اجماع ہے کہ کائنات میں مطلق طور پر ‘الصدیق الاکبر’ صرف اور صرف سیدنا ابوبکر صدیق ہیں
*میرے رب محمدﷺ کی قسم کھا کر کہتا ہوں* کہ میں نے ان تفضیلیوں کے لہراائے گئے تمام **29 حوالوں** کی ایک ایک سند (Chain of Narrators) کی خود کتبِ رجال سے تصدیق کی ہے۔ یہ 29 مختلف روایات نہیں ہیں، بلکہ چند مہر شدہ کذاب، وضاع (حدیثیں گھڑنے والے) اور غالی رافضی راویوں کا پھیلایا ہوا ایک ہی جھوٹ ہے جسے الگ الگ کتابوں میں نقل کر کے جاہل عوام پر گنتی کا رعب جمایا جا رہا ہے کہ جی اہلسنت کی 29 کتابوں میں یہ روایت موجود ہے۔
*ابطالِ تفضیلیت اور 29 حوالوں کا علمی پوسٹ مارٹم: مہر شدہ کذابین کا سندی جنازہ!*
اصولِ حدیث کا اجماعی قانون ہے: **«إِنَّ الْمَوْضُوعَ وَالْبَاطِلَ لَا يَعْتَضِدُ بِكَثْرَةِ الطُّرُقِ»** (بے شک من گھڑت اور جھوٹی روایت کے راستے اور کتابیں جتنی بھی زیادہ کر دی جائیں، وہ کچرا ہی رہتی ہے، اسے کبھی ‘تواتر’ یا ‘حجت’ کا درجہ نہیں مل سکتا)۔
*آو سنیوں ائمہِ جرح و تعدیل کی عدالت سے ان 29 حوالوں کے اصل مجرموں کا وہ عبرت ناک سندی پوسٹ مارٹم* *کریں جس کا کوئی علمی توڑ ممکن ہی نہیں*
اگر کسی میں علمی دم خم ہے تو اسکا جواب دے اور کسی ایک سند کو صحیح ثابت کر دے‼️
## 1۔ عباد بن عبد اللہ الاسدی (ابن ماجہ و خصائصِ نسائی کا مرکزی راوی)
اس باطل نظریے کے داعی سنن ابن ماجہ (رقم 120) اور خصائصِ نسائی کی جس سند پر اچھلتے ہیں، اس کا مدار عباد بن عبد اللہ پر ہے۔ اس کے کذاب اور وضاع ہونے پر ائمہ کے قطعی فیصلے مع کتب و صفحات درج ذیل ہیں:
* **امام علی بن المدینی (استادِ امام بخاری) کا فیصلہ:**
> «قَالَ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ: عَبَّادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَسَدِيُّ ضَعِيفٌ، وَكَانَ يَضَعُ الْحَدِيثَ.»
> *(تہذیب التہذیب، حافظ ابن حجر عسقلانی، ج 5، ص 98، رقم الراوی: 3123، مطبوعہ دار الفکر)*
>
* **امام ابو جعفر العقیلی کا الضعفاء میں حکم:**
امام عقیلی نے استادِ امام بخاری کی اسی جرح کو ان الفاظ میں رقم فرمایا:
> «عَبَّادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَسَدِيُّ، نَقَلَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْمَدِينِيِّ أَنَّهُ قَالَ: كَانَ يَضَعُ الْحَدِيثَ.»
> *(الضعفاء الکبیر، امام عقیلی، ج 3، ص 328، رقم: 1357، دار الکتب العلمیہ)*
>
* **امام ابوبکر بن الجوزی کا کڑکدار فیصلہ:**
> «قَالَ ابْنُ الْجَوْزِيِّ: عَبَّادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَسَدِيُّ، رَوَى عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَحَادِيثَ مَنَاكِيرَ مَوْضُوعَةً… وَقَالَ الْبُخَارِيُّ: فِيهِ نَظَرٌ.»
> *(الضعفاء والمتروکین، ابن الجوزی، ج 2، ص 81، رقم: 1774، دار الکتب العلمیہ)*
> *(نوٹ: امام بخاری کے ہاں “فیہ نظر” کا صیغہ کذاب اور متروک راوی کے لیے نصِ صریح ہے)*
>
## 2۔ ابو مریم عبد الغفار بن قاسم (طبرانی اور فضائلِ احمد کا رافضی مجرم)
29 حوالوں کے پہاڑ میں جہاں بھی امام طبرانی کی المعجم الکبیر یا امام احمد کی فضائل الصحابہ کا نام لیا جاتا ہے، وہاں سند میں “ابو مریم عبد الغفار” چھپا بیٹھا ہے، جس کا پول ائمہ نے یوں کھولا:
* **امامِ اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کا تاریخی کوڑا:**
امام ابن عدی اور امام ذہبی نے امامِ اعظم کا یہ فیصلہ سندِ صحیح کے ساتھ نقل فرمایا ہے:
> «قَالَ أَبُو حَنِيفةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَبُو مَرْيَمَ عَبْدُ الْغَفَّارِ كَذَّابٌ، وَكَانَ يَضَعُ الْحَدِيثَ، وَهُوَ رَافِضِيٌّ.»
> *(الكامل في ضعفاء الرجال، ابن عدی، ج 6، ص 100، رقم: 1140 / میزان الاعتدال، حافظ ذہبی، ج 2، ص 640، رقم: 5143)*
>
* **امام یحییٰ بن معین (امام الجرح والتعدیل) کا فیصلہ:**
> «قَالَ ابْنُ مَعِينٍ: أَبُو مَرْيَمَ كَذَّابٌ لَيْسَ بِثِقَةٍ ولا مَأْمُونٍ.»
> *(تاریخ ابن معین – روایۃ الدوری، ج 3، ص 412، رقم: 2011)*
>
## 3۔ سلیمان بن عبد اللہ – ابو فاطمہ (تاریخِ دمشق اور الآحاد والمثانی کا اندھیرا)
ابن عساکر اور ابن ابی عاصم کے اسکینز دکھا کر جو مغالطہ دیا جاتا ہے، اس کا مدار سلیمان بن عبد اللہ ابو فاطمہ پر ہے، جس کی حقیقت خود امامِ فن نے بیان کر دی:
* **امام محمد بن اسماعیل بخاری کا ابدی طمانچہ:**
> «قَالَ الْبُخَارِيُّ: سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَبُو فَاطِمَةَ، عَنْ مُعَاذَةَ، لَا يُتَابَعُ عَلَيْهِ، وَفِيهِ نَظَرٌ، وَلَا يُعْرَفُ سَمَاعُهُ مِنْ مُعَاذَةَ.»
> *(التاريخ الكبير، امام بخاری، ج 4، ص 24، رقم: 1845، دار الصادر)*
> *(سماع ثابت نہ ہونے سے یہ سند منقطع اور راوی کے “فیہ نظر” ہونے سے صریح ساقط ثابت ہوئی)*
>
## 4۔ محمد بن عبید اللہ بن ابی رافع (مسند البزار اور ابن عقدہ کا کچرا)
مجمع الزوائد اور مسند البزار کے بقیہ طرق کا مدار اس راوی پر ہے جس کے بارے میں ائمہ فرماتے ہیں:
* **امام احمد بن شعیب النسائی کا فیصلہ:**
> «قَالَ النَّسَائِيُّ: مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ.»
> *(الضعفاء والمتروکین، امام نسائی، ص 92، رقم: 526، دار الوعی)*
>
## حتمی، قطعی اور مسکت سنی فیصلہ
جب ائمہِ جرح و تعدیل اور فنِ رجال کے سلاطین نے ان روایات کے بنیادی راویوں کو **”يضع الحديث”** (حدیثیں گھڑنے والا کذاب) اور **”متروک”** قرار دے دیا، تو ان روایات کو “صرف ضعیف” کہہ کر فضائل میں گھسیٹنا علمِ حدیث کے چہرے پر تھپڑ مارنے کے مترادف ہے۔
نبوت کے بعد کائنات میں مطلق طور پر **”الصدیق الاکبر”** کا آفاقی لقب صرف اور صرف **سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ** کا حصہ ہے۔ عقیدے اور مسلک کے اس اجماعی باب میں مجددِ اعظم اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان بریلوی کا صریح اور کٹر سنی فتویٰ **فتاویٰ رضویہ (جلد 15، ص 680)** میں لوہے کی لاٹ بن کر چمک رہا ہے:
> **”اہلِ سنت کا اس پر اجماع ہے کہ کائنات میں مطلق طور پر ‘الصدیق الاکبر’ صرف اور صرف سیدنا ابوبکر صدیق ہیں، اور سیدنا علی المرتضیٰ ‘صدیقِ اصغر’ ہیں۔ جو شخص اس ترتیب کو بدلے یا مولیٰ علی کو ابوبکر کے مقابلے میں ‘صدیقِ اکبر’ کہے، وہ تفضیلی، بدعتی اور گمراہ ہے۔”**
>
**حاصلِ کلام:** یہ 29 حوالے صرف علمی دنیا سے جاہل لوگوں پر رعب جمانے کے لیے پیش کیے جاتے ہیں۔ علمِ رجال کی چھلنی سے جب ان حوالوں کو چھانا جائے تو اندر سے امامِ اعظم اور امام بخاری کے مُہر شدہ کذاب برآمد ہوتے ہیں۔ لہٰذا، اس تفضیلی فتنہ گری کا علمی جنازہ چوک پر نکل چکا ہے اور اہلِ سنت کا بچہ بچہ اس سندی مکر سے واقف ہو چکا ہے!
نوکرِ پَنج تِن