ڈاکٹر طاہر القادری امت کے عقائد میں فساد اور الحاد پھیلا رہے ہیں!

از، محمد افتخار الحسن

 

آپ سمجھتے ہیں کہ ہم اٹھکیلیاں کر رہے ہیں، مذاق کر رہے ہیں، یا ہم چھیڑ چھاڑ کر رہے ہیں۔ لیکن صاحبو، یہ تو ہم ہی جانتے ہیں کہ جب ہم تنقید لکھتے ہیں تو ہم کہاں سے اور کیوں بول رہے ہوتے ہیں۔ ہم سب آنکھوں والے ہیں، لیکن ہم سب مختلف دیکھتے ہیں، سب دماغ والے ہیں، لیکن مختلف سوچتے ہیں۔ میرے دل اور سینے میں جو راز چھُپے ہیں، وہ عامۃ الناس کے سامنے بیان کروں تو لوگ بلاتفریق علماء سے نفرت کرنے لگیں گے، جو کہ پہلے ہی کر رہے ہیں۔ لیکن یہاں ہم بات ڈاکٹر طاہر القادری کی کر رہے ہیں، جن کے پُجاری ان پر کوئی تنقید برداشت کرتے ہیں نہ اصلاح افعال و اعمال کے لیے کوئی کوشش قبول کرتے ہیں۔

 

میرا دعوٰی ہے کہ

“ڈاکٹر طاہر القادری نے مسلمانوں کے عقائد و نظریات میں “فساد” برپا کیا ہے اور ان کی جماعت نے اپنے بانی کی ایماء پر “الحاد” کو فروغ دیا ہے”.

 

رُکیے!

 

اگر یہ سطور پڑھتے ہی تمہارے ذہن میں تبصرہ آ گیا ہے تو میری گزارش ہے کہ چند لمحے مزید توقف کرو۔

 

سب سے پہلے قرآنِ مجید میں “فساد”کی اصطلاح کا مفہوم پڑھو، پھر ائمۂ اربعہ، ائمۂ عقائد اور اکابرینِ امت کے ہاں “الحاد” کی علمی تعریف دیکھو۔ اس کے بعد میرے مؤقف پر تنقید کرو۔

 

اگر آپ نے باقاعدہ دینی علوم کا مطالعہ نہیں کیا تو فوری ردِّعمل دینے کے بجائے اس علمی گفتگو کو توجہ سے پڑھو۔ ممکن ہے تبصرہ نگاروں میں کوئی ایسی علمی بحث سامنے آ جائے جو پہلے تمہارے مطالعے میں نہ آئی ہو۔

 

بطورِ حوالہ، میرا گزشتہ برس کا مضمون “مذہبی و مومنانہ الحاد” بھی پڑھو، جس میں اسی موضوع کے بنیادی اصول تفصیل سے بیان کیے گئے ہیں۔

 

میں نے ایک اصولی اور علمی دعویٰ پیش کیا ہے۔ اگر اس سے اختلاف ہے تو اس کا جواب قرآن، سنت، اجماع، ائمۂ مجتہدین کی تصریحات اور معتبر علمی دلائل سے دو۔ گالم گلوچ، طعن و تشنیع اور شخصی حملے نہ کسی علمی مؤقف کو رد کرتے ہیں اور نہ ہی حق کو باطل ثابت کرتے ہیں؛ البتہ وہ معاشرے میں فساد کو ضرور بڑھاتے ہیں۔

 

میں آج بھی اپنے اس مؤقف پر قائم ہوں۔

 

تحریکِ منہاج القرآن کا کوئی بھی نمائندہ، عالم یا محقق جب چاہے میرے ساتھ ون ٹو ون فیس بک لائیو علمی مکالمے کے لیے آ جائے۔ موضوع پر بات ہو گی ،  دلائل ہوں گے،بد تمیزی نہیں ہو گی ۔ فیصلہ ناظرین پر چھوڑ دیتے ہیں۔

 

اور اس کے بعد ہم آپ کو بتائیں گے کہ لندن کے ایکس مسلم سوسائیٹی کے ممبرز ڈاکٹر طاہر القادری کی تعبیرات و تشریحات اور بیانات کو کیسے اپنے نطریات کی حمایت میں پیش کرتے ہیں۔

محمد افتخار الحسن

09 جولائی 2026

#ilhad #shaykhiftikharulhassan