۹ – باب

باب

امام بخاری نے اس باب کا کوئی عنوان قائم نہیں کیا اور جس باب کا کوئی عنوان نہ ہو وہ گزشتہ ابواب کے ساتھ لاحق ہوتا ہے سو یہ باب بھی گزشتہ ابواب کے ساتھ لاحق ہے۔

٣٤٨- حَدَّثَنَا عَبْدَانُ قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُاللَّهِ قَال أَخْبَرَنَا عَوْفٌ عَنْ أَبِي رَجَاءٍ قَالَ حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بن حُصَيْنِ الْخزَاعِيُّ أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا مُعْتَزِلاً ، لَمْ يُصَلِّ فِي الْقَوْمِ فَقَالَ يَا فُلَانُ، مَا مَنَعَكَ اَنْ تُصَلِّيَ فِي الْقَوْمِ؟ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللهِ ، اَصَابَتْنِي جَنَابَةٌ وَلَا مَاءَ ، قَالَ عَلَيْكَ بِالصَّعِيدِ ، فَإِنَّهُ يَكْفِيكَ .

جامع المسانيد لابن الجوزی: ۵۸۳۸ مكتبة الرشد ریاض 1426ھ)

َ امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں عبدان نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں عبداللہ نے خبر دی، انہوں نے کہا: ہمیں عوف نے خبر دی از ابی رجاء، انہوں نے کہا: ہمیں عمران بن الحصين الخزاعی نے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا وہ الگ کھڑا ہوا تھا اس نے لوگوں کے ساتھ نماز نہیں پڑھی تھی آپ نے فرمایا: اے فلاں! تمہیں لوگوں کے ساتھ نماز پڑھنے سے کس چیز نے منع کیا؟ اس نے کہا: یارسول اللہ ! میں جنبی ہوچکا ہوں اور پانی نہیں ہے، آپ نے فرمایا: تم پاک مٹی کو لازم کرلو ( اس سے تیمم کرو ) وہ تمہیں کافی ہے۔

یہ حدیث اس طویل حدیث کا ایک قطعہ ہے جس کو امام بخاری نے صحیح البخاری : ۳۴۴ میں روایت کیا ہے اس کی مفصل شرح وہاں گزرچکی ہے۔ یہ” کتاب التیمم ” کی آخری حدیث ہے اور ہم نعمۃ الباری فی شرح صحیح البخاری کی جلد اول میں یہیں تک احادیث لانا چاہتے تھے اب نعمۃ الباری کی جلد ثانی ان شاء اللہ کتاب الصلوۃ“ سے شروع ہوگی۔

کتاب التیمم‘ کی تکمیل اور نعمۃ الباری کی جلد اول کا اختتام

الحمد لله رب العلمین! آج ۵ رجب 1427ھ / یکم اگست ۲۰۰۶، به روز منگل بعد نماز فجر ” کتاب التیمم ” کی تکمیل ہوگئی اور اس کے ساتھ ہی نعمۃ الباری کی جلد اول کی تکمیل بھی ہو گئی۔ الہ العلمین! جس طرح آپ نے اس جلد کی تکمیل کرادی ہے اس کی باقی جلدوں کو بھی مکمل کرادیں ( آمین )۔ ۱۳ ذوالج ۱۴۲۶ھ به روز جمعه نعمۃ الباری کی تصنیف کا آغاز کیا تھا، اس طرح تقریباً سات ماہ اور بیس دنوں میں یہ جلد مکمل ہوگئی میں جب سے لکھ رہا ہوں یہ جلد سب سے کم عرصہ میں مکمل ہوئی ہے، کیونکہ میں نے اس کو بہت سرعت اور تیز رفتاری کے ساتھ لکھا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ مجھے معلوم ہے کہ اب میرے پاس زندگی کا بہت کم وقت رہ گیا ہے اب میری عمر چاند کے حساب سے 71 سال ہوچکی ہے اس لیے میں چاہتا ہوں کہ جتنی بھی عمر باقی ہے اس میں زیادہ سے زیادہ اس شرح پر کام کرلوں اور اللہ کے فضل سے کوئی بعید نہیں کہ وہ اس شرح کو مکمل کرا دے اللہ تعالیٰ اس شرح کو قبول فرمائے اور اس کو تمام مسلمانوں کے نزدیک مقبول اور مفید بنا دے میری میرے والدین کی میرے اساتذہ کی میرے احباب کی اس کتاب کے ناشر کی اور تمام قارئین کی مغفرت فرما دے۔

وآخر دعوانا ان الحمد لله رب العلمين والصلوة والسلام على سيدنا محمد خاتم النبيين

قائد المرسلين وعلى آله واصحابه وازواجه وذرياته وامته اجمعين.