تیری بخشش چاہیئے

حدیث نمبر :343

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم جب پاخانے سے آتے تو فرماتے تیری بخشش(چاہیئے) ۱؎(ترمذی،و ابن ماجہ،دارمی)

شرح

۱؎ ان تمام احادیث میں بیت الخلاءسے پاخانے پھرنے کی جگہ مراد ہے،جنگل میں ہو،یاچھت پر،یا گھر کے گوشہ میں،نہ کہ خاص کوٹھڑیاں کیونکہ اس زمانہ میں گھروں میں پاخانہ کی کوٹھڑیاں بنانے کا رواج نہ تھا۔اور پاخانہ سے فارغ ہوکرمغفرت مانگنے کی دو وجہ ہیں:ایک یہ کہ فراغت کا وقت اﷲ کے ذکر کے بغیر گزرا کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سوائے اس حالت کے تمام حالات میں ذکر اﷲ کرتے تھے خداوند اس کوتاہی کو معاف کر۔دوسرے یہ کہ خیریت سے پاخانہ ہوجانا خدا کی بڑی نعمت ہے جس کے شکریہ سے زبان قاصرہے خدایا اس قصور کو معاف کر۔خیال رہے کہ حضور کی استغفارہ امّت کی تعلیم کے لیے ہے۔

جنات کی آنکھوں اور لوگوں کے سترکے درمیان پردہ

حدیث نمبر :342

روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جنات کی آنکھوں اور لوگوں کے سترکے درمیان پردہ یہ ہے کہ جب کوئی پاخانہ میں جائے تو بسم اﷲ کہہ لے ۱؎ اسے ترمذی نے روایت کیااورفرمایا یہ حدیث غریب ہے اس کی سند قوی نہیں۔

شرح

۱؎ یعنی جیسے دیوار اور پردے لوگوں کی نگاہ سے آڑ بنتے ہیں،ایسے ہی یہ اﷲ کا ذکر جنات کی نگاہوں سے آڑ بنے گا کہ جنات اس کو نہ دیکھ سکیں۔

اَلَمۡ تَرَ اِلَى الَّذِيۡنَ قِيۡلَ لَهُمۡ كُفُّوۡۤا اَيۡدِيَكُمۡ وَاَقِيۡمُوا الصَّلٰوةَ وَاٰ تُوا الزَّكٰوةَ ۚ فَلَمَّا كُتِبَ عَلَيۡهِمُ الۡقِتَالُ اِذَا فَرِيۡقٌ مِّنۡهُمۡ يَخۡشَوۡنَ النَّاسَ كَخَشۡيَةِ اللّٰهِ اَوۡ اَشَدَّ خَشۡيَةً‌ ۚ وَقَالُوۡا رَبَّنَا لِمَ كَتَبۡتَ عَلَيۡنَا الۡقِتَالَ ۚ لَوۡلَاۤ اَخَّرۡتَنَاۤ اِلٰٓى اَجَلٍ قَرِيۡبٍ‌ ؕ قُلۡ مَتَاعُ الدُّنۡيَا قَلِيۡلٌ‌ ۚ وَالۡاٰخِرَةُ خَيۡرٌ لِّمَنِ اتَّقٰى وَلَا تُظۡلَمُوۡنَ فَتِيۡلًا ۞ – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 77

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَلَمۡ تَرَ اِلَى الَّذِيۡنَ قِيۡلَ لَهُمۡ كُفُّوۡۤا اَيۡدِيَكُمۡ وَاَقِيۡمُوا الصَّلٰوةَ وَاٰ تُوا الزَّكٰوةَ ۚ فَلَمَّا كُتِبَ عَلَيۡهِمُ الۡقِتَالُ اِذَا فَرِيۡقٌ مِّنۡهُمۡ يَخۡشَوۡنَ النَّاسَ كَخَشۡيَةِ اللّٰهِ اَوۡ اَشَدَّ خَشۡيَةً‌ ۚ وَقَالُوۡا رَبَّنَا لِمَ كَتَبۡتَ عَلَيۡنَا الۡقِتَالَ ۚ لَوۡلَاۤ اَخَّرۡتَنَاۤ اِلٰٓى اَجَلٍ قَرِيۡبٍ‌ ؕ قُلۡ مَتَاعُ الدُّنۡيَا قَلِيۡلٌ‌ ۚ وَالۡاٰخِرَةُ خَيۡرٌ لِّمَنِ اتَّقٰى وَلَا تُظۡلَمُوۡنَ فَتِيۡلًا ۞

ترجمہ:

کیا آپ نے ان لوگوں کی طرف نہیں دیکھا جس سے کیا گیا تھا کہ (ابھی جنگ سے) اپنے ہاتھ روکے رکھو ‘ اور نماز قائم کرو اور زکوۃ ادا کرو ‘ پھر جب ان پر جہاد فرض کردیا گیا تو ان میں سے ایک گروہ انسانوں سے اس طرح ڈرنے لگا جس طرح اللہ کا ڈر ہوتا ہے یا اس سے بھی زیادہ اور انہوں نے کہا اے ہمارے رب تو نے ہم پر جہاد کیوں فرض کردیا۔ کیوں نہ تو نے ہمیں کچھ اور مہلت دی ہوتی ‘ آپ کہیے کہ دنیا کا سامان بہت تھوڑا ہے ‘ اور (اللہ سے) ڈرنے والوں کے لیے آخرت بہت بہتر ہے اور تم پر ایک دھاگے کے برابر بھی ظلم نہیں کیا جائے گا

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : کیا آپ نے ان لوگوں کی طرف نہیں دیکھا جس سے کیا گیا تھا کہ (ابھی جنگ سے) اپنے ہاتھ روکے رکھو ‘ اور نماز قائم کرو اور زکوۃ ادا کرو ‘ پھر جب ان پر جہاد فرض کردیا گیا تو ان میں سے ایک گروہ انسانوں سے اس طرح ڈرنے لگا جس طرح اللہ کا ڈر ہوتا ہے یا اس سے بھی زیادہ اور انہوں نے کہا اے ہمارے رب تو نے ہم پر جہاد کیوں فرض کردیا۔ کیوں نہ تو نے ہمیں کچھ اور مہلت دی ہوتی ‘ آپ کہیے کہ دنیا کا سامان بہت تھوڑا ہے ‘ اور (اللہ سے) ڈرنے والوں کے لیے آخرت بہت بہتر ہے اور تم پر ایک دھاگے کے برابر بھی ظلم نہیں کیا جائے گا۔ (النساء : ٧٧) 

شان نزول اور ربط آیات :

امام ابوجعفر محمد بن جریر طبری متوفی ٣١٠ ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں : 

قتادہ بیان کرتے ہیں کہ مکہ میں ہجرت سے پہلے بعض صحابہ کفار سے جلد جنگ کرنا چاہتے تھے ‘ انہوں نے کہا آپ ہمیں اجازت دیجئے کہ ہم مشرکین سے مکہ میں قتال کریں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو اس سے منع کیا اور فرمایا ابھی مجھے کفار سے قتال کرنے کی اجازت نہیں ملی اور جب ہجرت ہوگئی اور مسلمانوں کو مشرکین سے قتل کرنے کا حکم دیا گیا تو بعض لوگوں نے اس کو مکروہ جانا ‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا آپ ان سے کہئے کہ دنیا کا سامان تھوڑا ہے اور اللہ سے ڈرنے والوں کے لیے آخرت بہت بہتر ہے۔ (جامع البیان ج ٥ ص ١٠٨) امام نسائی نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ حضرت سعد بن ابی وق اس اور بعض دیگر صحابہ نے ایسا کہا تھا۔ (سنن کبری ج ٦ ص ٣٢٥) واللہ اعلم بالصواب۔ 

اس سے پہلی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو ملک کے دفاع اور کفار کے خلاف جہاد کی تیاری کرنے کا حکم دیا تھا اور یہ بھی فرمایا تھا کہ کچھ لوگ موت کے ڈر سے جہاد کرنے سے گھبراتے ہیں ‘ اس آیت میں یہ بتایا ہے کہ جہاد سے منع کرنے والے کچھ ضعیف مسلمان اور منافقین تھے۔ 

اس آیت میں فرمایا ہے کہ تم پر فتیل کے برابر بھی ظلم نہیں کیا جائے گا ‘ فتیل کا معنی باریک دھاگا بھی ہے ‘ اور کھجور کی گٹھلی پر جو باریک سا چھلکا ہوتا ہے اس کو بھی فتیل کہتے ہیں۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 77

اَلَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا يُقَاتِلُوۡنَ فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ‌‌ ۚ وَالَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا يُقَاتِلُوۡنَ فِىۡ سَبِيۡلِ الطَّاغُوۡتِ فَقَاتِلُوۡۤا اَوۡلِيَآءَ الشَّيۡطٰنِ‌ۚ اِنَّ كَيۡدَ الشَّيۡطٰنِ كَانَ ضَعِيۡفًا  ۞ – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 76

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَلَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا يُقَاتِلُوۡنَ فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ‌‌ ۚ وَالَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا يُقَاتِلُوۡنَ فِىۡ سَبِيۡلِ الطَّاغُوۡتِ فَقَاتِلُوۡۤا اَوۡلِيَآءَ الشَّيۡطٰنِ‌ۚ اِنَّ كَيۡدَ الشَّيۡطٰنِ كَانَ ضَعِيۡفًا  ۞

ترجمہ:

جو ایمان والے ہیں وہ اللہ کی راہ میں لڑتے ہیں اور جو کافر ہیں وہ شیطان کی راہ میں لڑتے ہیں سو (اے مسلمانو ! ) تم شیطان کے مددگاروں سے لڑو ‘ بیشک شیطان کا مکر کمزور ہے ؏

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : جو ایمان والے ہیں وہ اللہ کی راہ میں لڑتے ہیں اور جو کافر ہیں وہ شیطان کی راہ میں لڑتے ہیں سو (اے مسلمانو ! ) تم شیطان کے مددگاروں سے لڑو ‘ بیشک شیطان کا مکر کمزور ہے۔ (النساء : ٧٦) 

مسلمانوں اور کافروں کی باہمی جنگ میں ہر ایک کا ہدف اور نصب العین :

اس آیت میں یہ بتایا کہ جب مسلمانوں اور کافروں کے درمیان جنگ ہوتی ہے تو اس جنگ سے کافروں کی غرض کیا ہوتی ہے اور مسلمانوں کا ہدف کیا ہونا چاہیے ‘ کافر مادی مقاصد کے حصول کے لیے جنگ کرتے ہیں اور بت پرستی کا بول بالا کرنے کے لیے اور اپنے وطن اور اپنی قوم کی حمایت میں لڑتے ہیں ‘ ان کے پیش نظر زمین اور مادی دولت ہوتی ہے ‘ نام ونمود اور اپنی بڑائی کے لیے اور دنیا میں اپنی بالادستی قائم کرنے لیے لڑتے ہیں اور کمزور ملکوں کی زمین ‘ ان کی معدنی دولت اور ان کے ہتھیاروں کو لوٹنے کے لیے لڑتے ہیں ‘ اس کے برعکس مسلمانوں کے سامنے اخروی مقاصد ہوتے ہیں ‘ وہ اللہ کی بڑائی اور اس کے دین کی سربلندی کے لیے لڑتے ہیں ‘ وہ بت پرستی ‘ کفر ‘ شر اور ظلم کو مٹانے ‘ نظام اسلام کو قائم کرنے ‘ خیر کو پھیلانے اور عدل و انصاف کو نافذ کرنے کے لیے لڑتے ہیں ‘ ان کا مقصد زمین کو حاصل کرنا نہیں ہوتا بلکہ زمین پر اللہ کی حکومت قائم کرنا ہوتا ہے ‘ وہ اپنے استعمار اور آمریت قائم کرنے کے لیے اور دوسروں کی زمین اور دولت پر قبضہ کرنے اور لوگوں کو اپنا محکوم بنانے کے لیے نہیں لڑتے بلکہ انسانوں کو انسانوں کی بندگی سے آزاد کرا کر سب لوگوں کو خدائے واحد کے حضور سر بسجود کرانے کے لیے جہاد کرتے ہیں۔ 

قرآن مجید کی ترغیب جہاد کے نکات :

اپنے ملک کے دفاع اور کفار کے خلاف جہاد کے لیے اسلحہ کو حاصل کرنا توکل کیخلاف نہیں ہے ‘ کیونکہ توکل کا معنی ترک اسباب نہیں ہے بلکہ کسی مقصود کے حصول کے اسباب کو فراہم کرکے اور اس کے حصول کے لیے جدوجہد کرکے نتیجہ کو اللہ تعالیٰ پر چھوڑ دینا توکل ہے۔ 

اسی طرح آلات حرب کو حاصل کرنا بھی تقدیر کے خلاف نہیں ہے بلکہ جہاد کی تیاری کرنا بھی تقدیر سے ہے۔ اس رکوع کی آیات میں بتایا گیا ہے کہ جہاد کیلیے پے درپے مجاہدوں کے دستے بھیجنا بھی جائز ہے اور یک بارگی مل کر حملہ کرنا بھی جائز ہے اور یہ کہ ہر دور میں کچھ لوگ اپنی بدنیتی یا بزدلی کی وجہ سے یا غداری اور منافقت کی وجہ سے جہاد سے منع کرنے والے بھی ہوتے ہیں ‘ لیکن مسلمان ان سے متاثر نہ ہوں بلکہ اخروی اجر وثواب کی وجہ سے جہاد کریں ‘ وہ جہاد میں غالب ہوں یا مغلوب ہر صورت میں ان کے لیے اجر ہے ‘ نیز یہ بتایا ہے کہ جہاد کا ایک داعیہ اور سب یہ ہے کہ جس خطہ زمین میں کافروں نے مسلمانوں کو غلام بنایا ہوا ہے یا انکے ملک پر قبضہ کر کے ان کے ساتھ ظالمانہ سلوک کیا ہوا ہے ‘ ان کو کافروں اور ظالموں سے آزاد کرانے کے لیے بھی جہاد کرنا چاہیے اور آخر میں یہ بتایا کہ کافروں کا جنگ میں کیا مطمح نظر ہوتا ہے اور مسلمانوں کا ہدف کیا ہونا چاہیے۔ 

ترغیب جہاد کی متعلق احادیث :

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : (اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :) جو شخص میرے راستہ میں جہاد کے لیے نکلا اور وہ شخص صرف مجھ پر ایمان رکھنے اور میرے رسول کی تصدیق کی وجہ سے نکلا ہو۔ میں اسکا ضامن ہوں کہ اس کو اجر یا غنیمت کے ساتھ لوٹاؤں یا جنت میں داخل کر دوں ‘ (آپ نے فرمایا :) اگر میری امت پر دشوار نہ ہوتا تو میں کسی لشکر میں شامل ہوئے بغیر نہ رہتا ‘ اور بیشک میں یہ پسند کرتا ہوں کہ میں اللہ کی راہ میں قتل کیا جاؤں پھر زندہ کیا جاؤں ‘ پھر قتل کیا جاؤں پھر قتل کیا جاؤں (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ٣٦‘ صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ١٨٧٦‘ سنن نسائی ‘ رقم الحدیث : ٥٠٤٤‘ سنن ابن ماجہ ‘ رقم الحدیث : ٢٧٥٣) 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا گیا اللہ عزوجل کی راہ میں جہاد کرنا کسی عبادت کے برابر ہے ؟ آپ نے فرمایا تم اسکی طاقت نہیں رکھتے انہوں نے دو یا تین مرتبہ یہی سوال کیا آپ نے ہر بار یہی فرمایا کہ تم اس کی طاقت نہیں رکھتے ‘ تیسری بار آپ نے فرمایا اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کی مثال اس شخص کی طرح ہے جو دن کو روزہ رکھے ‘ رات کو قیام کرے اور اللہ کی آیات کی تلاوت کرے اور وہ روزے اور نماز سے تھکتا نہ ہو۔ (صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ١٨٧٧‘ سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ١٦٢٥) 

امام ابوعیسی محمد بن عیسیٰ ترمذی متوفی ٢٧٩ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت فضالہ بن عبید (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہر شخص کا خاتمہ اس کے عمل پر کردیا جاتا ہے، ماسوا اس شخص کے جو اللہ کی راہ میں سرحد پر پہرہ دیتے ہوئے فوت ہوجائے اس کا عمل قیامت تک بڑھایا جاتا رہے گا۔ (سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ١٢٦٧‘ سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٢٥٠٠‘ المعجم الکبیر ج ١٨ ص ٨٠٢‘ المستدرک ج ٢ ص ١٤٤‘ مشکل الآثار ج ٣ ص ١٠٢) 

امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابو قتادہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا فی سبیل اللہ اور ایمان باللہ افضل اعمال ہیں ‘ ایک شخص نے کہا یا رسول اللہ ! یہ بتلائیے اگر میں اللہ کی راہ میں قتل کردیا جاؤں تو کیا یہ میرے گناہوں کا کفارہ ہوجائے گا ؟ آپ نے فرمایا ہاں اگر تم اللہ کی راہ میں قتل کردیئے جاؤ درآں حالیکہ تم صبر کرنے والے ہو ‘ ثواب کی نیت کرنے والے ہو آگے بڑھ کر وار کرنے والے ہو پیچھے ہٹنے والے نہ ہو ‘ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم نے کیا کہا ؟ اس شخص نے کہا میں نے کہا یہ بتایئے اگر میں اللہ کی راہ میں قتل کردیا جاؤں تو کیا اس سے میرے گناہوں کا کفارہ ہوجائے گا ؟ آپ نے فرمایا ہاں بشرطیکہ تم صبر پر قائم ہو ‘ اور تمہاری نیت ثواب کی ہو ‘ تم آگے بڑھنے والے ہو پیچھے ہٹنے والے نہ ہو تو قرض کے سوا تمہارے سب گناہ معاف ہوجائیں گے ‘ مجھ سے ابھی جبرائیل نے یہ کہا ہے۔ 

(صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ١٨٨٥‘ سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ١٧١٨‘ سنن نسائی ‘ رقم الحدیث : ٣١٥٦) 

امام ابواحمد بن شعیب نسائی متوفی ٣٠٣ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : شہید کو قتل ہونے سے صرف اتنی تکلیف ہوتی ہے جتنی تم میں سے کسی کو چیونٹی کے کاٹنے سے۔ (سنن نسائی ‘ رقم الحدیث : ٣١٦١‘ سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ١٦٦٨‘ سنن ابن ماجہ ‘ رقم الحدیث : ٢٨٠٢) 

حضرت معاذ بن جبل (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس مسلمان شخص نے اونٹنی کا دودھ دوہنے کے وقت کے برابر بھی جہاد کیا اس کیلیے جنت واجب ہوگئی ‘ اور جو شخص اللہ کی راہ میں زخمی ہوا یا اس کا خوان بہا وہ جب قیامت کے دن اٹھے گا تو اس کا بہت زیادہ خون بہہ رہا ہوگا اس خون کا رنگ زعفران کا ہوگا اور خوشبو مشک کی ہوگی۔ سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ١٦٦٢‘ سنن ابو داؤد ‘ رقم الحدیث : ٢٥٤١‘ سنن نسائی ‘ رقم الحدیث : ١٣٤١‘ سنن ابن ماجہ ‘ رقم الحدیث : ٢٧٩٢)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 76

کنزالایمان مع خزائن العرفان پارہ 1 رکوع 5 سورہ البقرہ آیت نمبر40 تا 46

یٰبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اذْكُرُوْا نِعْمَتِیَ الَّتِیْۤ اَنْعَمْتُ عَلَیْكُمْ وَ اَوْفُوْا بِعَهْدِیْۤ اُوْفِ بِعَهْدِكُمْۚ-وَ اِیَّایَ فَارْهَبُوْنِ(۴۰)

اے یعقوب کی اولاد (ف۶۹) یاد کرو میرا وہ احسان جو میں نے تم پر کیا (ف۷۰) اور میرا عہد پورا کرو میں تمہارا عہد پورا کروں گا (ف۷۱) اور خاص میرا ہی ڈر رکھو (ف۷۲)

(ف69)

اسرائیل بمعنی عبداللہ عبری زبان کا لفظ ہے یہ حضرت یعقوب علیہ السلام کا لقب ہے۔(مدارک) کلبی مفسر نے کہا اللہ تعالیٰ نے ” یٰۤاَیُّھَاالنَّاسُ اعْبُدُوْا ” فرما کر پہلے تمام انسانوں کو عموماً دعوت دی پھر ” اِذْ قَالَ رَبُّکَ ” فرما کر انکے مبدء کا ذکر کیا اس کے بعد خصوصیت کے ساتھ بنی اسرائیل کو دعوت دی یہ لوگ یہودی ہیں اور یہاں سے سیقول تک ان سے کلام جاری ہے کبھی بملاطفت انعام یاد دلا کر دعوت کی جاتی ہے کبھی خوف دلا یا جاتا ہے کبھی حجت قائم کی جاتی ہے۔ کبھی ان کی بدعملی پر توبیخ ہوتی ہے کبھی گزشتہ عقوبات کا ذکر کیا جاتا ہے۔

(ف70)

یہ احسان کہ تمہارے آباء کو فرعون سے نجات دلائی ، دریا کو پھاڑا ابر کو سائبان بنایا ان کے علاوہ اور احسانات جو آگے آتے ہیں ان سب کو یاد کرو اور یاد کرنا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت و بندگی کرکے شکر بجالاؤ کیونکہ کسی نعمت کا شکر نہ کرنا ہی اس کا بھلانا ہے۔

(ف71)

یعنی تم ایمان و اطاعت بجالا کر میرا عہد پورا کرو میں جزاء و ثواب دے کر تمہارا عہد پورا کروں گا اس عہد کا بیان آیہ ” وَلَقَدْ اَخَذَ اللّٰہ ُ مِیْثَاقَ بَنِیْ اِسْرَآءِ یْلَ ” میں ہے۔

(ف72)

مسئلہ : اس آیت میں شکر نعمت ووفاء عہد کے واجب ہونے کا بیان ہے اور یہ بھی کہ مومن کو چاہئے کہ اللہ کے سوا کسی سے نہ ڈرے ۔

وَ اٰمِنُوْا بِمَاۤ اَنْزَلْتُ مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَكُمْ وَ لَا تَكُوْنُوْۤا اَوَّلَ كَافِرٍۭ بِهٖ۪-وَ لَا تَشْتَرُوْا بِاٰیٰتِیْ ثَمَنًا قَلِیْلًا٘-وَّ اِیَّایَ فَاتَّقُوْنِ(۴۱)

اور ایمان لاؤ اس پر جو میں نے اتارا اس کی تصدیق کرتا ہوا جو تمہارے ساتھ ہے اور سب سے پہلے اس کے منکر نہ بنو (ف۷۳) اور میری آیتوں کے بدلے تھوڑے دام نہ لو (ف۷۴) اور مجھی سے ڈرو

(ف73)

یعنی قرآن پاک توریت وانجیل پرجو تمہارے ساتھ ہیں ایمان لاؤاور اہلِ کتاب میں پہلے کافر نہ بنوکہ جو تمہارے اتباع میں کفر اختیار کرے اس کا وبال بھی تم پر ہو ۔

(ف74)

ان آیات سے توریت و انجیل کی وہ آیات مراد ہیں جن میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نعت و صفت ہے مقصد یہ ہے کہ حضور کی نعت دولت دنیا کے لئے مت چھپاؤ کہ متاع دنیا ثمن قلیل اور نعمت آخرت کے مقابل بے حقیقت ہے ۔

شانِ نُزول : یہ آیت کعب بن اشرف اور دوسرے رؤساء و علماء یہود کے حق میں نازل ہوئی جو اپنی قوم کے جاہلوں اور کمینوں سے ٹکے وصول کرلیتے اور ان پر سالانے مقرر کرتے تھے اور انہوں نے پھلوں اور نقد مالوں میں اپنے حق معین کرلئے تھے انہیں اندیشہ ہوا کہ توریت میں جو حضور سیدِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نعت و صفت ہے اگر اس کو ظاہر کریں تو قوم حضور پر ایمان لے آئے گی اور ان کی کچھ پرسش نہ رہے گی۔ یہ تمام منافع جاتے رہیں گے اس لئے انہوں نے اپنی کتابوں میں تغییر کی اور حضور کی نعت کو بدل ڈالا جب ان سے لوگ دریافت کرتے کہ توریت میں حضور کے کیا اوصاف مذکور ہیں تو وہ چھپالیتے۔ اور ہر گز نہ بتاتے اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔(خازن وغیرہ)

وَ لَا تَلْبِسُوا الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ وَ تَكْتُمُوا الْحَقَّ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۴۲)

اور حق سے باطل کو نہ ملاؤ اور دیدہ و دانستہ حق نہ چھپاؤ

وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ وَ ارْكَعُوْا مَعَ الرّٰكِعِیْنَ(۴۳)

اور نماز قائم رکھو اور زکوٰۃ دو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو (ف۷۵)

(ف75)

اس آیت میں نمازو زکوٰۃ کی فرضیت کا بیان ہے اور اس طرف بھی اشارہ ہے کہ نمازوں کو ان کے حقوق کی رعایت اور ارکان کی حفاظت کے ساتھ ادا کرو مسئلہ : جماعت کی ترغیب بھی ہے حدیث شریف میں ہے جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا تنہا پڑھنے سے ستائیس درجہ زیادہ فضیلت رکھتا ہے۔

اَتَاْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَ تَنْسَوْنَ اَنْفُسَكُمْ وَ اَنْتُمْ تَتْلُوْنَ الْكِتٰبَؕ-اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ(۴۴)

کیا لوگوں کو بھلائی کا حکم دیتے ہو اور اپنی جانوں کو بھولتے ہو حالانکہ تم کتاب پڑھتے ہو تو کیا تمہیں عقل نہیں (ف۷۶)

(ف76)

شان نُزول : عُلَماءِ یہود سے ان کے مسلمان رشتہ داروں نے دین اسلام کی نسبت دریافت کیا تو انہوں نے کہا تم اس دین پر قائم رہو حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دین حق اور کلام سچا ہے اس پر یہ آیت نازل ہوئی ایک قول یہ ہے کہ آیت ان یہودیوں کے حق میں نازل ہوئی جنہوں نے مشرکین عرب کو حضور کے مبعوث ہونے کی خبر دی تھی اور حضور کے اتباع کرنے کی ہدایت کی تھی پھر جب حضور مبعوث ہوئے تو یہ ہدایت کرنے والے حسد سے خود کافر ہوگئے اس پر انہیں توبیخ کی گئی ۔(خازن و مدارک)

وَ اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِؕ-وَ اِنَّهَا لَكَبِیْرَةٌ اِلَّا عَلَى الْخٰشِعِیْنَۙ(۴۵)

اور صبر اور نماز سے مدد چاہو اور بےشک نماز ضرور بھاری ہے مگر ان پر جو دل سے میری طرف جھکتے ہیں (ف۷۷)

(ف77)

یعنی اپنی حاجتوں میں صبر اور نماز سے مدد چاہو سبحان اللہ کیا پاکیزہ تعلیم ہے صبر مصیبتوں کا اخلاقی مقابلہ ہے انسان عدل و عزم حق پرستی پر بغیر اس کے قائم نہیں رہ سکتا صبر کی تین قسمیں ہیں۔(۱) شدت و مصیبت پر نفس کو روکنا (۲)طاعت و عبادت کی مشقتوں میں مستقل رہنا(۳)معصیت کی طرف مائل ہو نے سے طبیعت کو باز رکھنا ،بعض مفسرین نے یہاں صبر سے روزہ مراد لیا ہے وہ بھی صبر کا ایک فرد ہے اس آیت میں مصیبت کے وقت نما ز کے ساتھ استعانت کی تعلیم بھی فرمائی،کیونکہ وہ عبادتِ بدنیہ ونفسانیہ کی جامع ہے اور اس میں قربِ الہٰی حاصل ہو تا ہے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اہم امور کے پیش آنے پر مشغولِ نماز ہو جاتے تھے،اس آیت میں یہ بھی بتایا گیا کہ مومنین صادقین کے سوا اوروں پر نماز گرا ں ہے ۔

الَّذِیْنَ یَظُنُّوْنَ اَنَّهُمْ مُّلٰقُوْا رَبِّهِمْ وَ اَنَّهُمْ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَ۠(۴۶)

جنہیں یقین ہے کہ انہیں اپنے رب سے ملنا ہے اور اسی کی طرف پھرنا (ف۷۸)

(ف78)

اس میں بشارت ہے کہ آخرت میں مؤمنین کو دیدارالہی کی نعمت ملے گی

تبیان الوضوء “رضوی فقہ و تحقیق کا مثالی رسالہ

*”تبیان الوضوء “رضوی فقہ و تحقیق کا مثالی رسالہ*

تحریر:۔ *خالد ایوب مصباحی شیرانی*

khalidinfo22@gmail.com

اعلی حضرت امام احمد رضا خاں محدث بریلوی علیہ الرحمہ سے سوال ہوا:

فرائض غسلِ جنابت جو تین ہیں، ان میں "مضمضہ واستنشاق واسا لۃ الماء علی کل البدن” (کلی کرنا، ناک میں پانی ڈالنا اور پورے بدن پر پانی بہانا)سے کیسا مضمضہ واستنشاق واسا لہ ماء مراد ہے؟

قارئین محسوس کر سکتے ہیں کہ سوال کوئی انوکھا یا نادر نہیں، اس لیے ظاہر ہے اس کا جواب بھی کوئی نادر نہیں ہونا چاہیے لیکن اعلی حضرت امام احمد رضا خاں علیہ الرحمہ نے اس کے جواب میں حسب عادت جس طرح علمی، فقہی اور فکری دقت نظری کا مظاہرہ کیا ہے، اس کی مثالیں بہت کم دیکھنے کو ملتی ہیں۔

خاص بات یہ ہے کہ اگر اس سوال کی مذہبی حیثیت نہ دیکھی جائے تو یہ سوال در اصل بدن انسانی سے متعلق ہے جس کے بارے میں کیا عالم اور کیا جاہل، لگ بھگ ہر فرد کو موٹی موٹی باتیں معلوم ہوتی ہیں، لیکن امام احمد رضا خاں علیہ الرحمہ نے اس عام سمجھے جانے والے مسئلے کو جو علمی اور فقہی دقت عطا کی ہے، وہ آپ ہی کے قلم کا امتیاز ہے۔

مناسب معلوم ہوتا ہے کہ دلائل اور تفصیلات سے صرف نظر کرتے ہوئے یہاں بہت موٹے انداز میں جواب کے اہم گوشوں کا ذکر کیا جائے اور آخر میں حضرت رضا کے علمی کمالات کے جوہر دیکھے جائیں، سوال کے جواب میں لکھتے ہیں:

"مضمضہ:سارے دہن کامع اس کے ہر گوشے، پر زے، کنج کے حلق کی حد تک دھلنا۔۔۔اور ہم نے دھلنا کہا ،دھونا نہ کہا، اس لیے کہ طہارت میں کچھ اپنا فعل، یا قصد شرط نہیں، پانی گزرنا چاہیے، جس طرح ہو”۔

اس کلی اصول کے بعد اس پر عمل کے عوامی اور عامی حالات کو ملحوظ رکھتےہوئے لکھتے ہیں:

"آج کل بہت بے علم اس مضمضہ کے معنی صرف کلی کے سمجھتے ہیں ،کچھ پانی منہ میں لے کر اُگل دیتے ہیں کہ زبان کی جڑ اور حلق کے کنارہ تک نہیں پہنچتا،یوں غسل نہیں اُترتا،نہ اس غسل سے نماز ہوسکے، نہ مسجد میں جاناجائزہوبلکہ فرض ہے کہ داڑھوں کے پیچھے، گالوں کی تہ میں، دانتوں کی جڑ میں، دانتوں کی کھڑکیوں میں، حلق کے کنارے تک، ہرپرزے پر پانی بہے، یہاں تک کہ اگر کوئی سخت چیز کہ پانی کے بہنے کو روکے گی، دانتوں کی جڑ، یا کھڑکیوں وغیرہ میں حائل ہو تو لازم ہے کہ اُسے جُداکرکے کُلّی کرے، ورنہ غسل نہ ہوگا،ہاں! اگر اُس کے جُدا کرنے میں حرج و ضرر و اذیت ہو، جس طرح پانوں کی کثرت سے جڑوں میں چونا جم کر متحجرہوجاتا ہے کہ جب تک زیادہ ہوکر آپ ہی جگہ نہ چھوڑ دے، چھڑانے کے قابل نہیں ہو تا، یاعورتوں کے دانتوں میں مسی کی ریخیں جم جاتی ہیں کہ ان کے چھیلنے میں دانتوں، یا مسوڑھوں کی مضرت کا اندیشہ ہے تو جب تک یہ حالت رہے گی، اس قدر کی معافی ہوگی فان الحرج مدفوع بالنص۔۔۔

مضمضہ کی یہ فقہی تفصیل کتنی جامع ہے؟ خاص طور پر ارباب فقہ و افتا ہی سمجھ سکتے ہیں۔ استنشاق کی تفصیل میں بھی اسی طرح علمی جوہر پاشی کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

استنشاق:ناک کے دونوں نتھنوں میں جہاں تک نرم جگہ ہے یعنی سخت ہڈی کے شروع تک دھلنا۔۔۔

اور یہ یوں ہی ہوسکے گا کہ پانی لے کر سونگھے اور اوپر کو چڑھائے کہ وہاں تک پہنچ جائے، لوگ اس کابالکل خیال نہیں کرتے اوپر ہی اوپر پانی ڈالتے ہیں کہ ناک کے سرے کو چھو کر گرجاتا ہے، بانسے میں جتنی جگہ نرم ہے، اس سب کو دھونا تو بڑی بات ہے ظاہر ہے کہ پانی کا بالطبع میل نیچے کوہے، اوپربے چڑھائے ،ہرگزنہ چڑھے گا،افسوس کہ عوام توعوام بعض پڑھے لکھے بھی اس بلامیں گرفتار ہیں۔کاش! استنشاق کے لغوی ہی معنی پر نظر کرتے تو اس آفت میں نہ پڑتے، استنشاق سانس کے ذریعہ سے کوئی چیز ناک کے اندر چڑھاناہے، نہ کہ ناک کے کنارہ کو چھو جانا۔ وضومیں تو خیر اس کے ترک کی عادت ڈالے سے سنت چھوڑنے ہی کاگناہ ہوگاکہ مضمضہ واستنشاق بمعنی مذکور دونوں وضو میں سنتِ مؤکدہ ہیں کمافی الدرالمختار۔اور سنت مؤکدہ کے ایک آدھ بار ترک سے اگرچہ گناہ نہ ہو، عتاب ہی کااستحقاق ہو مگربارہا ترک سے بلاشبہ گناہ گار ہوتا ہے کمافی ردالمحتار وغیرہ من الاسفار،تاہم وضو ہوجاتا ہے اور غسل تو ہرگز اُترے ہی گانہیں، جب تک سارامنہ حلق کی حدتک اور سارا نرم بانسہ سخت ہڈی کے کنارہ تک پورا نہ دھل جائے یہاں تک کہ علما فرماتے ہیں کہ اگر ناک کے اندر کثافت جمی ہے تو لازم کہ پہلے اسے صاف کرلے، ورنہ اس کے نیچے پانی نے عبور نہ کیا توغسل نہ ہوگا۔۔۔اس احتیاط سے بھی روزہ دار کو مفر نہیں،ہاں! اس سے اوپرتک اُسے نہ چاہیے کہ کہیں پانی دماغ کو نہ چڑھ جائے ،غیر روزہ دارکے لیے یہ بھی سنت ہے۔۔۔

سوال کے تیسرے پہلو پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھتے ہیں:

اسالۃ الماء علی ظاھر البدن سر کے بالو ں سے تلووں سے نیچے تک جسم کے ہر پرزے،رونگٹے کی بیرونی سطح پر پانی کا تقاطر کے ساتھ بہہ جانا، سوا اس موضع یا حالت کے جس میں حرج ہو ۔۔۔بدن کا ہر وہ حصہ دھونا فرض ہے جسے بغیر حرج کے دھونا ممکن ہے۔۔۔

یہاں دو قسم کی بے احتیاطیاں کرتے ہیں جن سے غسل نہیں ہوتا اور نمازیں اکارت جاتی ہیں:

اوّلاً:غَسل بالفتح کے معنی میں نافہمی کہ بعض جگہ تیل کی طرح چپڑ لیتے ہیں، یابھیگا ہاتھ پہنچ جانے پر قناعت کرتے ہیں حالاں کہ یہ مسح ہوا،غسل میں تقاطراور پانی کابہنا ضرور ہے، جب تک ایک ایک ذرّے پر پانی بہتا ہوا نہ گزرے گا ،غسل ہرگز نہ ہوگا۔۔۔

ثانیا: پانی ایسی بے احتیاطی سے بہاتے ہیں کہ بعض مواضع بالکل خشک رہ جاتے ہیں، یا اُن تک کچھ اثر پہنچتا ہے تو وہی بھیگے ہاتھ کی تری۔ اُن کے خیال میں شاید پانی میں ایسی کرامت ہے کہ ہر کنج وگوشہ میں آپ دوڑ جائے، کچھ احتیاط خاص کی حاجت نہیں حالاں کہ جسم ظاہر میں بہت موقع ایسے ہیں کہ وہاں ایک جسم کی سطح دوسرے جسم سے چھپ گئی ہے، یا پانی کی گزرگاہ سے جدا واقع ہے کہ بے لحاظ خاص پانی اس پر بہنا ہرگز مظنون نہیں اور حکم یہ ہے کہ اگر ذرّہ بھر جگہ یا کسی بال کی نوک بھی پانی بہنے سے رہ گئی تو غسل نہ ہوگا اور نہ صرف غسل بلکہ وضو میں بھی ایسی ہی بے احتیاطیاں کرتے ہیں، کہیں ایڑیوں پر پانی نہیں بہتا، کہیں کہنیوں پر، کہیں ماتھے کے بالائی حصے پر،کہیں کانوں کے پاس کنپٹیوں پر۔ ہم نے اس بارہ میں ایک مستقل تحریر لکھی ہے اُس میں ان تمام مواضع کی تفصیل ہے جن کا لحاظ و خیال وضو وغسل میں ضرور ہے مردوں اور عورتوں کی تفریق اور طریقہ احتیاط کی تحقیق کے ساتھ ایسی سلیس وروشن بیان سے مذکور ہے جسے بعونہ تعالی ہر جاہل بچہ، عورت سمجھ سکے،یہاں اجمالاً ان کا شمار کیے دیتے ہیں۔

اب تک جو باتیں بیان ہوئیں، ان میں علمیت بھی ہے، فکری گہرائی بھی، توجہ دینے اور احتیاط کرنے کی تلقین بھی ہے اور خشیت ربانی پیدا کرنے کا گر بھی لیکن اب بے احتیاطیوں کےجو پہلو شمار میں آ رہے ہیں، وہ نہایت توجہ طلب ہیں، لکھتے ہیں:

"ضروریات وضو مطلقاً یعنی مرد و عورت سب کے لیے:

(۱) پانی مانگ یعنی ماتھے کے سرے سے پڑنا،بہت لوگ لَپ یا چُلّو میں پانی لے کر ناک ،یا ابرو، یا نصف ماتھے پر ڈالتے ہیں، پانی تو بہہ کر نیچے آیا، وہ اپنا ہاتھ چڑھا کر اوپر لے گئے، اس میں سارا ماتھا نہ دُھلا ،بھیگا ہاتھ پھرا اور وضو نہ ہوا۔

(۲) پٹیاں جھکی ہوں تو انہیں ہٹا کر پانی ڈالے کہ جو حصہ پیشانی کا اُن کے نیچے ہے، دُھلنے سے نہ رہ جائے۔

(۳) بھووں کے بال چھدرے ہوں کہ نیچے کی کھال چمکتی ہو تو کھال پر پانی بہنا فرض ہے، صرف بالوں پر کافی نہیں۔

(۴) آنکھوں کے چاروں کوئے،آنکھیں زور سے بند کرے،یہاں کوئی سخت چیز جمی ہوئی ہو تو چھڑالے۔

(۵) پلک کا ہربال پورا ،بعض وقت کیچڑ وغیرہ سخت ہوکر جم جاتا ہے کہ اُس کے نیچے پانی نہیں بہتا، اُس کا چھڑانا ضرور ہے۔

(۶)کان کے پاس تک کنپٹی، ایسا نہ ہو کہ ماتھے کا پانی گال پر اتر آئے اور یہاں صرف بھیگا ہاتھ پھرے۔

(۷) ناک کا سوراخ، اگر کوئی گہنا ،یاتنکا ہوتو اسے پھرا پھرا کر، ورنہ یوں ہی دھار ڈالے، ہاں! اگر بالکل بند ہوگیا تو حاجت نہیں۔

(۸) آدمی جب خاموش بیٹھے تو دونوں لب مل کر کچھ حصہ چھپ جاتا،کچھ ظاہر رہتا ہے، یہ ظاہر رہنے والا حصہ بھی دُھلنا فرض ہے،اگر کُلّی نہ کی اور منہ دھونے میں لب سمیٹ کر بزور بند کرلیے تو اس پر پانی نہ بہے گا۔

(۹) ٹھوڑی کی ہڈی، اُس جگہ تک جہاں نیچے کے دانت جمے ہیں۔

(۱۰) ہاتھوں کی آٹھوں گھائیاں۔

(۱۱) انگلیوں کی کروٹیں کہ ملنے پر بند ہوجاتی ہیں۔

(۱۲) دسوں ناخنوں کے اندر جو جگہ خالی ہے، ہاں! مَیل کا ڈر نہیں۔

(۱۳) ناخنوں کے سرے سے کہنیوں کے اوپر تک ہاتھ کا ہر پہلو،چُلّومیں پانی لے کر کلائی پر اُلٹ لینا ہرگز کافی نہیں۔

(۱۴)کلائی کا ہربال جڑ سے نوک تک۔ایسا نہ ہو کہ کھڑے بالوں کی جڑ میں پانی گزر جائے، نوکیں رہ جائیں۔

(۱۵) آرسی، چھلّے اور کلائی کے ہر گہنے کے نیچے۔

(۱۶) عورتوں کو پھنسی چُوڑیوں کا شوق ہوتا ہے، اُنہیں ہٹا ہٹا کر پانی بہائیں۔

(۱۷) چوتھائی سرکا مسح فرض ہے، پوروں کے سرے گزار دینا، اکثر اس مقدار کو کافی نہیں ہوتا۔

(۱۸) پاؤوں کی آٹھوں گھائیاں۔

(۱۹) یہاں انگلیوں کی کروٹیں زیادہ قابلِ لحاظ ہیں کہ قدرتی ملی ہوئی ہیں۔

(۲۰) ناخنوں کے اندر کوئی سخت چیز نہ ہو۔

(۲۱) پاؤوں کے چھلّے اور جو گہنا گٹوں پر ،یا گٹوں سے نیچے ہو، اس کے نیچے سیلان شرط ہے۔

(۲۲) گٹّے۔

(۲۳) تلوے۔

(۲۴) ایڑیاں۔

(۲۵) کونچیں”۔

یہ پچیس مقامات وہ ہیں جن کی احتیاط مردوں اور عورتوں دونوں پر لازم ہے، اب یہاں سے پانچ مقامات وہ بیان ہو رہے ہیں جن کی احتیاط خاص مردوں پر لازم ہے، لکھتے ہیں:

"خاص بہ مرداں:

(۲۶) مونچھیں۔

(۲۷) صحیح مذہب میں ساری داڑھی دھونا فرض ہے یعنی جتنی چہرے کی حد میں ہے، نہ لٹکی ہوئی کہ ہاتھ سے گلے کی طرف کو دباؤ تو ٹھوڑی کے اُس حصّے سے نکل جائے، جس پر دانت جمے ہیں کہ اس کا صرف مسح سنّت اور دھونا مستحب ہے۔

(۲۸ ۔ ۲۹) داڑھی مونچھیں چھدری ہوں کہ نیچے کی کھال نظر آتی ہو تو کھال پر پانی بہنا۔

(۳۰) مونچھیں بڑھ کر لبوں کو چھپالیں تو انھیں ہٹا ہٹا کر لبوں کی کھال دھونا، اگرچہ مونچھیں کیسی ہی گھنی ہوں”۔

صرف چار فرض اعضائے وضو سے متعلق تیس احتیاطوں کا تذکرہ، یقیناً کسی عظیم ترین فقیہ ہی کی نظر کا کمال ہو سکتا ہے جبکہ عام طور پر علمی حالات یہ ہیں کہ بہت سے لوگ ان چاراعضا میں تیس اجزا کی مناسب تعبیر کرنے سے بھی قاصر نظر آتے ہیں۔

وضو کی یہ تیس احتیاطیں گنانے کے بعد ان پر تفصیلی دلائل نقل کرتے ہیں اور درمیان میں اپنا تحقیقی اور احتیاطی موقف بھی رکھتے رہتے ہیں اور پھر غسل کی طرف بڑھتے ہوئے دوسراسلسلہ یوں قائم کرتے ہیں:

"ظاہر ہے کہ وضو میں جس جس عضو کا دھونا فرض ہے غسل میں بھی فرض ہے تو یہ سب اشیا یہاں بھی معتبر اور ان کے علاوہ یہ اور زائد۔

(۳۱) سر کے بال کہ گندھے ہوئے ہوں، ہر بال پر جڑ سے نوک تک پانی بہنا۔

(۳۲)کانوں میں بالی پتّے وغیرہ زیوروں کے سوراخ کا غسل میں وہی حکم ہے، جو ناک میں بلاق وغیرہ کے چھید کا غسل و وضو دونوں میں تھا۔

(۳۳) بھنووں کے نیچے کی کھال اگرچہ بال کیسے ہی گھنے ہوں۔

(۳۴)کان کا ہر پرزہ ،اس کے سوراخ کا منہ۔

(۳۵)کانوں کے پیچھے بال ہٹا کر پانی بہائے۔

(۳۶) استنشاق بمعنی مذکور۔

(۳۷) مضمضہ بطرز مسطور۔

(۳۸) داڑھوں کے پیچھے ،

(۳۹) دانتوں کی کھڑکھیوں میں جو سخت چیز ہو، پہلے جدا کرلیں۔

(۴۰) چونا ریخیں وغیرہ جو بے ایذا چھوٹ سکے، چھڑانا۔

(۴۱) ٹھوڑی اور گلے کاجوڑ کہ بے منہ اٹھائے نہ دُھلے گا۔

(۴۲) بغلیں بے ہاتھ اٹھائے نہ دُھلیں گی۔

(۴۳) بازو کا ہر پہلو،

(۴۴) پیٹھ کا ہردرہ۔

(۴۵) پیٹ وغیرہ کی بلٹیں اٹھا کر دھوئیں۔

(۴۶) ناف انگلی ڈال کر ،جبکہ بغیر اس کے پانی بہنے میں شک ہو۔

(۴۷) جسم کا کوئی رونگٹاکھڑا نہ رہ جائے۔

(۴۸) ران اور پیڑو کا جوڑ کھول کر دھوئیں۔

(۴۹) دونوں سرین ملنے کی جگہ، خصوصاً جب کھڑے ہوکر نہائیں۔

(۵۰) ران اور پنڈلی کا جوڑ جبکہ بیٹھ کر نہائیں۔

(۵۱) رانوں کی گولائی۔

(۵۲) پنڈلیوں کی کروٹیں”۔

یہاں تک کی احتیاطیں عام تھیں، اب خاص مردوں کی بیان ہوتی ہیں:

"خاص بہ مرداں:

(۵۳)گندھے ہوئے بال کھول کر جڑ سے نوک تک دھونا۔

(۵۴) مونچھوں کے نیچے کی کھال اگرچہ گھنی ہوں۔

(۵۵) داڑھی کا ہر بال جڑ سے نوک تک۔

(۵۶) ذکر وانثیین کے ملنے کی سطحیں کہ بے جدا کیے نہ دھلیں گی۔

(۵۷) انثیین کی سطح زیریں جوڑ تک۔

(۵۸) انثیین کے نیچے کی جگہ تک۔

(۵۹) جس کا ختنہ نہ ہوا ہو، بہت علما کے نزدیک اُس پر فرض ہے کہ کھال چڑھ سکتی ہو تو حشفہ کھول کر دھوئے۔

(۶۰) اس قول پر اس کھال کے اندر بھی پانی پہنچنا فرض ہوگا ،بے چڑھائے، اُس میں پانی ڈالے کہ چڑھنے کے بعد بند ہوجائے گی”۔

اب یہاں سے اسپیشل طور پر عورتوں کے غسل کی احتیاطیں بیان ہو رہی ہیں:

"خاص بہ زناں:

(۶۱) گندھی چوٹی میں ہر بال کی جڑ تر کرنی، چوٹی کھولنی ضرور نہیں، مگر جب ایسی سخت گندھی ہو کہ بے کھولے جڑیں تر نہ ہوں گی۔

(۶۲) ڈھلکی ہوئی پستان اٹھا کر دھونی۔

(۶۳) پستان وشکم کے جوڑ کی تحریر۔

(۶۴تا۶۷) فرج خارج کے چاروں لبوں کی جیبیں جڑتک۔

(۶۸) گوشت پارہ بالاکاہر پرت کہ کھولے سے کھل سکے گا۔

(۶۹) گوشت پارہ زیریں کی سطح زیریں۔

(۷۰) اس پارہ کے نیچے کی خالی جگہ، غرض فرج خارج کے ہر گوشے، پرزے، کنج کا خیال لازم ہے ۔ہاں! فرج داخل کے اندر انگلی ڈال کر دھونا واجب نہیں، بہتر ہے”۔

اب تک وضو اور غسل کی ستر احتیاطوں کا تذکرہ ہوا۔ اب ان احتیاطوں کے علمی اور فنی کمالات سے پہلے احتیاط کا مطلب بھی جان لیں، لکھتے ہیں:

"مواضع احتیاط میں پانی پہنچنے کاظن غالب کافی ہے یعنی دل کو اطمینان ہوکہ ضرور پہنچ گیا، مگر یہ اطمینان نہ بے پرواہوں کاکافی ہے، جو دیدہ ودانستہ بے احتیاطی کررہے ہیں، نہ وہمی وسوسہ زدہ کا اطمینان ضرور، جسے آنکھوں دیکھ کر بھی یقین آنا مشکل بلکہ متدین محتاط کااطمینان چاہیے” ۔( الدرالمختار،کتاب الطہارۃ)

چوں کہ ضمنا کچھ باتیں مواضع حرج کی بھی آئی تھیں اور اسی طرح اشارتاً کچھ ایسی تفصیلات بھی آئی تھیں جن میں بادی النظر کو کلام ہو سکتا ہے، اس لیے ان مواضع کی تفصیل اور ان اوہام کا ازالہ بھی ضروری ہے، اعلی حضرت علیہ الرحمہ کی دقت نظر یہاں بھی ویسے ہی کام کر رہی ہے جیسے باب احتیاط میں بے نظیر تھی، لکھتے ہیں:

"بالجملہ! تمام ظاہر بدن، ہر ذرّہ، ہر رونگٹے پر، سر سے پاؤں تک پانی بہنا فرض ہے، ورنہ غسل نہ ہوگا، مگر مواضع حرج معاف ہیں

مثلاً:

(۱) آنکھوں کے ڈھیلے،

(۲) عورت کے گندھے ہوئے بال،

(۳) ناک کان کے زیوروں کے وہ سوراخ جو بند ہوگئے،

(۴) نامختون کاحشفہ جبکہ کھال چڑھانے میں تکلیف ہو،

(۵) اس حالت میں اس کھال کی اندرونی سطح جہاں تک پانی بے کھولے نہ پہنچے اور کھولنے میں مشقت ہو،

(۶) مکھی یامچھر کی بیٹ جو بدن پر ہو، اُس کے نیچے،

(۷) عورت کے ہاتھ پاؤں میں اگر کہیں مہندی کا جرم لگارہ گیا،

(۸) دانتوں کا جما ہوا چونا،

(۹) مسی کی ریخیں،

(۱۰) بدن کا میل،

(۱۱) ناخنوں میں بھری ہوئی یا بدن پر لگی ہوئی مٹّی،

(۱۲) جو بال خود گرہ کھا کر رہ گیا ہو، اگرچہ مرد کا،

(۱۳) پلک یا کوئے میں سرمہ کا جرم،

(۱۴) کاتب کے انگوٹھے پر روشنائی۔ ان دونوں کاذکر رسالہ الجود الحلو میں گزرا۔

(۱۵) رنگریز کے ناخن پر رنگ کا جرم،

(۱۶) نان بائی، یا پکانے والی عورت کے ناخن میں آٹا، علی خلاف فیہ۔

(۱۷) کھانے کے ریزے کہ دانت کی جڑ یا جوف میں رہ گئے کما مراٰنفا عن الخلاصۃ۔

(۱۸) اقول :ہلتا ہوا دانت،اگر تارسے جکڑاہے معافی ہونی چاہیےاگرچہ پانی تار کے نیچے نہ بہے کہ بار بار کھولنا ضرر دے گا نہ اس سے ہر وقت بندش ہوسکے گی،

(۱۹) یوں ہی اگر اُکھڑا ہُوادانت کسی مسالے مثلاً برادہ آہن ومقناطیس وغیرہ سے جمایاگیاہے، جمے ہوئے چُونے کی مثل اس کی بھی معافی چاہیے۔۔۔

(۲۰) پٹّی کہ زخم پر ہو اور کھولنے میں ضرر یا حرج ہے،

(۲۱) ہر وہ جگہ کہ کسی درد یا مرض کے سبب اُس پر پانی بہنے سے ضرر ہوگا”۔

حرج اور مضرت کی چلتے چلتے اکیس صورتیں بیان کرنے کے بعد اس کی بھی تشریح کر رہے ہیں کہ حرج کا مطلب کیا ہے، لکھتے ہیں:

"اقول: وباللہ التوفیق! حرج کی تین صورتیں ہیں:

ایک: یہ کہ وہاں پانی پہنچانے میں مضرت ہو جیسے آنکھ کے اندر،

دوم: مشقت ہو جیسے عورت کی گندھی ہوئی چوٹی،

سوم :بعد علم واطلاع کوئی ضرر ومشقت تو نہیں مگر اس کی نگہ داشت، اس کی دیکھ بھال میں دقت ہے جیسے مکھی، مچھر کی بیٹ یا الجھا ہوا، گرہ کھایا ہوا بال۔

قسم اول ودوم کی معافی توظاہر اور قسم سوم میں بعد اطلاع، ازالہ مانع ضرور ہے مثلاً جہاں مذکورہ صورتوں میں مہندی، سرمہ، آٹا،روشنائی ،رنگ، بیٹ وغیرہ سے کوئی چیز جمی ہوئی دیکھ پائی تو اب یہ نہ ہو کہ اُسے یوں ہی رہنے دے اور پانی اوپر سے بہادے بلکہ چھُڑالے کہ آخر ازالہ میں توکوئی حرج تھا ہی نہیں تعاہد میں تھابعداطلاع اس کی حاجت نہ رہی”۔

یہ ہے رسالہ "تبیان الوضوء” کا خلاصہ جس میں وضو و غسل کی احتیاطیں، فرائض کی تفصیلات، جزئیات کی فراہمی، اختلاف فقہا سے بچتے ہوئے چلنے کی محتاط روش، حق کی تلقین اور صحیح مذہب پر عمل کی یقین دہانی سب کچھ ہے اور ان تمام خوبیوں کے ساتھ درج ذیل امور بطور خاص نظر آتے ہیں:

(الف) ما فی الضمیر کی خوب صورت ادائیگی۔ حساس قاری اندازہ لگا سکتا ہے کہ ان مواضع میں سے کئی جگہیں وہ ہیں جن کے بیان کے لیےمناسب تعبیریں نہیں مل پاتیں لیکن حضرت امام اہل سنت علیہ الرحمہ نے نہ صرف یہ کہ اپنا ما الضمیر پورے کمال کے ساتھ ادا کیا ہے بلکہ اتنے خوب صورت انداز سے ادا کیا ہے کہ اس کی نظیر نہیں ملتی۔

(ب) اظہار بیان کے لیے موزوں الفاظ اور ایسے موزوں کہ بارہا زندگی بھر ان سے سابقہ نہیں پڑتا یا ان تک نظر ہی نہیں جاتی۔ یہ اردو ادب پر بھی اعلی حضرت علیہ الرحمہ کا ایک طرح سے احسان ہے جیسے یہ الفاظ و تعبیرات: پٹیاں جھکی ہوں، بھووں کے بال چھدرے ہوں، آنکھوں کے چاروں کوئے، ہاتھوں /پاؤں کی آٹھوں گھائیاں، انگلیوں کی کروٹیں، پیٹھ کا ہردرہ، پیٹ وغیرہ کی بلٹیں،، پیڑو کا جوڑ، رانوں کی گولائی، انثیین کی سطح زیریں، فرج خارج کے چاروں لبوں کی جیبیں، گوشت پارہ زیریں کی سطح زیریں اور کوئے میں سرمہ وغیرہ۔

(ج) الفاظ میں حیا کی مکمل پاس داری جیسے گوشت پارہ بالا یعنی نسوانی شرم گاہ۔

(د) علمی گیرائی۔اعلی حضرت علیہ الرحمہ کی ہر تحریر کی طرح یہ تحریر بھی اپنے آپ میں بڑی علمی گہرائی اور گیرائی رکھتی ہے۔ محتاط الفاظ، مدلل گفتگو، حالات زمانہ پر پوری نظر، حوالہ جات کا التزام اور سب سے اہم پہلو یہ کہ فرق مراتب کرتے ہوئے عام زندگی سے متعلق مسائل میں بھی علمی رنگ۔

(ھ) دقت نظری۔اس پورے رسالے کی سب سے زیادہ اہمیت اس کی دقت نظری ہے ورنہ نہ جسم انسانی کے اعضا انوکھے ہیں اور نہ ان اعضا کے اجزا نرالے ہیں لیکن اس عموم کے باوجود یہ دقت نظری ہی ہے جس نے اس طرح گفتگو کی ہے جیسے یہ کوئی نئی دنیا اور نرالی تحقیق ہو۔

(و) شان فقاہت۔ اعلی حضرت علیہ الرحمہ کا سب سے زیادہ نمایاں پہلو ان کی شان فقاہت ہے جو ان کی ہر تحریر میں دور سے محسوس کی جا سکتی ہے، زیر بحث مسئلے پر گفتگو کے دوران بھی آپ علیہ الرحمہ نے حسب مزاج فقہ و افتا کے ان تمام لازمی اصولوں کی مکمل پاس داری کی ہے، جن کا کسی بھی فقیہ کو التزام کرنا ہوتا ہے جیسے دقت نظری، فرق مراتب، مضبوط استدلال، محکم موقف اور اشباہ و نظائر میں امتیاز وغیرہ جیسے بھوں اور مونچھ کے مسئلے میں وضو اور غسل میں کیا جدا حکم ہے؟ اس کی ایسے انداز سے وضاحت کی کہ کوئی عظیم فقیہ ہی کر سکتا ہے۔ اس تفصیل کی روشنی میں مونچھ اور بھنووں کے احکام یوں نکلے: (1۔3) داڑھی مونچھیں چھدری ہوں کہ نیچے کی کھال نظر آتی ہو تو کھال پر پانی بہنا ضروری ہے لیکن اگریہ گھنی ہوں اور اس وجہ سے جلد تک پانی نہ پہنچ سکے تو فرضیت میں کوئی فرق واقع نہیں ہوگا جبکہ غسل میں بہر حال مونچھوں کے نیچے کی کھال کا دھونا ضروری ہوگا اگرچہ مونچھیں گھنی ہوں۔

(4۔6) اسی طرح بھووں کے بال چھدرے ہوں کہ نیچے کی کھال چمکتی ہو تو وضو میں کھال پر پانی بہنا فرض ہے اور اگر ایسے گھنے ہوں کہ پانی نہ پہنچ سکے تو حرج نہیں لیکن غسل میں بھنووں کے نیچے کی کھال کا دھلنا بہر حال ضروری ہوگا اگرچہ بال کیسے ہی گھنے ہوں۔

کچھ مواضع جو اول نظر میں باریکی کا تقاضا نہیں کرتے، آپ کی فقہی نظر نے نہ صرف ان کا انتخاب کیا بلکہ ان پر فقہی جزئیات کی روشنی میں ایسی باریک اور استدلالی گفتگو کی کہ قاری کے لیے تسلیم کے علاوہ کوئی چارہ نہ بچے جیسے: (1) آدمی جب خاموش بیٹھے تو دونوں لب مل کر کچھ حصہ چھپ جاتا،کچھ ظاہر رہتا ہے، یہ ظاہر رہنے والا حصہ بھی دُھلنا فرض ہے،اگر کُلّی نہ کی اور منہ دھونے میں لب سمیٹ کر بزور بند کرلیے تو اس پر پانی نہ بہے گا۔ (2) کان کا ہر پرزہ ،اس کے سوراخ کا منہ۔(3) چوتھائی سرکا مسح فرض ہے، پوروں کے سرے گزار دینا، اکثر اس مقدار کو کافی نہیں ہوتا۔

(ز)حوالہ جات کا ایسا التزام کہ باتوں کا تسلسل بھی نہ ٹوٹے اور اعتبار بھی قائم رہے۔اس کا مناب طریقہ آپ نے یہ اپنایا کہ سوال کے ہر گوشے کا جواب دینے کے بعد اس سے متعلق فقہی آثار و دلائل سے ایسے حسین پیرائے میں استدلال کیا کہ جہاں باتوں کا اعتبار قائم رہا، وہیں انداز بیان کے تسلسل میں ذرا فرق بھی نہیں آیا۔

(ح) سچ تو یہ ہے کہ اس نازک خیالی اور باریک نظری کے ساتھ نمبرنگ کا اہتمام بھی ایک کمال ہے ورنہ بہت ممکن ہے کہ: ڈھلکی ہوئی پستان اٹھا کر دھونی اور پستان و شکم کے جوڑ کی تحریر” میں فرق نہ معلوم ہو۔

(ط) مواضع احتیاط کا ذکر کرنے کے بعد مواضع عفو کی جو فہرست تیار کی ہے، اس میں بھی امتیازات و کمالات کے وہ تمام جوہر پائے جا رہے ہیں، جو درج بالا مواضع میں مذکور ہوئے۔ اسی طرح حرج کے اصولوں کے تعلق سے جو اصولی گفتگو ہوئی ہے، وہ بھی بجائے خود ایک فقہی مثال ہے۔

یعنی کہا جا سکتا ہے کہ اعلی حضرت امام احمد رضا خاں محدث بریلوی علیہ الرحمہ کو اللہ تعالی نے وہ نظر انتخاب عطا فرمائی تھی، جو عموم میں بھی خصوص پیدا کر لیتی تھی۔ آپ کا یہ رسالہ وہ ہے جس کی علمی پہنائیاں سمجھنے کے لیے نہ کسی علمی ادارے کی سند درکار ہے اور نہ ذہن ثاقب بلکہ ہر عامی بھی سلیقے کے ساتھ اس گفتگو کو سمجھ سکتا ہے اور انصاف کی نگاہ سے دیکھنے کے بعد یہ فیصلہ کر سکتا ہے کہ آپ عبقری نگاہ کےمالک تھے۔ اس رسالےکے ذریعہ جہاں حضرت امام علیہ الرحمہ کی علمی شخصیت، فقہی بصیرت اور دقت نظری کا روشن ثبوت فراہم ہوتا ہے، وہیں دلائل کی تفصیل کے ساتھ یہ واضح میسیج بھی ملتا ہے کہ دیانت و تقوی اور زہد و ورع کی اصطلاحیں، اس وقت تک موہوم ہیں، جب تک ان پر علمی رنگت حاوی نہ ہو۔علما کی طرح عوام پر اوراپنوں کے ساتھ غیروں پر بھی یہ رسالہ حجت کا درجہ رکھتا ہے۔اللہ تعالی عمل کی توفیق بخشے۔

ملا علی قاری کی موضوعات کبری و موضوعات صغری

سؤال:

آپ نے أپنی تحریر میں ملا علی قاری کی موضوعات کبری و موضوعات صغری کا نام لیا تھا

یہ أنکی کونسی بکس ہیں؟

جواب أز ابن طفیل الأزہری ( محمد علی ):

ملا علی قاری رحمہ اللہ کی موضوعات کبری سے مراد:

” الأسرار المرفوعۃ فی الأخبار الموضوعۃ ” ہے

أور موضوعات صغری کا نام :

” المصنوع فی معرفة الحديث الموضوع ” ہے ،

یہ موجودہ متداولہ طبعات کے لحاظ سے ہے.

لیکن جب آپ أئمہ میں سے کسی کے ہاں ملا علی قاری کی ان دو کتابوں میں سے کسی إیک کا حوالہ پائیں تو أسکو اس قاعدہ پہ مطلقاً محمول نہیں کریں گے

کیونکہ بعض نے ” المصنوع فی معرفۃ الحدیث الموضوع ” سے موضوعات صغری و کبری مراد لی ہیں جیسے علامہ عبد الحی لکھنوی کے بعض رسائل میں حوالہ ” المصنوع ۔۔۔” کا ہوتا ہے لیکن وہ حدیث ” الأسرار المرفوعۃ۔۔ ” میں ملتی ہے

.

أور الأسرار المرفوعۃ کا نام” تذکرۃ الموضوعات ” بھی ذکر کیا جاتا ہے جیسے بحر علم و فنون علامہ عبد الحی لکھنوی فرماتے ہیں:

قال علی القاری في تذكرة الموضوعات … إلخ

ترجمہ: (ملا)علی القاری نے تذکرۃ الموضوعات میں فرمایا۔۔۔.

( الآثار المرفوعۃ فی الأخبار الموضوعۃ لعبد الحی لکھنوی ، ص :44 )

أور إسی طرح علامہ عجلونی نے بھی کشف الخفاء میں موضوعات کبری و صغری سے مراد إیک ہی نام لکھا ہے وہ ہے” الأسرار المرفوعۃ فی الأخبار الموضوعۃ "،

جیسے آپ فرماتے ہیں:

وحيث أقول : قال القاري فالمراد به الملا علي قاري في كتابه الموضوعات المسماة ” الأسرار المرفوعة في الأخبار الموضوعة ” وهي صفرى وكبرى ، وقد نقلت منهما .

ترجمہ:

أور جہاں میں ( أپنی إس کتاب میں) کہوں : قال قاری تو اس سے مراد ملا علی قاری نے أپنی موضوعات کی کتاب ” الأسرار المرفوعۃ فی الأخبار الموضوعۃ ” میں کہا ہے ،

أور یہ صغری و کبری پر مشتمل ہے ، أور تحقیق کہ مینے أن دونوں ( صغری و کبری) سے نقل کیا ہے.

( مقدمۃ کشف الخفاء للعجلونی ، 1/13 )

أور بعض مقامات پر علامہ عجلونی کشف الخفاء میں یوں بھی فرماتے ہیں:

قال القاري في موضوعاته الكبرى .

(ملا علی)قاری نے أپنی ( کتاب) موضوعات کبری میں فرمایا.

خود ملا علی قاری نے نخبۃ الفکر کی شرح میں أپنی موضوعات پر لکھی گئی کتاب کا نام ” المصنوع فی معرفۃ الموضوع ” ذکر کیا ہے ،

آپ فرماتے ہیں:

وقد اقتصرت في كراسة على أحاديث اتفقوا على وضعها وبطلان أصلها ، وسميته ” المصنوع في معرفة الموضوع ” ، ولا يستغني الطالب عنه.

ترجمہ:

مینے بھی إیک کاپی میں صرف أن أحادیث ( کو بیان کرنے) پہ اکتفاء کیا ہے جسکے موضوع أور أنکے أصلا باطل ہونے پر أن ( أئمہ ) کا اتفاق ہے ، أور أسکا نام مینے” المصنوع فی معرفۃ الموضوع ” رکھا ہے ، جس سے کوئی طالب ( علم) مستغنی نہیں ہوسکتا ( یعنی أس پر أسکا مطالعہ کرنا لازمی ہے).

( شرح نخبة الفكر لملا علي قاري ، ص : 447 )

لہذا ہمارے اس زمانے میں اب موضوعات کبری و صغری کے وہی نام ہیں جو شروع میں مینے ذکر کیے ہیں لیکن ہم سے پہلے أئمہ جب انکا ذکر کریں تو اس قاعدے پہ محمول نہیں کریں گے بلکہ تائید کریں گے کہ وہ مصنوع میں ہے یا الأسرار میں .

مزید وضاحت کے لیے موضوعات صغری میں عبد الفتاح أبو غدہ کا مقدمہ ، أور موضوعات کبری پہ محمد بن لطفی الصباغ کے مقدمۃ تحقیق کا مطالعہ فرمائیں .