لفظ”صدیق اکبر” والی باطل روایت کو امام بوصیری رحمہ اللہ نے صحیح کیوں کہا؟

✍️:میر احمد ملک عطاری

20 جون 2026ء

بشکریہ جناب فیصل خان رضوی صاحب

 

حضرت مولائے کائنات کرم اللہ وجہہ الکریم کی طرف ایک باطل روایت منسوب کی گئی جس کے اصل الفاظ میں صرف انا اخو رسول اللہ و عبد اللہ تھا۔ جبکہ شیعہ راویوں نے اس میں حضرت ابو بکر صدیق و عمر رضی اللہ عنہما سے مقابلہ کروانے کے لیے صدیق اکبر اور فاروق کے الفاظ کا اضافہ کر دیا(جیسا کہ شیعہ رواۃ کی عادت ہے)۔

ہم نے اس پر انتہائی جامع تحقیق پیش کی تو روافض کے ہاں ماتم شروع ہوگیا اور انہوں نے چائنہ کے محکک سے ہمارا جواب لکھوایا جس پر وہ انتہائی درجے کی شکست سے دو چار ہوچکا ہے۔

 

شیعہ لوگوں کی طرف سے ایک بڑا ہتھکنڈا “امام بوصیری رحمہ اللہ” کے نام پر پیش کیا جا رہا ہے کہ انہوں نے اس باطل روایت کو “صحیح” کہا تھا۔

 

جبکہ اہلِ علم پر مخفی نہیں کہ روایت کی تحکیم میں جب بڑے بڑے ائمہ یعنی امام بخاری و ذھبی و ابن جوزی و ابن کثیر و سیوطی و ابن حجر عسقلانی وغیرہ اس کے راویوں پر شدید جرح کر چکے تو امام بوصیری کا تفرد یہاں قبول نہیں ہوگا۔

 

لیکن روافض کی عادت ہے کہ انہیں اپنا مفاد جہاں سے بھی مل جائے وہ اسے اپنے لیے الہ دین کا چراغ سمجھتے اور ماتم شروع کر دیتے ہیں۔

 

آئیے آپکو بتاتے ہیں کہ امام بوصیری جن کی وفات 840ھ میں ہوئی انہوں نے اس روایت کو صحیح کیسے سمجھ لیا!

 

ایک بات یاد رکھیے کہ ایک ہی نام کے بعض اوقات ایک سے زیادہ راوی ہوتے ہیں ایک ثقہ ہوتا ہے دوسرا کذاب یا شدید ضعیف۔

اگر مصنف سے راوی کی تعیین میں تسامح ہو جائے اور وہ اس راوی کو درست متعین نہ کر سکے تو اس سے تحکیم میں تسامح ہو جاتا ہے۔

 

یہاں بھی یہی ہوا:

امام بوصیری المتوفیٰ 840ھ نے سند ذکر کی:

حَدثنَا مُحَمَّد بن إِسْمَاعِيل الرَّازِيّ

حَدثنَا عبيد الله بن مُوسَى

أَنبأَنَا الْعَلَاء بن صَالح عَن الْمنْهَال عَن عباد بن عبد الله۔۔۔

 

اور یہاں انہوں نے “عباد بن عبد اللہ اسدی کوفی”, جو کہ متھم راوی ہے اس کی جگہ انہوں نے سمجھا کہ یہ راوی حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے بیٹے عباد بن عبد الله بن الزبير بن الْعَوام الْقرشِي الْأَسدي ہیں جو کہ ثقہ راوی ہیں۔

 

اس لیے انہوں نے اس روایت کی سند کو صحیح سمجھا۔

 

امام بوصیری منہال عن عباد کی سند میں عباد کو ابن زبیر سمجھے تھے اس کا ثبوت ملاحظہ فرمائیں:

 

امام بوصیری رحمہ اللہ خود اسی کتاب کے دوسرے مقام پر فرماتے ہیں:

 

٢٩٣٤ – قَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ: وَثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنِ الْمِنْهَالِ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَلِيٍّ أَنّ النَّبِيَّ – ﷺ – قَالَ: «مَنْ يَقْضِي دَيْنِي، وَيُنْجِزُ وَعْدِي، وَأَدْعُو اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَهُ مَعِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ- أَوْ كَلِمَةً تُشْبِهُهَا».

 

هَذَا إِسْنَادٌ رِجَالُهُ ثِقَاتٌ، *عَبَّادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ هُوَ ابْنُ الزُّبَيْرِ،* وَالْمِنْهَالُ هُوَ ابْنُ عَمْرٍو الْأَسَدِيُّ.

 

📒إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة ٣/‏٣٧٩۔

 

امام بوصیری رحمہ اللہ کی یہاں منہال عن عباد میں عباد کی واضح تعیین کو دیکھا جا سکتا ہے کہ انہوں نے عباد کوفی کو عباد ابن زبیر سمجھ لیا جس سے ان کے نزدیک یہ  راوی ثقہ ہوگئے۔

 

جبکہ یہ راوی عباد ابن زبیر نہیں بلکہ عباد بن عبد اللہ کوفی اسدی ہے کیونکہ عباد ابن زبیر سے منہال روایت نہیں کرتا بلکہ عباد کوفی سے کرتا ہے۔

 

مستدرک حاکم میں بھی اس سند کو صحیح کہا گیا تو اس کے محقق تنبیہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

 

ولعله اشتبه على المصنف بعباد بن عبد الله بن الزبير بن العوام الأسدي، فصححه لذلك على شرطهما!.

 

“شاید مصنف کو (راوی کے نام کے بارے میں) عباد بن عبد اللہ بن زبیر بن عوام اسدی کے ساتھ اشتباہ ہو گیا،

اسی وجہ سے انہوں نے اس روایت کو صحیح قرار دے دیا اور اسے شیخین (امام بخاری و امام مسلم) کی شرط پر سمجھ لیا۔

 

📒المستدرك على الصحيحين – ط المنهاج القويم ٦/‏١٧

 

اسی طرح امام بوصیری کی اس تسامح پر تنبیہ کرتے ہوئے ایک عرب عالم لکھتے ہیں:

 

قول البوصيريّ : إسناده صحيح، ورجاله ثقات،

محلّ عجب؛ إذ في سنده عباد بن عبد الله الأسديّ الكوفيّ، ضعيف،

ولعله التبس عليه بعباد بن عبد الله بن الزبير الأسديّ التابعيّ الثقة المعروف، فلذا وثق رجاله، والحقّ أنه ضعيف، وقدمنا أقوال أهل العلم فيه، فلا تغترّ بقوله

 

ترجمہ:

بوصیری کا یہ کہنا کہ: “اس کی سند صحیح ہے اور اس کے تمام راوی ثقہ ہیں” محلِ تعجب ہے؛ کیونکہ اس کی سند میں عباد بن عبد اللہ اسدی کوفی موجود ہے جو ضعیف ہے۔ غالباً انہیں عباد بن عبد اللہ بن زبیر اسدی سے اشتباہ ہو گیا، جو ثقہ اور معروف تابعی ہیں۔ اسی وجہ سے انہوں نے اس کے تمام راویوں کو ثقہ قرار دے دیا۔ حالانکہ درست بات یہ ہے کہ یہ راوی ضعیف ہے، اور ہم اس کے بارے میں اہلِ علم کے اقوال پہلے ذکر کر چکے ہیں، لہٰذا ان کے اس قول سے دھوکا نہ کھاؤ۔

 

📒مشارق الأنوار الوهاجة ومطالع الأسرار البهاجة في شرح سنن الإمام ابن ماجه ٣/‏٢٢٣

 

لہذا ثابت ہوا کہ امام بوصیری نے عباد کو ثقہ راوی ابن زبیر سمجھا اس لیے سند کو صحیح کہہ دیا جبکہ یہ راوی عباد کوفی متھم ہے جس پر ائمہ کی شدید ترین جروحات موجود ہیں۔

 

اللہ پاک ہمیں سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین۔