*کیا آپ جانتے ہیں؟*

 

– سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے مسجد میں چٹائیاں بچھانے کو بدعت فرمایا ہے۔ (اتحاف السادۃ المتقین)

 

– سیدنا عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ نے جماعت سے تراویح جو اب ہر جگہ رائج ہے، اسے بدعت فرمایا ہے۔ (صحیح البخاری)

 

– امام مالک علیہ الرحمہ کے نزدیک مسجد میں سجادہ بچھانا بدعت تھا۔ (مجموع الفتاوی)

 

– ایک ہی محلے میں زیادہ مسجدیں ہونا سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے نزدیک بدعت تھا۔ (قوت القلوب)

 

– صحابۂ کرام میں پیٹ بھر کر کھانا سب سے پہلی بدعت قرار دی گئی۔ (احیاء العلوم الدین) بلکہ یہ جو ہمارے ہاں صبح اٹھ کر سب سے پہلے ناشتے کا رواج ہے یہ بھی بدعت ہی ہے۔

 

– سادہ گھروں کی جگہ غیر ضروری ڈیکوریشن اور نقش و نگار والے اور اعلی قسم کے گھروں کی تعمیر بھی اسلاف کے نزدیک بدعت ہے۔ (اتحاف السادۃ المتقین)

 

– مسجدوں کی تزئین و آرائش، اس کے اعلی قسم کے محراب وغیرہ بنانا اور پھر اعلی مساجد بنا کر اس پر فخر کرنا بھی بدعت ہے۔ ( سنن ابی داؤد)

 

– قرآن شریف کے اعراب، علامات، رکوع وغیرہ بھی بدعت ہیں۔ (المصاحف لابن ابی داؤد)

 

لیکن اس سب اور کئی اور بدعات کو جائز مستحسن اور بہترین آسانی وغیرہ کے طور پر تو اختیار کرنا جائز اور درست مانا گیا ہے، لیکن صرف میلاد النبی ﷺ پر ہی “یہ عہدِ نبوی میں نہیں کیا گیا تھا” کی ضد لگا کر مخالفت کرنا ایک عجیب ترین بات ہے۔

 

اس سب کے باوجود جبکہ میلاد منانے کی تعریف بھی بتائی جاتی ہے، اس پر دلائل بھی دیے جاتے ہے، اس کے اسٹینڈرڈ کو سمجھایا جاتا ہے، اس کی ہمارے لئے ضرورت سے آگاہ کیا جاتا ہے، اغلاط اور جہالت کو ہر سال روکا جاتا ہے بلکہ اس پر جہلاء کی سرزنش بھی جاتی ہے، فتاوی دیے جاتے ہیں، بیانات کیے جاتے ہیں۔ پھر بھی رسول اللہ ﷺ کے ذکر خیر پر چِڑ جانا اور کہنا کہ ایسا کرنے والا جہنم کا حقدار ہے، بغضِ ذکرِ نبی نہیں ہے تو اور کیا ہے ؟

 

یہی کام اہل سنت سے تعلق رکھنے والے دنیا جہاں کے سنی مسلمانوں کے مخالفین کے ہاں “فلاں کانفرنس” اور “فلاں اجتماع” کے مختلف ناموں سے ہو رہے ہوتے ہیں، جلوس بھی ہوتے ہیں لیکن وہ بدعت ہرگز نہیں مانے جاتے، لیکن منہ سے جھاگ صرف یومِ عید میلاد النبی ﷺ پر ہی نکلتی ہے۔

 

میرا سوال ہے کہ کسی ایسے بے تکے معترض سے آپ ضرور پوچھئے کہ کیا اُس معترض کا سفر و حضر، رہن سہن، شادی بیاہ، جنازے، لباس، ہر طرح کی خوشی و غمی کا اظہار بلکہ پورا لائف سٹائل ہی صحابہ و تابعین جیسا ہے ؟!

 

جواب یقیناً نہیں ہی ہے لیکن تب بھی یہ سب کر کے بھی وہ نہ تو بدعتی ہوا اور نہ جہنمی ہوا، اگر بدعتی ہوا تو رسول اللہ کی محبت میں عید میلاد النبی منانے والا۔

تف! صد بار تف! ایسی سوچ پر

 

اللہ ہمیں شریروں کے شر اور فتنہ پروروں کے فتنوں سے محفوظ و مامون فرمائے آمین