سیدنا زید بن حسن کا نقش 👇
مدینہ منورہ کے قریب پہاڑی چٹانوں پر دریافت ہونے والا یہ سیدنا زید بن حسن بن علی رضی اللہ عنہم کا نقش ہے، جو اہلِ بیت کے ان عظیم ائمہ کرام میں سے ہیں جو علم و عمل میں بلند مقام رکھتے تھے۔
ان کا ایک مشہور نقش اسی راستے پر موجود ہے جہاں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا نقش بھی دریافت ہوا ہے۔ یہ علاقہ دراصل حج کے ایک قدیم راستہ میں آتا ہے اور اس میں سینکڑوں نقوش موجود ہیں۔
سیدنا زید کے نقش میں درج ہے:
آمن زيد بن الحسن بالله وحده لا شريك له وشهد ألا إله إلا الله وحده وأن محمدا عبده ورسوله على ذلك يحيى ماحيي وعليه يموت إذا مات….
“زید بن حسن نے ایک اللہ پر ایمان رکھا جس کا کوئی شریک نہیں، اور گواہی دی کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے اور محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں۔ وہ اسی عقیدے پر زندہ رہے گا جب تک زندہ ہے اور اسی پر مرے گا جب اس کی موت آئے گی۔
اس کے بعد لکھا ہے:
اور وہ اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ آخرت میں انہیں رسول اللہ ﷺ کا قرب نصیب ہو، جیسے دنیا میں ان کے قریب کیا تھا۔ انہیں اللہ اپنے محبوبوں، برگزیدوں اور نیک بندوں میں شامل کرے۔ اے اللہ! ہمارے اس قیام گاہ میں برکت عطا فرما اور ہمیں اس کے شر اور ہر شر والے کے شر سے محفوظ رکھ۔”
اس میں سے ایسا کوئی عقیدہ نہیں لکھا جو شیعہ حضرات بیان کرتے ہیں ۔ نہ کلمے میں علی ولی اللہ لکھا نہ کسی امام یا امامت کا ذکر کیا۔
اگر شیعہ کلمہ اُس وقت ہوتا تو سیدنا ذید اپنے ائمہ کی غداری کبھی نہ کرتے وہ ضرور محمد رسول ﷲ کے بعد علی ولی وخلیفہ بلافصل لکھتے ۔ وہ ضرور یا علی مدد لکھتے مگر سیدنا ذید نے مدد صرف ﷲ سے مانگی اور کلمہ میں کسی قسم کی ذیادتی نہیں کی جس سے ثابت ہوا کہ شیعت کا اس وقت وجود بھی نہیں تھا ۔
یہودی ابن سبا علیؓ کے دور میں ضرور تھا۔ مگر کتب اور شیعہ احادیث  200 یا 300 سال بعد لکھنے شروع ہوئے ۔ اور ان کو ائمہ کے روایات کہہ کر منگڑت راویان تحریر کردی ۔
جنہوں نے اسلام کی شکل مکمل بدل دی۔
اور کیا ثبوت چاہئے آپ لوگوں کو کیا تم لوگ بھی یہودیوں کی طرح کہوں گے کہ خدا ہمیں خود بتائے تو ہم مانے گے ؟؟؟؟ 🙏