صحیح مسلم میں موجود حدیث کساء روایت کی  نکارت اور تمام طرق کا تحقیقی جائز!

اور حدیث کساء کے اصل و محفوظ متن کی نشاندہی!

حدیث کساء کا اصل متن سب سے آخر میں بیان کرینگے ۔

 

لیکن جو سند اسکا معروف صحیح مسلم میں حضرت عائشہ رضی اللہ کی طرف اور صحاح ستہ کی دیگر کتب میں حضرت ام سلمہ رضی اللہ کی طرف منسوب ہے یہ منکر اور غیر ثابت ہے ۔

 

پہلی روایت جو صحیح مسلم میں ہے ۔

جسکی سند و متن درج ذیل ہے:

حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة ، ومحمد بن عبد الله بن نمير ، واللفظ لابي بكر، قالا: حدثنا محمد بن بشر ، عن زكرياء ، عن مصعب بن شيبة ، عن صفية بنت شيبة ، قالت: قالت عائشة : ” خرج النبي صلى الله عليه وسلم غداة، وعليه مرط مرحل من شعر اسود، فجاء الحسن بن علي، فادخله، ثم جاء الحسين فدخل معه، ثم جاءت فاطمة فادخلها، ثم جاء علي فادخله، ثم قال: إنما يريد الله ليذهب عنكم الرجس اهل البيت ويطهركم تطهيرا

 

ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کو نکلے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک چادر اوڑھے ہوئے تھے جس پر کجاووں کی صورتیں یا ہانڈیوں کی صورتیں بنی ہوئی تھیں۔ اتنے میں سیدنا حسن رضی اللہ عنہ آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اس چادر کے اندر کر لیا۔ پھر سیدنا حسین رضی اللہ عنہ آئے تو ان کو بھی اس میں داخل کر لیا۔ پھر سیدہ فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا آئیں تو ان کو بھی انہی کے ساتھ شامل کر لیا پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ آئے تو ان کو بھی شامل کر کے فرمایا: «إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا» ”اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ تم سے ناپاکی کو دور کرے اور تم کو پاک کرے اے گھر والو۔“ (الاحزاب: 33)۔

[صحیح مسلم ]

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

اس روایت کے مطابق حضور اکرمﷺ حضرت عائشہ رضی اللہ کے گھر میں تھے اور یہ صبح کا وقت تھا۔ اور پھر اچانک انکے گھر باری باری حسنین کریمین ، اور حضرت فاطمہ رضی  اللہ و مولا علی رضی اللہ آگئے ۔ اور پھر  اس آیت کی تلاوت کی ۔

 

علت:

روایت معلول اور متن کے اعتبار سے منکر ہے یعنی صحیح روایت کے خلاف ہے ۔

روایت کی سند میں مصعب بن شيبة  جسکا تفرد ہے اس سند میں  اور یہ راوی اس قابل نہیں کہ اسکا تفرد قبول کیا جائے

 

نیز امام احمد بن حنبل نے اس راوی کی مذکورہ روایت کو منکر قرار دیا ہوا ہے ۔

جیسا کہ ابن ھانی روایت کرتے ہیں :

قال أحمد بن محمد بن هانىء: ذكرت لأبي عبد الله الوضوء من الحجامة، فقال: ذاك حديث منكر، رواه مصعب بن شيبة، أحاديثه مناكير، منها هذا الحديث، وعشيرة من الفطرة، وخرج رسول الله – صلى الله عليه وسلم – وعليه مرط مرجل

احمد بن محمد بن ہانی کہتے ہیں: میں نے ابو عبداللہ (امام احمد بن حنبل) کے سامنے پچھنا لگوانے (حجامہ) سے وضو ٹوٹنے کا ذکر کیا، تو انہوں نے فرمایا: یہ حدیث منکر  ہے، اسے مصعب بن شیبہ نے روایت کیا ہے جس کی احادیث منکر ہوتی ہیں۔

ان منکر احادیث میں سے ایک یہ (حجامہ والی) حدیث ہے،

دوسری ‘دس چیزیں فطرت میں سے ہیں’ والی حدیث ہے،

اور تیسری یہ کہ ‘رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے جبکہ آپ پر دھاری دار اونی چادر تھی’ (یعنی حدیث کساء)

[موسوعة أقوال الإمام أحمد بن حنبل]

 

امام احمد کے علاوہ بقیہ ناقدین کا کلام اس راوی پر درج ذیل ہے :

• أبو أحمد بن عدي الجرجاني : تكلموا في حفظه

• أبو حاتم الرازي : لا يحمدونه وليس بقوي

• أبو دواد السجستاني : ضعيف

• أبو زرعة الرازي : ليس بقوي

• أحمد بن حنبل : روى أحاديث مناكير

• أحمد بن شعيب النسائي : منكر الحديث، ومرة: في حديثه شيء

• أحمد بن صالح الجيلي : ثقة

• ابن حجر العسقلاني : لين الحديث

• الدارقطني : ليس بالقوي ولا بالحافظ، ومرة قال: ضعيف

• الذهبي : فيه ضعف

• يحيى بن معين : ثقة

 

اور ایسا منکر الحدیث راوی جو ہو بھی قلیل الحدیث اور اسکا تفرد امام مسلم اپنی صحیح میں لے کر آگئے ۔۔۔

 

جیسا کہ امام ابن سعد اس راوی کے بارے کہتے ہیں :

وقال محمد بن سعد: كان قليل الحديث

[تهذيب الكمال (28/ 31)]

وقال ابن سعد: كان قليل الحديث

[تهذيب التهذيب (4/ 85)]

 

تو صحیح مسلم میں اس روایت  کی سند بھی ضعیف ہے اسکا کوئی متابع نہیں۔ اور متن بھی صحیح روایت کے خلاف ہے جسکو آخر میں ہم پیش کرینگے ۔ پس بیشک حضرت عائشہ رضی اللہ کی طرف یہ متن منسوب کرنے میں اس ضعیف اور صاحب منکرات راوی کا تفرد ہے ۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

دوسری روایت :

امام ترمذی  نقل کرتے ہیں  جس میں یہ قصہ ہے کہ یہ آیت حضرت ام سلمہ کے گھر میں نازل ہوئی تھی۔ اور سب لوگ انکے گھر میں جمع ہوئے تھے ۔

حدثنا قتيبة، قال: حدثنا محمد بن سليمان بن الأصبهاني، عن يحيى بن عبيد، عن عطاء بن أبي رباح، عن عمر بن أبي سلمة، ربيب النبي صلى الله عليه وسلم قال: لما نزلت هذه الآية على النبي صلى الله عليه وسلم {إنما يريد الله ليذهب عنكم الرجس أهل البيت ويطهركم تطهيرا} في بيت أم سلمة، فدعا فاطمة وحسنا وحسينا فجللهم بكساء، وعلي خلف ظهره فجلله بكساء ثم قال: اللهم هؤلاء أهل بيتي فأذهب عنهم الرجس وطهرهم تطهيرا. قالت أم سلمة: وأنا معهم يا نبي الله، قال: أنت على مكانك وأنت على خير.

هذا حديث غريب من هذا الوجه من حديث عطاء، عن عمر بن أبي سلمة.

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زیر پرورش عمر بن ابی سلمہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب آیت «إنما يريد الله ليذهب عنكم الرجس أهل البيت ويطهركم تطهيرا» ”اللہ تعالیٰ یہی چاہتا ہے کہ اے نبی کی گھر والو! تم سے وہ (ہر قسم کی) گندگی کو دور کر دے اور تمہیں خوب پاک کر دے“ (الاحزاب: ۳۳)، ام سلمہ رضی الله عنہا کے گھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی تو آپ نے فاطمہ و حسن حسین (رضی الله عنہم) کو بلایا اور انہیں ایک چادر کے نیچے ڈھانپ دیا، علی رضی الله عنہ آپ کی پیٹھ کے پیچھے تھے آپ نے انہیں بھی چادر کے نیچے کر لیا، پھر فرمایا: ”اے اللہ یہ ہیں میرے اہل بیت، میرے گھر والے، ان سے ناپاکی دور کر دے اور انہیں ہر طرح کی آلائشوں سے پوری طرح پاک و صاف کر دے“، ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں: اور میں بھی انہیں کے ساتھ ہوں، اے اللہ کے رسول؟ آپ نے فرمایا: ”تم اپنی جگہ ہی ٹھیک ہو، تمہیں خیر ہی کا مقام و درجہ حاصل ہے“ ۱؎۔

امام ترمذی کہتے ہیں:

یہ حدیث اس سند سے جسے عطاء عمر بن ابی سلمہ سے روایت کرتے ہیں غریب ہے۔

[سنن الترمذی]

یہی وجہ ہے کہ امام ترمذی نے اس روایت کو عطاء کے طریق سے عمر بن ابی سلمہ سے بیان کرنے کو فقط غریب قرار دیا ہے ۔ کیونکہ اس طریق کو  یحیی بن عبید کے زریعہ عطاء سے بیان کرنے میں  محمد بن سليمان بن الأصبهاني کا تفرد ہے ۔ اور یہ اس قابل نہیں کہ اسکا تفرد مقبول ہو ۔

 

ائمہ کا کلام اس راوی کے بارے درج ذیل ہے :

• أبو أحمد بن عدي الجرجاني : مضطرب الحديث، قليل الحديث، ومقدار ما له قد أخطأ في غير شيء منه

• أبو حاتم الرازي : لا بأس به، يكتب حديثه، لا يحتج به

• أبو حاتم بن حبان البستي : يخالف ويخطئ

• أبو دواد السجستاني : ضعيف الحديث

• أحمد بن شعيب النسائي : ضعيف

• أحمد بن صالح الجيلي : ثقة

• ابن حجر العسقلاني : صدوق يخطئ

• محمد بن إسماعيل البخاري : مقارب الحديث

• مصنفوا تحرير تقريب التهذيب : ضعيف يعتبر به في المتابعات والشواهد

تو ایسے راوی کی روایت کیسے قبول ہو سکتی ہے ۔ اور صاحب منکرات اور ضعیف ہونے کےساتھ ساتھ قلیل الحدیث بھی ہو ۔

 

__________________________________________________________________

 

تیسری روایت :

حدثنا عبد بن حميد، قال: حدثنا عفان بن مسلم، قال: حدثنا حماد بن سلمة، قال: أخبرنا علي بن زيد، عن أنس بن مالك، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يمر بباب فاطمة ستة أشهر إذا خرج إلى صلاة الفجر يقول: الصلاة يا أهل البيت {إنما يريد الله ليذهب عنكم الرجس أهل البيت ويطهركم تطهيرا} .

هذا حديث حسن غريب من هذا الوجه، إنما نعرفه من حديث حماد بن سلمة.

 

انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فاطمہ رضی الله عنہا کے دروازے کے سامنے سے چھ مہینے تک گزرتے رہے، جب فجر کے لیے نکلتے تو آپ کا معمول تھا کہ آپ آواز دیتے «الصلاة يا أهل البيت» ”اے میرے گھر والو! نماز فجر کے لیے اٹھو“ «إنما يريد الله ليذهب عنكم الرجس أهل البيت ويطهركم تطهيرا» ”اللہ چاہتا ہے کہ تمہاری نجاست تم سے دور کر دے اور تمہیں پورے طور پر پاک کر دے“۔

امام ترمذی کہتے ہیں:

۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ہم اسے صرف حماد بن سلمہ کی روایت سے ہی جانتے ہیں۔

[سن ترمذی ]

 

یہ روایت بھی  منکر ہے ۔ حضرت انس کے جید ثقہ تلامذہ تھے ۔ لیکن یہ روایت کسی کے پاس بھی نہ تھی سوائے  علی بن زید بن جدعان ضعیف شیعہ راوی کے علاوہ ۔

 

اور ائمہ کا کلام اس پر درج ذیل ہے :

• أبو أحمد الحاكم : ليس بالمتين عندهم

• أبو أحمد بن عدي الجرجاني : كان يغلو في التشيع، ومع ضعفه يكتب حديثه

• أبو الحسن بن القطان الفاسي : جملة أمره أنه كان يرفع الكثير مما يقفه غيره واختلط أخيرا ولا يتهم بالكذب

• أبو بكر البيهقي : ليس بالقوي

• أبو جعفر العقيلي : أورد له حديثا لا يتابع عليه أحد

• أبو حاتم الرازي : ليس بقوي، يكتب حديثه ولا يحتج به

• أبو حاتم بن حبان البستي : كان شيخا جليلا وكان يهم في الأخبار ويخطء في الآثار حتى كثر ذلك في أخباره وتبين فيها المناكير التي يرويها عن المشاهير فاستحق ترك الاحتجاج به

• أبو زرعة الرازي : ليس بقوي

• أبو عيسى الترمذي : صدوق، إلا أنه ربما رفع الشيء الذي يوقفه غيره

• أحمد بن حنبل : ليس بالقوي، ومرة: ليس بشيء، ومرة: ضعيف الحديث

• أحمد بن شعيب النسائي : ضعيف

• أحمد بن صالح الجيلي : يكتب حديثه وليس بالقوي لا بأس به

• إبراهيم بن يعقوب الجوزجاني : واهي الحديث ضعيف فيه ميل عن القصد لا يحتج بحديثه، ومرة: بصري واهي الحديث ضعيف لا يحتج بحديثه

• ابن حجر العسقلاني : ضعيف لا يحسن حديثه إلا بالمتابعة والشواهد، وذكره في المطالب العالية، سيء الحفظ

• الدارقطني : فيه لين

• الذهبي : أحد الحفاظ وليس بالثبت

• حماد بن زيد الجهضمي : حدثنا وكان كثير التخليط، ومرة: كان يقلب الأسانيد، كأنه ليس بذاك

• زكريا بن يحيى الساجي : من أهل الصدق وليس يجري مجرى من أجمع على ثبته

• سفيان بن عيينة : كتبت عنه كتابا كبيرا فتركته زهدا فيه

• شعبة بن الحجاج : كان رفاعا ومرة: حدثنا قبل أن يختلط

• عبد الباقي بن قانع البغدادي : خلط في آخر عمره وترك حديثه

• علي بن المديني : ضعيف عندنا

• عماد الدين بن كثير الدمشقي : عنده مناكير

• محمد بن إسحاق بن خزيمة : لا أحتج به لسوء حفظه

• محمد بن إسماعيل البخاري : لا يتابع في حديثه

• محمد بن سعد كاتب الواقدي : كثير الحديث وفيه ضعف ولا يحتج به

• وهيب بن خالد : ضعفه

• يحيى بن سعيد القطان : يتقى الحديث عنه

• يحيى بن معين : ليس بذاك القوي، ومرة: بصري ضعيف، ومرة: ضعيف في كل شيء، ومرة: ليس بشيء، ومرة: ليس بحجة، ومرة: سئل عن عاصم بن عبد الله وابن عقيل وعلي بن زيد بن جدعان فقال علي بن زيد أحبهم إلي

• يزيد بن زريع العيشي : لم أحمل عنه فإنه كان رافضيا

• يعقوب بن سفيان الفسوي : اختلط في كبره

• يعقوب بن شيبة السدوسي : ثقة صالح الحديث وإلى اللين ما هو

ایسی روایت جسکو علی بن زید صاحب مناکیر جو مشہور ثقہ شیوخ سے مناکیر بیان کرنے میں منفرد تھا اور اس سبب قابل ترک ہوا۔ اسکا تفرد ایسی روایت میں کیسے قبول کیا جا سکتا ہے ؟

__________________________________________________________________

 

چوتھی روایت:

حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا ابو احمد الزبيري، حدثنا سفيان، عن زبيد، عن شهر بن حوشب، عن ام سلمة، ان النبي صلى الله عليه وسلم جلل على الحسن , والحسين , وعلي , وفاطمة كساء، ثم قال: ” اللهم هؤلاء اهل بيتي وخاصتي اذهب عنهم الرجس , وطهرهم تطهيرا “، فقالت ام سلمة: وانا معهم يا رسول الله؟ قال: ” إنك إلى خير “. قال ابو عيسى: هذا حديث حسن صحيح، وهو احسن شيء روي في هذا الباب، وفي الباب عن عمر بن ابي سلمة، وانس بن مالك، وابي الحمراء، ومعقل بن يسار، وعائشة.

ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حسن، حسین، علی اور فاطمہ رضی الله عنہم کو ایک چادر سے ڈھانپ کر فرمایا: «‏‏‏‏اللهم هؤلاء أهل بيتي وخاصتي أذهب عنهم الرجس وطهرهم تطهيرا» ”اے اللہ! یہ میرے اہل بیت اور میرے خاص الخاص لوگ ہیں، تو ان سے گندگی کو دور فرما دے، اور انہیں اچھی طرح سے پاک کر دے“، تو ام سلمہ رضی الله عنہا بولیں: اور میں بھی ان کے ساتھ ہوں اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: ”تو (بھی) خیر پر ہے“۔

امام ترمذی کہتے ہیں:

۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے اور اس باب میں جو حدیثیں مروی ہیں ان میں سب سے اچھی ہے،

[سنن الترمذی ]

 

نوٹ: امام ترمذی نے اس روایت کی سند کو تمام روایات کی اسناد پر مقدم کیا ہے ۔ یعنی امام ترمذی کے نزدیک بھی صحیح مسلم کا طرق صحیح نہیں تھا۔

اور جس روایت کو امام ترمذی نے حسن صحیح کہا یہ بھی معلول ہے  خفی علت کے سبب ۔

کیونکہ اس روایت کو امام سفیان ثوری سے روایت کرنے میں محمد بن عبد الله الزبيرى، أبو أحمد کا تفرد ہے ۔ اور یہ امام سفیان ثوری سے روایت کرنے میں شدید ضعیف تھا۔ منکرات روایت کرنے کے سبب

 

اس پر اس حوالے سے ائمہ کا کلام درج ذیل ہے:

• أحمد بن حنبل : كثير الخطأ في حديث سفيان

• ابن حجر العسقلاني : ثقة ثبت إلا أنه قد يخطىء في حديث الثوري

نیز شهر بن حوشب راجح تحقیق میں ضعیف اور صاحب منکرات راوی ہے پہلے میں اسکو حسن الحدیث سمجھتا تھا ۔ لیکن یہ کثرت سے مناکیر بیان کرنے والا راوی ہے ائمہ کے نزدیک اور جسکے سبب اسکے تفرد کی کثرت کی وجہ سے منکر االحدیث قرار پایا ۔

 

ائمہ کا کلام شھر بن حوشب پر درج ذیل ہے:

• أبو أحمد الحاكم : ليس بالقوي عندهم

• أبو أحمد بن عدي الجرجاني : ليس بالقوي في الحديث وهو ممن لا يحتج بحديثه ولا يتدين به

• أبو الحسن بن القطان الفاسي : لم أسمع لمضعفه حجة

• أبو بشر الدولابي : أحاديثه لا تشبه أحاديث الناس

• أبو بكر البيهقي : ضعيف

• أبو حاتم الرازي : لا يحتج بحديثه

• أبو حاتم بن حبان البستي : ممن يروي عن الثقات المعضلات وعن الأثبات المقلوبات

• أبو زرعة الرازي : لا بأس به

• أبو محمد بن حزم الظاهري : ساقط

• أحمد بن حنبل : حسن الحديث، ومرة: ثقة، ومرة: لا بأس به

• أحمد بن شعيب النسائي : ليس بالقوي

• أحمد بن صالح الجيلي : ثقة

• إبراهيم بن يعقوب الجوزجاني : ضعيف

• ابن حجر العسقلاني : صدوق كثير الإرسال والأوهام

• الدارقطني : يخرج حديثه، وذكره في السنن وقال: ليس بالقوي

• زكريا بن يحيى الساجي : فيه ضعف وليس بالحافظ

• شعبة بن الحجاج : لقيته فلم أعتد به

• صالح بن محمد جزرة : لم يوقف منه على كذب، وكان رجلا يتنسك إلا أنه روى أحاديث يتفرد بها

• عبد الله بن عون البصري : نزكوه أي طعنوا فيه

• علي بن المديني : لا أدع حديثه

• محمد بن إسماعيل البخاري : حسن حديثه وقوى أمره

• محمد بن جرير الطبري : فقيه قارئ عالم

• محمد بن عمار الموصلي : ما أعلم أحدا قال فيه غير شعبة قيل: يكون حديثه حجة ؟ قال: لا

• موسى بن هارون الحمال : ضعيف

• يحيى بن سعيد القطان : لم يكن يحدث عنه

• يحيى بن معين : ثقة، ومرة: ثبت

• يعقوب بن سفيان الفسوي : إن شهرا نزكوه فهو ثقة

• يعقوب بن شيبة السدوسي : ثقة مع طعن البعض فيه

اور یہی راجح  ہے ۔ جیسا کہ امام ابن حجر عسقلانی کہتے ہیں :

شهر بن حوشب الأشعري، الشامي، مولى أسماء بنت يزيد بن السكن: صدوق كثير الإرسال والأوهام،

شہر بن حوشب اشعری، شامی، اسماء بنت یزید بن سکن کے مولیٰ: صدوق تھے لیکن کثرت سے ارسال اور وہم کرتے تھے۔

یعنی کثیر الارسال کے ساتھ کثیر الوھام بھی تھے ۔

اور علامہ شعیب الارنووط حاشیہ میں کہتے ہیں :

لو قال: ضعيف يعتبر به، لكان أحسن، إذ لا يحتج بشهر إذا انفرد، ولكن يعتبر به في المتابعات والشواهد، وهو كما قال المصنف كثير الإرسال والأوهام، وقد ضعفه يحيى بن سعيد، وشعبة، والجوزجاني، وموسى بن هارون، وأبو حاتم الرازي، وابن حبان، وابن عدي – بعد أن سبر حديثه -، والدارقطني، والساجي، وأبو أحمد الحاكم، وغيرهم. ولكن حسن الرأي فيه البخاري، وأحمد بن حنبل، وأبو زرعة الرازي. ووثقه يحيى بن معين، ويعقوب بن شيبة، ويعقوب بن سفيان، والعجلي. ولا بد من دراسة كل حديث من أحاديثه على حدة ليتبين أمره في كل حديث، وروى له مسلم مقرونا.

اگر یہ کہا جاتا کہ “ضعیف ہے لیکن اس سے اعتبار کیا جاتا ہے” تو یہ بہتر ہوتا، کیونکہ جب شہر اکیلا روایت کرے تو اس سے حجت نہیں لی جاتی، البتہ متابعت اور شواہد میں اس سے اعتبار کیا جاتا ہے۔ اور جیسا کہ مصنف نے کہا، وہ کثرت سے ارسال اور وہم کرتے تھے۔ انہیں یحییٰ بن سعید، شعبہ، جوزجانی، موسیٰ بن ہارون، ابو حاتم رازی، ابن حبان، ابن عدی (ان کی حدیث کا جائزہ لینے کے بعد)، دارقطنی، ساجی، ابو احمد حاکم اور دیگر نے ضعیف کہا ہے۔ لیکن بخاری، احمد بن حنبل اور ابو زرعہ رازی نے ان کے بارے میں اچھا خیال رکھا ہے۔ یحییٰ بن معین، یعقوب بن شیبہ، یعقوب بن سفیان اور عجلی نے انہیں ثقہ کہا ہے۔ ان کی ہر حدیث کو الگ الگ دیکھنا ضروری ہے تاکہ ہر روایت کا حکم واضح ہو سکے، اور مسلم نے ان سے مع القرین روایت کی ہے۔

[تقریب التہذیب]

__________________________________________________________________

 

پانچویں روایت :

امام  طحاوی علیہ الرحمہ روایت کرتے ہیں :

حدثنا فهد، حدثنا عثمان بن أبي شيبة، حدثنا جرير بن عبد الحميد، عن الأعمش، عن جعفر بن عبد الرحمن البجلي، عن حكيم بن سعد، عن أم سلمة قالت: ” نزلت هذه الآية في رسول الله صلى الله عليه وسلم وعلي، وفاطمة، وحسن، وحسين عليهم السلام {إنما يريد الله ليذهب عنكم الرجس أهل البيت ويطهركم تطهيرا} [الأحزاب: 33] “

[شرح مشکل الاثار]

یہ روایت بھی ضعیف جدا ہے ۔

کیونکہ اعمش مدلس ہیں ۔ اور جعفر بن عبد الرحمن جبلی مجہول الحال ہے ۔ اور اسکا حکیم بن سعد سے سماع کی دلیل بھی مبہم ہے ۔ 

جسکی وجہ سے طرق میں ضعف شدید واقع ہو گیا  ہے ۔

__________________________________________________________________

 

چھٹی روایت :

حدثنا الحسين بن الحكم الحبري الكوفي، حدثنا مخول بن مخول بن راشد الحناط، حدثنا عبد الجبار بن عباس [ص:239] الشبامي، عن عمار الدهني، عن عمرة بنت أفعى، عن أم سلمة قالت: نزلت هذه الآية في بيتي: {إنما يريد الله ليذهب عنكم الرجس أهل البيت ويطهركم تطهيرا} [الأحزاب: 33] ، يعني في سبعة جبريل، وميكائيل، ورسول الله صلى الله عليه وسلم، وعلي، وفاطمة، والحسن، والحسين عليهم السلام وأنا على باب البيت فقلت: يا رسول الله ألست من أهل البيت؟

[شرح مشکل الاثار ]

 

یہ روایت بھی شدید ضعیف ہے ۔ اور منکر ہے

کیونکہ عبد الجبار بن عباس شیعہ اور صاحب منکرات  ناقص ضبط والا راوی ہے ۔

 

اس پر ائمہ کا کلام درج ذیل ہے :

• أبو أحمد بن عدي الجرجاني : عامة ما يرويه مما لا يتابع عليه

• أبو الفرج بن الجوزي : ذكر له حديثا في الموضوعات، وقال: موضوع والمتهم بوضعه عبد الجبار فإنه كان من كبار الشيعة

• أبو بكر البزار : أحاديثه مستقيمة إن شاء الله

• أبو جعفر العقيلي : لا يتابع على حديثه وكان يتشيع

• أبو حاتم الرازي : ثقة

• أبو حاتم بن حبان البستي : ممن ينفرد بالمقلوبات عن الثقات وكان غاليا في التشيع

• أبو دواد السجستاني : ليس به بأس وهو يتشيع

• أبو نعيم الفضل بن دكين : لم يكن بالكوفة أكذب منه

• أحمد بن حنبل : أرجو أن لا يكون به بأس، وكان يتشيع

• أحمد بن صالح الجيلي : صويلح لا بأس به

• إبراهيم بن يعقوب الجوزجاني : غال في سوء مذهبه

• ابن حجر العسقلاني : صدوق يتشيع

• الذهبي : صدوق يتشيع

• سبط ابن العجمي : مختلف فيه والأكثر على تجريحه

• يحيى بن معين : ليس به بأس

عمومی طور پر اسکی مرویات میں اسکی متابقت نہیں ہوتی اور یہ صاحب منکرات ہے ۔ اگرچہ کچھ ائمہ کی اس پر تکذیب کی بھی جرح ہے ۔ لیکن فی نفسی ائمہ نے اسکو صدوق کہا ہے ۔

نیز اس روایت کا دوسرا ضعف   عمرة بنت أفعى کے مجہول الحال ہونے کا ہے  نیز انقطاع کا امکان بھی ہے ۔

__________________________________________________________________

 

چھٹی روایت :

حدثنا فهد، حدثنا أبو غسان، حدثنا فضيل بن مرزوق، عن عطية، عن أبي سعيد، عن أم سلمة قالت نزلت هذه الآية في بيتي: {إنما يريد الله ليذهب عنكم الرجس أهل البيت ويطهركم تطهيرا} [الأحزاب: 33] فقلت: يا رسول الله، ألست من أهل البيت؟ فقال: ” أنت على خير إنك من أزواج النبي صلى الله عليه وسلم ” وفي البيت علي، وفاطمة، والحسن، والحسين

[شرح مشکل الاثار ]

 

یہ روایت منکر ہے  حضرت ابو  سعید سے عطیہ کا تفرد ہے ۔ اور یہ متفقہ طور پر ضعیف راوی ہے ۔

یہاں تک معلوم ہو گیا کہ حضرت ام سلمہ کی طرف منسو ب تمام روایات شدید ضعف پر مبنی اور معلل روایات ہیں ۔

 

اور  حضرت عائشہ رضی اللہ کی طرف منسوب صحیح مسلم میں روایت بھی ضعیف و منکر ہے ۔

اور

حضرت انس و حضرت ابو سعید کی طرف منسوب مروایات بھی سب معلل اور منکر ہیں ۔

__________________________________________________________________

 

ساتویں روایت :

ایک روایت حضرت ابن عباس کی طرف منسوب ہے جو کافی طویل روایت ہے ۔ جس میں مذکورہ حدیث کساء کا متن بھی موجود ہے ۔

جسکو امام احمد نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے ۔ جو کہ درج ذیل سند سے ہے ۔

حدثنا يحيى بن حماد، حدثنا أبو عوانة، حدثنا أبو بلج، حدثنا عمرو بن ميمون، قال: إني لجالس إلى ابن عباس۔۔۔ الخ

[مسند احمد حدیث: 3061]

 

حضرت ابن عباس کی طرف منسوب بھی یہ روایت منکر و معلل ہے ۔

کیونکہ ابو بلج صاحب منکرات تھا ۔ اور ان نے متعدد روایات عمرو بن میمون کی طرف منسوب کرکے حضرت ابن عباس سے روایت کی ہیں۔ جو کہ محال بات ہے کیونکہ حضرت عمرو بن میمون حضرت ابن عباس کے تلامذہ سے نہیں ۔ بلکہ حضرت عمرو بن میمون نبی اکرم کی زندگی میں دور جہالت میں تھے اور حضرت ابو بکر و عمر رضی اللہ سے روایات ہیں انکی وہ حضرت ابن عباس سے روایت کرنے والوں میں سے ہی نہیں ہیں۔

 

او ر ابو بلج ویسے تو صدوق راوی ہے ۔ لیکن جب وہ عمرو بن میمون کے طریق سے حضرت ابن عباس سے روایت کرے تو یہ معلول ہوتی ہے ۔

 

یہی وجہ ہےکہ امام بخاری ابو بلج کے بارے کہتے ہیں:

سمعت ابن حماد يقول: قال البخاري يحيى بن أبي سليم أبو بلج الفزاري سمع محمد بن حاطب، وعمرو بن ميمون فيه نظر.

ابو بلج اسکا سماع محمد بن حاطب سے ہے اور عمرو بن میمون سے ہے اس میں نظر ہے ۔

یہ جرح فیہ نظر عمرو بن میمون کے حوالے سے ہے ۔ 

کیونکہ ابو بلج اپنے شیخ عمرو بن میمون جو کہ حضرت ابن عباس کے تلامذۃ میں سے نہیں۔ اسکا نام غلطی سے لیتا تھا ۔ کیونکہ اسکا دوسرا شیخ  ميمون أبو عبد الله مولى عبد الرحمن بن سمرة تھا۔ جسکا نام لینے کی بجائے ابو بلج عمرو بن میمون کا نام لیکر حضرت ابن عباس سے روایات نقل کردیتا تھا۔

 

جسکے سبب امام احمد بن حنبل کے سامنے جب یہ طرق بیان کیاگیاتو وہ حیران ہو گئے کہ یہ کیسا طرق ہے ؟

جیسا کہ امام ابن رجب  اسی مذکورہ روایت کے تحت نقل کرتے ہیں :

أبو بلج الواسطي

يروي عن عمرو بن ميمون عن ابن عباس عن النبي ـ صلى الله عليه وسلم ـ أحاديث منها حديث طويل “في فضل علي” أنكرها الإمام أحمد في رواية الأثرم، وقيل له: عمرو بن ميمون يروي عن ابن عباس؟ قال: ما أدري، ما أعلمه. وذكر عبد الغني بن سعيد المصري الحافظ أن أبا بلج أخطأ في اسم عمرو بن ميمون هذا، وليس هو بعمرو بن ميمون المشهور، إنما هو ميمون أبو عبد الله مولى عبد الرحمن بن سمرة، وهو ضعيف.

وليس هذا ببعيد، والله أعلم.

ابو بلج واسطی،

عمرو بن میمون سے، اور وہ ابن عباس سے، اور وہ نبی ﷺ سے احادیث روایت کرتا ہے، جن میں ایک طویل حدیث “فضائلِ علی” میں ہے، جسے امام احمد نے (روایتِ اثرم میں) منکر قرار دیا۔ ان سے پوچھا گیا: کیا عمرو بن میمون ابن عباس سے روایت کرتے ہیں؟ تو انہوں نے کہا: مجھے نہیں معلوم، میں ایسا (طرق)نہیں جانتا۔

اور حافظ عبد الغنی بن سعید مصری نے ذکر کیا کہ ابو بلج نے اس عمرو بن میمون کے نام میں غلطی کی ہے، یہ مشہور عمرو بن میمون نہیں ہے، بلکہ یہ ميمون ابو عبد الله ہیں جو عبدالرحمٰن بن سمرہ کے مولیٰ ہیں، اور وہ ضعیف ہیں۔

اور یہ بات بعید نہیں، واللہ اعلم۔

[شرح علل الترمذي]

 

تو معلوم ہوا کہ یہ روایت تو معلل و منکر ہے اور غلط منسوب ہے حضرت ابن عباس کی طرف ۔ بلکہ حضرت ابن عباس کا موقف تھا کہ آیت تطہیر تو خاص حضور اکرمﷺ کی ازواج کے لیے نازل ہوئی تھی۔ جو کہ انکے ساتھ مخصوص ہے ۔

اسکی تفصیل اور تائید آخر میں بیان کرینگے۔

__________________________________________________________________

 

آٹھویں روایت :

امام احمد بن حنبل نے اسکو تین طرق سے نقل کیا ہے  جو حضرت ام سلمہ سے منسو ب ہے ۔

 

پہلی سند :

حدثنا عبد الله بن نمير، قال: حدثنا عبد الملك يعني ابن أبي سليمان، عن عطاء بن أبي رباح، قال: حدثني من سمع أم سلمة، تذكر أن النبي صلى الله عليه وسلم كان في بيتها، فأتته فاطمة ببرمة، فيها خزيرة، فدخلت بها عليه، فقال لها: ” ادعي زوجك وابنيك ” قالت: فجاء علي، والحسين، والحسن، فدخلوا عليه، فجلسوا يأكلون من تلك الخزيرة، وهو على منامة له على دكان تحته كساء خيبري (1) . قالت: وأنا أصلي في الحجرة، فأنزل الله عز وجل هذه الآية: {إنما يريد الله ليذهب عنكم الرجس أهل البيت ويطهركم تطهيرا} [الأحزاب: 33] قالت: فأخذ فضل الكساء، فغشاهم به، ثم أخرج يده، فألوى (1) بها إلى السماء، ثم قال: ” اللهم هؤلاء أهل بيتي وخاصتي (2) ، فأذهب عنهم الرجس، وطهرهم تطهيرا، اللهم هؤلاء أهل بيتي وخاصتي (2) ، فأذهب عنهم الرجس، وطهرهم تطهيرا ” (3) قالت: فأدخلت رأسي البيت، فقلت: وأنا معكم يا رسول الله، قال: ” إنك إلى خير، إنك إلى خير

علت:

ابن ابی سلیمان نے یہ روایت عطاء سے بیان کی ہے اور انہوں نے اپنے شیخ کا نام  مبہم کر دیا جس نے ام سلمہ سے یہ روایت کی ہے ۔ اس  انقطاع کا شبہ بھی ہے اور راوی بھی مبہم ہے۔ جسکی وجہ سے یہ طرق بھی معلل ہے ۔

دوسری سند :

قال عبد الملك، وحدثني أبو ليلى، عن أم سلمة مثل حديث عطاء، سواء

اور عبدالملک کہتا ہے مجھے یہ حدیث ابو لیلی الکندی نے بیان کی ہے ۔ حضرت عطاء کے مثل ۔ (لیکن ابو لیلی کندی کے متن میں حضرت ام سلمہ کا حضور سے کہنا کہ میں بھی اہلبیت سے ہوں تو انکو فرمانا کہ تم خیر پر ہو یہ متن اس میں شامل نہیں )

 

علت:

یہ روایت بھی معلل ہے ۔

نوٹ: اس روایت کے مرکزی راوی پر ائمہ ایک ہی کنیت کے د و کوفی نام کے رواتہ سے انجان رہے ۔ اس لیے  ابن سعد وغیرہ ایک ہی نام کے دونوں رواتہ کو ایک ترجمہ میں بیان کرکے دونوں کے رواتہ کے شیوخ اور تلامذہ کو جمع کر دیا۔ اور وہ اس لا علمی کےسبب  معزور ہیں ۔

 

جب کے فرق کرنے والے ائمہ نے انکے تلامذہ اور شیوخ سے فرق کیا ہے ۔

ابو لیلی الکندی  کنیت  کےدو  رواتہ ہیں اور دونوں کوفہ کے ہیں ۔

ایک ثقہ ہے

اور ایک مجہول ہے ۔

 

جو ثقہ ہے  اسکے ناموں میں بہت اختلاف ہے ۔

امام بخاری اسکا نام معاویہ بن سلمہ یا سلمہ بن معاویہ بیان کرتے ہیں

سَلَمة بْن مُعاوية، أَبو لَيلَى، الكِندِيّ.

وَقَالَ أَبو أَحْمَد الزُّبَيري: أو مُعاوية بْن سَلَمة.

[تاریخ الکبیر]

 

اب انکے تلامذہ و شیوخ کا ذکر نہیں۔ تو یہ کس کے بارے کہا ہے  اسکا تعین آگے کرتے ہیں ۔

وہ ثقہ کوفی راوی  وہ حضرت سلمان فارسی ، حضرت ابو زر ، حضرت خباب سے روایت کرتا ہے ۔

اور اس سے اما م ابو اسحاق اور ابو الفراء وغیرہم روایت کرتے ہیں ۔

 

اسکا ایک اور مختلف نام امام ابو حاتم  نے بیان کرتے ہیں :

سعيد بن أشرف بن سنان أبو ليلى الكندي روى عن أبي ذر وسلمان الفارسي روى عنه أبو إسحاق الهمداني سمعت أبي يقول ذلك

[الجرح والتدیل ]

 

یعنی معلوم ہو گیا کہ ایک راوی کا نام جسکے بارے اختلاف ہے ۔ کوئی اسکو معاویہ بن سلمہ کہتا ہے ، کوئی سعید بن اشرف کہا ہے ۔

اور کوئی سلمہ بن معاویہ کہتا ہے ۔  اور اسکی اضافی کنیت ابو قرہ الکندی بھی ہے۔

لیکن ایک بات پختہ ہو گئی کہ جو حضرت سلمان فارسی سے روایت کرنے والا ہے اسکا شاگرد  ابو اسحاق ہے ۔

نہ کہ  عبد الملک بن ابی سلمان 

 

جیسا کہ امام مزی  نقل کرتے ہیں امام ابو حاکم الکبیر سے :

وفرق الحاكم أَبُو أَحْمَد بين أَبِي ليلى الكندي سلمة بْن معاوية ويُقال: معاوية بْن سلمة روى عن سلمان وروى عنه أَبُو إِسْحَاق، وبين أَبِي ليلى الكندي روى عن سويد بْن غفلة وروى عنه عثمان بْن أَبي زرعة. وذكر الراوي عن سويد بْن غفلة فيمن لم يقف عَلَى اسمه، وَقَال: ضعفه يحيى بْن مَعِين، وَقَال: حَدَّثَنِي علي بْن مُحَمَّد بْن سختويه، قال: سمعت مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبي شَيْبَة، قال: سمعت يحيى، يعني ابن مَعِين، وسئل عَن أَبِي ليلى الكندي، فَقَالَ: كَانَ ضعيفا

اور حاکم ابو احمد نے فرق بیان کیا کہ ابو لیلى الکندی، سلمة بن معاویة (اور کہا جاتا ہے: معاویة بن سلمة) وہ ہیں جنہوں نے سلمانؓ سے روایت کی، اور ان سے ابو اسحاق نے روایت بیان کی۔

اور دوسرے ابو لیلى الکندی وہ ہیں جنہوں نے سوید بن غفلة سے روایت کی، اور ان سے عثمان بن ابی زرعہ نے روایت بیان کی۔

اور سوید بن غفلة سے روایت کرنے والے اس شخص کو اُن راویوں میں شمار کیا گیا ہے جن کا نام معلوم نہ ہو سکا، اور یحییٰ بن معین نے اسے ضعیف کہا۔

اور علی بن محمد بن سختویہ نے کہا: میں نے محمد بن عثمان بن ابی شیبہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں نے یحییٰ (بن معین) کو سنا، جب ان سے ابو لیلى الکندی کے بارے میں پوچھا گیا تو کہا: وہ ضعیف تھا۔

[تھذیب الکمال ]

 

یہاں تک یہ معلوم ہو گیا کہ  جب ناموں سے تفریق کرنا مشکل ہو گئی ۔ تو امام حاکم الکبیر کے مطابق جو راوی 

حضرت سلمان فارسی ، خباب سے روایت کرتا ہو  اور اس سے ابو اسحاق روایت کرینگے تو تب ابولیلی کندی ثقہ راوی ہوگا۔

۔

لیکن جن ائمہ نے ان دو رواتہ کو ایک سمجھا اور اس میں ابن معین کے دو متضاد اقوال نقل کر دیے ۔

لیکن  توثیق کا قول اس راوی کے بارے ہے جو حضرت سلمان فارسی وغیرہ سے بیان کرتا ہے ۔

 

جیسا کہ امام ذھبی نقل کرتے ہیں :

أبو ليلى الكندى

عن سويد بن غفلة.

ضعفه يحيى بن معين. وقيل: وثقه،

سُوَید بن غَفلہ سے روایت کرتا ہے ۔

یحيیٰ بن معین نے اسے ضعیف کہا۔ اور کہا گیا کہ  ثقہ وہ ہے ، 

پھر کہتے ہیں :

وكأنهما اثنان: الثقة عن سليمان وخباب.

اور گویا یہ دو افراد ہیں: ایک ثقہ ہے جو “سلیمان اور خباب” سے روایت کرتا ہے۔

[میزان الاعتدال]

 

جو ثقہ ہے  اور حضرت سلمان سے روایت کرتا ہے اسکا شاگرد ابو اسحاق ہے

اس پر کچھ مثالیں پیش کر دیتے ہیں کہ حضرت سلمان سے فقط ابو اسحاق ہی ابی قرہ یا ابو لیلی کی کنیت سے روایت کرتا ہے ۔

 

حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنِ الأَعْمَشِ , عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي قُرَّةَ ، قَالَ : قَالَ سَلْمَانُ لِرَجُلٍ : ” لَوْ قُطِّعْتَ أَعْضَاءً مَا بَلَغْتَ الإِيمَانَ ” ، أَوْ كَمَا قَالَ .

جو ابو لیلی الکندی  حضرت سلمان فارسی ، خباب ،  وغیرہ سے روایت کرتا ہے  اس سے روایت کرنے والے ابو اسحاق سبیعی ہیں جو 

[الإيمان لابن أبي شيبة]

 

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ إسْرَائِيلَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي قُرَّةَ الْكِنْدِيِّ ، عَنْ سَلْمَانَ ، قَالَ : احْتَطَبْتُ حَطَبًا فَبِعْتُهُ ، فَأَتَيْتُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَضَعْتُهُ بَيْنَ يَدَيْهِ فَقَالَ : ” مَا هَذَا ؟ ” فَقُلْتُ : صَدَقَةٌ ، فَقَالَ لأَصْحَابِهِ : ” كُلُوا وَلَمْ يَأْكُلْ

[مصنف ابن أبي شيبة]

 

اسکی کنیت ابو قرہ الکندی سے بھی ابو اسحاق نے روایت کی ہے ۔ اور حضرت سلمان فارسی سے روایت کرتا ہے ۔

اور مذکورہ روایت کا راوی عبد الملک بن ابی سلیمان ہے جو ابو الکندی سے ام سلمہ کےطریق سے بیان کررہا ہے ۔

جو کہ مجہول ہے ۔

 

تیسری سند :

حدثني داود بن أبي عوف أبو  الجحاف، عن شهر ابن حوشب، عن أم سلمة بمثله سواء۔۔۔

یہ وہی شھر بن حوشب والا طریق ہے جو معلل ہے اور ام سلمہ سے شہر بن حوشب کا متابع کوئی بھی غیر معلول سند کے علاوہ نہیں۔

اور اسکا متن جید حفاظ کے بھی خلاف ہے ۔

__________________________________________________________________

 

معلوم ہوا یہ تمام روایات معلول اور تمام اسناد ایک دوسرے کی مخالف اور شاذ و معلل ہیں ۔

 

لیکن اس روایت کا جو صحیح طرق ہے وہ امام ابن حبان نے بیان کیا ہے ۔ اور یہ متن کیونکہ اہل بدعت کے موقف کو تقویت نہیں دیتا تو یہ متن زیادہ معروف نہ ہو سکا۔

نہ ہی یہ روایت حضرت عائشہ ، حضرت ام سلمہ ، حضرت ابو سعید خدری ، نہ ہی حضرت انس وغیرہم سے ثابت ہے ۔

 

بلکہ یہ روایت فقط نبی اکرمﷺ کے ایک ہی صحابی حضرت واثلہ رضی اللہ سے ثابت ہے ۔ اور یہ واقعہ بھی حضرت علی رضی اللہ کے گھر میں واقع ہوا۔

__________________________________________________________________

 

محفوظ متن!

اب یہاں تک ہم نے اس روایت کے سارے طرق پر کلام کر لیا ہے ۔ اور جو محفوظ متن ہے ۔ وہ امام اوزاعی نے  بیان کیاہے ۔

 

اور اس واقعہ کا عینی شاہد گواہ فقط صحابی رسول حضرت واثلہ ہیں۔

 

جیسا کہ امام ابن حبان اس روایت کو نقل کرتے ہیں :

أخبرنا عبد الله بن محمد بن سلم، حدثنا”1″ عبد الرحمن بن إبراهيم، حدثنا الوليد بن مسلم، وعمر بن عبد الواحد، قالا: حدثنا الأوزاعي، عن شداد أبي عمار”2″ [3: 8]

عن واثلة بن الأسقع، قال: سألت عن علي في منزله فقيل لي: ذهب يأتي برسول الله صلى الله عليه وسلم، إذ جاء، فدخل رسول الله صلى الله عليه وسلم، ودخلت، فجلس رسول الله صلى الله عليه وسلم على الفراش، وأجلس فاطمة عن يمينه، وعليا عن يساره، وحسنا وحسينا بين يديه، وقال: {إنما يريد الله ليذهب عنكم الرجس أهل البيت ويطهركم تطهيرا} [الأحزاب: 33] ، “اللهم هؤلاء أهلي”، قال واثلة: فقلت من ناحية البيت: وأنا يا رسول الله من أهلك؟ قال: “وأنت من أهلي”، قال واثلة: إنها لمن أرجى ما أرتجي”1”. [3: 8]

 

واثلہ بن الاسقعؓ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے حضرت علیؓ کے گھر کے بارے میں پوچھا، تو مجھے کہا گیا: وہ رسول اللہ ﷺ کو لینے گئے ہیں۔ اتنے میں وہ آگئے، اور رسول اللہ ﷺ بھی تشریف لے آئے۔ آپ ﷺ بستر پر بیٹھ گئے، فاطمہؓ کو اپنے دائیں بٹھایا، علیؓ کو بائیں، اور حسن و حسینؓ کو اپنے سامنے، پھر فرمایا: “بیشک اللہ کا ارادہ ہے کہ اے اہلِ بیت! تم سے ہر قسم کی گندگی کو دور کرے اور تمہیں مکمل پاکیزگی کے ساتھ پاک کرے” (الاحزاب: 33)۔ پھر دعا کی: “اے اللہ! یہ میرے اہل ہیں”۔

واثلہؓ کہتے ہیں: میں گھر کے ایک کونے سے عرض کرنے لگا: یا رسول اللہ! کیا میں بھی آپ کے اہل میں شامل ہوں؟

آپ ﷺ نے فرمایا: “اور تم بھی میرے اہل میں سے ہو”۔

واثلہؓ کہتے ہیں: یہ جملہ میرے لیے ان سب سے زیادہ امید افزا باتوں میں سے ہے جن سے میں امید رکھتا ہوں۔

[صحیح ابن حبان وسندہ جید]

 

اس روایت کے متن پر کلام :

معلوم ہوا یہ واقعہ حضرت علی رضی اللہ کے گھر ہوا جب حضرت واصلہ حضرت علی کے گھر کا پتہ پوچھ رہے تھے ۔

اور جب وہ انکے گھر پہنچے تو اتنے میں حضرت علی حضور اکرمﷺ کےساتھ آگئے۔

اور پھر انہوں نے حضرت فاطمہ ، حسنین کریمین اور مولا علی رضی اللہ کو چادر میں شامل کرکے کہا یہ میرے

“اہل میں سے” ہیں۔

اور صحابی واثلہ فرماتے ہیں جب کہ کیا میں بھی آپکا

“اہل میں سے”

ہوں ؟ تو حضور اکرمﷺ فرماتے ہیں بیشک تم بھی میرے “اہل میں سے ” ہو۔

معلوم ہوا کہ حضور اکرمﷺ نے ان چاروں عظیم شخصیات کو اس آیت کے تحت اضافی طور پر فضیلت بخشی اور بالکل وہی فضیلت حضرت واثلہ کو بخشی کہ وہ بھی اہل میں سے ہیں جیسے کہ 4 افراد اہل میں سے ہیں۔

حضرت واثلہ کو بھی اسی آیت کے تحت اضافی فضیلت کے طور پر اہل میں شمار کرنے سے ثابت ہوا کہ حضور اکرمﷺ نے ان چاروں حضرات کو اول مصداق کے طور پر شامل کرکے اہل نہیں کہا تھا۔ ورنہ حضرت واثلہ کو قربت یا صحابیت کا کہتے بلکہ مطلق انکو بھی اہل کہا ۔

 

جب صحیح سند سے حضور اکرمﷺ ایک صحابی کو اہل میں شمار کر رہے ہیں تو یہ کیسے تصور کیا جاتا ہے کہ حضرت ام سلمہ ان سے کہتی کہ میں اہل میں سے ہوں یا نہیں تو انکو کیسےفرماتے کہ تم خیر پر ہو وہی رہو۔

جبکہ حضرت ام سلمہ تو ام المومنین تھیں ۔ انکا حضرت علی رضی اللہ کا محرم ہونا بھی واضح تھا۔ ؎

 

یہ بات بتاتی ہے کہ جن جن روایات میں حضرت ام سلمہ کو روکنے کا متن آیا ہے وہ سب کے سب معلل اور مذکورہ جید سند سے مروی روایت کے خلاف ہونے کے سبب باطل ہیں۔

 

__________________________________________________________________

رجال کا تعارف:

1۔ عبد الله بن محمد المقدسي

• أبو أحمد بن عدي الجرجاني : سمعته يقول: قدمت مصر فبدأت بحرملة بن يحيى، ويونس بن يزيد

• أبو بكر بن المقرئ الأصبهاني : يقول عنه: حدثني الشيخ الصالح ببيت المقدس

• أبو حاتم بن حبان البستي : حدث عنه وذكره في الثقات، ووثقه

• الذهبي : الإمام المحدث العابد الثقة

 

2۔  عبد الرحمن بن إبراهيم بن عمرو بن ميمون

• أبو أحمد بن عدي الجرجاني : أثبت من حرملة بن يحيى

• أبو حاتم الرازي : ثقة، ومرة: كان يميز، ويضبط حديث نفسه

• أبو حاتم بن حبان البستي : من المتقنين الذين يحفظون علم بلدهم، وشيوخهم، وأنسابهم

• أبو دواد السجستاني : حجة، لم يكن بدمشق في زمنه مثله، وهو ثقة

• أبو سعيد بن يونس المصري : دمشقي ثقة ثبت

• أبو عبيد الآجري : دحيم حجة لم يكن بدمشق في زمنه مثله

• أبو يعلى الخليلي : أحد حفاظ الأئمة، متفق عليه، ويعتمد عليه في تعديل شيوخ الشام وجرحهم

• أحمد بن حنبل : كان يثنى عليه ويقول: عاقل ركين

• أحمد بن شعيب النسائي : ثقة مأمون لا بأس به

• أحمد بن صالح الجيلي : ثقة

• ابن حجر العسقلاني : ثقة حافظ متقن

• الحسن بن علي بن بحر القطان : رأيت أبي وأحمد وابن معين قعودا بين يديه

• الخطيب البغدادي : كان ثقة

• الدارقطني : ثقة

• عبد الله بن محمد الفرهاذاني : أعلى الشاميين وأوثقهم، أوثق أهل الشام، وأحب الي من هشام يعني بن عمار وهشام مسن ودحيم من الأحداث

• مسلم بن الحجاج النيسابوري : ثقة

 

3۔ ولید بن مسلم

• أبو عبد الله الحاكم النيسابوري : أحفظ وأتقن وأعرف بحديث بلده

• أبو حاتم بن حبان البستي : ذكره في الثقات

• الذهبي : عالم أهل الشام، كان مدلسا فيتقى في حديثه ما قال فيه: عن

• صدقة بن الفضل المروزي : حججت معه فما رأيت رجلا أحفظ للحديث الطويل وأحاديث الملاحم منه، ومرة: حافظ متقن

• عبد الأعلى بن مسهر الغساني : من ثقات أصحابنا

• علي بن المديني : ما رأيت من الشاميين مثله، وقد أغرب الوليد أحاديث صحيحة لم يشركه فيها أحد

• محمد بن سعد كاتب الواقدي : ثقة كثير الحديث والعلم

• يعقوب بن سفيان الفسوي : محمود عند أهل العلم، متقن، صحيح العلم

• يعقوب بن شيبة السدوسي : ثقة

یہ کیونکہ منفرد نہیں انکا متابع دوسرا راوی بھی ہے

عمر بن عبد الواحد بن قيس

• أبو عبد الله الحاكم النيسابوري : أحد أئمة الحديث

• أحمد بن صالح الجيلي : ثقة

• إبراهيم بن يوسف الهسنجاني : ثقة

• ابن حجر العسقلاني : ثقة

• دحيم الدمشقي : ثقة

• عبد الباقي بن قانع البغدادي : صالح

• عبد الله بن محمد الفرهاذاني : أوثق أصحاب الأوزاعي لا بأس به

• محمد بن سعد كاتب الواقدي : ثقة

• مروان بن محمد الطاطري : ما رأيت أحدا أصح حديثا عن الأوزاعي منه

 

اگلے راوی امام اوزاعی ہیں جو کسی تعارف کے محتاج نہیں۔

 

5۔ شداد بن عبد الله القرشى الأموى

• عثمان بن سعيد [الدارمي] قال: قلت ليحيى بن معين: أبو عمار الذي يروي عنه الأوزاعي ما حاله ؟ فقال: شداد ليس به بأس

• وقال العجلي: ثقة.

• وأبو حاتم،: ثقة.

• والدارقطني: ثقة.

• وقال يعقوب بن سفيان: وروى – يعني الأوزاعي – عن شداد أبي عمار ثقة

 

معلوم ہوا یہ  روایت سند کے اعتبار سے بے غبار ہے ۔ اور اسکا متن بھی بالکل محفوظ ہے۔

اہلسنت نے اس روایت کی بجائے عجیب روایات کو بغیر مکمل تحقیق کے تاویل شروع کردی۔ جبکہ دیگر منکر متن میں شیعہ رواتہ اور ضعیف روات نے اپنی مرضی سے متن میں تبدیلی کردی ہے ۔

 

یہی وجہ ہے کہ حضرت ابن عباس اس آیت تطہیر سے مراد مخصوص حضور اکرمﷺ کی ازواج کو لیتے تھے کیونکہ وہیں مصداق اول تھیں اس آیت کریمہ کی ۔ جس  میں حضور اکرمﷺ نے بطور اضافی فضیلت چار شخصیات اور ایک صحابی کو شامل فرمایا۔

 

ابن کثیر نقل کرتے ہیں :

ابن جریر نے روایت کیا ہے: عکرمہ بازار میں آواز لگا کر کہا کرتے تھے: “إِنَّمَا يُرِيدُ اللهُ لِيُذْهِبَ عَنكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا” یہ آیت خاص طور پر نبی ﷺ کی ازواج کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔

 

اسی طرح ابن ابی حاتم نے بھی روایت کی ہے:

ہم سے علی بن حرب موصلی نے بیان کیا، کہا: ہم سے زید بن حباب نے بیان کیا، کہا: ہم سے حسین بن واقد نے بیان کیا، انہوں نے یزید نحوی سے، انہوں نے عکرمہ سے، اور انہوں نے ابن عباسؓ سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا: “إِنَّمَا يُرِيدُ اللهُ لِيُذْهِبَ عَنكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ” انہوں نے کہا: یہ آیت خاص طور پر نبی ﷺ کی ازواج کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔

عکرمہ کہا کرتے تھے: “جو چاہے میرے ساتھ مباہلہ کر لے کہ یہ آیت نبی ﷺ کی بیویوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔”

(وسندہ حسن الی ابن عباس)

 

اسکے بعد امام ابن کثیر کہتے ہیں:

فإن كان المراد أنهن كن سبب النزول دون غيرهن فصحيح، وإن أريد أنهن المراد فقط دون غيرهن، ففي هذا نظر؛ فإنه قد وردت أحاديث تدل على أن المراد أعم من ذلك:

اگر اس سے مراد یہ ہو کہ وہ (ازواج مطہرات) ہی سبب نزول تھیں، اور کوئی دوسرا سبب نزول نہ تھا، تو یہ بات درست ہے۔

لیکن اگر یہ مراد لیا جائے کہ آیت میں صرف وہی مراد ہیں اور ان کے علاوہ کوئی نہیں، تو اس میں غور کی گنجائش ہے، کیونکہ ایسی احادیث وارد ہوئی ہیں جو اس پر دلالت کرتی ہیں کہ اس سے مراد اس سے زیادہ عام ہے۔

[تفسیر ابن کثیر]

پھر امام ابن کثیر وہی روایات لاتے ہیں جنکا حال ہم اوپر بیان کر چکے ۔ 

__________________________________________________________________

خلاصہ تحقیق:

حضرت عائشہ ، حضرت ام سلمہ اور حضرت انس سے کوئی بھی ایک طریق صالح یعنی غیر معلول طرق سے یہ روایت ثابت نہیں ۔

اور

جید سند سےجو متن ثابت ہے اس میں یہ ہے کہ اس واقعہ کے عینی شاہدگواہ حضرت واثلہ ہیں ۔ اور حضور اکرم نے حضرت علی ، حضرت فاطمہ اور حسنین کریمین کو اپنا اہل اس آیت کی بنیاد پر قرار دیا ۔ ویسے ہی حضرت واثلہ کو بھی اپنا اہل قرار دیا ۔

جس سے ثابت ہوا کہ چار افراد کی کو اس آیت کے تحت  داخل کرنا اضافی فضیلت کی بنیاد پر تھا نہ کہ اول مصداق۔

اور

حضور اکرمﷺ نے اپنے چار اہل بیت کے ساتھ حضرت واثلہ کو بھی شامل کرکے اس فضیلت میں شامل فرمایا۔ اور یہ اہل اور قربت دینی ہے ۔ نہ کہ فقط نسبی!

جبکہ حضرت ابن عباس مفسر قرآن کے مطابق اور امام عکرمہ کے مطابق اس آیت کا شان نزول اور مصداق حضور اکرمﷺ کی گھر والیاں یعنی امہات المومنین ہیں۔

 

تحقیق: اسد الطحاوی