کتاب الصلوۃ باب 68 حدیث نمبر 453
٦٨ – بَابُ الشَّعْرِ فِي الْمَسْجِدِ
مسجد میں شعر پڑھنا
اس باب میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ مسجد میں شعر پڑھنے کا کیا حکم ہے۔
٤٥٣ – حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ الْحَكَمُ بْنُ نَافِعَ قَال اخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْن عَبْدالرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ أَنَّهُ سَمِعَ حَسَّانَ بنَ ثَابِتِ الْأَنْصَارِي يَسْتَشْهِدُ أَبَاهُرَيْرَةَ أَنْشُدُكَ اللهُ هَل سَمِعْتَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يَاحَشَان اجِبْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، اللهم ايده بِرُوحِ الْقُدُسِ . قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ نَعَمْ۔اطراف الحدیث : 3212، 6152
صحیح مسلم : 2485، الرقم المسلسل : ۶۲۶۹ ، سنن ابوداؤد: ۵۰۱۴ – ۵۰۱۳، سنن نسائی:۷۱۶ السنن الكبرى للنسائی :۱۰۰۰۰ مسند الحمیدی: ۱۱۰۵ عمل اليوم والليلة للنسائی: ۱۷۱ صحیح ابن حبان: 7148، المعجم الکبیر : 3587، 3596 صحیح ابن خزیمہ: ۱۳۰۷ مصنف عبد الرزاق : 7644، المعجم الاوسط: 6283 مسند احمد ج ۵ ص ۲۲۲ طبع قدیم، مسند احمد : ۲۱۹۳۶ – ج۳۶ ص 267 مؤسسة الرسالة بیروت جامع المسانيد لابن الجوزی: 1498، مكتبة الرشد ریاض (1426ھ)
امام بخاری روایت کرتے ہیں : ہمیں ابوالیمان الحکم بن نافع نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں شعیب نے خبر دی از الزہری، انہوں نے کہا: مجھے ابو سلمہ بن عبد الرحمان بن عوف نے خبر دی کہ انہوں نے حضرت حسان بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ سے سنا وہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے شہادت طلب کرتے تھے کہ میں تمہیں اللہ کی قسم دیتا ہوں کیا تم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : اے حسان ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے جواب دو ے اللہ ! اس کی روح القدس سے تائید فرما۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ہاں !
حدیث مذکور کے رجال کا تعارف
(1) ابوالیمان الحکم بن نافع
(۲) شعیب بن ابی حمزة ،ابوحمزہ کانام دینار حمصی ہے
(۳) محمد بن مسلم بن شہاب الزہری
(۴) ابوسلمہ حضرت حسان بن ثابت بن المنذر بن الحرام الانصاری المدنی، یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نعت گو شاعر تھے اسلام اور جاہلیت کے نامور شعراء میں سے تھے ابو نعیم نے کہا: عرب میں ان کی نظیر نہیں ہے کہ ایک شخص کے سلسلہ نسب میں چار ایسے افراد ہوں کہ ان میں سے ہر ایک کی عمر برابر ہو حضرت حسان کے آباء میں سے ہر ایک کی عمر ایک سو بیس سال تھی، حضرت حسان کی عمر بھی ایک سو میں سال تھی، ساٹھ سال وہ جاہلیت میں زندہ رہے اور ساٹھ سال اسلام میں، یہ ۵۰ھ میں مدینہ میں فوت ہوگئے
(۵) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ۔عمدۃ القاری ج 4 ص ۳۲۰
حدیث مذکور کی باب کے عنوان سے مطابقت
اس حدیث کی باب کے عنوان سے مطابقت ظاہر نہیں ہے، کیونکہ باب کا عنوان ہے: مسجد میں شعر پڑھنا اور حدیث مذکور میں مسجد میں شعر پڑھنے کا ذکر نہیں ہے تاہم ایک اور حدیث ہے جس میں مسجد میں شعر پڑھنے کا ذکر ہے:
سعید بن المسیب بیان کرتے ہیں : حضرت عمر رضی اللہ عنہ مسجد میں گزرے اور حضرت حسان شعر پڑھ رہے تھے (حضرت عمر نے ان کے مسجد میں شعر پڑھنے پر اعتراض کیا) حضرت حسان نے کہا: میں مسجد میں شعر پڑھتا تھا اور مسجد میں آپ سے افضل موجود تھے پھر انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی طرف مڑکر کہا: میں تمہیں اللہ کی قسم دیتا ہوں کیا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے میری طرف سے جواب دو اے اللہ ! اس کی روح القدس سے تائید فرما! حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ہاں !(صحیح البخاری : ۳۲۱۲ صحیح مسلم : 2485، سنن ابوداؤد: ۵۰۱۳ سنن نسائی: ۷۱۵ )
جو شعر حق پر مشتمل ہو، وہ مقبول ہے کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حسان کے اشعار پر دعا دی ہے اور ایسے اشعار کو مسجد میں پڑھنے سے منع نہیں کیا جائے گا اور اس حدیث کی روایت سے امام بخاری کا بھی یہی مقصود ہے۔
باب مذکور کی مؤید دیگر احادیث
حضرت البراء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کے لیے دعا فرمارہے تھے تم ان کفار کی ہجو کرو اور جبریل بھی تمہارے ساتھ ہیں۔(صحیح مسلم : 2486، الرقم المسلسل :۶۲۷۰ صحیح البخاری: ۶۱۵۳ ‘السنن الکبری للنسائی: 8294)
ہشام اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت حسان بن ثابت رضی الله عنہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس اکثر آتے تھے، پس میں نے ان کو برا کہا ( کیونکہ وہ بھی حضرت عائشہ پر تہمت لگانے والوں میں سے تھے ) تو حضرت عائشہ نے فرمایا: اے میرے بھتیجے ! ان کو چھوڑ دو کیونکہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے مدافعت کرتے تھے۔ (صحیح مسلم: ۲۴۸۷ الرقم المسلسل : 6272)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ حضرت حسان نے عرض کیا: یارسول اللہ ! مجھے ابوسفیان کی ہجو کرنے کی اجازت دیجئے آپ نے فرمایا : میری جو اس سے قرابت ہے تم اس کا کیا کروگے؟ حضرت حسان نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو عزت دی ہے میں آپ کو ان لوگوں میں سے اس طرح نکال لوں گا جس طرح گندھے ہوئے آٹے میں سے بال کو نکالیا جاتا ہے۔(صحیح البخاری : ۴۱۴۶ صحیح مسلم : ۲۴۸۹ الرقم المسلسل : 6272 )
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : قریش کی ہجو کرو کیونکہ ہجو ان کے خلاف تیز تیروں سے زیادہ موثر ہے پھر حضرت ابن رواحہ رضی اللہ عنہ کو بلایا گیا، آپ نے فرمایا: ان کی ہجو اور مذمت کرو، حضرت ابن رواحہ نے ان کی مذمت کی لیکن آپ اس سے راضی نہیں ہوئے پھر حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کو بلایا گیا، پھر حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کو بلایا گیا’ جب وہ آپ کے پاس آئے تو حضرت حسان نے کہا: اب وقت آگیا ہے کہ تم اس شیر کو بلاؤ جو اپنی دم سے مارتا ہے پھر انہوں نے اپنے ہونٹوں سے زبان باہر نکالی اور اس کو ہلانے لگے پھر کہا: اس ذات کی قسم، جس نے آپ کو حق دے کر بھیجا ہے! میں ان کو اپنی زبان سے اس طرح چیر پھاڑ کر رکھ دوں گا جس طرح چمڑے کو پھاڑتے ہیں رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جلدی نہ کرو کیونکہ ابوبکر قریش کے نسب سب سے زیادہ جاننے والے ہیں اور ان میں میرا نسب بھی ہے تاکہ ابوبکر میرا نسب ان سے الگ کردیں، حضرت حسان ابوبکر کے پاس گئے پھر لوٹ آئے اور کہا: یا رسول اللہ ! آپ کا نسب الگ کردیا گیا ہے اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق دے کر بھیجا ہے! میں آپ کو ان سے اس طرح نکال لوں گا، جس طرح گندھے ہوئے آٹے سے بال نکال لیا جاتا ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب تک تم اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے جواب دیتے رہوگے روح القدس تمہاری تائید کرتا رہے گا نیز حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ حسان نے کفار قریش کی ہجو اور مذمت کرکے مسلمانوں کو شفا دی ہے (یعنی ان کا دل ٹھنڈا کردیا) اور کفار کے دلوں کو بیمار کردیا۔ صحیح مسلم : 2490، الرقم المسلسل :2478
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، حضرت حسان کے لیے منبر رکھتے تھے وہ اس پر کھڑے ہوکر ان لوگوں کی ہجو (مذمت) کرتے تھے جو رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں بدگوئی کرتے تھے، پھر رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک روح القدس حسان کے ساتھ ہوتے ہیں، جب تک وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے موافقت کرتے ہیں۔( سنن ابوداؤد : ۵۰۱۵ سنن ترمذی: ۲۸۴۶، مسند احمد ج ۶ ص –
مسجد میں جن اشعار کا پڑھنا جائز ہے اور جن اشعار کا پڑھنا جائز نہیں ہے
علامہ بدرالدین محمود بن احمد عینی حنفی متوفی ۸۵۵ ھ لکھتے ہیں:
اس باب کی حدیث سے معلوم ہوا کہ جو اشعار برحق ہیں، ان کا مسجد میں پڑھنا جائز ہے اور جن اشعار میں جھوٹ، خیالی یا عشقیہ مضامین، عورتوں اور شراب کی تعریف اور فسق و فجور کا ذکر ہو ان کا مسجد میں پڑھنا جائز نہیں ہے۔
حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے کہ مسجد میں قصاص لیا جائے یا مسجد میں اشعار پڑھے جائیں یا مسجد میں حدود قائم کی جائیں ۔ (سنن ابوداؤد : ۴۴۹۰)
عمرو بن شعیب اپنے والد عبداللہ بن عمرو بن العاص سے اور اپنے دادا حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے مسجد میں اشعار پڑھنے سے اور خرید و فروخت کرنے سے اور جمعہ کے دن نماز سے پہلے حلقے بنانے سے منع فرمایا ہے۔ (سنن ترمذی: ۳۲۲، سنن ابوداؤد: ۱۰۷۹ سنن نسائی: 713،714 ، سنن ابن ماجہ: 1133، 766-۷۴۹ مسند احمد ج ۲ ص
امام عبدالرزاق نے از ابن المنکدر از اسید بن عبدالرحمن روایت کی ہے کہ ایک شاعر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا’ اس وقت آپ مسجد میں تھے اس نے عرض کیا: یا رسول اللہ ! میں شعر پڑھوں، آپ نے فرمایا: نہیں، اس نے کہا: کیوں نہیں، تو آپ نے فرمایا: مسجد سے نکل جاؤ اس نے مسجد سے باہر آکر شعر پڑھے تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو کپڑا عطا فرمایا اور فرمایا: یہ اس کا عوض ہے کہ تم نے اپنے رب کی مدح کی ہے۔۔
امام ابن خزیمہ نے اپنی صحیح میں ان اشعار کو جمع کیا ہے جن کا مسجد میں پڑھنا جائز ہے اور ان اشعار کو جمع کیا ہے جن کا مسجد پڑھنا ممنوع ہے اور ابو نعیم اصفہانی نے کتاب المساجد میں لکھا ہے کہ جاہلیت کے اشعار کو اور باطل لوگوں کے اشعار کو مسجد میں پڑھنا جائز نہیں ہے اور اسلام کے اشعار کو اور برحق لوگوں کے اشعار کو مسجد میں پڑھنا ممنوع نہیں ہے۔( عمدة القاری ج 4 ص ۳۲۲ دار الكتب العلمیہ بیروت
کس قسم کے اشعار کا بنانا اور پڑھنا جائز ہے اور کس قسم کے اشعار کا بنانا اور پڑھنا جائز نہیں ہے ۔
جن اشعار میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بے ادبی ہو یا جنت کی تنقیص کی گئی ہو فسق، فجور اور فحش کلام ہو اور مسلمانوں کی ہجو اور مذمت کی گئی ہو، ایسے شعر بنانا اور پڑھنا ناجائز ہے ایسے اشعار کی حدیث میں مذمت کی گئی ہے۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کسی شخص کے پیٹ میں قے بھری ہوئی وہ اس سے بہتر ہے کہ اس میں ( بے ہودہ) شعر بھرا ہوا ہو۔ سنن ابوداور : ۵۰۰۹ صحیح مسلم : ۲۲۵۸ سنن ترمذی: ۲۸۵۳ سنن ابن ماجه: ۳۷۶۰ مسند احمد ج ا ص 175
صحیح البخاری، صحیح مسلم اور سنن ابوداؤد میں یہ حدیث حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے اور سنن ترمذی، سنن ابن ماجہ اور مسند میں یہ حدیث حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔
اور جن اشعار میں اللہ تعالی،ٰ اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حمد اور نعت ہو، قرآن مجید اور احادیث صحیحہ کے ہدایت اور نصیحت پر مشتمل مضامین ہوں اولیاء اللہ کی منقبت اور کفار کی مذمت ہو ان اشعار کا بنانا اور پڑھنا جائز ہے حدیث میں ہے:
حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بعض اشعار میں ضرور حکمت ہے۔(صحیح البخاری: ۶۱۴۵ سنن ابوداؤد: ۵۰۱۰-۳۰۷۵۵)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک بعض اشعار میں حکمتیں ہوتی ہیں۔(سنن ابوداؤد : ۳۷۵۶ سنن ترمذی: ٬۲۸۴۵ مسند احمد ج ۱ ص ۳۶۹)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شاعر کی کہی ہوئی سب سے سچی بات وہ ہے جو لبید نے کہی ہے:
الا كل شيء ما خلا الله باطل.
سنو! اللہ کے سوا ہر چیز باطل (فانی) ہے۔
(صحیح البخاری : 6147، صحیح مسلم : ۲۲۵۶ سنن ترمذی : ۲۸۴۹ مسند احمد ج ۲ ص ۲۴۸)
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم عمر القضاء ادا کرنے کے لیے مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے، حضرت عبد اللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ آپ کے آگے آگے یہ اشعار پڑھتے ہوئے چل رہے تھے:
خلوا بنى الكفار عن سبيله
اے اولاد کفار ! آپ کا راستہ چھوڑ دو ۔
اليوم نضــربــکــم على تنزيله
آج ہم قرآن مجید کے حکم کے موافق تم پر ضرب لگائیں گے۔
ضربا يزيل الهام عن مقيله
ایسی ضرب جو کھوپڑی کو اپنی جگہ سے اکھاڑ دے گی۔
ويذهــل الـخـلـيـــل عــن خـلـيـــلــــه
اور دوست کو دوست سے جدا کر دے گی۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت ابن رواحہ رضی اللہ عنہ سے کہا: تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اور اللہ تعالیٰ کے حرم میں شعر پڑھ رہے، تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے عمر ! اس کو رہنے دو یہ اشعار کفار میں تیروں سے زیادہ تیزی سے تاثیر کرتے ہیں ۔سنن ترمذی: ۲۸۴۷ سنن نسائی: ۲۸۹۳ – ۲۸۷۳)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا گیا: کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کوئی شعر پڑھا ہے؟ حضرت عائشہ نے فرمایا: آپ حضرت ابن رواحہ رضی اللہ عنہ کے اشعار پڑھتے تھے اور آپ یہ شعر پڑھتے تھے:
وياتيك بالاخبار من لم تزود.
زمانہ تمہارے پاس ان لوگوں کی خبر میں لاتا ہے جن کو تم نے زاد راہ نہیں دیا ۔سنن ترمذی: 2848 مسند احمد ج 6 ص 138
باب مذکور کی حدیث شرح صحیح مسلم : ۶۲۶۲ – ج ۶ ص 1155 پر مذکور ہے اس کی شرح کا عنوان ہے: حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کی سوانح ۔