👇🧐🤔موضوع:کیا حضرت عمر فاروق نے  خاتون جنت حضرت فاطمہ کے گھر کو جلایا تھا؟

 

سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیا حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے گھر کا دروازہ توڑا تھا اور گھر کو آگ لگائی تھی؟الزام لگانے والے کہتے ہیں کہ اس حادثے میں حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور ان کے بیٹے حضرت محسن  رضی اللہ تعالیٰ عنہ شہید ہوگئے تھے،کیا یہ سچ ہے؟

─── ◈☆◈ ───

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق وا لصواب

یہ دونوں باتیں بہتان عظیم ہیں۔ہرگز حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا گھر نہیں جلایا اور نہ ہی ان کو یا ان کے شہزادے کو شہید کیا۔حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فقط گھر جلانے کی دھمکی دی تھی اور یہ ایک فتنے کو ختم کرنے کے لیے دی تھی اور وہ بھی لوگوں کو دھمکی دی تھی نہ کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو ۔وجہ یہ تھی کہ  کئی لوگوں نے حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے آکر کہا تھا کہ آپ خلافت کے حقدار زیادہ  ہیں اور حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان لوگوں کی تردید کی تھی ۔ بعض لوگ حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی اجازت کے بغیر ان کے گھر آتے تھے اور اس طرح کی باتیں کرتے تھے، یہی وجہ ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے الفاظ میں یہ ہے کہ میں ان پرگھر کو آگ لگا دوں گا۔الزام لگانے والوں کی اپنی کتب میں بھی یہی ثابت ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فقط دھمکی دی تھی اور انہی کی کتب سے یہ بھی ثابت ہے کہ نہ حضرت فاطمہ کو شہید کیا گیا اور نہ ہی حضرت محسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو۔

مصنف ابن ابی شیبہ میں ہے

’’محمد بن بشر نا عبید اللہ بن عمر حدثنا زید بن أسلم عن أبیہ أسلم أنہ حین بویع لأبی بکر بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کان علی والزبیر یدخلان علی فاطمۃ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فیشاورونہا ویرتجعون فی أمرہم ، فلما بلغ ذلک عمر بن الخطاب خرج حتی دخل علی فاطمۃ فقال: یا بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم،واللہ ما من أحد أحب إلینا من أبیک وما من أحد أحب إلینا بعد أبیک منک وایم اللہ ما ذاک بمانعی إن اجتمع ہؤلاء النفر عندک ; أن أمرتہم أن یحرق علیہم البیت ، قال: فلما خرج عمر جاء وہا فقالت: تعلمون أن عمر قد جاء نی وقد حلف باللہ لئن عدتم لیحرقن علیکم البیت وایم اللہ لیمضین لما حلف علیہ فانصرفوا راشدین فروا رأیکم ولا ترجعوا إلی فانصرفوا عنہا فلم یرجعوا إلیہا حتی بایعوا لأبی بکر‘‘

یعنی زید بن اسلم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جب حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال کے بعد حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیعت کی گئی تو حضرت علی اور  حضر ت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہما حضرت فاطمہ بنت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھر میں داخل ہوئے اورلوگ اپنے مسائل میں ان سے مشورے اور التجائیں کرتے تھے۔ جب حضرت عمرفاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اس کی خبر ہوئی تو آپ اپنے گھر سے نکلے اور حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے گھر آئے اور فرمایا: اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیٹی! اللہ عزوجل کی قسم آپ کے والد سے بڑھ کر ہمیں کوئی محبوب نہیں اور ان کے بعد آپ سے بڑھ کرہمیں کوئی محبوب نہیں۔اللہ عزوجل کی قسم مجھے اس بات سے کوئی چیز مانع نہیں ہے کہ اگر یہ مجمع آپ کے  گھر اکٹھا ہوتو میں ان کو حکم دوں کہ ان پر اس گھر کو آگ لگادی جائے۔جب حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ چلے گئے تو  وہ لوگ بی بی فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا کے پاس آئے۔تو حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ان سے  فرمایا: جانتے ہومیرے پاس عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ آئے تھے اور وہ خدا کی قسم کھا کرگئے ہیں کہ اگر تم یہاں رہے تو تم پر اس گھر کو آگ لگا دوں گا۔ اللہ کی قسم جو وہ قسم کھاتے ہیں اسے ضرور کردیتے ہیں۔ تم سمجھداری سےلوٹ جاؤاورخود ہی اپنے معاملہ پر غورکرو، میری طرف واپس نہ آنا۔  تو وہ سب چلے گئے اور جب تک ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیعت نہ کی واپس نہ آئے۔

(الکتاب المصنف فی الأحادیث والآثار،کتاب المغازی ،ما جاء فی خلافۃ أبی بکر وسیرتہ فی الردۃ،جلد7،صفحہ432،مکتبۃ الرشد ،الریاض)

اسی سند کے ساتھ جو فضائل الصحابۃ میں ابو عبد اللہ احمد بن محمد بن حنبل بن ہلال بن اسد الشیبانی (المتوفی241ھ)رحمۃ اللہ علیہ نے روایت کی ہے اس میں گھر جلانے کی دھمکی بھی نہیں ہے

’’ حدثنا محمد بن إبراہیم قثنا أبو مسعود قال: نا معاویۃ بن عمرو قثنا محمد بن بشر، عن عبید اللہ بن عمر، عن زید بن أسلم، عن أبیہ قال: لما بویع لأبی بکر بعد النبی صلی اللہ علیہ وسلم، کان علی والزبیر بن العوام یدخلان علی فاطمۃ فیشاورانہا، فبلغ عمر فدخل علی فاطمۃ فقال: یا بنت رسول اللہ، ما أحد من الخلق أحب إلینا من أبیک، وما أحد من الخلق بعد أبیک أحب إلینا منک، وکلمہا، فدخل علی والزبیر علی فاطمۃ فقالت: انصرفا راشدین، فما رجعا إلیہا حتی بایعا‘‘

یعنی زید بن اسلم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جب حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال کے بعد حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیعت کی گئی تو حضرت علی اور حضر ت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہما حضرت فاطمہ بنت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھر میں داخل ہوئے اور حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا سے مشاورت کی۔ جب حضرت عمرفاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اس کی خبر ہوئی تو آپ حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے گھر آئے اور فرمایا: اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیٹی! اللہ عزوجل کی قسم آپ کے والد سے بڑھ کرہمیں کوئی محبوب نہیں اور ان کے بعد آپ سے بڑھ کر ہمیں کوئی محبوب نہیں اور آپ نے حضرت فاطمہ سے کلام کیا ۔ پھر جب حضرت علی اور زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہماحضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس آئے توحضرت فاطمہ نے کہا:آپ جائیں اور سمجھداری سے کام لیں ۔پھر یہ دونوں حضرات تب تک نہ لوٹے جب تک انہوں نے حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیعت نہ کرلی۔ (فضائل الصحابۃ،ومن فضائل عمر بن الخطاب من حدیث أبی بکر بن مالک، عن مشایخہ غیر عبد اللہ بن أحمد۔۔ جلد1، صفحہ364،مؤسسۃ الرسالۃ ،بیروت)

شا ہ عبدالعزیز محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ  اس حوالے سے لکھتے ہیں:

’’یہ قصہ بالکل واہی اور بہتان اور سراسر افتراء ہے، اس کی کچھ اصل نہیں۔ اسی واسطے اکثر امامیہ قائل اس قصے کے نہیں ہیں اور کہتے ہیں کہ قصد مکان مبارک جلانے کا کیا تھا لیکن جلایا نہیں۔ ظاہر ہے کہ قصدامور قلبیہ سے ہے کہ سوائے اللہ تعالیٰ کے اس سے کوئی واقف نہیں ہوتا۔ اگر مراد اُن کی قصد سے زبانی ڈرانا دھمکانا ہے کہ جلادوں گا تو اس کی وجہ یہ ہے کہ اس دھمکی سے ان لوگوں کا ڈرانا منظور تھا کہ ہر اہل خیانت نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے مکان کو امن و پناہ کی جگہ جان کر حکم حرم مکہ معظمہ کا دیا تھا۔ اور وہاں جمع ہو کر خلیفہ اول کے خلاف لوٹ پوٹ کرنے کے واسطے صلاحیں اور مشورے فساد انگیز کرتے تھے اور فساد و فتنے اٹھانا چاہتے تھے۔ حضرت زہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہا بھی ان کی اس نشست و برخاست سے مکدر ناخوش تھیں،لیکن بسبب کمال حسن خلق کے ظاہر ان سے نہیں فرماتی تھیں کہ ہمارے گھر مت آؤ۔ عمر بن خطاب جب یہ حال دیکھا تو اس گروہ سے دھمکا کر کہا کہ میں اس گھر کو تم پر جلادوں گا کہ پھرنہ آنے جانے پاؤ اور خصوصیت جلانے کی اس تہدید میں موافق حدیث آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اسی سے مستنبط ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان لوگوں کوجو جماعت میں حاضر نہیں ہوتے تھے اور امام کے پیچھے نماز نہیں پڑھتے تھے ایسا ہی ارشاد فرمایا تھا کہ اگر یہ گروہ ترک جماعت سے باز نہ آئے تو میں ان کا گھر ان پر پھونک دوں گا اور چونکہ ابوبکر بھی امام نماز مقررکئے ہوئے حضرت پیغمبر کے تھے اور وہ لوگ ان کی امامت بحق کو ترک کرنا تجویز کرتے تھے اور رفاقت جماعت مسلمانوں کی اس امر میں نہیں کرتے تھے ۔پس یہ قول حضرت عمر کا بھی مشابہ قول پیغمبر کے ہے۔۔۔‘‘

(تحفۃ اثنا عشریۃ(مترجم)،صفحہ605،606،انجمن تحفظ ناموس اسلام ،کراچی)

الزام لگانے والوں کی اپنی کتاب احتجاجِ طبرسیمیں ہے:

” اس وقت عمر بن خطاب نے آگ او ر لکڑی منگائی اور کہا اس خدا کی قسم جس کے اختیار میں میری جان ہے، ان کو ضرور بالضرور گھر سے نکلنا پڑے گا ،اگر نہ نکلے تو گھر کو اہل خانہ کے ساتھ جلادوں گا۔ کچھ لوگوں نے کہا یہ کام درست نہیں ہے کیونکہ دختر پیغمبر گرامی فاطمہ زہر رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور اولا د رسول وآثار پیغمبر علیہ السلام اس گھر میں موجود ہیں ،ایسا کام اس گھر کی نسبت ہرگز صحیح نہیں ہے۔

جب عمر بن خطاب نے لوگوں کی مخالفت و بیزاری دیکھی تو کہا میرا مقصد صرف ڈرانا اور دھمکانا تھا نہ کہ اس پر عمل کرنا اور اقدام کرنا۔“(احتجاج طبرسی،صفحہ145،ادارہ تحفظ حسینیت ،لاہور)

الزام لگانے والوں کا اپنا امام ملا باقر مجلسی  اپنی کتاب بحارالانوار کی جلد 38 میں روایت نقل کرتا ہے کہ اس دور میں اہل بیت کے دروازے ہی نہیں ہوتے تھے (پھر حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کس دروزاے کو توڑا اور حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر گرایا؟)چنانچہ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا فرمان نقل کرتا ہے

”و نحن اہل بیت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لا سقوف لبیوتنا ولا ابواب ولا ستور الا الجرائد و ما اشبہھا“ترجمہ:ہم اہل بیت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نہ گھروں کی چھتیں ہوتیں اور نہ ہی دروازے سوائے اس کے جو جرائد(کھجور کے پتے سے بنا ہوا)یا س سے مشابہ بنے ہوئے ہوں۔(بحارالانور،جلد38،صفحہ175،داراحیاء التراث العربی،بیروت)

مزید حق الیقین میں باقر مجلسی لکھتا ہے:

”عمر مکان میں داخل ہوئے اور امیر المؤمنین(حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ) سے کہا کہ اٹھو اور چل کر بیعت کرو۔ حضرت نے انکار کیا تو حضرت کا ہاتھ پکڑ کر کھینچا اور خالد کے ہاتھ میں دیا اور تمام منافقین نے ہجوم کیا اور ان لوگوں کو نہایت سختی سے کھینچا ۔لوگ مدینہ کے راستوں پر جمع تھے اور دیکھ رہے تھے اور جناب فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بنی ہاشم وغیرہ کی بہت سے عورتوں کے ساتھ باہر نکلیں اور نالہ و فریاد کی آوازیں بلند ہوئیں۔ جناب فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ابوبکر کو ندادی اور کہا کہ خوب خانہ اہلبیت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو غارت کررہے ہو۔ خدا کی قسم میں تم سے ایک حرف بات نہ کروں گی۔ یہاں تک کہ خدا سے ملاقات کروں۔ جب علی و زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے بیعت کی اور یہ فتنہ ختم ہوا۔ ابوبکر آئے اور عمر کی سفارش کی اور فاطمہ ان سے راضی ہوگئیں۔“ (حق الیقین (مترجم)،صفحہ303،مجلس علمی اسلامی ،پاکستان)

اپنے عقیدہ پر گڑھی اسی آخری روایت میں بھی الزام لگانے والے خود ہی اقرار کررہے ہیں کہ ایسا کوئی واقعہ نہیں ہوا جس میں دروازہ توڑا اور گھر جلا کر حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو شہید کیا گیا ہو۔

واللہ اعلم  عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم

ابو احمد مفتی  محمد انس رضا قادری

Irfan Qadri Madni