حدیث دل
sulemansubhani نے Saturday، 27 June 2026 کو شائع کیا.
بسم الله الرحمن الرحیم
نحمدہ و نصلی و نسلم علی رسولہ الکریم
حدیث دل
اللہ تعالیٰ کا بہت کرم اور بے حد احسان ہے کہ “شرح صحیح مسلم” کی تکمیل کے بعد اللہ تعالیٰ نے مجھے “تبیان القرآن” لکھنے کی سعادت عطا فرمائی اور کلام رسول کی تشریح کے بعد کلام اللہ کی تفسیر کی توفیق عطا فرمائی – ہمارے علماء متقدمین نے تفسیر کے موضوع پر اس قدر زیادہ اور عظیم کام کیا ہوا ہے کہ اس پر کوئی قابل ذکر اضافہ نہیں ہو سکتا ،البتہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ علماء اسلام کی زیادہ تر کاوشیں عربی زبان میں ہیں جن تک عام اردودان طبقہ کی رسائی نہیں ہے تو اس بات کی بے شک ضرورت تھی کہ علوم اور معارف کے ان جو اہر پاروں کو سہل اور عام فهم انداز میں جدید اسلوب نگارش کے مطابق اردود زبان میں منتقل کر دیا جاۓ – اسی طرح قرآن مجید کے تراجم کا حال ہے: ہمارے بزرگ علماء نے اپنے اپنے زمانہ میں اس دور کی زبان کے مطابق قرآن مجید کے مفاهیم کو اردود زبان میں منتقل کیا اور ان کی یہ مساعی بہت قابل قدر بلکہ لائق رشک ہیں لیکن زبان کا اسلوب اور مزاج وقت کے ساتھ ساتھ بدلتا رہتا ہے، اس وجہ سے میں محسوس کرتا تھا کہ اس دور کے اردود پڑھنے والوں کے مزاح اور ان کے اسلوب کے مطابق قرآن مجید کا ترجمہ کرنا چاہیے تاکہ پڑھنے والوں کے لیے وہ ترجمہ ایسی اور نامانوس نہ ہو –
میں نے قرآن مجید کا ترجمہ تحت اللفظ نہیں کیا اور نہ ہی ایسا کیا ہے کہ قرآن مجید کے الفاظ سے بالکل الگ اور عربی متن کی رعایت کے بغیر قرآن مجید کے مفہوم کی ترجمانی کی جاۓ – میں نے اپنے آپ کو قرآن مجید کے الفاظ اور عبارت کا پابند رکھا ہے لیکن لفظی ترجمہ نہیں کیا – تفسیر میں نے اسلام کے مسلم عقائد کو دلائل سے مزین کیا ہے اور قرآن مجید کی جن آیات میں احکام اور مسائل کا ذکر ہے وہاں میں نے تمام فقہی مذاہب کا دلائل کے ساتھ ذکر کیا ہے – ہمارے متقدمین مفسرین نے قرآن کریم کی تفسیر میں جو نکات بیان کیے ہیں ان میں سے میں نے استفادہ کیا ہے لیکن جو بہت بعیدنکات ہیں یا دو راز کا رتاویلات ہیں ان کو ترک کر دیا ہے – میں نے یہ کہ شش کی ہے کہ قرآن مجید کی تفسیر میں زیادہ سے زیادہ احادیث اور آثارکو پیش کروں ، عام طور پر مفسرین صرف حدیث کا ذکر کر دیتے ہیں اس کی تخزیج نہیں کر تے – میں نے کانی محنت اور جا نفشانی کر کے “تبیان القرآن” میں درج ہر حدیث کی تخریج کی ہے اور اس کا مکمل حوالہ بیان کیا ہے: البتہ حافظ منذریء حافظ الہیثمی اور حافظ سیوطی چونکہ علم حدیث میں بہت ثقہ ہیں اس لیے ان کی تصانیف میں درج مسلم ائمہ حدیث کی روایات کو ان کے حوالوں کے ساتھ ذکر کر دیا ہے اور کہیں کہیں اصل ماخذ کے حوالوں کی بھی نشاندہی کر دی ہے – ہمارے بعض مصنفین ایسا کر تے ہیں مثلاً حافظ سیوطی نے ایک حدیث کو دس ائمہ حدیث کے حوالوں سے ذکر کیا ہے: اب وہ حافظ سیوطی کا ذکر کیے بغیر اس حدیث کو ان حوالوں کے ساتھ ذکر کر دیتے ہیں اور یہتلبیس کر تے ہیں کہ گویا اس حدیث کو انہوں نے ان دس حدیث کی کتابوں سے تلاش کیا ہے – اسی طرح علامہ شامی نے اگر کسی مسئلہکو دس فقہاء کے حوالوں سے ذکر کیا ہے تو وہ علامہ شامی کا ذکر کیے بغیر اس مسئلہکو ان دس فقہاء کے حوالوں سے ذکر کر دیتے ہیں اور پڑھنے والے پر یہ تاثر قائم کر تے ہیں کہ گویا انہوں نے اس مسئلہکو ان دس فقہاء کے حوالوں سے تلاش کیا ہے؛ میرے نزدیک یہ تلبیسسخت مذموم ہے۔ اگر حافظ منذری یا حافظ سیوطی نے اسحدیث کو دس ائمہ حدیث کے حوالوں سے ذکر کیا ہے تو میں نے اس طرح لکھا ہے کہ حافظ منذری یا حافظ سیوطی نے اس حدیث کو ان دس ائمہ حدیث کے حوالوں سے ذکر کیا ہے اور اس کا مکمل حوالہ دیا ہے اور کسی کی محنت اور جا نفثانی کو اپنی طرف منسوب کر نے کی مذموم تلبیس نہیں کی۔ اسی طرح فقہاء کے حوالہ جات کا معاملہ ہے۔
نئے اور تازہ مسائل میں غور وفکر اور اجتہادکی کانی وسعت اور گنجائش ہے اور ظاہر ہے اس میں علماء کی آراٗٗ مختلف ہوتی ہیں اور جو عالم بھی کسی تازہ اور نئے مسئلہ میں غور و فکرسے اجتہاد کرتا ہے وہ پوری دیا نتداری اور خدا خونی سے اس کے حکم کو دلائلشرعیہ سے اخذ کرتا ہے؛ اگر کسی عالم کو اس سے اختلاف ہو تو اس کو دلائل کے ساتھ اپنا نظریہ تو بیان کرنا چاہیے لیکن فریق مخالف پر کیچڑ نہیں اچھا لنی چاہیے اور طعن و تشنیع سے کام نہیں لینا چاہیے بدقسمتی سے ہمارے ہاں لوگوں کا یہ مزاج نہیں ہے اور لوگوں کا جس شخص سے کسی بھی مسئلہ میں اختلاف ہو وہ اس کو جاہل خائن اور اس نوع کے دیگر القابات سے نوازتے ہیں بلکہ اس کو دین اور ملت سے خارج کرنے سے بھی نہیں چو کتے۔ ان تازہ مسائل میں سے بعض مسائل میں ہمارا دوسرے علماء سے اختلاف ہے لیکن ہم نے اپنا موقف دلائلکے ساتھ بیان کیا ہے اور ان علماء کے خلاف ایک لفظ بھی نہیں لکھا اور ان کے اعزاز اکرام اور احترام کو پوری طرح قائم رکھا ہے؛ مثلاً ہمارے نزدیک اگر نماز کے پورے وقت میں ٹرین نہ رکے تو چلتی ٹرین میں نماز پڑھنا فرض ہے اور اس کا اعادہ واجب نہیں ہے؛ تاہم جو علماء اس عمل کو ناجائزکہتے ہیں؛ ہم نے ان کو مطعون نہیں کیا؛ اسی طرح ہمارے نزدیک ایلو پیتھک دواؤں سے علاج کرنا اور ضرورت کے وقت خون کو منتقل کرنا نہ صرف جائز بلکہ ضروری ہے؛ اور اعضاکی پیوند کاری جا نز نہیں ہے؛ ہم نے اس سلسلہ میں ان کے دلائل پر بحث کی ہے لیکن طعن اور تشنیع سے اجتناب کیا ہے۔ علی بذا القیاس۔
جن موضوعات پر “شرح صحیح مسلم” میں مفصل بحث آ چکی ہے؛ بعض جگہمیں نے اسی بحث کو نقل کردیا ہے، بعض جگہ اس کو ملخص کیا ہے اور بعض جگہ ان مباحث کو ازسر نو لکھا ہے ، ترجمہ میں نے زیادہ تر علامہ سید احمد سعید کاظمی قدس سرہ کے ترجمہ “البیان” سے استفادہ کیا ہے اور تفسیر میں زیادہ تر احکام القرآن الجامع لا حکام القرآن البحر المحیط تفسیر کبیر الدرالمنثور اور روح المعانی سے استفادہ کیا ہے۔ جدید تفاسیر میں سے تفسیر منیر مراغی فی ظلال القرآن اور تفسیر قاسمی بھی میرے پیش نظر رہی ہیں۔ اسباب نزول کے بیان میں “جامع البیان” پر زیادہ تر اعتمادکیا ہے۔ احادیث کی بہت سی کتابیں جن کے ہم پہلے صرف نام سنے تھے الحمداللہ شداب وہ چھپ گئی ہیں اور ہمیں دستیاب ہیں؛ میں نے زیادہ تر کوشش کی ہے کہ قرآن مجید کی تفسیر میں احادیث کو ان کے اصل حوالہ جات کے ساتھ ذکر کروں؛ اسی طرح فقہی مباحث میں مذاہب ائمہکو ان کو اصل کتابوں کے حوالے کے ساتھ درج کیا ہے؛ ماخذاور مراجعکی فہرست میں نے سنیں وفات کی ترتیب سے مرتب کی ہے اور میرا گمان یہ ہے کہ بجلی بار اس نوع کی فہرست مرتب کی گئی ہے۔ اس کا یہ فائدہ ہوگا کہ ایک نظر میں یہ معلوم ہو جاۓ گا کہ محدث مفسر فقیہہ یا مصنف کس زمانہ اور کس دور کا ہے۔
دس رمضان المبارک ۱۴۱۴ھ
کے مبارک دن اس تفسیر کا آغاز ہوا تھا اور بارہ ربیع الاول ۱۴۱۶ ھ کے مسعود دن میں اس کی بپہلی جلد اختتام کو پہنچ گئی۔ فالحمد للّٰہ رب العلمین.
اس جلد میں ایک مقدمہ ہے اور الفاتحہ اور البقرہ کی تفسیر ہے؛ میں نے اس تفسیر کو متوسط طریقہ پر لکھا ہے؛ اس میں بہت زیادہ تفصیل ہے نہ بہت اختصار ہے؛ مسائل حاضرہ پر میں نے بہت شرح و بسط کے ساتھ “شرح صحیحمسلم” میں لکھا دیا ہے؛ اسی طرح عبادات اور معاملات پر بھی سیرحاصل بحث اس میں آگئی ہے تاہم جو مسائل اور مباحث اس میں آنے سے رہ گئے ہیں ان شاء اللہ ان کا اس میں تفصیل کے ساتھ ذکر کروں گا۔ معاصرین اور عہد قریب کے مفسرین کی تحقیقات اور نگارشات کو میں نے اپنے پیش نظر رکھا ہے اور جہاں میری راۓ ان کے ساتھ متفق نہیں ہوسکی میں نے ادب اور احترام کے ساتھ اپنی راۓ کا اظہار کردیا ہے۔
اخیر میں میں ان تمام احباب کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے اس کتاب کے منصہ شهود پر آنے میں میرے ساتھ تعاون کیا خخاص طور پر سید اعجاز احمد صاحب،صاحبزادہ محسن اعجاز صاحب ( فرید بک سٹال )پروفیسر مفتی منیب الرحمان صاحب زید جھم ، مولانا محمد ابراہیم فیضی صاحب وغیرہم کا میں خصوصیات کے ساتھ شکرگزار ہوں ، اور اللہ تعالی کی بارگاہ میں دعا کرتا ہوں کہ وہ مجھے اس کتاب کو مکملکرنے کی توفیق دے ، اس کو اپنی بارگاہ میں مقبول فرمائے اور مجھےاس کتاب کے تمام معاونین اور قارئینکو دنیا اور آخرت کےہر شر سے محفوظ رکھے اور دنیا اور آخرت کی ہر خیر ہمیں عطا فرماۓ۔ آئین
غلام رسول سعیدی غفرلہ
خادم الحدیث دارلعلوم نعیمیہ بلاک ۱۵ فیڈرل بی ایریا کراچی ۳۷
۲۶ ربیع الول ۱۴۱۶ ھ ۱۴ اگست ۱۹۹۵
ٹیگز:-
Allama Ghulam Rasool Saeedi , تبیان القرآن