ماں کی دعا کا اثر

حکایت نمبر129: ماں کی دعا کا اثر

حضرت سیدنا عبدالرحمن بن احمد علیہ رحمۃ اللہ الصمد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک بوڑھی عورت حضرت سیدنا بقی بن مخلدعلیہ رحمۃ اللہ الصمد کی بارگاہ میں حاضر ہوئی او ر بڑے غمگین انداز میں یوں عرض گزار ہوئی:” حضور! میرے جوان بیٹے کو رومیوں نے قید کرلیا ہے او روہ زنجیروں میں جکڑا ہوا ان کے ظلم وستم کا نشانہ بن رہا ہے۔ میرے پاس اِتنی رقم نہیں کہ مَیں فدیہ دے کر اسے آزاد کر الوں، میری ملکیت میں صر ف ایک چھوٹا سا گھر ہے جسے میں بیچ بھی نہیں سکتی ، اپنے لختِ جگر کی جدائی کے غم نے میرے دن کا سکون اور راتوں کی نیند اُڑا دی ، مجھے ایک پَل سکون میسر نہیں، خدا را! میری حالتِ زار پر رحم فرمائیں، اگر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کسی صاحبِ حیثیت سے کہہ دیں گے تو وہ فدیہ دے کر میرے بیٹے کو آزاد کرالے گا اور اس طر ح مجھے قرار نصیب ہوجائے گا ۔”
اس بوڑھی ماں کی یہ مامتا بھری باتیں سن کر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اسے تسلی دیتے ہوئے فرمایا: ”محترمہ !اللہ عزوجل پر بھروسہ رکھووہ ضرور کرم فرمائے گا ، میں آپ کے معاملے کو حل کرنے کو شش کرتا ہوں ، آپ بے فکر ہوجائیں۔” جب دکھیاری ماں نے ڈھارس بندھانے والی یہ باتیں سنیں تو دعائیں دیتی ہوئی وہاں سے رخصت ہوگئی ۔
راوی کہتے ہیں کہ جب وہ بڑھیا وہاں سے چلی گئی تو آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سرجھکا کر بیٹھ گئے۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے مبارک ہونٹوں کو جنبش ہوئی اور آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کچھ پڑھنے لگے لیکن ہم آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے کلام کو نہ سن سکے۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کافی دیر تک اسی حالت میں رہے ۔
کچھ عرصہ بعد وہی بوڑھی عورت اپنے جوان بیٹے کے ساتھ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوئی۔ وہ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو دعائیں دے رہی تھی اور آپ کا شکر یہ ادا کر رہی تھی ،پھر کہنے لگی :”حضور! آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی بر کت سے میرے بیٹے کو اللہ عزوجل نے قید سے رہائی عطا فرمادی ہے ۔ اس کا واقعہ بڑا عجیب ہے، یہ خود اپنی رہائی کا واقعہ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے سامنے بیان کر نا چاہتا ہے۔”یہ سن کر آپ نے فرمایا:” اے نوجوان! اپنا واقعہ بیان کرو ۔”تو وہ کہنے لگا :
جب مجھے رومیوں نے قید کرلیا تو انہوں نے مجھے چند اور قیدیوں کے ساتھ شامل کر دیا۔ وہ ہم سے بہت زیادہ مشقت والے کام کر واتے ۔ پھر ہم چند قیدیوں کو ایک بڑے شاہی عہدہ دار کے پاس بھیج دیا گیا ۔ اس کی ملکیت میں بہت سارے باغات تھے اور وہ بہت بڑی جاگیر کا مالک تھا ، وہ ہمارے پاؤں میں بیڑیاں ڈال کر سپاہیوں کی نگرانی میں اپنے با غا ت اور کھیتو ں میں کام کرنے کے لئے بھیجتا ۔ہم سارا دن زنجیرو ں میں جکڑے ہوئے جانوروں کی طر ح کام کرتے پھر شام کو واپس ہمیں قیدخانہ میں ڈال دیا جاتا۔ اس طرح ہم ان کی قید میں مشقتیں بر داشت کررہے تھے ۔
ایک دن ایسا ہوا کہ جب شام کو ہمیں واپس قید خانے کی طر ف لایا جارہا تھا تو یکایک میرے پاؤں میں بندھی ہوئی مضبوط بیڑیاں خود بخود ٹو ٹ کر زمین پر آپڑیں، جب سپاہیوں کو خبرہوئی تو وہ میری طر ف دوڑے او رچیختے ہوئے کہنے لگے : ”تُو نے بیڑیاں کیوں توڑ ڈالیں؟ ”میں نے کہا :”بیڑیاں خود بخود ٹوٹ گئیں ہیں ، مَیں نے تو ان کو ہاتھ بھی نہیں لگایا،اگر تمہیں یقین نہیں آتا تو دو سرے قیدیوں سے پوچھ لو۔” نوجوان کی یہ بات سن کر سپاہی بہت حیران ہوئے او رانہوں نے جاکر اپنے افسر کو یہ واقعہ بتا یا وہ بھی حیران ہوااور اس نے فوراَ ایک لوہا ر کو بلایا اور کہا: ”اس نوجوان کے لئے مضبو ط سے مضبوط بیڑیاں تیار کرو ، لوہار نے پہلی بیڑیوں سے مضبوط بیڑیاں تیار کیں ۔ مجھے دوبارہ پابندِ سلاسل کر دیا گیا۔ ابھی میں ان بیڑیوں میں چندقدم ہی چلا ہوں گا کہ وہ بھی خود بخود ٹوٹ کر زمین پر گر پڑیں۔
یہ منظر دیکھ کر سارے لوگ بہت حیران ہوئے اور انہوں نے باہم مشورہ سے ایک راہب کو بلایا اور اسے ساری صورتحال سے آگاہ کیا۔ راہب نے ساری گفتگو سن کر مجھ سے پوچھا: ”اے نوجوان! کیا تمہاری والدہ زندہ ہے؟ ”میں نے کہا :”ہاں ، اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عزوَجَلَّ !میری ماں زندہ ہے۔” راہب میری بات سن کر ان لوگوں کی طرف متوجہ ہوااور کہنے لگا:” اس نوجوان کی والدہ نے اس کے لئے دعا کی ہے، اس کی دعاؤں نے اس نوجوان کو اپنے حصار میں لے رکھا ہے اور اللہ عزوجل نے اس کی ماں کی دعا قبو ل فرمالی ہے، اب چاہے تم اسے کتنی ہی مضبوط زنجیروں میں قید کر و یہ پھر بھی آزاد ہو جائے گا لہٰذا بہتر ی اسی میں ہے کہ اسے آزاد کردو جس کے ساتھ ماں کی دعائیں ہوں اس کا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا ۔” راہب کی یہ بات سن کران رومیوں نے مجھے آزاد کردیا اور مجھے اسلامی سر حد تک چھوڑ گئے۔
جب اس نوجوان سے وہ دن اور وقت پوچھا گیاجس دن اس کی بیڑیاں ٹوٹی تھیں تو وہ وہی دن تھا جس دن بڑھیا حضرت سیدبقی بن مخلد علیہ رحمۃ اللہ الصمد کی بارگاہ میں حاضر ہوئی تھی اور اس نے دعا کے لئے عرض کی تھی او رآپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اس کے بیٹے کے لئے دعا کی تھی۔ اسی دن اوراسی وقت نوجوان کو روم میں وہ واقعہ پیش آیا ، اس طرح ماں کی دعاؤں اور آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی برکت سے اس نوجوان کو رہائی حاصل ہوئی ۔
؎ نگاہِ ولی میں وہ تا ثیر دیکھی بدلتی ہزارو ں کی تقدیر دیکھی
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی عليہ وسلم)
(میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اسی طرح کا واقعہ ایک صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بیٹے کے ساتھ بھی پیش آیا، چنانچہ مروی ہے کہ حضرت سیدنا عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے فرزندِ ارجمند کو مشرکین نے قید کرلیا ۔ حضر ت سیدنا عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سرکارِ مدینہ ،راحتِ قلب وسینہ ،باعثِ نزولِ سکینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی بارگاہ بے کس پناہ میں حاضر ہوئے اور اپنے بیٹے کی قید کے متعلق بتایا اور پھر یہ بھی بتایا کہ آج کل ہم بہت تنگی کے عالم میں زندگی گزار ر ہے ہیں ۔ یہ سن کر نبی ئکریم، رء ُ وف ورحیم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ عزوجل سے ڈرو،صبر کرو اور لَا حَوْلَ ولَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللہِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْم کی کثرت کرتے رہو ۔” یہ سن کر حضرت سیدنا عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ تعالیٰ عنہ گھر تشریف لے آئے۔

آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی زوجہ محترمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اپنے بیٹے کی وجہ سے بہت پریشان تھیں ، جب آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بتایا کہ حضور نبی کریم ،رء ُوف رحیم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشادفرمایا ہے کہ” لَا حَوْلَ وَلَاقُوَّۃَ اِلَّابِاللہِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْم کی کثرت کرو۔”تو دو نوں نے لا حول شریف پڑھنا شرو ع کردیا،ابھی تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ دروازے پر کسی نے دستک دی۔ جب باہر جاکر دیکھا تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بیٹا سامنے موجود تھا اور اس کے ساتھ کافرو ں کی چار ہزار بکریاں بھی تھیں ۔ ان کے بیٹے نے بتا یا کہ دشمنوں نے مجھے قید کرلیا اور مجھ سے بکریاں چروانے لگے ،آج میں نے دشمن کو غافل پایا تو ان کی بکریاں لے کر وہاں سے بھاگ آیا، انہیں میرے بھاگنے کی خبر تک نہ ہوئی ۔

اپنے بیٹے کو اپنے پاس دیکھ کر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بہت خوش ہوئے اور حضور نبی کریم ،رء ُوف رحیم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی بارگاہ میں حاضر ہو کر عرض کی:” میرا بیٹا دشمن کی قید سے بھاگ آیا ہے اور ان کی چار ہزار بکریاں بھی ساتھ لایا ہے ،کیا یہ بکریاں ہمارے لئے حلال ہیں؟ ”توحضور صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے فرمایا: ”ہاں(یہ تمہارے لئے حلال ہیں) ۔”

اس وقت سورہ طلاق کی مندرجہ ذیل آیت مبارکہ نازل ہوئی :

وَ مَنۡ یَّـتَّقِ اللہَ یَجْعَلْ لَّہٗ مَخْرَجًا ۙ﴿2﴾وَّ یَرْزُقْہُ مِنْ حَیۡثُ لَا یَحْتَسِبُ ؕ وَ مَنۡ یَّتَوَکَّلْ عَلَی اللہِ فَہُوَ حَسْبُہٗ ؕ اِنَّ اللہَ بَالِغُ اَمْرِہٖ ؕ قَدْ جَعَلَ اللہُ لِکُلِّ شَیۡءٍ قَدْرًا ﴿3﴾ (پ28،الطلاق:2،3)

ترجمہ کنزالایمان: اور جو اللہ سے ڈرے اللہ اس کے لئے نجات کی راہ نکال دے گااوراسے وہاں سے روزی دے گاجہاں اس کا گمان نہ ہواور جو اللہ پر بھروسہ کرے تو وہ اسے کافی ہے بےشک اللہ اپنا کام پورا کرنے والا ہے بےشک اللہ نے ہر چیز کا ایک اندازہ رکھاہے۔

(تفسیرقرطبی،سورۃ الطلاق،تحت الآیۃ:”وَمَنْ یَّتَّقِ اللہَ الٰی۔۔ لَا یَحْتَسِبُ”،ج ۱۷،ص۱۴۳۔۱۴۴)

مذکورہ آیتِ کریمہ کے فوائد:

یہ آیتیں بڑی ہی بابر کت اور عظمت والی ہیں۔ ان کے متعلق سرکارِ دو عالم ، نورِ مجسَّم ،شاہِ بنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشادفرمایا:” جو شخص ا س آیت کو پڑھے اللہ تعالیٰ اس کے لئے شبہاتِ دُنیا، غمراتِ موت اوربروزِ قیامت سختیوں سے خلاصی کی راہ نکالے گا۔” اور اس آیت کی نسبت نبی ئ کریم ،رء ُوف رحیم صلَّی ا للہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے یہ بھی فرمایا: ”میرے علم میں ایک ایسی آیت ہے جسے لوگ محفو ظ کرلیں تو ان کی ہر ضرورت وحاجت کے لئے کافی ہے ۔تفسیر خزائن العرفان،سورۃ الطلاق، تحت الآیۃ:۲۔۳)

(یہ آیت مبارکہ نہایت مُجرّب ہے جسے کوئی پریشانی ہو، دنیا وی تکالیف کا سامنا ہو، فکر معاش دامن گیر ہو، دشمن کا خوف ہو یا دشمن کی قید میں ہو تواس آیت کو کامل یقین کے ساتھ پڑھے اِن شاء للہ عزوجل تمام پر یشانیوں سے نجات حاصل ہو جائے گی، خوشحالی اور فراخی حاصل ہوگی۔ اس کے علاوہ اُخروی نجات کے لئے بھی یہ آیت مبارکہ بہت مفید ہے۔چنانچہ اس کا وِرد کرتے رہنا چاہے، اللہ عزوجل ہمیں قرآن پاک کی تلاوت اور اس کے اَحکام پر عمل پیرا ہونے کی تو فیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم)

ماں باپ بڑی نعمت ہیں

ماں باپ بڑی نعمت ہیں

محمد ساجد سعیدی مصباحی  حسین
 

اللہ تبارک و تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر و احسان ہے کہ اس نے انسان کو دنیا کی بہترین نعمتوں سے سرفراز فرمایاہے، ساتھ ہی ساتھ اسے مخلوق میں افضل و احسن بنایا ہے۔اگر انسان اس کی نعمتوں کو شمار کرنا چاہے تو شمار نہیں کر سکتا۔ ان ہی نعمتوں میں سے ایک بڑی نعمت والدین بھی ہیں جن کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے محبت و شفقت کی شکل میں عنایت فرمایاہے۔ یہی نہیں بلکہ انھیں اولاد کا ایک اہم ذریعہ بھی بنایا ہے۔
والدین کی طرح مشفق اور مہربان انسان دنیا میں ملنا کافی مشکل ہے ۔ والدین کی محبت و شفقت بچپن سے لے کر جوانی تک بلکہ تا حیات باقی رہتی ہے۔ یہ والدین ہی ہیں جو اپنی اولاد کو کسی پریشانی میں دیکھتے ہیں تو ان کا کلیجہ دہل جاتاہے اور اپنی اولادکو پریشانی سے چھٹکارا دلانے کے لیے اپنی جان و مال تک قربان کر دیتے ہیں،پھر انسان اپنے والدین کی فرمانبرداری کیوں نہ کرے؟
اللہ تبارک و تعالیٰ نے والدین کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنے کی سخت تاکید فرمائی کہ: اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک کرو، ان سے اچھا برتاؤ کرواور ان کی فرمانبرداری کرو۔
اس لیے انسان کو چاہیے کہ والدین کی فرمانبرداری اور ان کی خوشنودی حاصل کرکے اللہ تبارک و تعالیٰ کی رضا مندی حاصل کرے۔ چونکہ جس انسان پر والدین کا سایہ رحمت بن کر رہتا ہے تو وہ انسان، اس کے ذریعے دنیا کے مشکل سے مشکل کاموں کو حل کرنے کی صلاحیت اپنے اندر پاتاہے اور دنیااسے عزت کی نظرسے دیکھتی ہے ۔ چنانچہ جو شخص اپنے ماں باپ کے ساتھ نیک برتاؤ کرتا ہے،ایسے خوش نصیب انسان کے لیے جن و انسان تو کیا فرشتے بھی دعا کرتے ہیں اور فریاد کرتے ہیں کہ اے مولیٰ! اس شخص پر رحمت نازل فرما جیسا کہ اس نے اپنے والدین پر رحم کیا اور ان کی خدمت کی۔
اللہ رب العزت نے قرآن مقدس کے پندرہویں پارے میں ارشاد فرمایا کہ :
تمھارے رب نے حکم دیا کہ اس کے علاوہ کسی کو نہ پوجو اور اپنے والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرو ۔ اگر تیرے سامنے ان میں سے ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو انھیں اُف تک نہ کہو۔
مگر افسوس ہے ان اولاد پر جو والدین کے ساتھ اچھے برتاؤ کی بجائے انھیں گھر سے نکالنا ، تکلیفیں دینا اوران کے ساتھ دیگر غیر اخلاقی باتوں کا مظاہرہ کرنا اپنا معمول بنا لیا ہے۔ ایسی اولاد کو اس آیت مبارکہ سے عبرت حاصل کرنی چاہیے کہ جب اللہ رب العزت نے ’’اُف‘‘ تک کہنے کی اجازت نہیں دی ہے اور بڑی سختی سے روکا ہے تو پھر والدین کے ساتھ بدسلوکی کو وہ کیسے برداشت کرے گا۔ ایسا کرنے والے نہ صرف دنیا میں ذلیل و رسوا ہوتے ہیں بلکہ ان کے لیے آخرت میں بھی ہلاکت ہے۔
اللہ تعالیٰ نے جہاں اپنی عبادت کا حکم دیا ہے وہاں یہ بھی فرمایا ہے کہ والدین کی نافرمانی سے بچو، ان کے ساتھ اچھا برتاؤ کرو اور انھیں کسی قسم کی کوئی تکلیف نہ دو۔ جو والدین کی عظمت کی دلیل ہے۔
والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ کوئی ایسا کام نہ کیا جائے جس سے ان کو تکلیف پہنچے اور اپنی جان و مال ہر طرح سے ان کی خدمت کی جائے۔ حدیث شریف میں بھی والدین کے ساتھ اچھے برتاؤ کی بہت تاکید آئی ہے،چنانچہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اپنے والدین کو ستائے گا وہ جنت کی بو نہیں پائے گا۔
اس سے پتہ چلا کہ جو شخص والدین کے ساتھ اچھا برتاؤ کرے گا وہ جنت کی خوشبو سے محروم نہ رہے گا۔ ایک اور حدیث شریف ہے کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور عرض کی:
یا رسول اللہ! والدین ہمارے لیے کیا ہیں؟
تو رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ تمہارے لیے جنت بھی ہیں اور دوزخ بھی، یعنی اگر تم نے اپنی زندگی میں انھیں کوئی تکلیف نہ دی، ان کی ہر حاجت پوری کی اور ان کو خوش اس لیے رکھاکہ اللہ اور رسول کی خوشنودی حاصل ہو جائے تو وہ تمہارے لیے جنت ہیں اور اگر تم نے انھیں اپنی زندگی میں تکلیف دی، ان کی خدمت نہ کی اور ان سے جدا ہو کر لوگوں سے میل جول رکھا تو جان لوکہ وہ تمہارے لیے جنت کے بجائے جہنم ہیں۔
اللہ تعالیٰ تمام انسانوں کو والدین کی نافرمانی سے بچائے اور تا حیات ان کی دل جوئی کی توفیق بخشے۔(آمین)

 

بچوں کی تربیت

بچوں کی تربیت

شاکرعالم

انسانی زندگی کو بنیادی طور پر تین حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ بچپن، جوانی اور بڑھاپا۔ بچپن حقیقت میں بہت ہی شاہانہ اور حسین ہوتا ہے۔اس کی وجہ شاید لاابالی پن، بے نیازی اور بے فکری ہوتی ہے، لیکن شیر خواری جو کہ دو سے ڈھائی سال کا زمانہ ہوتا ہے۔اس مدت میں جسم بڑی تیزی سے نشو و نماپاتا ہے اورطبیعت کے ساتھ اندرونی وبیرونی اعضاو جوارح اور خدو خال میں کافی تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں۔ ایسے حالات میں بچوں کی صحت و تندرستی بہت ہی اہمیت رکھتی ہے۔ چنانچہ والدین کو ان سبھی باتوں پر توجہ دینا نہایت ضروری ہے جو بچے کی صحیح تربیت وپرورش میں معاون ثابت ہوسکتی ہیں۔

بچوں کا کھان پان

چونکہ بچوں کی پرورش و پرداخت ایک اہم فریضہ ہے۔اس لیے وہ والدین سے ضبط نفس، خواہشات کی قربانی اور جان و مال کا ایثار چاہتا ہے۔ خود غرض، نفس پرست لوگ جو اپنی انفرادیت اور جسمانی و ذہنی سہولت کے مکمل طورسے عادی ہوچکے ہیںوہ اس فریضے کی انجام دہی کے لیے کسی طرح راضی نہیں ہو تے، مگر جو ماں باپ اپنے بچوں کی بھلائی اور سچی خوشی چاہتے ہیں ۔اپنے بچوں کو خوش رکھنا اور انھیں کامیاب و کامران بنانے ہی میں فخر وعزت محسوس کرتے ہیں۔وہ اپنے بچوں کے لیے قیمتی سے قیمتی چیز قربان کر دیتے ہیں اور اپنے بچوں کا مستقبل سنوارنے میں سرگرداں رہتے ہیں ،تبھی یہ بچے اپنے ماں باپ کے لیے بڑھاپے کا سہارا، دنیامیں صدقۂ جاریہ اورآخرت میں مغفرت وبخشش کا سامان بنتے ہیں۔

لیکن جو والدین خاص طور سے مائیں اپنے بچوں کی صحیح تربیت نہیں کرتیں۔ اپنا دودھ جو کہ ہر بچے کا پیدائشی حق ہے، نہ دے کر بچوں کو ڈبے کا دودھ پلاتی ہیں۔ بچے کو قدرتی غذائیں دینے کے بجائے بازاری اور ریڈی میڈ بے بی فوڈس وغیرہ کھلاتی ہیں وہ ان بچوں کے حقوق مارنے کے ساتھ ؛ان کی صحت سے بھی کھلواڑکرتی ہیں،کیونکہ جتنی اچھی صحت ماں کے دودھ پینے سے بچوںکو حاصل ہوتی ہے وہ کسی بھی اچھے سے اچھے بازارو کھانے اوردودھ سے حاصل نہیں ہوسکتی ہے۔ اس کے برخلاف بازارو کھانے اور ڈبے کا دودھ پینے سے بچوں کو ذہنی، فکری اور جسمانی طور پر کمزوری لاحق ہوجاتی ہے۔ ماہرڈاکٹروں کا کہنا ہے :

بچے کی صحت و تندرستی سب سے زیادہ اہم ہے۔ اس لیے بچوں کو دی جانے والی خوراک اور غذاؤں پر خاطر خواہ توجہ دینا ضروری ہے۔ ایک نو زائیدہ بچے کے لیے اس کی ماں کا دودھ کائنات میں مناسب اور مقوی غذا ہے۔ماں کا دودھ بچوں کی جسمانی و ذہنی نشو و نما کے لیے بے حد مفیدا ور سود مند ہے۔اس بات پرسبھی ڈاکٹروں کا اتفاق ہے کہ ایک بچے کے لیے ماں کے دودھ سے بڑھ کرکوئی ٹانک نہیں ہے۔ البتہ جب بچہ کچھ بڑا ہو جائے اور چند مہینے کا ہو جائے تو اسے گھر کی بنائی ہوئی چیزوں میں سے تھوڑاتھوڑاکھلانا شروع کردینا چاہیے۔

مثال کے طور پردال کا پانی، کھیر، دلیہ اور روٹی کی اوپری باریک پرت کو پانی یا دال کے پانی میں بھگو کر بچے کے منہ میں دیں اور آہستہ آہستہ سادہ بسکٹ وغیرہ کھلانے کی عادت ڈالیں،بلکہ جیسے جیسے بچے کی عمرمیںاضافہ ہوتا جائے ویسے ویسے اس کی خوراک میں چاول، گیہوں اورجوکے بنے ہوئے کھانے بھی شامل کر سکتے ہیں تاکہ بڑا ہونے کے ساتھ ساتھ بچوں کو اناج اور گھریلو کھانا کھانے کی عادت ہوجائے۔ اسی طرح بکری اور گائے کا نیم گرم دودھ پلانے کی عادت ڈالیں اور اگر بچے کی صحت کچھ زیادہ ہی کمزور اور لاغر ہے تو ماہر تجربہ کار ڈاکٹروں کی رائے لے کر کچھ ویٹامن والی خوراک اور ٹانک والی چیزیں وقت وقت سے ضرور دیں۔

ویسے ماں کے دودھ میں ہر طرح کے ویٹامن خاطر خواہ مقدار میں موجود ہوتاہے ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ماں کے دودھ میں ہر ضروری نیٹوریشن(Nutrition)اور بنیادی مناسب غذائیں قدرتی طور پر عطا فرماتا ہے جو ہر بچے کے لیے بہت مفیداورصحت بخش ہیں۔

بچے کی صحت کے ساتھ اس کی بنیادی ضروریات میں اچھی زبان، عمدہ اخلاق اور اعلی تعلیم کو شمارکرایاگیاہے۔یہ بات ذہن میں رہے کہ ہر بچے کے لیے ماں کی شفقت بھری گود سب سے پہلا اسکول ہے جہاں پہلے پہل اس کی تربیت ہوتی ہے اوریہ حقیقت ہے کہ جس ماحول میں بچہ پھلتا پھولتا اور نشو و نما پاتا ہے اس کا اثراس کے ذہن و دماغ اور جسم پرضرور پڑتا ہے۔ اس لیے بچے کے آس پاس کا ماحول بھی بہتر ہونا ضروری ہے۔ بچے کے والدین اور پرورش کرنے والوں کے علاوہ اس کے خویش و اقارب بھی بچوں کے ذمے دار ہیں۔

چنانچہ بچوں کی تربیت سے لے کر ان کی تعلیم تک بڑا دھیان دیناہوتا ہے،کیونکہ اس دوران بچے ہر اس عمل کا اثر قبول کرلیتے ہیں جسے وہ اپنے اردگرددیکھتے اور سنتے ہیں۔ اگربچہ بد زبانی ،بد اخلاقی اور بد چلنی کامظاہرہ کررہا ہے تو اس کامطلب ہے کہ یہ سب وہ اپنے احباب واقارب سے سیکھ کر کررہا ہے۔ چونکہ بچے جو سنتے ہیں وہی دہراتے اور بولنے کی کوشش کرتے ہیں، اسی طرح جو دیکھتے ہیں وہی کرنا چاہتے ہیں ۔ بچوں کی قوت باصرہ اور سامعہ (دیکھنے اورسننے کی قوت)بچپنے میں تیز ی سے کام کرنے لگتے ہیں اور اسی قدربچوں پر اثرات بھی مرتب ہوتے ہیں۔ اس لیے بچوں کے سلسلے میں جو بھی طریقے اپنائے جائیں اس کے ہرمثبت و منفی پہلو پر نگاہ رکھنا اشدضروری ہے

ابولہب

کیا آپ جانتے ہیں ؟‌ 0050
حدیث شریف میں ہے کہ ابولہب کو دوشنبہ (پیر) کے روز عذاب ہلکا ہوتا ہے اور اسے انگلی چوسنے سے پانی ملتا ہے کیونکہ اس نے سرکاردوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کی خوشخبری سنانے والی اپنی لونڈی ثوبیہ کو آزاد کیا تھا۔

ماں کی وجہ سے قدر و قیمت

ماں  کی  وجہ  سے  قدر  و  قیمت  بڑھتی  ہے

 ایک  آدمی  جارہا  تھا  اس  نے  کھجور  کھائی  اور  کٹھلی  ایک  کھیت   میں   پھینک  دی  وہاں  شجر  نحل  اگ  آیا  ،  بتائیے  وہ  درخت  کس  کا  ہوگا ؟  گٹھلی  پھینکنے  والے کا  یا  جس  کی  زمین  ہے ؟  یقینا  اُسی  کا  ہوگا  جس  کی  زمین  ہے ،  نطفہ  جب  باپ  سے  جدا  ہوتا  ہے  تو  بے  قیمت  ہوتا  ہے  کوئی  مالیت  یا  وقعت  نہیں  ہوتی  بلکہ  نکلے  تو  اسے  پلید  کردیتا  ہے ،  اور  جس  پر  لگ  جائے  اسے  دھونا  پڑتا  ہے  ۔۔۔ مگر  جونہی   وہ  ماں  کے  رحم  میں  پہنچتا  ہے  تو  اب اس  نطفے  کی  قدر  و  قیمت  بڑھنے  لگتی  ہے ،  وہ ولی  بنا ،  قطب بنا ،  غوث بنا  مسجد  کا  امام بنا ، آپ  جب  بھی  بولتے  ہیں  تو  یوں  بولتے ہیں  ماں  باپ  کی  خدمت  کرو  پہلے  ماں  پھر  باپ  ،  جب  تکلیف  پہنچتی  ہے  تو  ماں  ہی  یاد آتی  ہے  ، ماں  ہوگی  تو  باپ  بنو گے ۔۔۔  ایک  بندہ  کہہ رہا  تھا  مختار شاہ  باپ  ہوگا  تو  ماں  بنے  گی  میں  نے  کہا  انسانیت  کی  تاریخ  میں  ایسی  مثال موجود ہے  کہ  باپ نہ  تھا  لیکن  ماں  بن  گئی  حضرت مریم علیہ السلام  تم  کوئی  مثال  دکھادو  کہ  ماں  نہیں  تھی  اور وہ  باپ  بن گیا ۔  چپ کر گئے ۔۔۔۔ میں  نے  کہا مانو  کہ  ماں  ہی  کہ  وجہ  سے  قدر و قیمت  بڑھتی ہے ۔

ماں کیوں ہوتی ہے ؟

ماں  کیوں ہوتی ہے  ؟

 اللہ تعالٰی  قدرت  رکھتا  ہے  کہ  جوان  بچے  کسی  درخت  میں  سے  نکال  دے  کسی  پتھر  میں  سے  نکال  دے  ،  جس طرح  پتھر  میں  سے  حضرت  صالح  علیہ  السلام  کی  دعا   سے  گابھن  اونٹنی  نکلی  تھی  یا  جیسے  موسم  برسات  میں  کئی  کیڑے  مکوڑے  پیدا  ہوجاتے  ہیں  یا  حیوانوں  اور  انسانوں  کے  فضلہ  میں  کیڑے  پیدا  ہوجاتے  ہیں  یہی  سوال  حضرت  موسٰی  علیہ  السلام  نے  کیا  کہ  ماں  کیوں  ہوتی  ہے  ؟  اللہ  تو  بچے  کسی  درخت  سے  بھی  تو  پیدا  کرسکتا  ہے  اللہ  نے  فرمایا   تیری  بات  ٹھیک  ہے  مگر  آ  تجھے  حکمت  بتلاتے  ہیں  بلکہ  دکھاتے  ہیں  ،  حکم  ہوا   چھپ  کر  سامنے  والے  درخت  کی  طرف  دیکھو  آپ علیہ السلام  نے  تعمیل  کی  تھوڑی دیر  کے  بعد  درخت  شق  ہوا  چار  جوان  نکلے  کسی  نے  ایک   دوسرے  سے کلام  کرنا  تو  کجاہ  دیکھا  تک  نہیں  اور  اپنی  اپنی  سمت  چل پڑے  ، اللہ تعالٰی  نے  موسٰی  علیہ السلام  سے  فرمایا   دیکھا ؟  ایک  درخت  سے  پیدا  ہوئے  آپس  میں  ملے  تک  نہیں  میں  ماں اس  لئے  بناتا  ہوں  اس  ایک  ماں   کی  وجہ  سے  باپ  کے  رشتہ داروں  سے  تعلق  جڑجاتا  ہے کوئی  چچا  ہے  ،  کوئی دادا ہے ،  کوئی  چچی  ہے  کوئی  دادی  ہے  کوئی پھوپھی  ہے  اور  ماں  کے  رشتہ  داروں  سے  بھی  تعلق  جڑ جاتا  ہے  کوئی  خالہ  ہے  کوئی  نانی  ہے  کوئی  خالو  ہے  کوئی  نانا  ہے  کوئی  ماموں  ہے  کوئی ممانی  ہے  ایک  ماں  کی  وجہ  سے  ایک  کنبہ  تیار  ہوجاتا  ہے ۔

ماں

ماں
 یہ لفظ اندر کائنات کی تمام تر مٹھاس ، شیرینی اور نرماہٹ لئے ہوئے ہے ، یہ دنیا کا سب سے پرخلوص اور چاہنے والا رشتہ ہے ۔۔۔ ماں ٹھنڈک ہے ۔۔۔ سکون ہے ۔۔۔ محبت ہے ۔۔۔ چاہت ہے ۔۔۔ راحت ہے ۔۔۔ پیکر خلوص ہے ۔۔۔ اولاد کی پناہ گاہ ہے ۔۔۔ درسگاہ ہے ۔۔۔ بیٹا ایک پودا ہے جس طرح‌پودے کو سورج کی گرمی ، ہوا کی نرمی ، چاند کی چاندنی ، کوئل کی راگنی اور زمین کی گود کی ضرورت ہوتی ہے اسی طرح بیٹے کو بھی باپ کی گرمی ، ماں کی نرمی ، پیار بھری لوریاں‌اور گود کی ضرورت ہوتی ہے ، زیادہ گرمی ہو تب بھی پودا خراب ہوجاتا ہے زیادہ ٹھنڈ پرجائے پھر بھی ، اسی طرح‌بچے پہ زیادہ سختی کروگے بچہ ڈھیٹ ہوجائے گا ، نرمی کروگے آوارہ ہوجائے گا ، ہر غم کا مرہم ماں ہے ، ماں‌دعا ہے جو سدا اولاد کے سروں پر رہتی ہے ، ماں مشعل ہے جو بچوں‌کو راہ دکھاتی ہے ، ماں نغمہ ہے جو دلوں کو گرماتا ہے ۔۔ ماں‌مسکراہٹ ہے ۔
 ماں ایک گھنا درخت ہے ، اس جیسا سایہ دار درخت کہیں نہیں ہے ، دنیا کا ہر درخت اس وقت ختم ہوجاتا ہے جب اس کی جڑ ختم ہوجائے مگر ماں ایک ایسا درخت ہے یہ اس وقت ختم ہوتا ہے جب اس کا پھل ( یعنی بیٹا ) ختم ہوجائے
 جو ماں‌کو تڑپاتا ہے وہ سکھ نہیں پاتا ، ماں ناراض ہوجائے تو خدا ناراض‌ہوجاتا ہے ، جس بچے کی ماں‌اس کے ظلم کی وجہ سے مرجائے اس پر رحمتوں کا دروازہ بند ہوجاتا ہے ، ماں‌ٹھنڈی چھائوں ہے ، کعبہ ہے ، بخشش کی راہ ہے ، اللہ کے بعد ماں کا رتبہ ہے کیونکہ انبیاء بھی اس کی خدمت کرتے ہیں اور اس کی اطاعت ان کا دھرم ٹھہری ، ماں‌کا پیار سمندر سے بھی گہرا ہوتا ہے ، ماں‌جو پیار اپنے بچے سے کرتی ہے اس سے بڑھ کر دنیا میں خالص‌کوئی چیز نہیں، قربانی کے طریقے سب سے زیادہ ماں‌ہی جانتی ہے ، اللہ اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد صبر کا سب سے اعلٰی نمونہ ہے ، ماں‌وہ مالی ہے جو اپنے پودوں کو خون دیکر پروان چڑھاتی ہے ، ماں‌کی فطرت ہے وہ اپنی خاطر کبھی کچھ نہیں کہتی ، وہ اولاد کے دکھ سکھ اپنے سینے سے لگالیتی ہے اوران کے لئے خیر کی دعائیں بھی کرتی ہے ، بچہ جب باہر رہتا ہے ماں‌کا دھیان بھی باہر ہی رہتا ہے اس کی نظریں دروازہ پر ہی ٹکی رہتی ہیں ۔