“جیو نیوز اور مسلسل مذہبی بد احتیاطی”

غلطی یا کوئی ایجنڈا؟

آج ہم بات کریں گے پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی، یعنی پیمرا کے اس اہم فیصلے کی، جو 27 جون 2026 کو جیو نیوز کے خلاف جاری کیا گیا۔ یہ فیصلہ محرم الحرام کی خصوصی نشریات “سفرِ عشق” میں مذہبی شخصیات کی بصری نمائندگی کے حوالے سے سامنے آیا۔

یہ صرف ایک چینل یا ایک پروگرام کا معاملہ نہیں، بلکہ پاکستان کے تمام الیکٹرانک میڈیا کے لیے ایک اہم قانونی، اخلاقی اور پیشہ ورانہ پیغام ہے۔

پیمرا نے اپنے حکم نامے میں واضح کیا کہ نشر کیا گیا مواد مذہبی حساسیت کے تناظر میں سنگین ضابطہ جاتی خدشات پیدا کرتا ہے۔ حکم نامے کے مطابق اس قسم کی نشریات مذہبی جذبات کو مجروح کر سکتی ہیں، مذہبی ہم آہنگی کو متاثر کر سکتی ہیں، ذمہ دارانہ صحافت کے تقاضوں سے متصادم ہو سکتی ہیں اور عوامی امن و امان کے لیے بھی خطرات پیدا کر سکتی ہیں۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ میڈیا کی آزادی اپنی جگہ اہم ہے، لیکن مذہبی حساسیت، عوامی جذبات اور قانون کی پاسداری بھی اتنی ہی ضروری ہے۔

اس کے بعد پیمرا نے ادارتی ذمہ داری کی طرف توجہ دلائی۔ حکم نامے میں کہا گیا کہ اِن ہاؤس مانیٹرنگ کمیٹی اور ایڈیٹوریل ٹیم کو اس پروگرام کے نشر ہونے سے پہلے زیادہ احتیاط، جانچ اور نگرانی کرنی چاہیے تھی۔ دوسرے لفظوں میں، مذہبی موضوعات پر کوئی بھی پروگرام نشر کرنے سے پہلے مکمل ادارتی جائزہ لینا ہر میڈیا ادارے کی ذمہ داری ہے۔

پیمرا نے یہ بھی واضح کیا کہ یہ معاملہ صرف اخلاقی نوعیت کا نہیں بلکہ متعدد قوانین اور ضابطوں سے متعلق بھی ہے۔ حکم نامے میں پیمرا آرڈیننس 2002، پیمرا رولز 2009، ٹیلی وژن براڈکاسٹ ریگولیشنز 2012، اور الیکٹرانک میڈیا کوڈ آف کنڈکٹ 2015 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ مذکورہ نشریات ان ضابطوں سے مطابقت نہیں رکھتی تھیں۔

اسی بنیاد پر پیمرا نے حکم دیا کہ جیو نیوز کا لائسنس پندرہ دن کے لیے فوری طور پر معطل کیا جاتا ہے۔

صرف یہی نہیں، بلکہ تمام کیبل آپریٹرز، سیٹلائٹ آپریٹرز اور ڈسٹری بیوشن پلیٹ فارمز کو بھی ہدایت دی گئی کہ وہ اس حکم پر فوری عمل درآمد یقینی بنائیں۔

مزید برآں، معاملہ کونسل آف کمپلینٹس کے سپرد کیا گیا تاکہ اس کا تفصیلی جائزہ لیا جا سکے اور اگر ضرورت ہو تو مزید قانونی کارروائی یا سفارشات بھی پیش کی جا سکیں۔

پیمرا نے جیو نیوز کو یہ بھی ہدایت دی کہ وہ اس واقعے کی مکمل اِنٹرنل انکوائری کرے، ذمہ دار افراد کی نشاندہی کرے، مستقبل میں ایسی صورتحال سے بچنے کے لیے مؤثر پریوینٹو میژرز تیار کرے اور اپنی رپورٹ کونسل آف کمپلینٹس کے سامنے پیش کرے۔

اسی کے ساتھ پیمرا کے تمام علاقائی دفاتر کو بھی ہدایت جاری کی گئی کہ وہ اس حکم پر مکمل عمل درآمد کو یقینی بنائیں۔

حکم نامے میں ایک اور اہم نکتہ بھی شامل ہے۔ پیمرا نے واضح کیا کہ یہ کارروائی حتمی نہیں ہے، اور اگر قانون کے مطابق ضرورت محسوس ہوئی تو مزید اقدامات بھی کیے جا سکتے ہیں۔

یہاں ایک سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ پہلا موقع ہے جب جیو نیوز کو مذہبی یا ضابطہ جاتی تنازع کا سامنا کرنا پڑا؟

جواب ہے: نہیں۔

ماضی میں بھی جیو نیٹ ورک کی بعض نشریات مذہبی موضوعات کے حوالے سے عوامی اور ضابطہ جاتی تنقید کا باعث بنتی رہی ہیں۔

مثال کے طور پر 2014 میں ایک مارننگ شو میں شادی کی تقریب کے دوران نعت کی پیشکش پر شدید عوامی ردعمل سامنے آیا تھا، جس کے بعد پیمرا نے کارروائی کی، جرمانہ عائد کیا اور بعد میں چینل کی جانب سے معذرت بھی کی گئی۔

اسی طرح مختلف اوقات میں بعض مذہبی پروگراموں کے اندازِ پیشکش پر بھی مختلف مذہبی حلقوں کی جانب سے اعتراضات سامنے آتے رہے ہیں۔

البتہ 2026 کے “سفرِ عشق” کیس میں معاملہ اس حد تک سنگین سمجھا گیا کہ پیمرا نے پندرہ روزہ معطلی کا حکم جاری کیا اور مزید تحقیقات کے لیے معاملہ کونسل آف کمپلینٹس کو بھی بھیج دیا۔

یہاں ایک اور سوال بھی اپنی جگہ موجود ہے۔

کیا یہ محض ایک ادارتی غلطی تھی، یا اس کے پیچھے کوئی مسلسل ادارتی رجحان موجود ہے؟

اس سوال کا حتمی جواب قیاس آرائیوں سے نہیں بلکہ شواہد، تحقیقات اور متعلقہ اداروں کی رپورٹوں کی بنیاد پر ہی دیا جا سکتا ہے۔

البتہ اگر ایک ہی نوعیت کے مذہبی حساس معاملات بار بار سامنے آئیں تو عوام کے ذہن میں چند سوالات ضرور پیدا ہوتے ہیں۔

کیا ادارتی نگرانی میں مسلسل کمزوری موجود ہے؟

کیا متعلقہ ادارہ اپنی سابقہ غلطیوں سے سبق حاصل کر رہا ہے؟

اور کیا پیمرا کی ہدایات پر مؤثر انداز میں عمل درآمد کیا جا رہا ہے؟

یہ ایسے سوالات ہیں جن کے جوابات حقائق، شواہد اور ذمہ دار اداروں کی تحقیقات ہی فراہم کر سکتی ہیں۔

اس پورے واقعے سے ایک اہم سبق سامنے آتا ہے کہ مذہبی موضوعات، خصوصاً انبیائے کرام علیہم السلام اور دیگر مقدس شخصیات سے متعلق مواد کی تیاری اور نشریات میں انتہائی احتیاط، علمی رہنمائی اور مضبوط ادارتی نگرانی ناگزیر ہے۔ محض نیک نیتی کافی نہیں، بلکہ قانون، ضابطہ اخلاق اور عوامی مذہبی حساسیت کا مکمل احترام بھی ضروری ہے۔

ہم تمام میڈیا اداروں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ مذہبی پروگراموں کی تیاری اور نشریات میں قانون، اخلاق، پیشہ ورانہ ذمہ داری اور عوامی جذبات کا مکمل احترام کریں، تاکہ مستقبل میں ایسے تنازعات سے بچا جا سکے اور معاشرے میں مذہبی ہم آہنگی برقرار رہے۔

اختتام سے پہلے میں آپ سے ایک سوال چھوڑنا چاہتا ہوں۔

کیا پاکستان کا میڈیا مذہبی معاملات میں اپنی ادارتی ذمہ داریوں کا معیار مزید بہتر بنانے کا محتاج ہے؟

اپنی رائے ضرور دیجیے، کیونکہ ذمہ دار میڈیا صرف قانون سے نہیں، بلکہ باشعور ناظرین کی آراء سے بھی مضبوط ہوتا ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں حق بات کہنے، ذمہ داری کے ساتھ سننے اور دین کے احترام کے ساتھ اظہار کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

ان سنی باتیں

جواد رضا خان

#PEMRA

,#GEONEWS

#Media

#HolyProphet