انت الصدیق الاکبر انا الصدیق الاکبر
نیم کالے جو روایات پیش کر رہے ہیں ان کے دو طرح کے الفاظ ہیں
انت الصدیق الاکبر
انا الصدیق الاکبر
جس روایت میں انت الصدیق الاکبر کے الفاظ ہیں اس کی سند میں محمد بن عبید اللہ بن ابی رافع ہے جو غا_لی را_فضی ہے ۔۔۔
لہذا روایت باطل
انا الصدیق الاکبر ۔۔۔والے الفاظ والی روایت کی سند میں عباد بن عبد اللہ الاسدی ۔۔۔ یہ منکر و متروک ، فیہ نظر عند البخاری ۔۔۔ لہذا روایت بھی مردود۔۔۔۔ اور اس کی باطل ہونے کی ایک وجہ اس میں موجود ایک علت ہے ملاحظہ ہو
وقوله: (صليت قبل الناس بسبع) هذا ليس بصحيح؛ لأن أبا بكر هو أول من أسلم من الرجال، وخديجة هي أول من أسلم من النساء، كذلك بلال تقدم إسلامه، وكون علي صلى قبل الناس بسبع سنين، هذا باطل سندًا ومتنًا.
وقال الذهبي في الميزان: هذا كأنه كذب على علي.
یعنی مولا علی کا قول “میں نے لوگوں سے سات سال پہلے نماز پڑھی”، یہ درست نہیں ہے؛ کیونکہ مردوں میں سب سے پہلے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اسلام لائے، اور عورتوں میں سب سے پہلے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا اسلام لائیں، اسی طرح حضرت بلال رضی اللہ عنہ کا اسلام لانا بھی پہلے کا ہے۔ اور یہ بات کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے سات سال پہلے نماز پڑھی، سند اور متن دونوں کے لحاظ سے باطل ہے۔
امام ذہبی نے اپنی کتاب ‘المیزان’ میں فرمایا ہے:
“یہ ایسا (کلام) ہے جیسے حضرت علی پر جھوٹ باندھا گیا ہو۔”
زوہیب علی
8 جون 2026