدی جائزہ لینا ہے۔ دین کے بنیادی مصادر، خصوصاً احادیثِ نبویہ، کے بارے میں کوئی بھی رائے اسی وقت علمی وزن اور اعتبار حاصل کر سکتی ہے جب وہ اصل نصوص، ان کے مکمل سیاق و سباق اور محدثین کے مسلمہ اصولِ تحقیق کی روشنی میں پیش کی جائے۔
اس مضمون میں ایک معروف منکرِ حدیث کے اس طرزِ استدلال کا جائزہ لیا گیا ہے جس میں احادیث کے بعض اقتباسات کو ان کے اصل سیاق و سباق سے الگ کر کے پیش کیا جاتا ہے، اور پھر ان سے ایسے نتائج اخذ کیے جاتے ہیں جو پوری روایت کے مفہوم سے ہم آہنگ نہیں ہوتے۔ کیونکہ یہ طرزِ عمل علمی دیانت کے تقاضوں سے مطابقت نہیں رکھتا اور اس کے ذریعے قارئین کے سامنے ایک غیر متوازن تصویر پیش کی جاتی ہے۔
چنانچہ اس مضمون میں راشد شاز کی جانب سے صحیح بخاری کی ایک روایت پر کیے گئے اعتراض کا جائزہ لیا گیا ہے۔ اس مقصد کے لیے وہ مکمل روایت، جس کا صرف ایک جز نقل کر کے ذخیرۂ حدیث کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے، اپنے پورے متن اور سیاق کے ساتھ پیش کی گئی ہے، تاکہ قاری خود اصل ماخذ کی روشنی میں معاملے کو سمجھ سکے۔
بہر حال، حتمی فیصلہ قارئین پر چھوڑا جاتا ہے۔ وہ مکمل روایت اور پیش کردہ دلائل کا مطالعہ کر کے خود یہ رائے قائم کر سکتے ہیں کہ راشد شاز کا استدلال کس حد تک درست ہے اور حقائق کے زیادہ قریب مؤقف کون سا ہے۔
ہندوستان کے معروف منکر حدیث راشد شاز اپنی ایک متنازع اور اشتعال انگیز کتاب میں لکھتے ہیں:

“کہا جاتا ہے کہ جب محمود انصاری نے یہ حدیث بیان کی کہ جس نے ‘لا إله إلا الله’ کہہ دیا، اس پر جہنم حرام ہو گئی، تو حضرت ایوب انصاری نے فوراً کہا: اللہ کی قسم! میں نہیں سمجھتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی کوئی بات کہی ہوگی۔” (بخاری)

جب راشد شاز کے سادہ لوح مقلدین اس قسم کے اقتباسات پڑھتے ہیں تو عموماً اسے بلا تحقیق درست سمجھ لیتے ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ راشد شاز جس طرح احادیث کے خلاف لکھی جانے والی تحریروں کا مطالعہ کرتے اور خود بھی اسی نوعیت کا لٹریچر تیار کرتے ہیں، اگر اسی ذوق و شوق کے ساتھ وہ براہِ راست کتبِ حدیث کا بھی مطالعہ کرتے تو شاید انہیں اتنا معلوم ہونا چاہئے تھا کہ اس جلیل القدر صحابی کا نام “ایوب انصاری” نہیں بلکہ ” سیدنا ابو ایوب انصاری ” تھا، جن کا اصل نام خالد بن زید انصاری تھا اور جن کا انتقال 52 ہجری ( مطابق 672 عیسوی) میں قسطنطنیہ کے محاصرے کے دوران ہوا۔
     اسی طرح راشد شاز نے حدیث کے راوی کا نام صرف ‘محمود انصاری’ لکھا ہے، جس سے محسوس ہوتا ہے کہ انہیں راوی کا مکمل نام و تعارف معلوم نہیں تھا اور انہوں نے غالباً ثانوی نقل پر اعتماد کرتے ہوئے یہی نام درج کر دیا۔ حالانکہ ان کا مکمل نام محمود بن ربیع انصاری ہے، جو جلیل القدر صحابیِ رسول تھے۔
   لیکن تعجب کی بات یہ ہے کہ راشد شاز جب مختلف فکری، ادبی یا تاریخی شخصیات پر قلم اٹھاتے ہیں تو ان کا تعارف عموماً تحقیق اور تفصیل کے ساتھ پیش کرتے ہیں، لیکن صحابۂ کرام کے ذکر میں ایسی احتیاط اور اہتمام دکھائی نہیں دیتا۔ بعض مقامات پر ان کی یہ بے توجہی افسوس کا باعث بنتی ہے، کیونکہ صحابۂ کرام ہی وہ مقدس جماعت ہے جس کے ذریعے قرآن و حدیث اور پورا دینِ اسلام بعد کی نسلوں تک پہنچا ہے۔ اس لئے ان کے ناموں، حالات اور روایات کے ذکر میں غیر معمولی دقت، احترام اور علمی احتیاط کا مظاہرہ ہونا چاہئے ۔
      مزید برآں، جس حدیث کا حوالہ دے کر راشد شاز نے اپنا استدلال قائم کیا ہے، اس کے اندازِ پیشکش سے محسوس ہوتا ہے کہ انہوں نے اصل ماخذ کی طرف رجوع کرنے کے بجائے کسی ثانوی ماخذ یا منکرینِ حدیث کے لٹریچر سے اقتباس اخذ کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حدیث کے صرف ایک حصے کو نمایاں کیا گیا، جبکہ اس کے بعد آنے والے انتہائی اہم اور فیصلہ کن حصے کو نظر انداز کر دیا گیا۔
     میں جانتا ہوں کہ راشد شاز کی زبان میں روانی ہے، اظہار میں اعتماد ہے اور چہرے پر معصومیت بھی نمایاں دکھائی دیتی ہے، لیکن جب ان کی تحریروں کو علمی معیار پر پرکھا جاتا ہے تو سیرتِ نبویؐ اور علمِ حدیث کے گہرے مطالعے سے محرومی صاف محسوس ہوتی ہے۔ زیرِ بحث حدیث اس کی ایک نمایاں مثال ہے۔ چنانچہ انہوں نے جس حدیث کا حوالہ دیا ہے، وہ نہایت طویل ہے اور ترجمے سمیت کتاب کے پورے ایک صفحے کو محیط ہے۔ لہٰذا مناسب معلوم ہوتا ہے کہ یہاں اس حدیث کا مکمل متن، ترجمہ اور حوالہ پیش کر دیا جائے۔

عَنْ مَحْمُودٌ أَنَّهُ سَمِعَ عِتْبَانَ بْنَ مَالِكٍ الْأَنْصارِيَّ وَكَانَ مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ كُنْتُ أُصَلِّي لِقَوْمِي بِبَنِي سَالِمٍ وَكَانَ يَحُولُ بَيْنِي وَبَيْنَهُمْ وَادٍ إِذَا جَاءَتْ الْأَمْطَارُ فَيَشُقُّ عَلَيَّ اجْتِيَازُهُ قِبَلَ مَسْجِدِهِمْ فَجِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ لَهُ إِنِّي أَنْكَرْتُ بَصَرِي وَإِنَّ الْوَادِيَ الَّذِي بَيْنِي وَبَيْنَ قَوْمِي يَسِيلُ إِذَا جَاءَتْ الْأَمْطَارُ فَيَشُقُّ عَلَيَّ اجْتِيَازُهُ فَوَدِدْتُ أَنَّكَ تَأْتِي فَتُصَلِّي مِنْ بَيْتِي مَكَانًا أَتَّخِذُهُ مُصَلًّى فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَفْعَلُ فَغَدَا عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ بَعْدَ مَا اشْتَدَّ النَّهَارُ فَاسْتَأْذَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَذِنْتُ لَهُ فَلَمْ يَجْلِسْ حَتَّى قَالَ أَيْنَ تُحِبُّ أَنْ أُصَلِّيَ مِنْ بَيْتِكَ فَأَشَرْتُ لَهُ إِلَى الْمَكَانِ الَّذِي أُحِبُّ أَنْ أُصَلِّيَ فِيهِ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَبَّرَ وَصَفَفْنَا وَرَاءَهُ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ وَسَلَّمْنَا حِينَ سَلَّمَ فَحَبَسْتُهُ عَلَى خَزِيرٍ يُصْنَعُ لَهُ فَسَمِعَ أَهْلُ الدَّارِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِي فَثَابَ رِجَالٌ مِنْهُمْ حَتَّى كَثُرَ الرِّجَالُ فِي الْبَيْتِ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْهُمْ مَا فَعَلَ مَالِكٌ لَا أَرَاهُ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْهُمْ ذَاكَ مُنَافِقٌ لَا يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَقُلْ ذَاكَ أَلَا تَرَاهُ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ يَبْتَغِي بِذَلِكَ وَجْهَ اللَّهِ فَقَالَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ أَمَّا نَحْنُ فَوَاللَّهِ لَا نَرَى وُدَّهُ وَلَا حَدِيثَهُ إِلَّا إِلَى الْمُنَافِقِينَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنَّ اللَّهَ قَدْ حَرَّمَ عَلَى النَّارِ مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ يَبْتَغِي بِذَلِكَ وَجْهَ اللَّهِ قَالَ مَحْمُودُ بْنُ الرَّبِيعِ فَحَدَّثْتُهَا قَوْمًا فِيهِمْ أَبُو أَيُّوبَ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَتِهِ الَّتِي تُوُفِّيَ فِيهَا وَيَزِيدُ بْنُ مُعَاوِيَةَ عَلَيْهِمْ بِأَرْضِ الرُّومِ فَأَنْكَرَهَا عَلَيَّ أَبُو أَيُّوبَ قَالَ وَاللَّهِ مَا أَظُنُّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا قُلْتَ قَطُّ فَكَبُرَ ذَلِكَ عَلَيَّ فَجَعَلْتُ لِلَّهِ عَلَيَّ إِنْ سَلَّمَنِي حَتَّى أَقْفُلَ مِنْ غَزْوَتِي أَنْ أَسْأَلَ عَنْهَا عِتْبَانَ بْنَ مَالِكٍ إِنْ وَجَدْتُهُ حَيًّا فِي مَسْجِدِ قَوْمِهِ فَقَفَلْتُ فَأَهْلَلْتُ بِحَجَّةٍ أَوْ بِعُمْرَةٍ ثُمَّ سِرْتُ حَتَّى قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَأَتَيْتُ بَنِي سَالِمٍ فَإِذَا عِتْبَانُ شَيْخٌ أَعْمَى يُصَلِّي لِقَوْمِهِ فَلَمَّا سَلَّمَ مِنْ الصَّلَاةِ سَلَّمْتُ عَلَيْهِ وَأَخْبَرْتُهُ مَنْ أَنَا ثُمَّ سَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ الْحَدِيثِ فَحَدَّثَنِيهِ كَمَا حَدَّثَنِيهِ أَوَّلَ مَرَّةٍ ۔
(صحيح البخاري: كِتَابُ التَّهَجُّدِ : بَابُ صَلاَةِ النَّوَافِلِ جَمَاعَةً : رقم الحدیث 1186 )
محمود (بن ربیع) سے روایت ہے کہ انہوں نے عتبان بن مالک انصاری سے سنا، اور وہ ان لوگوں میں سے تھے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ غزوہ بدر میں شریک ہوئے تھے۔  عتبان بن مالک نے کہا : میں قبیلہ بنو سالم میں اپنی قوم کو نماز پڑھایا کرتا تھا۔ میرے اور اس قبیلے کے درمیان ایک وادی حائل تھی۔ جب بارشیں ہوتیں تو اسے عبور کر کے ان کی مسجد تک پہنچنا میرے لئے دشوار ہو جاتا، اس لئے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ میری نظر کمزور ہو چکی ہے اور یہ وادی جو میرے اور میری قوم کے درمیان بہتی ہے جب بارشیں ہوں تو اسے عبور کرنا میرے لئے مشکل ہو جاتا ہے۔ میری خواہش ہے کہ آپ تشریف لائیں اور میرے گھر میں کسی جگہ پر نماز پڑھیں تاکہ میں اسے (ہمیشہ کے لئے) جائے نماز بنا لوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں عنقریب آؤں گا۔ چنانچہ ایک دن جب سورج چڑھ آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر صدیق میرے پاس تشریف لائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اندر آنے کی اجازت طلب فرمائی۔ میں نے آپ کو اجازت دی تو آپ نے بیٹھنے سے پہلے فرمایا: ’’آپ اپنے گھر کے کس حصے میں ہمارا نماز پڑھنا پسند کرتے ہیں؟ میں نے آپ کے لئے ایک جگہ کی طرف اشارہ کیا جہاں میں پسند کرتا تھا کہ وہاں نماز ادا کی جائے، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں کھڑے ہو کر اللہ اکبر کہا۔ ہم نے بھی آپ کے پیچھے صفیں درست کر لیں۔ آپ نے دو رکعتیں پڑھ کر سلام پھیر دیا۔ ہم نے بھی آپ کے سلام پھیرنے پر سلام پھیر دیا۔ پھر میں نے موٹے آٹے اور گوشت سے تیار کردہ کھانا پیش کیا جو آپ ہی کے لئے تیار کیا گیا تھا۔ جب اہل محلہ کو پتہ چلا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر میں تشریف فرما ہیں تو وہ پے درپے اکٹھے ہونا شروع ہو گئے حتی کہ بہت سے لوگ میرے گھر میں جمع ہو گئے۔ ان میں سے ایک شخص نے کہا: مالک (ابن دخشن) کو کیا ہوا؟ وہ ہمیں یہاں نظر نہیں آ رہا ؟ ان میں سے ایک دوسرے شخص نے کہا: وہ منافق ہے۔ اللہ اور اس کے رسول سے محبت نہیں رکھتا، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایسا مت کہو۔ کیا تم اسے نہیں دیکھتے ہو کہ وہ لا إله إلا الله کہتا ہے اور اس کا کلمہ پڑھنے کا مقصد صرف اللہ کی رضا جوئی ہے۔ اس شخص نے کہا: (ویسے تو) اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں ۔ لیکن اللہ کی قسم! ہم تو اس کی دوستی اور کلام و سلام منافقین کے ساتھ ہی دیکھتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ نے اس شخص کو جہنم پر حرام کر دیا ہے جو اللہ کی رضا کے لئے لا الہ الااللہ پڑھتا ہے۔ محمود بن ربیع نے کہا: میں نے یہ حدیث چند لوگوں سے بیان کی جن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ابوایوب انصاری بھی تھے۔ یہ واقعہ اس غزوے میں پیش آیا جس میں ابو ایوب انصاری ؓ کی شہادت ہوئی اور رومی سرزمین (قسطنطنیہ) میں یزید بن معاویہ امیر لشکر تھے۔ ابو ایوب انصاری نے اس واقعے کا صاف انکار کر دیا اور فرمایا: اللہ کی قسم! میرا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق ہرگز خیال نہیں کہ آپ نے ایسے کلمات فرمائے ہوں گے ، جو تم نے آپ کی طرف منسوب کئے ہیں۔ مجھ پر ان کا انکار بہت گراں گزرا، اس لئے میں نے اپنے اوپر یہ لازم کر لیا کہ اگر اللہ تعالیٰ نے اس غزوے سے واپسی تک مجھے صحیح سالم رکھا تو میں اس کے متعلق عتبان بن مالک سے ضرور دریافت کروں گا بشرطیکہ میں اسے اس قوم کی مسجد میں بقید حیات پاؤں، چنانچہ میں جب اس غزوے سے واپس لوٹا تو میں نے حج یا عمرے کا احرام باندھا اور وہاں سے روانہ ہوا۔ بالآخر جب میں مدینہ منورہ پہنچا تو قبیلہ بنو سالم کا رخ کیا۔ میں نے وہاں عتبان بن مالک کو دیکھا کہ وہ نابینے ہو چکے ہیں اور اپنی قوم کو نماز پڑھا رہے ہیں۔ جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو میں نے انہیں سلام کیا اور اپنا تعارف کرایا۔ پھر میں نے ان سے اس حدیث کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے واقعہ اسی طرح بیان کیا جس طرح پہلی مرتبہ بیان کیا تھا۔

   
  صحیح بخاری کی اس روایت کا آخری حصہ نہایت قابل غور ہے ، جس کے مطابق سیدنا ابو ایوب انصاری نے ابتدائی طور پر اس روایت کے ایک حصے پر تعجب اور توقف کا اظہار کیا تھا، وہ ان الفاظ پر مشتمل ہے ۔

قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنَّ اللَّهَ قَدْ حَرَّمَ عَلَى النَّارِ مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ يَبْتَغِي بِذَلِكَ وَجْهَ اللَّهِ ۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ نے اس شخص کو جہنم پر حرام کر دیا ہے جو اللہ کی رضا کے لئے لا الہ الااللہ پڑھتا ہے ۔

    لیکن بات یہیں پر ختم نہیں ہو جاتی۔ راویِ حدیث محمود بن ربیعؒ بیان کرتے ہیں کہ ابو ایوب انصاریؓ کے اس اشکال کے بعد انہوں نے عہد کیا کہ اگر وہ اس سفر سے صحیح سلامت واپس لوٹے تو اصل راوی، یعنی سیدنا عتبان بن مالکؓ سے دوبارہ اس حدیث کی تحقیق کریں گے۔ چنانچہ جب وہ مدینہ واپس آئے تو انہوں نے سیدنا عتبان بن مالک سے ملاقات کی، جو اس وقت عمر رسیدہ اور نابینا ہو چکے تھے۔ انہوں نے اسی حدیث کے بارے میں دوبارہ سوال کیا تو عتبان بن مالک نے وہ روایت لفظ بہ لفظ اسی طرح دوبارہ بیان کر دی جس طرح پہلے بیان کی تھی۔ (فَحَدَّثَنِيهِ كَمَا حَدَّثَنِيهِ أَوَّلَ مَرَّةٍ ) یوں اس تحقیق کے نتیجے میں روایت کی صحت مزید واضح ہو گئی۔
    
یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر راشد شاز کا مقصد محض علمی تحقیق ہوتا تو وہ حدیث کا پورا متن نقل کرتے، کیونکہ اسی روایت کے آخری حصے میں یہ بات موجود تھی کہ راوی نے دوبارہ اصل صحابی سے رجوع کیا اور انہوں نے پہلی روایت کی مکمل تائید کر دی۔ لیکن اگر صرف ابتدائی اعتراض نقل کیا جائے اور بعد کی تحقیق اور تصدیق کو چھپا لیا جائے تو قاری کے ذہن میں حدیث کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا ہوجاتے ہیں ، حالانکہ اصل روایت کا مکمل متن راشد شاز کی شاطر دماغی کی تائید نہیں کرتا۔ بقول عزیز بگھروی

           کچھ گھٹا دی گئی کچھ بڑھا دی گئی
           کیا  کہانی  تھی  اور  کیا  بنا دی  گئی

    یہی وہ طرزِ استدلال ہے جس میں کسی روایت یا تاریخی واقعہ کا ایک حصہ نمایاں کر کے باقی حصہ نظر انداز کر دیا جاتا ہے، اور پھر اسی ادھوری تصویر کی بنیاد پر نتائج اخذ کئے جاتے ہیں۔ علمی دیانت کا تقاضا یہ ہے کہ کسی بھی نص کو اس کے مکمل سیاق و سباق کے ساتھ پیش کیا جائے، خصوصاً جب معاملہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث اور دین کے بنیادی مصادر کا ہو۔

       اس طرح اس سارے پس منظر، اصل روایت کے مکمل متن اور اس کے آخری حصے میں موجود تحقیق و تصدیق کو سامنے رکھتے ہوئے قارئین خود فیصلہ کر سکتے ہیں کہ راشد شاز کی پیش کردہ تصویر مکمل تھی یا ادھوری، اور آیا یہ محض ایک علمی خیانت و بد دیانتی تھی یا پھر ایسا طرزِ استدلال جس میں روایت کا صرف وہ حصہ پیش کیا جاتا ہے جو پہلے سے قائم کردہ نظریے کی تائید کرتا ہو، جبکہ باقی شواہد کو نظر انداز کر دیا جاتا ہو۔ حالانکہ علمی دیانت کا تقاضا یہ ہے کہ کسی بھی روایت، تاریخی واقعہ یا دینی نص کو اس کے مکمل سیاق و سباق کے ساتھ پیش کیا جائے۔ اگر کسی حدیث کے ایک حصے کو نمایاں کر کے اس کے دوسرے حصے کو چھپا لیا جائے، جبکہ وہی دوسرا حصہ پہلے حصے کی وضاحت اور اشکال کا ازالہ کرتا ہو، تو اس سے قاری تک حقیقت کا صحیح نقشہ نہیں پہنچتا بلکہ اس کے ذہن میں غلط فہمیاں پیدا ہوتی ہیں۔
    افسوس یہ ہے کہ جدید دور میں انکارِ حدیث یا تشکیکِ حدیث کے رجحانات اکثر اسی طرزِ استدلال پر قائم ہیں۔ احادیث کو ان کے مجموعی ذخیرے، محدثین کی تشریحات اور روایت و درایت کے اصولوں کی روشنی میں سمجھنے کے بجائے چند جزوی اقتباسات کو بنیاد بنا کر پورے علمی ورثے کو مشکوک بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ حالانکہ چودہ صدیوں پر محیط علمِ حدیث کی عظیم روایت اس قدر مضبوط، منظم اور تنقیدی معیاروں پر قائم ہے کہ اس کے مقابلے میں اس نوع کے سطحی اعتراضات علمی دنیا میں کوئی وزن نہیں رکھتے۔
    لہٰذا ضروری ہے کہ قارئین کسی بھی مصنف یا مقرر کے دعوے کو محض اعتماد اور خطابت کی بنیاد پر قبول نہ کریں، بلکہ اصل مصادر کی طرف رجوع کریں، مکمل نصوص کا مطالعہ کریں اور دیکھیں کہ آیا پیش کردہ استدلال پورے شواہد کا احاطہ کرتا ہے یا صرف منتخب اقتباسات کی بنیاد پر ایک مخصوص تاثر قائم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ حقائق کا یہی منصفانہ مطالعہ علمی دیانت کی بنیاد اور سنجیدہ تحقیق کا تقاضا ہے۔

                           و ما علینا الا البلاغ

                               ________________________